مفتی محمد تقی عثمانی صاحب
مفتی اعظم پاکستان
اللہ تعالیٰ نے سارے مسلمانوں کو عظیم خوشخبری عطا فرمائی ہے، وہ خوشخبری ایسی ہے کہ اس کے تصور سے ہی ہر مسلمان کی روح مسرور ہے۔ وہ یہ کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے افغانستان میں ہمارے طالبان بھائیوں کو فتحِ مبین عطا فرمائی، اور ان کے ذریعے اتنی بڑی سپر طاقت امریکہ، اور صرف امریکہ نہیں اس کے ساتھ ۴۷، ۴۸ ممالک کی فوجیں… جن سے وہ بیس سال سے نبرد آزما تھے… اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو ذلیل ورسوا کیا۔ لیکن یہ سب کچھ ایسے نہیں ہوا کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہوں، مغربی طاقتوں سے مرعوب ہو کر، ڈر کر بیٹھے ہوں اور اچانک اللہ تعالیٰ نے انھیں کابل میں لا کر بٹھا دیا ہو، نہیں! بلکہ اس کے پیچھے بیس سال کی جدوجہد ہے، بیس سال کی قربانیاں ہیں۔ بیس سال تک انھوں نے جس عزم وثبات اور جس ولولے سے دنیا کی سپر طاقتوں کا مقابلہ کیا، اور جس طرح ایمانی قوت کے ذریعے وہ تمام باطل طاقتوں کے آگے ڈٹے رہے، اللہ تعالیٰ نے اس سب کا صلہ انھیں آج عطا فرمایا کہ آج ساری دنیا انگشت بدنداں ہے۔
مولانا ارشد مدنی صاحب
امیر جمعیت علمائے ہند
طالبان کا نظریہ ہے کہ وہ غلامی کو قبول نہیں کرتے۔ ہمارے آباؤ واجداد کی سوچ بھی یہی تھی۔ دار العلوم غلامی کی مخالفت کے لیے ہی بنا ہے۔ طالبان نے اس فکر کے تحت روس اور امریکہ کی غلامی کی زنجیروں کو توڑا۔
شیخ احمد الخلیلی صاحب
مفتیِ اعظم عمّان
ہم افغان مسلم قوم کو ظالم حملہ آوروں کے مقابلے میں فتحِ مبین اور عظیم کامیابی پر مبارکباد دیتے ہیں۔ اسی کے ساتھ خود اپنے آپ کو اور پوری امتِ مسلمہ کو بھی اللہ کے وعدے کے سچ ثابت ہونے پر مبارکباد دیتے ہیں۔ ہم محبوب افغان مسلم قوم سے امید کرتے ہیں کہ وہ تمام تحدّیات کا یکجان ہو کر مقابلہ کریں گے، نرمی، سلامتی، اتفاق و وحدت ان میں غالب ہوگی، شریعتِ اسلامیہ کی تنفیذ کے ذریعے اللہ کی رسی کو تھاما جائے گا، کتاب وسنت کو لازم پکڑا جائے گا، امر بالمعروف ونہی عن المنکر پر تعاون کیا جائے گا اور طاغوتی نظام کی ہر نسبت کو اتار پھینکا جائے گا۔ ہم اس نادر فتح سےپوری امتِ مسلمہ کے لیے نیک فال لیتے ہیں کہ اس کے بعد مزید فتوحات ہوں گی اور مسلمان ہر بالشت بھر زمین کو غاصبوں کے قبضے سے چھڑائیں گے۔ اسی طرح ہم اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے امید رکھتے ہیں کہ اپنی مبارک مسجدِ اقصی کی آزادی کا خواب بھی عنقریب پورا ہوگا۔
ڈاکٹر حاکم المطیری صاحب
امینِ عام امت کانفرنس، رئیس جماعت حزب الأمۃ، کویت
امارتِ اسلامیہ کے ہاتھ پر افغانستان کی آزادی، حکومت سازی اور شریعت کے قوانین کی تنفیذ نے افغانستان کو خلافتِ عثمانیہ کے سقوط کے بعد پہلی اسلامی ریاست بنا دیا ہے، ایک ایسی اسلامی ریاست جو اپنی عوام کی نمائندہ بھی ہے اور اس نے اپنے دین وروایات کے مطابق اسلامی نظام کو اختیار کیا ہے۔ یوں اس نے امت اور اس کے افراد کے سامنے آزادی کا راستہ واضح کر دیا ہے۔
شیخ حسن بن علی الکتانی صاحب
رئیس رابطہ علماء المغرب العربی، مراکش
۲۳ محرم ۱۴۴۳ھ کی رات مسلمانوں کی تاریخ میں ہمیشہ الگ اعزاز سے یاد کی جائے گی، کیونکہ اس رات ’سنہری تاریخ کے حامل‘ افغانستان میں طویل امریکی قبضہ اپنی انتہاء کو پہنچا۔ اللھم لك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه! میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اسے آئندہ آنے والی اسلام اور مسلمانوں کی فتوحات، اللہ کی شریعت کی زمین میں بالادستی اور غاصبوں کے قبضے سے مبارک مسجدِ اقصیٰ کی آزادی کا نکتہ آغاز بنا دیں۔
شیخ عبد الرزاق المہدی صاحب
شام
