﴿إِذَا جَاء نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ{1} وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجاً{2} فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّاباً﴾ (سورۃ النصر: ۱ تا ۳)
’’ جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔اور تم لوگوں کو دیکھ لو کہ وہ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیں۔ تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، اور اس سے مغفرت مانگو۔ یقین جانو وہ بہت معاف کرنے والا ہے۔ ‘‘
الحمد للہ ثم الحمدللہ ، اللہ رب العزت نے اپنا وعدہ پورا فرمایا، اپنے جنود کی مدد فرمائی اور تنہا ہی دشمن فوجوں کو شکست دی اور بے شک اللہ رب العزت سے بڑھ کر اپنے وعدوں کا پورا کرنے والا اور کوئی نہیں ۔ اللہ رب العزت نے اپنی عظیم نعمت عطا فرمائی اور چودہ سو سال بعد آج پھر وہی فتح مکہ کا منظر آنکھوں کے سامنے زندہ کر دکھایا، وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجاً، گروہ در گروہ فوج، اداروں کے ادارے اسلام کے، شریعت کے علم بردار طالبانِ عالی شان کے سامنے تسلیم ہورہے ہیں؛ اور فاتحینِ امت کے سر اس فتح مبین پر اللہ رب العزت کے حضور عاجزی سے جھکے چلے جارہے ہیں اور ان کی زبانوں پر اللہ رب العزت کی حمد و شکر اور استغفار کے کلمات جاری ہیں۔ آج اللہ رب العزت نے اپنی رحمتِ خاص سے ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کے توکل اور ایمانی غیرت کا بدلہ عطا فرمایا ہے۔ ان کے وہ الفاظ جو بیس سال قبل’عقل والوں کو‘ دیوانے کی بڑ سے زیادہ معلوم نہیں ہوتے تھے آج سچائی کا لبادہ پہنے ہوئے دشمن کو بھی کھلی آنکھوں سے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ وہ طالبان مجاہدین ہیں کہ جنھیں کیسے کیسے برے القابات دیے گئے، یہ جنگلی ہیں، یہ وحشی ہیں، غیر تہذیب یافتہ ہیں، کٹّر ہیں، نہتے ہیں، بھوکے ننگے ہیں، بات کرنے اور سننے کے قابل نہیں ہیں……، مگر آج یہی اپنے مخالفین کو عزت دیتے، ان کو اچھے القاب سے پکارتے، ان کے پیچھے نماز پڑھتے نظر آتے ہیں1۔ آج جب اللہ نے انھیں اپنی رحمت سے ان کے جہاد، ان کی قربانیوں، ان کی ان تھک جدوجہد کا بدلہ عطا فرمایا تو یہ آپے سے باہر نہیں ہوئے ، بلکہ فتح مکہ کے وقت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کی پیروی کرتے ہوئے کابل کے انتظامی امور وہاں کے میئر ہی کے حوالے رہنے دیے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ عام معافی کا اعلان کیا اور اس پر عمل کرکے دکھایا۔ وہ حکومتی افراد جو فتح سے پہلےبڑھکیں مار رہے تھے کہ ہم ایسا کردیں گے اور ہم ویسا کردیں گے، بعد از فتح جب تسلیم ہوئے تو طالبان مجاہدین نے انھیں پوری عزت اور احترام کے ساتھ قبول کیا۔ اور یہی شان اہل ایمان کی ہوتی ہے، بالخصوص ان اہل ایمان کی جنھیں آزمائش کی بھٹیوں سے گزار کر رب تعالیٰ نے کندن بنایا ہو۔ سبحان اللہ وبحمدہ, سبحان اللہ العظیم۔
