ایک صدی قبل، اقبالؒ نے پیشین گوئی کرتے ہوئے، اپنی معرکۃ الآراء نظم ’طلوعِ اسلام‘ میں کہا تھا:
دلیلِ صبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
افق سے آفتاب ابھرا، گیا دورِ گراں خوابی
عروقِ مردۂ مشرق میں خونِ زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا وفارابی
مسلماں کو مسلماں کردیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے
شکوہِ ترکمانی، ذہنِ ہندی، نطقِ اعرابی
تڑپ صحنِ چمن میں، آشیاں میں، شاخساروں میں
جدا پارے سے ہوسکتی نہیں تقدیرِ سیمابی
سرشکِ چشمِ مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا
خلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیدا
کتابِ ملتِ بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ وبر پیدا
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
اقبال نے اپنے ان چند اشعار میں جو پیشین گوئی کی ہے، وہ آج ہم اپنی آنکھوں سے پوری ہوتی دیکھ رہے ہیں۔ پھر ملاحضہ ہو:
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
مجھے شہید شیخ امام انور العولقی کی وہ بات یاد آرہی ہے جو انھوں نے اپنے دروس میں سے ایک درس میں فرمائی۔ شیخ انور کے درس میں نبوت، خلافت، ملوکیت، آمریت اور ثم خلافت کی بات چل رہی ہے۔ ایسے میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہر سو برس کے بعد ایک مجدد آتا ہے جو امت میں کسی بھولے یا گم کردہ فریضے کی تجدید کرتا ہے۔
کہتے ہیں کہ اس وقت امت کو جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے، وہ ایک اجتماعی نظام کے نہ ہونے کا مسئلہ ہے… خلافت اس وقت قائم نہیں ہے، اور اس صدی کا مجدد جس فریضے کا احیاء کرے گا وہ فریضہ خلافت ہے، کہ سلطنتِ بنو عثمان کے سقوط کی صورت میں خلافت موجود نہیں۔ اور سو سال نہیں گزریں گے کہ یہ خلافت دنیا میں ایک بار پھر قائم ہوجائے گی۔ خلافتِ عثمانیہ کا سقوط ۱۹۲۴ء میں ہوا، سو سال نہیں گزریں گے کہ خلافت پھر سے قائم ہو جائے گی!1
کیا یہ محض ’اتفاق‘ ہے کہ خلافتِ عثمانیہ کا سقوط رجب ۱۳۴۲ھ بمطابق مارچ ۱۹۲۴ء میں ہوتا ہے اور قریباً ایک صدی کے بعد امارتِ اسلامیہ افغانستان از سرِ نو محرم ۱۴۳۳ھ بمطابق ۱۵ اگست ۲۰۲۱ء میں قائم ہوجاتی ہے!
خلافتِ عثمانیہ کے سقوط کے بنیادی مجرموں میں سرِ فہرست نام یہود کا ہے، پھر یہود کے اس وقت کے سب سے بڑے پشت پناہ ’برطانیہ‘ کا ہے۔ انھی برطانیوں نے یہودیوں کو ریاستِ ’اسرائیل‘ تحفے میں دی۔ برطانیہ کا کردار جوں جوں عالمی سیاست میں کم ہوا، اسی طرح عالمی سیاست کی ٹھیکے داری ’امریکہ‘ کو سپرد ہوتی گئی۔ پھر اسی سیاسی بالادستی اور ٹھیکے داری کے ساتھ ’اسرائیل‘ کی پشت پناہی کا ’ذمہ‘ بھی امریکہ نے اٹھالیا۔
اہلِ ایمان اور اسلام کے اس دنیا میں سب سے بڑے دشمن ’یہود‘ ہیں… وہ یہود جنھوں نے انبیاء علیہم السلام کو قتل کیا، جنھوں نے قدیم الہامی کتابوں میں پڑھ اور پرکھ کر، جان بوجھ کر رسولِ آخر الزمان محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا کفر کیا۔
اسلام کے خلاف ہونے والی ہر چھوٹی بڑی سازش میں، پچھلے چودہ سو سال میں یہود شریک رہے۔ اگر یہود نے سازش خود تیار نہیں کی تو کم از کم حصہ دار ضرور رہے۔ پھر خلافتِ عثمانیہ کے سقوط کا سانحہ وہ واقعہ ہے جس کا براہِ راست تعلق یہود سے ہے۔ خلافتِ عثمانیہ اور اس کے غیور خلفاء یہود اور ان کی ’ناجائز‘ ریاستِ اسرائیل کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ ریاستِ اسرائیل کے قیام سے نصف صدی یا کچھ زیادہ قبل یہود کا ایک وفد خلیفہ عادل، امیر المؤمنین ’سلطان عبد الحمید الثانی‘ (نوّر اللہ مرقدہٗ) سے ملتا ہے اور منہ مانگی قیمت پر ارضِ فلسطین کا سودا ان سے کرنے کی التجا کرتا ہے، جسے حمیتِ اسلامی کے پیکر سلطان عبد الحمید سختی سے رد کردیتے ہیں! یہی ہے وہ موڑ جہاں یہود عہد کرلیتے ہیں کہ خلافت کو ڈھانا ہی ڈھانا ہے، کہ جب تک یہ خلافت ہے، ان یہود کا سکۂ صہیونیت وسرمایہ داری وساہوکاری نہیں چل سکتا!
