تنظيم قاعدة الجهاد ببلاد المغرب اللإسلامي
جماعة نصرة الإسلام والمسلمين
مبارکباد کا پیغام
﴿وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوْا خَيْرًا﴾ [الأحزاب:۲۵]
’’اور جو کافر تھے، اللہ نے ان کے سارے غیظ وغضب کے ساتھ اس طرح پسپا کردیا کہ وہ کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکے‘‘۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے بندے کی نصرت کی، اپنے سپاہیوں کو عزت دی اور لشکروں کو اکیلے ہی شکست دی۔ اور اللہ کی طرف سے درود وسلام ہو محمد ﷺ پر جو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے، جنہیں ان کے رب نے تا قیامت تلوار دے کر بھیجا، تاکہ صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عباد ت کی جائے، اور درود وسلام ہو آپﷺ کی آل پر، آپﷺ کے اصحاب پر اور تا قیامت آنے والے ان تمام لوگوں پر جنھوں نے نیکی کے ساتھ ان پہلوں کی پیروی کی۔اما بعد،
دو دہائیوں کے ظالمانہ قبضے اور دین وآبرو اور مسلم زمین کے خلاف کھلی جارحیت کے بعد، دو دہائیوں پر محیط جہاد وقتال اور قربانیوں کے بعد آج مسلمان افغانی قوم… فقط اللہ کے فضل وکرم سے… نا پاک امریکیوں کی قیادت میں عالمی کفر پر فتح حاصل کر کے سرخرو ہوئی۔
اے خوددار اور غیور قوم! مبارک ہو تمہیں، کہ کافروں کے لشکر تم سے ٹکرا کر پاش پاش ہوئے… پہلے برطانوی، پھر روسی اور اب امریکی…، اور اے بے مثل غازیانِ اسلام! آپ کو بھی مبارک ہو ، کہ آپ نے اپنی قوم کو پورے اعزاز و اکرام سے اس زبردست فتح سے ہمکنار کیا۔
اللہ تعالی عظیم المرتبت امیر المؤمنین ملا عمر پر رحمت نازل فرمائے جنہوں نے اپنے پاک خون سے ایمان و یقین کے روشن الفاظ نقش کیے، جب آپ نے فرمایا: ”مجھ سے بش نے شکست کا وعدہ کیا ہے، اور اللہ تعالی نے فتح کا وعدہ کیا ہے، ہم دیکھ لیں گے کہ کونسا وعدہ سچا ہے“۔ آج وہ دن آ گیا جس میں پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ کونسا وعدہ سچا رہا۔ اے اللہ تیرے لیے ہی تمام تعریفیں اور تیرا ہی فضل و کرم ہے۔
سأبكيك بالبيض الصفاح وبالقنا
ولست كمن يبكي أخاه بعبرة
فإن بها ما يدرك الطالب الوترا
يعصرها من ماء مقلته عصرا
[میں تیرا غم کھاؤں گا، مگر شمشیر و سنان اٹھا کر، کیونکہ انھی کے ذریعے مرادیں پوری ہوتی ہیں۔ میں ایسا نہیں ہوں جو بھائی کے غم کو آنسووں سے مٹانے کی کوشش کرے۔]
اللہ کی قسم! یہ انتہائی رشک، خوشی اور مسرت کی بات ہے کہ اللہ نے ہمیں اپنی زندگی میں وہ موقع دکھا دیا جس میں باطل کی شکست ہوئی اور حق جیت گیا۔ اللہ نے سچ فرمایا:
﴿بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَ لَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ﴾ [الأنبیاء:۱۸]
’’بلکہ ہم حق کو باطل پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے، اور باطل اسی وقت نابود ہوجاتا ہے۔ اور جو باتیں تم بناتے ہو، ان سے تمہاری ہی خرابی ہے‘‘۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ افغانستان کی فضا میں توحید کا پرچم دوبارہ لہراتے دیکھ کر ہماری اور تمام مسلمانوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں، اور یہاں سے نکل کر یہ اللہ کی پوری زمین پر چھا جائے، اور لوگوں کو اسلامی شریعت کے سائے تلے امن و امان کی زندگی نصیب ہو، آمین۔
﴿وَ يَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ بِنَصْرِ اللّٰه يَنْصُرُ مَنْ يَّشَآءُ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْم﴾ [الروم:۴،۵]
’’اور اُس روز مومن بندے خوش ہوجائیں گے (یعنی) اللہ کی مدد سے، وہ اللہ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے، اور وہ غالب (اور) مہربان ہے‘‘۔