آج کی اس فتح میں جہاں بہت سے نامی گرامی شہدا کا خون شامل ہے وہیں بہت سے گمنام مجاہدین فی سبیل اللہ کا خون، ان کی آہیں اور سسکیاں، ان کے نالہ ہائے نیم شب، دشمن کی قید میں مجاہد بھائیوں اور بہنوں کی پکاریں، یتیم بچوں کی دہائیاں، بیواؤں کے سینے سے اٹھنے والی ہوکیں بھی شامل ہیں۔ وہ ماں کہ جس کے چار بیٹے اللہ کی راہ میں شہید ہوئے ہیں اور وہ طالبان مجاہدین کے شہر میں داخل ہونے پر ان کا استقبال کرتی ہے، انھیں دعائیں دیتی ہے ، اس کے انتظار کا، اس کے آنسوؤں کا، اس کی آہوں کا اور اس کے صبر کا بدلہ اللہ رب العزت نے اس فتح کی صورت عطا فرمایا۔ اور یہ ایک ماں نہیں، افغانستان ایسی بے شمار شان دار ماؤں کا مسکن ہے کہ جن کی گودیں مجاہدین فی سبیل اللہ کا گہوارہ رہی ہیں۔ اللہ کا سودا سستا نہیں ہے، اللہ کا سودا جنت ہے اور جنت کے خریدار اپنی سب سے قیمتی متاع، اپنی جان اور اپنا مال اور اپنی اولاد تک اس رستے میں لگانے سے نہیں چوکتے ہیں۔ آج دنیا بھر کے تھنک ٹینکس ، تجزیہ کار، کالم نگار حیران ہیں، انگشت بدنداں ہیں کہ یہ دو دن میں کیا ماجرا ہوگیا۔ امریکی خود حیران ہیں کہ اس قدر ذلت کا تو انھوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ کہاں وہ افغانستان بھر میں دندناتے پھرتے تھے اور لوگ ان سے ہراساں تھے، اور آج وہ خو د ہراساں ہیں اور کابل کے ہوائی اڈے تک محدود ہو کر اپنی واپسی کے پل گن رہے ہیں۔ وہ ملا برادر کہ جنھیں اسی اسلام کا نام لینے کے جرم میں دس سال پاکستان کے قید خانوں میں اذیتیں دی گئیں، آج سی آئی اے کا چیف انھی ملا برادر سے اپنی افواج کے مکمل انخلاء کے لیے مزید کچھ دنوں کی مہلت کی درخواست کرتا نظر آتا ہے۔
کل اور آج میں کس قدر فرق ہے۔ کل یہی طالبان مجاہدین اور ان کے معاونین اگر کہیں کسی ویڈیو کلپ میں دکھائی دیتے تو ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی، ان کے ہاتھ مضبوطی سے جکڑ کر باندھے ہوتے اور انھیں دھکے مارے جارہے ہوتے، گالیاں دی جارہی ہوتیں، لہولہان چہروں کے ساتھ یہ اپنے رب کو پکار رہے ہوتے۔ اور آج وہی طالبان مجاہدین ہیں کہ جب ان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد پریس کانفرنس کے لیے ایک (سابقہ) حکومتی عمارت میں داخل ہوتےہیں تو کیمرہ ان کے چہرے سے ہٹتا ہی نہیں ہے۔ ان کے چہرے پر تکبر اور فتح کے نشے کا شائبہ تک نہیں ہے، وہ مکمل وقار اور تواضع کے ساتھ راستے سے گزر کر اپنی کرسی پر تشریف فرما ہوتے ہیں۔ ان کی یہ شان اور یہ عزت دیکھ کر نگاہوں کے سامنے وہ تمام ذلت آمیز مناظر گزر گئے جن سے طالبان مجاہدین کو گزارا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ رب العزت ہر چیز پر قادر ہے۔ اسے اسباب کی قوت نہیں درکار کہ وہ تو مسبب الاسباب ہے، ہاں توکل، اور ہمہ پہلو توکل، تقویٰ اور استطاعت بھر جدوجہد اس کے یہاں ضرور مطلوب ہے۔ اوروہ جو کہتے تھے کہ اسلام تلوار کے زور پر نافذ ہوا، آج ضرور تلوار کی قوت سے واقف ہوگئے ہوں گے۔ وہ تلوار جو اٹھائی نہیں گئی، مکمل امان کا اعلان کیا گیا ہے، مگر اس تلوار کی محض موجودگی ہی دلوں میں ٹیڑھ رکھنے والوں کو سیدھا کرنے کے لیے کافی ہے۔
