قاعدة الجهاد في جزيرة العرب
افغانستان میں فتح و تمکین پر مبارکباد کا پیغام
الحمد للہ رب العالمین، ولا عدوان إلا علی الظالمین، والصلاۃ والسلام علی أشرف الأنبیاء والمرسلین وعلی آلہ وصحبہ أجمعین، أما بعد
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًايَعْبُدُوْنَنِيْ۠ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ﴾ [النور: 55]
’’ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور نیک کام کرتے رہے ہیں، ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ضرور انھیں زمین پر حاکم بنادے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو… جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے… ضرور اقتدار بخشے گا، اور انھیں خوف کے بدلے میں ضرور امن عطا کرے گا۔ (بس) وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور جو لوگ اس کے بعد ناشکری کریں تو ایسے لوگ نافرمان ہیں‘‘۔
اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، وللہ الحمد!
ہم اس فتحِ مبین اور مبارک کامرانی پر امیر المؤمنین شیخ ہبۃ اللہ اخندزادہ﷿ کو مبارکباد کا پیغام دیتے ہیں… جو طالبان کے ہاتھوں حاصل ہوئی۔ نیز امارت اسلامی میں اپنے بھائیوں، دنیا بھر کے مجاہدین اور پوری امت مسلمہ کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اس فتح سے اہل ایمان کے دلوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں، جبکہ دشمنانِ دین اور منافقین کے دل غیظ وغضب سے بھرگئے۔ صلیبی مغرب اور کفریہ عالمی طاقتوں کے خلاف دو دہائیوں پر محیط جہاد، ثابت قدمی اور قوتِ ارادی کے بعد آج … عالمی طاقتوں کے قبرستان… افغانستان کی سرزمین پر کامل تمکین حاصل ہوئی، اور امریکہ اور صلیبی مغرب کو شکست ہوئی۔ افغانستان وہ چٹان ہے جس سے ٹکرا کر تمام حملہ آوروں کی امیدیں ٹوٹیں، پس وہ لاچار ہوئے، ہار بیٹھے، اور الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوئے۔ آج تاریخ نے اپنے آپ کو پھر دہرایا ہے؛ تقریباً تین دہائیاں قبل سوویت اتحاد افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا اور اس سرزمین پر باقی رہ جانے کے اخراجات اس کی برداشت سے باہر ہو گئے، اسے شکست کھانی پڑی اور بالآخر پسپا ہوا، اور اب امریکہ اور نیٹو اتحاد کی باری آئی، وہ بھی شکست خوردہ، حسرت زدہ اور ذلیل ہو کر دم دبائے بھاگ رہے ہیں اور اللہ تعالی کی طرف سے فتح ونصرت آن نازل ہوئی ہے۔ پس ان کے عسکری ساز و سامان، لاؤ لشکر، اعلیٰ ٹیکنالوجی، اور ان کے اتحاد واجتماع کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔
اللہ تعالی طالبان کو جزائے خیر دے کہ وہ گزشتہ دہائیوں کے دوران اپنے مسلمان بھائیوں کے حوالے سے اپنے پر عائد ذمہ داری کو پوری دیانتداری، حسنِ اخلاق اور مروت کے ساتھ نبھاتے رہے ہیں۔ اس کی نظیر دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔ اپنی غیرت اور دینداری کی بدولت انھوں نے اپنے بھائیوں کو دشمنوں کے حوالے کرنا، ملک بدر کرنا یا ساتھ چھوڑ دینا گوارا نہ کیا، اور نہ ہی انھوں نے اپنے نظریات اور اصولوں پر سودا بازی کی، بلکہ اس سب کی خاطر انھوں نے ہر قسم کے مصائب ومشکلات کو قبول کیا۔ بس اللہ تعالی ہی انہیں اجر سے نوازے، آمین!
ہم پر امید ہیں کہ یہ فتح و تمکین اور تاریخی واقعہ باذن اللہ آئندہ آنے والی فتوحات کی پہلی کڑی ہے۔ یہ سال امت کی معاصر تاریخ میں ایک بنیادی تبدیلی کا آغاز ثابت ہو گا، جس میں امت بیدار ہوگی، دنیا کا اقتدار سنبھالے گی، اغیار کی غلامی اور بندگی کے بندھن توڑ ڈالے گی، طاغوتوں سے جان چھڑا لے گی اور مسلمان ممالک پر حملہ آوروں کو باہر دکھیل دے گی۔ یہ اللہ تعالی کے وعدہ کی تکمیل ہے۔
یہ نصرت وتمکین ہم پر واضح کرتی ہے کہ جہاد اور قتال ہی حقوق کی بازیابی، غاصب حملہ آوروں سے چھٹکارے، اللہ کی زمین پر اللہ کے کلمے کی سربلندی اور امت کو اپنی کھوئی ہوئی عزت اور عظمت لوٹانے کا شرعی، تکوینی اور حقیقی راستہ ہے، جیسا کہ بے شمار آیات و احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں اور جیسا کہ تکوینی قوانین اور زمینی حقائق بھی اس کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف جمہوری کھیل تماشے اور محض پر امن ذرائع تو وہ تو سراب ، زائل ہونے والے سایے اور کھوکھلے گرداب کی مانند ہیں جن کا آغاز صفر سے ہوتا ہے اور اسی پر اختتام ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ طالبان بھائیوں سمیت سب کو توفیق دے کہ وہ اللہ کی شریعت نافذ کریں، اللہ کے لیے موالات ومعادات کے عقیدے کو قائم رکھیں، اور اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کریں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس امت کے لیے رشد و ہدایت کے نفاذ کا فیصلہ فرما دے جس میں اطاعت گزاروں کو عزت ملے اور کافر و فاسق رسوا ہوں، جس میں نیکی کا حکم دیا جائے اور برائی سے روکا جائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔
تنظيم قاعدة الجهاد في جزيرة العرب
۱۰ محرم الحرام ۱۴۴۳ھ بمطابق ۱۸ اگست ۲۰۲۱ء

![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



