نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home فتحِ امارتِ اسلامی

ہمارا خون بھی شامل ہے تزئینِ گلستاں میں

by عارف ابو زید
in اگست و ستمبر 2021, فتحِ امارتِ اسلامی
0

اگست ۲۰۲۱ء کو جب امارتِ اسلامیہ کے مجاہدین کابل میں داخل ہوگئے، تو ساری دنیا کےمیڈیا پر سب سے بڑی خبر یہی چل رہی تھی۔ اہلِ ایمان کے چہرے خوشی سے تمتما رہے تھے، جبکہ اہلِ کفر کے چہروں پر سراسیمگی اور پژمردگی چھائی ہوئی تھی۔ آج ایک مرتبہ پھر کفر کے مقابلےپر ایمان کو فتح مل چکی تھی۔ آج پھر ﴿جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ﴾ کا نعرہ فضا میں بلند ہو رہا تھا، ﴿اِذَا جَاۗءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ﴾ کی صدائیں کانوں میں گونج رہی تھیں۔ آج پھر ﴿كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ﴾ کا عملی اظہار ہوچکا تھا۔ دینِ اسلام کی حقانیت ثابت ہو رہی تھی، اور کفر اور اہلِ کفر کی ناکامی پر مہرِ تصدیق ثبت ہو رہی تھی۔ اکیسویں صدی کی ظلمتوں میں جینے والے وہ لوگ جنھوں نے ان ظلمتوں کے باوجود لا إلہ إلا اللہ کا کلمہ پڑھا تھا، آج انھیں احساس ہو رہا تھا کہ وہ اس تاریکی سے بھری دنیا میں بھی کس قدر معزز ہیں، وہ ایسے ذلیل وخوار نہیں ہیں کہ جو چاہے اور جب چاہے انھیں دھتکار دے، عزت کا ایک احساس ہر ایمان والے دل میں نمایاں تھا۔ مسلمان کا سر آج کفار کے مقابلے میں بلند تھا۔ جہاد کی قوت امریکہ اور نیٹو اور اس کے سارے چیلوں پر نمایاں ہوچکی تھی، ’شریعت یا شہادت‘ کی طاقت ظاہر ہوچکی تھی۔

میں یہی تاثرات دیکھ رہا تھا، محسوس کر رہا تھا کہ اچانک میری سوچ نے پلٹا کھایا اور ایک اڑان بھر کر مجھے عرشِ معلیٰ اور ملاء اعلیٰ تک لے گئی۔ وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جشن کا سماں ہے، خوشی کا الگ اندازہے، اہلِ ایمان کے جھنڈ کے جھنڈ موجود ہیں جو زمین والی اس فتح پر محظوظ ہو رہے ہیں اور رب کے حضور شاداں وفرحاں ہیں ﴿وَيَسْـتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِيْنَ لَمْ يَلْحَقُوْا بِھِمْ مِّنْ خَلْفِھِمْ﴾ ۔ ایک جمِ غفیر ہے، رش ہے، بھیڑ ہے۔ میں نے جب کھوج لگائی کہ بھلا یہ کون لوگ ہیں جو اس وقت یہاں زمین پر ہونے والی فتح کا جشن منا رہے تھے، تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ تو وہ شہداء ہیں جن کا خون خود اس زمین پر گرا ہے، اور آج یہ اپنے خون کی بہار منانے جمع ہوئے ہیں۔

میں نے بھی چاہا کہ میں ان کی مجلس میں ان کے ساتھ مل بیٹھو…… لیکن دنیوی آلائشوں والا بدن کہاں روحانی منورات والے ابدان سے مل سکتا تھا، وہ روح کہاں اس قابل تھی جو ابھی تک جسدِ خاکی میں بند ہے، وہ صحیح سلامت جسم کیسے ان جسموں سے مَس ہوسکتا تھا جو راہِ خدا میں چھیتڑے بنے۔