اور پھر یہود کی عالمی صہیونی سرمایہ دار حکومت قائم ہوجاتی ہے، جس کی سب سے واضح صورت امریکہ بن کر ابھرتا ہے۔
ان یہود کی ’پادشاہی‘ کوچیلنج کرنے کے لیے اور مسجدِ اقصیٰ کو یہود کے پلید پنجوں سے چھڑانے کے لیے وقت کا ایک صلاح الدین اٹھتا ہے۔ اس صلاح الدین کو ’فاتحِ قدس یوسف صلاح الدین ایوبی‘ پر ایک امتیاز یہ حاصل ہے کہ وقت کے ’امیر‘ کی حمایت بھی اس کے ساتھ ہے۔ اور وقت کا وہ امیر کوئی اور نہیں، ’ملا عمر‘ ہے، اور یہ صلاح الدین ’اسامہ بن لادن‘!
یہود کے ’محافظ‘، بلکہ یہود کے مفادات کے ان یہودیوں سے بھی زیادہ ’محافظ‘، امریکہ پر چند فدائی نوجوان حملہ کرتے ہیں۔ اس واقعے کو تاریخ کا اہم موڑ ہر کوئی، اپنے اور پرائے سب ہی قرار دیتے ہیں۔ تاریخ اب Pre September 11 اور Post September 11 (ما قبل گیارہ ستمبر اور ما بعدگیارہ ستمبر) میں تقسیم کردی جاتی ہے۔
طاغوتِ اکبر امریکہ، یہود کا محافظ، یہودی وضع کردہ عالمی سرمایہ داری وساہوکاری نظام کو بچانے کے لیے، دورِ جدید کے انکارِ الٰہی کے دین ’جمہوریت وسیکولرزم‘… جو عالمی صہیونی منصوبے کی بقا کی مانند ہے… کو بچانے، أنا ربکم الأعلیٰ ڈکارتا ہوا، افغانستان پر حملہ آور ہوتا ہے۔
۲۰۰۱ء سے ۲۰۲۱ء تک کا منظرنامہ دنیا کے ہر شخص کے سامنے عیاں ہے۔
صلیبی وصہیونی، یہود وہنود، شیطان ودجّال سب حیرت، افسوس، غم، خجالت اور ذلت میں اپنے دانتوں تلے اپنی انگلیاں چبا رہے ہیں… غضب ناک ہیں لیکن ہزیمت کی تصویر بنے رو رہے ہیں!
جو حکومتِ الٰہیہ رجب ۱۳۴۲ھ میں چھینی گئی تھی، آج بزورِ قوت محرم ۱۴۴۳ھ میں واپس لے لی گئی ہے۔ یہ حکومتِ الٰہیہ، باذن اللہ خلافت علی منہاج النبوۃ کا پیش خیمہ ہے!
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
خلافت کے بنا گزری اس ایک صدی کی رات میں صد ہزار نہیں، شاید صد لاکھ سے بھی زیادہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھتے ستاروں کا خون ہوا ہے… لیکن … آج… منظرِ سحر ہر طرف ہویدا ہے!
٭٭٭٭٭
1 شیخ کی یہ بات میرے الفاظ میں پیش کی گئی ہے، غالباً شیخ نے یہ بات اپنے سلسلہ دروس ’Lives of the Prophets‘ میں فرمائی ہے۔

![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