شام کی سرزمین سے، رباط کی سرزمین سے میں اپنی جانب سے اور یہاں شام میں موجود تمام اہلِ علم کی جانب سے اپنے طالبان بھائیوں کو اس عظیم فتح پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، اور ان سے کہتا ہوں کہ مزید اللہ کے راستے میں بڑھتے جاؤ۔ اے افغان بھائیو! اللہ تعالیٰ نے آپ پر خاص کرم فرمایا کہ آپ نے دنیا کی سب سے سرکش قوت… امریکہ اور اس کے حواریوں… کو شکست دی ہے، اور اس سے پہلے سوویت اتحاد کو شکست دی تھی، اور اس سے بھی پہلے سلطنتِ برطانیہ کو شکست دی تھی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ افغانستان کی زمین کو خیر، عافیت اور راحت سے بھر دے۔ اور ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ شام میں بشار، رافضی ملیشیات اور پوٹن کے کرائے کے قاتلوں کے مقابلے میں ہماری مدد ونصرت فرمائیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہماری بھی ایسی نصرت فرمائیں جس طرح طالبان کی نصرت فرمائی ہے، آمین۔
شیخ عبد الحی یوسف صاحب
نائب رئیس ھیئۃ علماء السودان
مومنین اس فتح پر خوش ہیں، جبکہ منافقین غم وحزن کا شکار ہیں۔ بلاشبہ اس فتح نے … جو افغانستان میں مجاہدین کے ہاتھوں وقوع پذیر ہوئی ہے… ہم مسلمانوں کے سامنے امید کی کرن پیدا کر دی ہے، اور ہمارے اس یقین کو بڑھا دیا ہے کہ جو کوئی اللہ کے ساتھ سچا ہو، تو اللہ بھی اس کے ساتھ سچے ہوتے ہیں، اور جو کوئی اللہ کی مدد کرے تو اللہ بھی اس کی مدد فرماتے ہیں، اور جو کوئی اللہ کے دین کو عزت دلائے، اللہ اسے معزز فرما دیتے ہیں، کیونکہ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرما رکھا ہے: [اور ضرور بالضرور اللہ اس کی مدد فرمائیں گے جو اس کی مدد کرے، بے شک اللہ بہت زیادہ قوی اور غالب ہیں۔]
رابطہ علماء المسلمین
ہم خوشی سے لبریز دل، مسرور روح اور حمد وثناء اور تکبیر وتہلیل بیان کرتی زبان سے افغانستان کے اپنے غیور مسلمان بھائیوں… قائدین، حکومت اور عوام… کو گرم جوش مبارکباد دیتے ہیں۔ اس بات پر مبارکباد دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس پاک سرزمین کو قابض حملہ آوروں سے پاک کرکے آپ کو حکومت قائم کرنی کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ جن کے ہاتھ میں اللہ نے اس قوم کی باگ ڈور دی ہے، انھیں اپنی ہدایت سے بہرہ ور فرمائے، اپنی رضا والے عمل کی توفیق دے، انھیں اپنے دوستوں کے لیے نرم اور دشمنوں کے لیے جنگ والا بنادے، اور محبوب افغان عوام کو رحمانی شریعت کے سائےتلے امن وسلامتی اور اطمینان کی فضا نصیب فرمائے، آمین۔
الاتحاد العالمي لعلماء المسلمین
ہم مجلسِ اتحاد کے رئیس، ذمہ داران اور تمام اراکان کی طرف سے ملا محمد حسن اخوند کو جدید حکومت کی سربراہی، اور طالبان اور دیگر افغان طبقات کی طرف سے آپ کو دیے گئے اعتمادپر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ یہ اعتماد آپ کی اہلیت اور مقام ومرتبے کی شہادت دیتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ افغانستان کی یہ جدید حکومت اس عادل حکومت کا نمونہ پیش کرے گی جو رسول اللہﷺ اور خلفائے راشدین نے قائم کی تھی، جس میں شورائیت، عدل وانصاف، جان ومال کی حفاظت، آزادیوں اور حقوق کی ضمانت ہوگی، اہل کو حق دیا جائے گا، سب میں برابری ہوگی اور معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان امن وآشتی کی فضا پیدا ہوگی، اور انسانی وتہذیبی مشترکات کو معاشرے میں جگہ ملے گی۔ ہم تمام افغان گروہوں اور ان کے قائدین سے بھی کہتے ہیں کہ وہ اس حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ ہم خود بھی ہر طرح کے تعاون کے لیے تیار ہیں۔
٭٭٭٭٭

![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