لہٰذا یہ تو ممکن نہ ہوسکا کہ میں بھی ملاء اعلیٰ کی اس مجلس میں شریک ہوسکوں، تو پھر میں باہر بیٹھا تماشائی بن کر ان لوگوں کے چہروں پر غور کرنے لگا کہ معلوم تو ہو کہ کون کون یہاں موجود ہے، تاکہ کم از کم میں انھیں پہچان کر تو خوش ہوسکوں۔ کیادیکھتا ہوں کہ اس سب میں ایک صورت نمایاں سی نظر آرہی ہے۔ارے یہ تو مولانا ارشاد احمدصاحب ہیں … دار العلوم کراچی کے وہ طالب علم جنھوں نے روس کے خلاف جہاد میں پہلے پہل شرکت کی اور انھی کا صدقہ جاریہ تھا کہ پاکستان کے اہلِ مدارس جوق درجوق جہادِ افغانستان میں شریک ہونے لگے۔ مزید تلاش کی تو انھی کے پہلو میں مجھے پشاور کے فضلِ ربی بھی نظر آئے … اسلامی جمعیت طلبہ کے پہلے شہید… جنھوں نے جماعتِ اسلامی والوں کے اندر جہادِ افغانستان کی روح پھونکی۔ سبحان اللہ! اس مجلس میں کہیں مجھے مسالک کی تفریق نہیں نظر آرہی تھی جس نے آج ہمارے معاشرے کو توڑ رکھا ہے، وہ سب ایک ہی جگہ جمع تھے۔ آگے بڑھا تو مولانا ارشاد احمد صاحب کے قریب ہی ان کے ابتداء کے ساتھی بھی نظر آئے جو چلے تو ان کے ساتھ تھے، مگر بڑی طویل مسافت طے کر کے کئی سالوں بعد ان سے ملے تھے، یہ مولانا سیف اللہ اختر صاحب تھے… شیخ نفیس الحسینی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اور عظیم جہادی قائد… دہائیوں پر محیط جہادی زندگی گزاری، کبھی کسی طاغوتی طاقت کے سامنے نہ جھکے، اور بالآخر افغانستان کے ولایتِ غزنی کی ناوہ ولسوالی میں امریکیوں سے لڑتےہوئے شہید ہوگئے۔

مزید مجلس پر غور کرنے سے ایک بزرگ بھی نظر آتے ہیں۔ ارے یہ تو شیخ ابو حفص مصری ہیں، جو اس وقت شہید ہوئے تھے جب امریکہ نے ۲۰۰۱ء میں ابتدائی حملہ کیا تھا۔ یہ ننگرہار ولایت کے خوگیانو ولسوالی میں تورہ بورہ کے پہاڑوں پر شہید ہوئے تھے۔ عجیب شفقت ان کے چہرے پر نمایاں تھی اور انھی کے آس پاس دیکھا کہ امریکہ کے ابتدائی حملوں میں قندھار میں شہید ہونے والے بھی بیٹھے ہیں، جن میں مصر کے عظیم جہادی قائد شیخ ایمن الظواہری کے بیٹے محمد کو بھی دیکھا۔