کل تک جو تکبر کے ساتھ یہ کہتے تھے کہ میں افغانستان کو ہفتہ دس دن میں صفحۂ ہستی سے مٹا سکتا ہوں، مگر میں کئی لاکھ لوگوں کا خون نہیں بہانا چاہتا! آج کہاں ہیں وہ متکبرین اور ان کے بلند بانگ دعوے؟ وہ جن سے کہا گیا کہ ہمارا رب وہ ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے، تو انھوں نے تکبر کے ساتھ کہا کہ زندگی اور موت تو ہمارے ہاتھ میں ہے، جس پر چاہیں بم برسائیں، جس کو چاہیں قید میں ڈالیں، اور جس کو چاہیں اپنا منظورِ نظر بنا ڈالیں، مگر اہل ایمان نے کہا کہ ہمارا رب تو وہ ہے کہ جو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، اگر اتنے ہی قوت والے ہو تو سورج کو مغرب سے نکال کر دکھاؤ، فَبُهِتَ الَّذِيْ كَفَرَ، پس وہ کافر وہ منکرِ حق ششدر رہ گئے۔آج تمام عالم کفر مبہوت ہے کہ یہ کیا ہوگیا اور کیسے ہوگیا۔ امریکہ کو شکست ہوگئی! اس امریکہ کو کہ جس کی قوت اور جس کے مال کا کوئی مقابلہ نہیں! اس امریکہ کو کہ جس نے اپنے تمام وسائل اور تمام جدید ٹیکنالوجی افغانستان میں جھونک دی اور خود قلاش ہوکر رہ گیا! وہ جو امریکہ کو اپنا رب سمجھتے تھے آج خائب و خاسر ہیں اور وہ کہ جنھوں نے اللہ ہی کو اپنا رب جانا اور مانا اور اللہ ہی کےلیے اپنی جان ، مال، گھر بار ، اولاد قربان کی، آج کامیاب ہیں ، خو ش ہیں اور اس خوشی کے موقع پر بھی اپنے رب کے سامنے سربسجود ہیں۔ بے شک اللہ کے وعدے ہی سچے ہیں اور بے شک اسی کا قول سچا ہے کہ:
﴿ اِنْ يَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۚ وَاِنْ يَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِيْ يَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِھٖ ۭوَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ﴾
’’ اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہیں تنہا چھوڑ دے تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے ؟ اور مومنوں کو چاہیے کہ وہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں‘‘۔2
پھر یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ بیس سالہ یہ جہاد خالص فی سبیل اللہ ہے؛ ان معنوں میں بھی کہ طالبان مجاہدین کو امارت اسلامی کی جانب سے کبھی تنخواہیں نہیں دی گئیں۔ طالبان مجاہدین اپنے علاقوں میں بڑی بڑی ذمہ داریوں پر رہے اور ان کہ کل وقتی ذمہ داریاں مانع رہیں کہ وہ اپنی کاشتکاری اور دیگر ذریعہ ہائے معاش کی جانب توجہ دے سکیں۔ مگر امارت اسلامی کی جانب سے طالبان مجاہدین اور ان کے خاندانوں کی مستقل کفالت کا کبھی کوئی انتظام نہیں رہا۔ اس کے باوجود طالبان تحریک اس قدر کامیابی کے ساتھ چلی اور روز بروز طالبان مجاہدین کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔ یہ محض وہی کرسکتے ہیں جنھیں اللہ کے وعدوں پر پختہ یقین ہو اور جو یہ جانتے ہوں کہ متاعُ الدنیا قلیل ہے، والآخرۃ خیرٌ و ابقی، اور آخرت ہی بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ وہ دنیا کے کیڑے نہیں بنے تو اللہ رب العزت نے دنیا میں ان کی شان بلند کی۔ آج اس پوری دنیا میں سرزمینِ افغانستان کے سوا کوئی ایک خطہ ایسا نہیں جس میں شریعت نافذ ہو، یہ اعزاز اور یہ عظیم نعمت اللہ رب العزت نے دشت و جبل کے رہنے والے طالبان مجاہدین ہی کو عطا کی ہے۔ فللّٰہ الحمد۔