افغانستان کے واقعات سے بڑی عبرت جو ہم حاصل کر سکتے ہیں؛ وہ یہ ہے کہ امت کو ذلت کی گہرائی سے عزت کی چوٹی تک لے جانے کا واحد راستہ جہاد فی سبیل اللہ ہی ہے، غیروں کی غلامی اور پسماندگی سے نکال کر سیادت اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے والا یہی واحد راستہ ہے، جیسا کہ اسلاف کا طرزِ عمل تھا۔ ”اس امت کے آخری گروہ کی اصلاح بھی اسی طرح ہو سکتی ہے، جیسے اس کے پہلے گروہ کی ہوئی“۔
ایک ایسے عالم میں جہاں محض عسکری قوت کا احترام کیا جاتا ہے، امت کی اس وقت تک کوئی قدر وقیمت نہ ہوگی جب تک وہ خود قدرت اور عسکری قوت سے لیس نہ ہوجائے۔ افغانستان میں بکھرے بالوں اور گرد آلود قدموں والے افراد کی دنیا کی طاقتور فوج پر… اللہ کے فضل سے… کامیابی اسی حقیقت کا اظہار ہے۔ جو کوئی یہ گمان کرے کہ عزت کا راستہ اس کے علاوہ بھی کچھ ہو سکتا ہے، اسے یہ گمان ذلت اور غلامی کے سمندر میں غرق کر دے گا۔
ترجو النجاة ولم تسلك مسالكها
إن السفينة لا تجري على اليبس
[یہ ہو نہیں سکتا کہ تم نجات کی امید رکھو، جبکہ نجات کا راستہ چھوڑ کر دوسرے راستے اختیار کرو۔ کیونکہ بلاشبہ کشتی خشکی پر نہیں چل سکتی۔]
پیغمبرِ صادقﷺ نے فرمایا:
إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ وَتَرَکْتُمْ الْجِهَادَ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْکُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّی تَرْجِعُوا إِلَی دِينِکُمْ.
”جب تم لوگ بیع العینہ کرنے لگو گے اور گائے بیل کی دم پکڑے رہو گے اور کھیتوں پر خوش رہو گے اور جہاد کو ترک کر دو گے، تو اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ذلت طاری کر دے گا، جو اس وقت تک نہ ہٹائے گا جب تک کہ تم اپنے دین کی طرف لوٹ نہ آؤ “۔[ سنن ابو داود]
تو اے مسلمانو! دیکھو کہ تمہارے افغان بھائیوں کا جہاد… کتنے کرب و بلا کے بعد… آج عزت و کامرانی کی صورت میں نتیجہ خیز ہوا۔ پس جو عزت اور کامرانی چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ ان کا راستہ اختیار کرے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ يُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُوَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِيْبٌ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ﴾ [الصف:۱۰–۱۳]
’’اے ایمان والو! کیا میں تمہیں ایسی تجارت بتاؤں جو تمہیں عذاب الیم سے خلاصی دے، (وہ یہ ہے کہ) خدا پر اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لاؤ اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو۔ اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے، وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو باغہائے جنت میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، اور پاکیزہ مکانات میں (جگہ دے گا)۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔ اور ایک دوسری چیز بھی (عطا کرے گا) جسے تم بہت چاہتے ہو، ( یعنی) اللہ کی طرف سے مدد ونصرت اور عنقریب فتح۔ اور مومنوں کو (اس کی) خوشخبری سنا دو‘‘۔
اللهم مجري السحاب، ومنزل الكتاب، وهازم الأحزاب! اهزم أعداءك وانصرنا عليهم..
’’اے اللہ! اے بادلوں کو چلانے والے، کتاب نازل کرنے والے، لشکروں کو شکست دینے والے! اپنے دشمنوں کو شکست سے دوچار فرما اور ہمیں ان پر فتح نصیب فرما۔‘‘ آمین۔
﴿ولِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ﴾ [المنافقون: 8]
’’عزت اللہ کے لیے ہے اور اس کے رسول کے لیے اور مومنوں کے لیے، لیکن منافق لوگ نہیں جانتے‘‘۔

![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