مزید شناخت کا عمل جاری رکھا، لیکن غالب اکثریت تو ایسی تھی کہ میں نہیں پہچان پا رہا تھا، میں انھیں نہیں جانتا تھا اور کتنی ہی بڑی تعداد ایسی معلوم ہو رہی تھی کہ جو مجلس میں شریک ضرور تھے، لیکن اپنے آپ کو زیادہ نمایاں نہیں کر رہے تھے۔ میں نے دل ہی دل میں اندازہ کیا کہ یہ امت کے وہ گمنام شہداء ہیں جنھیں جاننے والے آج بہت تھوڑے ہیں، شاید کوئی ماں ہو جو اپنے ایسے بیٹے کو یاد کرتی ہو، یا شاید کوئی بہن ہو جو اپنے جوان بھائی پر اشک بہاتی ہو، یا شاید کوئی بیوہ جو ایسے شہید کو یاد کرکے اپنے دل میں ہی غم کو سی لیتی ہو، دل میں آہیں پر آہیں لیتی ہو لیکن اس کی آہ کو کوئی باہر والا نہ سن پاتا ہو…… ورنہ دنیا میں انھیں یاد کرنے والے اور انھیں جاننے والے زیادہ نہیں۔ اور اکثر ایسے شہداء خود سرزمینِ افغانستان کے تھے۔ مجلس کے شرکاء کی غالب اکثریت خود اہلِ افغان پر مشتمل تھی جنھیں پہنچاننے کی کوشش کرنا مجھے اپنے بس کا کام نہیں معلوم ہو رہا تھا۔ ہاں! بڑی بڑی مسندوں پر بیٹھنے والے قائدین میں سے بعض لوگوں کوپہچاننے میں کامیاب ہوا، جن میں ہلمند کے دشت میں ۲۰۰۴ءمیں امریکی ڈرون حملے میں شہید ہونے والےعظیم قائد، اور امیر المؤمنین ملا عمر مجاہد رحمہ اللہ کے خاص رفیق ملا اختر محمد عثمانی، ہلمند کی گرمسیر ولسوالی میں شہید ہونے والے عظیم قائد ملا داد اللہ، فاتح قندوز ملا عبد السلام، عظیم جہادی قائد اور بہترین داعی عالم شیخ دوست محمد نورستانی وغیرہ حضرات شامل تھے۔ ان کے چہروں پر خوشی سے بڑھ کر طمانینت کے آثار نظر آرہے تھے، کہ وہ آج اپنی مظلوم قوم کو فاتح دیکھ رہے تھے، اس قوم کو جس نے متمدن ترین کہلانے والے امریکیوں اور یورپیوں کے ہاتھوں اس دور کا بدترین ظلم اور وحشت سہی تھی، لیکن آج وہ سر بلند کرکے اور سینہ تان کر انھی وحشیوں کے سامنے فتح کا ’کلمے والا سفید‘ جھنڈا بلند کر رہے تھے۔

آگے بڑھتا ہوں، شناخت کا عمل جاری ہے، اور مزید شناسا چہرے نظر آتے ہیں۔ ایک جگہ پر چالیس سے پچاس شہداء کا جمگھٹا لگا ہوا ہے،بڑی مجلس کے اندرخصوصی مجلس بھی ہے۔ یہ تو سعودیہ سے تعلق رکھنے والے ابو عبد الرحمن مدنی اور ان کے وہ رفقاء ہیں جو زابل ولایت کی نوبہار ولسوالی میں ۲۰۰۷ء میں امریکیوں کے چھاپے میں ایک ساتھ ایک ہی جگہ شہید ہوئے تھے۔ سبحان اللہ! چہروں پر کیسی تازگی اور کیسا سکون ہے۔

اور قریب میں ہی شیخ ابو الحسن الصعیدی بھی موجود ہیں، مصر سے تعلق رکھنے والے قائدِ جہاد … جنھوں نے القاعدہ کے بڑے مسؤولین میں سے ہوتے ہوئے بھی قندھار میں استشہادی حملہ کیا تھا، جس طرح دنیا میں ہنستا بستا چہرہ تھا، ویسے ہی وہاں خوش باش اور ہنستے بستے دِکھ رہے تھے۔ اسی دوران مجلس کے بیجوں بیج ایک نمایاں مسند نظر آئی، اور نہایت خوبرو چہرے پر نظر پڑی… سارے ہی حاضرینِ مجلس نے صاحبِ مسند کو مرکزی مقام دے رکھا ہے… یقینا یہ اعزاز کسی اعزازی خدمت کا صلہ ہے… ارے یہ تو وہ شخص نشست افروز ہے جس نے امریکی سی آئی اے کی قریب کی تاریخ میں اسے سب سے بڑا نقصان پہنچایا… جی! اردن کے ابو دجانہ خراسانی۔ انھیں دیکھ کر ان کی وصیت یاد آگئی اور وہ الفاظ یاد آگئے کہ ’تم عنقریب یہ باتیں یاد کرو گے جو میں تمہیں کہہ رہا ہوں، اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، اور اللہ اپنے معاملے میں خوب غالب ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘۔ سچ کہا تھا انھوں نے۔