اس فتح میں اسباق ہیں ان سب کے لیے جن کے سینوں میں دل زندہ ہیں۔فاعتبروا یٰاولی الابصار۔ وہ جو کہتے رہے ہیں کہ مکمل اسلام اب قابل عمل نہیں رہا، یہ چودہ سو سال پرانی باتیں ہیں، جمہوریت ہی عین اسلام کے مطابق ہے، آج وہ دیکھ لیں، اللہ کی مدد و نصرت جمہوریت کے علم برداروں کے حق میں نازل ہوئی یا شریعت کے نام لیواؤں کے حق میں؟ خطۂ پاک و ہند میں بسنے والے مسلمان بالخصوص اپنے دلوں میں جھانک کر دیکھیں، کیا افغان عوام نے مشکلات نہیں سہیں؟ کیا افغان طالبان نے قربانیاں پیش نہیں کیں؟ کیا اس فتح کے پیچھے قید و بند کی، شہادتوں اور قربانیوں کی، فقرو فاقہ کی، خوف کی، جان و مال کے نقصان کی ایک پوری تاریخ نہیں ہے۔۔۔ ؟یہ فتح طالبان کو سونے کے طشت میں رکھ کر تو پیش نہیں کی گئی، وہ اور ان کی قوم ہلا مارے گئے پھر اللہ کی مدد و نصرت نازل ہوئی۔ آج پاکستان کی حکومت اس خوف سے کہ اسے گرے سے بلیک لسٹ میں نہ ڈال دیا جائے اپنے عوام پر معاشی بوجھ ڈالے چلی جارہی ہے جس نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، انھوں نے اسلام کے نام لیواؤں کا ناطقہ بند کر رکھا ہے کہ کہیں کوئی ہمیں اف نہ کہہ دے، کشمیر سے اپنا ناتا کاٹا، ترکستانیوں کے مقابل چین کی حمایت کی، سکھوں اور ہندوؤں کے سامنے بچھتے چلے گئے، مگر نہ عزت ملی نہ ہی مال، نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم۔ جبکہ اس کے برعکس جنھوں نے دنیا کی طرف سے آنے والے ہر دباؤ کو برداشت کیا مگر شریعت کے اصولوں سے سرموانحراف گوارا نہ کیا، انھیں عزت بھی ملی، مال بھی، غنائم بھی اور حکومت بھی۔
ابھی وقت ہم مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے۔ اس قدر عظیم فتح نے مسلمانوں کے دلوں میں ایمانی جوش اور ولولہ پھر سے پیدا کردیا ہے۔ کیسا ہی گیا گزرا مسلمان کیوں نہ ہو اس کے دل میں شریعت کے سائے تلے زندگی گزارنے کی چاہت ضرور چھپی ہوتی ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس چاہت کو تڑپ میں تبدیل کیا جائے ، ایسی تڑپ جو کچھ کرگزرنے پر ابھارے۔ یہ دعوت کا وقت ہے کہ ہم سب اپنی زندگیوں میں سب سے پہلے شریعت نافذ کرنے کی کوشش کریں اور پھر اپنے اردگرد نفاذ شریعت کی اہمیت اور اس کے لیے کوشش کی دعوت دیں ۔ دنیا بھر کے مجاہدین، مخلص اہل ایمان، علماء، صلحاء امارت اسلامی کی اس فتح پر دل سے خوش ہیں، خوش ہونا بھی چاہیے ، مگر صرف خوشی کافی نہیں ہے جب تک یہ عمل پر نہ ابھارے۔ اللہ رب العزت ہم سب کو نفاذ شریعت کی راہ میں اپنی جان، اپنا مال، اپنی اولاد، اپنی راحت و چاہت قربان کرنے کا جذبہ اور توفیق عطا فرمائے ، آمین۔
1 یاد رہے کہ طالبان کے بعض مرکزی ذمہ داران ایک تصویر میں گلبدین حکمت یار کے پیچھے ان کے گھر میں نماز پڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ گلبدین حکمت یار وہی ہیں جنہوں نے طالبان کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔
2 سورۃ آل عمران: ۱۶۰

![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