آگے بڑھتا ہوں، مزید دیکھتا ہوں تو اپنے جیسے چہرے نظر آنے لگتے ہیں، او! یہ تو پاکستان سے تعلق رکھنے والے شہداء ہیں۔ خالد کے ٹو موجود ہیں … افغانستان کی حالیہ جنگ میں باردو اور ریموٹ کا کام انھی کا صدقہ جاریہ ہے… ہلمند کے علاقے برابچہ میں امریکی چھاپے میں شہید ہوئے، ساتھ ہی ’عثمان پنجابی‘ بھی موجود ہیں… حالیہ جنگ میں پہلی مائن کارروائی کرنے والے جو شاہ ولی کوٹ،قندھار میں ہوئی… گرمیسر (ہلمند) میں شہید ہوئے۔ ارے یہ تو ایبٹ آباد کے عبد الحکیم بھائی ہیں جو ۲۰۰۹ء میں ولایت فراہ میں شہید ہوئے، اٹک سے تعلق رکھنے والے نو عمر ذہین وفطین ’مجاہد‘ موجود ہیں جن کا نام والدین نے ہی مجاہد رکھا تھا جو قندھار میں شہید ہوئے تھے، حافظ آباد کے شیر علی بھی نظر آتے ہیں جو فراہ ولایت بکوہ ولسوالی میں مدفون ہوئے۔

مزید آگے دیکھیے! یہ قریب قریب بیٹھے ایک ہی خانوادے کے معلوم ہو رہے ہیں۔ او! یہ تو عظیم جہادی قائد اور جہادی مفکر ہیں جن کے نظریات نے مجاہدین میں فکری پختگی پیدا کی … ڈاکٹر ابو خالد [محمد سربلند زبیر خان] … کتاب ‘عصرِ حاضر میں جہاد کی فکری بنیادیں‘ کے مصنف… پکتیکا ولایت میں گیان ولسوالی میں شہید ہوئے، ساتھ ہی ان کے پھوپھی زاد بھائی بھی موجود ہیں… میجر عادل قدوس خان… پاکستانی فوج کے وہ عظیم افسر جنھوں نے امریکہ کے سامنے سر نہیں جھکایا، بلکہ الٹا اس کے خلاف سربکف ہوگئے، انھوں نے امریکہ کو بڑی ضرب لگانے والے خالد شیخ محمد کو پناہ دی اور اسی جرم کی پاداش میں پاکستانی فوج نے ان کا کورٹ مارشل کیا… ساتھ ہی ڈاکٹر صاحب کے دونوں بیٹے… عزیر اور سلیمان بھی بیٹھے ہیں…، ارے ساتھ ہی کھلکھلاتا چہرہ بھی موجود ہے، جب تک مجاہدین میں رہا رونقیں تقسیم کرتا رہا اور وہاں بھی ایسے ہی رونق افروز ہے، ڈاکٹر صاحب کی پھوپھی زاد بہن کا بیٹا خالد قیمتی [محمدیاسر مرزا]، جو واقعی قیمتی تھا۔ اوہ! قریب ہی چار بھائیوں کا دائرہ بھی موجود ہے… سارے ہی حسین وجمیل نوجوان ہیں، نور ان کی پیشانیوں سے امنڈ رہا ہے، یہ سیف الرحمن، حامد، خالد اور قاسم ہیں… شہید ماں کے شہید بیٹے، ان کے والد آج زمین پر خوشی سے کیسے آبدیدہ ہوں گے۔ انھی کے بالیں پر ایک اور دائرے میں کچھ لوگ ہیں اور وہ بھی ایک ہی خاندان کے معلوم ہو رہے ہیں، سبھی نوجوان ہیں… یہ تو ٹنڈو اللہ یار کے اسد، حمزہ، فہد اور حذیفہ ہیں… کوئی غزنی میں شہید ہوا، کوئی لوگر میں، کوئی پکتیکا میں، ہر ایک نے اپنی جوانی اپنے دین پر وار دی اور اس غربت کے دور میں بھی اپنے خاندان کو اعزاز بخشا۔ پڑوس میں ہی مجاہدین میں ہر دلعزیز جانان درویش بھی موجود ہیں… دشمنوں پر شیر، ایک ایسا مجاہد کہ جس کے تذکرے آج بھی اس کے ساتھیوں میں زندہ ہیں۔ ادھر جانے پہچانے بزرگ بھی نظر آرہے ہیں ، یہ تو دیر کے ابو سیف بھائی ہیں… کنڑ میں شہید ہوئے… مجاہد عالم اور قائد، سنجیدگی کے ساتھ شگفتگی لیے ہوئےتشریف فرما ہیں۔ یہاں پورا حلقہ ہی بزرگوں اور قائدین کا ہے؛ قائد خطاب منصور [عمران] بھائی بیٹھے ہیں، قاسم [راجہ خرم کیانی] بھائی اور زاکیم بھائی بھی ہمراہ ہیں… تینوں حضرات اکھٹے زابل ولایت کی شاہ جوئی ولسوالی میں شہید ہوئے… تینوں کی پوری پوری زندگی جہاد سے عبارت تھی، صغر سنی میں میدانوں میں کودے، یہاں تک کہ ادھیڑ عمروں کو پہنچ کر سرفراز ہوگئے۔ ساتھ ہی عبد الحسیب بھائی بھی ان کے حلقے کے پہلو میں بیٹھے ہیں،حلقے میں شریک ہیں بھی اور نہیں بھی…نوجوانی میں بڑے بڑے معرکے سر کیے، امریکیوں کے خلاف سرگرم رہے، اور جوانی کی ابتداء میں ہی ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔

کچھ فاصلے پر مزید لوگ بھی بیٹھے ہیں، یہ تو حلقہ محسود کے شہداء معلوم ہورہے ہیں، نمایاں مسند پر استاد اعظم طارق صاحب بیٹھے ہیں… پکتیکا میں شہید ہوئے، خوشی کے ہمراہ متانت چہرے پر واضح ہے۔ ادھر دیر اور سوات سے تعلق رکھنے والے مجاہدین کی مجلس بھی لگی ہوئی ہے، مولانا فضل اللہ صاحب اور استاد فاتح دونوں حضرات گویا صدارتی مسندوں پر فائز ہیں… نورستان میں شہید ہوئے۔

آگے چلتا ہوں تو مجلس میں ایک انتہائی متین اور باوقار، مگر خوشگوار چہرہ نظر آتا ہے جس کی موجودگی سے خود مجلس میں ایک تازگی ہے، یہ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے امجد بھائی [اسامہ ابراہیم] ہیں … جو آج بھی کتنے ہی دلوں میں زندہ ہیں اور ان کی شخصیت آج بھی زندہ محسوس ہوتی ہے، زابل کی میزان ولسوالی میں شہید ہوئے۔ ساتھ ہی ہنستی آنکھوں، وجیہ چہرے والے لاہور کے مزمل بھائی [رانا عمیر افضال] بھی بیٹھے ہیں، جو ہلمند میں امریکی چھاپے میں شہید ہوئے۔انھی کے جھرمٹ میں اوکاڑہ کے ریحان بھائی [عفان غنی] بھی نظر آرہے ہیں، مجلس میں کچھ محوِ گفتگو ہیں، شاید اس فتح پر شہداء کو کوئی تجزیہ کرکے بتا رہے ہیں… ہلمند کی ولسوالی موسی قلعہ میں شہید ہوئے۔ قندھار ولایت کے شوراوک ولسوالی میں شہید ہونے والے مولانا اشتیاق اعظمی صاحب بھی خاموشی سے بیٹھے باتیں سن رہے ہیں اور زیرِ لب مسکرا رہے ہیں، قندھار ولایت کے شوراوک ولسوالی میں شہید ہوئے، انتہائی حلیم اور حکیم عالمِ دین تھے، کوئی لمحہ بغیر مقصد کے ضائع نہیں کرتے تھے، زیادہ خاموش رہتے اور بولتے تو حکمت کے گوہر بکھیرتے۔ارے ساتھ ہی کراچی کے بدر بھائی [کامران عاطف] بھی جلوہ افروز ہیں، جو ریحان بھائی کے تجزیے کو سن تو رہے ہیں، لیکن محسوس ہورہا ہے کہ کوئی جواب تیار کر رکھا ہے… موسی قلعہ میں ریحان بھائی کے ساتھ ہی شہید ہوئے۔ انھی کی مجلس کے بیچ وبیچ چھوٹے میاں بھی نظر آرہے ہیں… معوذ [اسامہ قریشی] ہیں… گیارہ سال کی عمر میں اس راستے میں آئے، اور سترہ سال کی عمر میں سپہ گری کے جوہر دکھاتے ہوئے اورمیدانِ جنگ میں دادِ شجاعت لیتے ہوئے شہید ہوئے۔ ادھر قریب میں ہی عظیم جہادی قائد ضرار بھائی [ استاد حنیف] اپنےبیٹے سالم کے ہمراہ بیٹھے ہیں، اس سب کو دیکھ کر مسکرا رہےہیں… جب امیر المؤمنین ملا عمر رحمۃ اللہ علیہ نے تحریکِ طالبان کی بنا رکھی تو ابتدائی سالوں میں اس قافلے میں شریک ہوگئے۔ اور قریباً تین دہائیوں پر مشتمل جہادی زندگی گزاری، فراہ ولایت میں شہید ہوئے۔

ارے مجلسوں کے اندر ایک اور مجلس بھی لگی ہے… یہ تو ہمارے بنگلہ کے شہداء ہیں… سب ایک دائرے میں بیٹھے ہیں… ڈھاکہ سے تعلق رکھنے والے یعقوب بھائی، ابو ابراہیم بھائی، اسد اللہ بھائی، چٹا گانگ سے تعلق رکھنے والے حذیفہ بھائی… اور ایک فرد درمیان میں نسبتاً کچھ اونچی مسند پر بیٹھے ہیں … جی ہاں! یہ کماندان طارق [سہیل] بھائی ہیں۔ سبحان اللہ! کیسے خوبرو اور مسرور چہرے ہیں۔

میں ان شہداء کی مجلس کو ایک تماشائی کے طور پر دیکھ رہا ہوں، اور کتنے ہی مزید شناسا چہروں کو دیکھتا اور ان کی مسکراہٹوں سے محظوظ ہوتا ہوں۔ ولایت پکتیا میں شہید ہونے والے راولاکوٹ کے مروان بھائی، لوگر میں شہید ہونے والے راولپنڈی کے تاج گل بھائی اور مردان کے مولانا منصور حقانی، ارزگان میں شہید ہونے والے مری کے سیف اللہ بھائی [ولید عباسی]، ہلمند میں شہید ہونے والے، مجلسوں کی رونق، ہر دلعزیز، ڈیرہ اسماعیل خان کے مولانا سلمان [حنیف] صاحب، ولایت وردک میں شہید ہونے والے ، انتہائی معصوم اور شریف النس، راولپنڈی کے ہشام [ملک سلمان اشرف] بھائی، اوکاڑہ کے عطاء الرحمن عادل بھائی [احتشام وٹو]… اگر سب کا ذکر کرنے لگوں تو شاید وقت اپنی وسعتوں کے باوجود کم ہوجائے، اور قلم اور قرطاس کی حدود سے بات آگے نکل جائے۔

جشن میں ایک اونچی اور اجلی زمین پر الگ سے ایک بڑی تعداد بھی جمع ہے، انوکھی بھی ہے، نورانیت بھی ان کی جدا ہے، اعزاز واکرام بھی الگ ہے، مقام بھی الگ ہے… بڑی تعداد ہے، ان کی اس حیثیت نے مجھے ورطہ حیرت میں ڈالا اور جی میں شدید تجسس پیدا ہوا کہ آخر یہ کون لوگ ہیں؟ دوسروں سے ہٹ کر ان سے قریب ہوا، تاکہ ان کی حقیقت جان سکوں…

اوہ! یہ تووہ لوگ ہیں جن کا خون اگرچہ اس زمین پر نہیں گرا، لیکن اس فتح میں ان کی جدوجہد کا بلاشبہ بڑا کردار اور حصہ ہے، یہ ہیں شہدائے وزیرستان، مختلف شہروں اور قبائل سے تعلق رکھنے والے! یہ اتنی بڑی تعداد ہے کہ میں نے بس ان کا یہ اعزاز واکرام دیکھا، اس خوشی میں ان کا الگ جشن دیکھا، اگر میں سب کچھ جاننے لگوں اور اسے ذکر کرنے لگوں تو میری زبان اور میرے الفاظ میرا ساتھ نہ دے سکیں گے۔

ایک طرف زمین پر ہونے والے جشن کو دیکھتا ہوں تو دوسری طرف ان شہداء کی مجلس میں خوشی کے مناظر دیکھتا ہوں۔ دونوں کو دیکھ کر دل میں خوشی اور فرحت کے انتہائی احساسات پیدا ہو رہے ہیں، لیکن ان احساسات کے ساتھ آنکھیں نم ہو رہی ہیں، کہ یہ فتح، یہ خوشی، یہ فرحت، یہ سرفرازی وسربلندی … خون کا ایک دریا پار کرنے کے بعد ملی ہے، اور خون کے دریا میں کتنوں کے پیارے بھی غرق آب ہوئے۔ یہ فتح یونہی حاصل نہیں ہوئی، بلکہ قربانیوں کی لازوال داستان رقم ہوئی۔اس فتح کے پیچھے اتنے سارے شہداء کا خون ہے، جو آج رنگ لایا ہے۔ ان شہداء کے متعلقین میں سے کتنی بیوگان اور یتیم ہیں، کتنے ہی والدین ہیں جن کی اولاد امر ہوئی ہے، وہ سب بھی اس خوشی میں خوش ہیں، بھیگی آنکھوں کے ساتھ خوش ہیں، غمزدہ دلوں کے ساتھ خوش ہیں۔ اس خوشی میں غازیانِ اسلام کے ساتھ بڑا حصہ انھی شہداء اور ان کے لواحقین کا ہے۔ میں مجلس سے واپس لوٹتا ہوں، میری آنکھیں نم ہیں، دل میں خوشی کے ساتھ غم ہے، ہاں… لیکن… غم پر خوشی غالب ہے۔ میں چند لمحے آنکھیں بند رکھنے کے بعد کھول لیتا ہوں۔

٭٭٭٭٭

یہ روئے زمین کے صرف ایک ملک کی فتح کا حال ہے، جبکہ پوری امت کتنے ہی ممالک میں مغلوبیت کی حالت میں زندگی بسر کر ر ہی ہے۔ ابھی یہ ایک فتح ہے، جس نے آگے چل کر امت کی سطح پرفتوحات کے لیے پیش خیمہ ثابت ہونا ہے ان شاء اللہ۔ ہاں! لیکن جس طرح یہاں قربانیوں اور خون دینے کی داستان رقم کرنے کے بعد یہ فتح ملی ہے، اسی طرح ابھی مزید قربانیوں اور خون دینے کے لیے امت کو تیار ہونا ہے۔ اس کے بغیر یہ سفینۂ اسلام ساحل پر نہیں لگ سکتا، اس کے بغیر امت کی بحیثیتِ مجموعی سرفرازی اور سربلندی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ اس لیے میری امت کو اس وجہ سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے کہ اس میں جان جائے گی اور خون بہے گا، کیونکہ اس کے بغیر اقبالِ اسلام ممکن ہی نہیں۔ قرآنِ مجید کا محکم فیصلہ ہے:

﴿وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ﴾ [آلم۔سجدۃ:۲۴]

’’اور ہم نے ان میں سے لوگوں کو اس وقت امامت کے منصب پر فائز کیا کہ وہ ہمارے احکامات کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کریں، جب انھوں نے صبر واستقامت سے کام لیا اور وہ لوگ ہماری نشانیوں پر یقین رکھتے تھے‘‘۔

خود پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی، جیسا کہ مسند احمد اور مسند ابو یعلی میں روایت ہے:

’’اللھم اجعل فناء أمتي في الطعن والطاعون‘‘۔

’’اے اللہ! میری امت کی فنا نیزےسے شہید ہونے اور طاعون سے شہید ہونے میں لکھ دے‘‘۔

السیر الکبیر میں امام محمد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضي اللہ عنہ نے جب لشکر کو شام کی طرف روانہ فرمایا تو آخر میں یہ دعا دی:

’’اللھم اقبضھم بما قبضت بہ بني إسرائیل بالطعن والطاعون‘‘۔

’’اے اللہ! ان مجاہدین کو شہادت سے سرفراز فرمائیے گا جیسا کہ آپ نے بنی اسرائیل کو نیزے سے مارے جانے اور طاعون میں مبتلا ہونے کی بدولت شہادت سے سرفراز فرمایا‘‘۔

پس ہمیں سمجھنا چاہیے کہ شہادتوں اور قربانیوں کے بغیر غلبہ اسلام کی منزل کا حصول ناممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں میں بحیثیتِ مجموعی روحِ شہادت زندہ فرمادیں اور راہِ جہاد پر استقامت نصیب فرمائیں، تاکہ افغانستان میں امارت کی فتح دیگر خطوں میں ایمان اور اہلِ ایمان کی فتح کا دروازہ بن جائے، آمین۔

اللھم خذ من دمائنا حتی ترضٰی! اللھم آمین!

٭٭٭٭٭

Previous Post

…ہوتی ہے سحر پیدا!

Next Post

میری زندان کی ساتھی تمہیں تو یاد ہی ہوگا…

Related Posts

تزکیہ و احسان

حسد و تکبر اور ان کا علاج

26 ستمبر 2021
حلقۂ مجاہد

امیر المومنین شیخ ہبۃ اللہ اخوند زادہ نصر اللہ کی ہدایات…… مجاہدین کے نام | اگست و ستمبر ۲۰۲۱

26 ستمبر 2021
فتحِ امارتِ اسلامی

قائدینِ اِمارتِ اسلامی کے پیغامات

26 ستمبر 2021
فتحِ امارتِ اسلامی

افغانستان میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی فتح پر امت مسلمہ کے نام مبارکباد کا پیغام

26 ستمبر 2021
فتحِ امارتِ اسلامی

ارضِ افغانستان پر امارتِ اسلامیہ کی فتح پر مبارکباد کا پیغام

26 ستمبر 2021
فتحِ امارتِ اسلامی

افغانستان میں فتح و تمکین پر مبارکباد کا پیغام | تنظيم قاعدة الجهاد في جزيرة العرب

26 ستمبر 2021
Next Post

میری زندان کی ساتھی تمہیں تو یاد ہی ہوگا…

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

by ادارہ
15 فروری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version