نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!

گلدستۂ شہدا کا ایک پھول(محمد عسکریؒ)

by عمر فاروق الخراسانی
in مئی تا جولائی 2021, جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
0

کفر اوراسلام کی کشمکش روز ِ اول سے شروع ہے جو تا قیامت جاری رہے گی ۔ اس کشمکش میں رب کعبہ نے فتح ہمیشہ اسلامی لشکروں کو ہی دی مگر منافقین و مرتدین نے ہمیشہ کفر کے ساتھ مل کر ہر دور میں ہر طرح سے اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ مگر یہ بصیرت ِ ایمانی سے خالی دل کیا جانیں کہ دین ِ اسلام کی حفاظت کا ذمہ تو خود رب ِ رحمٰن نے اپنے ذمہ لیا ہے۔ یہ کشمکش تو محض اپنے بندوں کو آزمانے کے لیے ہے کہ کون ہے جو اپنے رب کی پکار پر لبیک کہتے ہیں۔

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ ۝ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِيْنَ۝(سورۃ العنکبوت:۲،۳)

’’کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ’ہم ایمان لائے‘ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا ؟ حالانکہ ہم ان سب لوگوں کی آزمائش کرچکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون؟‘

عبداللہ بن ابئ کے جانشین ہر دور میں مختلف ناموں اور مختلف کرداروں سے ظاہر ہوتے رہے اور عصر ِ حاضر میں بھی یہ منافقین کے سردار موجود ہیں ۔ آج سے کچھ سال قبل اسلام کا دشمن کفر کا ایک امام پرویز مشرف کی صورت میں منظر ِ عام پر آیا۔ اس نے کفر کی غلامی میں شاہ سے بڑھ کر شاہ کی وفاداری کا کردار ادا کیا ۔ اس بد بخت کی کاسہ لیسی کو دیکھ کر خود یہود و ہنود بھی شرما اٹھے۔ یہ کفرکی غلامی میں اتنا آگے گیا کہ اسلام کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمیت ہزاروں عرب و عجم کے مجاہدین کو ڈالروں کی خاطر امریکہ کو بیچ دیا ۔ اس سے بھی بڑھ کر اس نے اپنے امریکی آقاؤں کے حکم پر اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے ملک پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد سے شریعت کی صدا بلند کرنے پر لال مسجد اور جامعہ حفصہ ؓ پر فاسفورس بموں کی بارش کر کے ہمارے سینکڑوں بہن بھائیوں کو شہید اور ہزاروں کو لاپتہ کیا ۔ جامعہ حفصہ ؓ و لال مسجد کو فتح کر کے یہ کفر کے غلام سمجھے کہ اب پاکستان میں کوئی شریعت محمدیہ ﷺ کی صدا بلند کرنے کی جرأت نہ کر سکے گا۔ اسلام اور اسلام کے چاہنے والوں کو ختم کرنے کے لیے یہ شیطان کی ایک چال تھی جو کہ انتہائی ناقص ہے اور میرے رب کی تدبیر تو بہت ہی اعلیٰ ہے۔

وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ ۝(سورۃ آل عمران :۵۴)

’’اور انہوں (کفار) نے تدبیر کی اور اللہ نے بھی تدبیر کی ۔ اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔‘‘

کفار و مرتدین اپنی تدبیروں پر بہت نازاں ہوتے ہیں لیکن میرے رب کی تدبیر ہی قوی ہوتی ہے ۔ میرے رب نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ مرتدین کے سیاہ اعمال کے نتیجہ میں امت ِ مسلمہ خصوصاً پاکستان کے مسلمانوں میں بیداری پیدا ہو۔ لال مسجد و جامعہ حفصہ ؓ کا واقعہ ہونا تھا……پھر کیا! لوگ تھے کہ گھروں سے نکلے جا رہے تھے ……اسلام کی حرمت کی خاطر ، قرآن کے تقدس کی خاطر ، بہنوں کی عزت کی خاطر ، بھائیوں کے دفاع کی خاطر ……’ وَمَا لَكُمْ‘ کی صدا پر لبیک کہنے والے نکلے جارہے تھے!

وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَاۗءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُھَا وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّـۢا وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًا ؀(سورۃ النساء : ۷۵)

’’آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بےبس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پا کر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کر دے۔‘‘

قرآن پاک کی اس صدا پر لبیک کہنے اور اپنے کمزور بہن بھائیوں کی مدد کے لیے نکلنے والوں میں بچے، بوڑھے ، جوان سبھی شامل تھے ۔ انہی لوگوں میں شامل ایک چودہ سالہ بچہ عمر فاروق بھی تھا ۔ عمر فاروق حافظ قرآن تھے ۔ بچپن سے ہی رب ِ کعبہ نے عمر فاروق ؓ کا سچا متبع بننے والی صفات عمر فاروق کے رگ رگ میں کوٹ کوٹ کر بھر دی تھیں۔ عمر فاروق نے صرف چھٹی جماعت تک عصری تعلیم حاصل کی اور پھر خود ہی گھر والوں سے میکالے کی مکتب کو چھوڑنے اور مدرسے میں داخلہ لینے کا کہا۔ ننھے سے عمر فاروق کی اس پاکیزہ خواہش کو اسلام و قرآن سے محبت رکھنے والے والدین نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے قبول کیا۔ یوں عمر فاروق نے صرف دو سال کے مختصر عرصہ میں کتاب اللہ کو اپنے سینے میں محفوظ کر لیا۔ حفظ ِ قرآن کی تکمیل کے بعد جہاد کے میدانوں میں پہنچنے کے لیے کوششیں شروع کر دیں ۔ جہاد کے میدانوں میں پہنچے تو امرائے جہاد نے انہیں عمر چھوٹا کہہ کر اپنے جہادی قافلہ میں شامل کرنے سے معذرت کی اور کہا بھائی جب آپ بڑے ہو جائیں تو پھر آ جائیں۔ عمر فاروق نے امرائے جہاد کا یہ جواب سنا تو انتہائی ادب سے کہنے لگے ’کیا معاذ ؓ و معوذ ؓ نے بڑے ہونے کا انتظار کیا تھا؟ کیا محمد بن قاسم ؒ کوئی بہت بڑی عمر کے آدمی تھے ۔ اللہ پاک کام لینے کے لیے عمر کو نہیں دیکھتے۔ اگر میں واپس چلا گیا اور دنیا کی لذتوں کا شکار ہو گیا تو آپ ذمہ دار ہوں گے ؟‘۔ امرائے جہاد نے جب اس بچہ کے ایمانی جذبات دیکھے تو پھر اسے شریک ِ جہاد کر لیا۔

جہاد کے میدانوں میں:

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ ؀(سورۃ التوبۃ : ۲۰)

’’جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کیا، اللہ کے ہاں ان کا درجہ بہت بڑا ہے اور وہی کامیاب ہیں۔‘‘

عمر فاروق جہاد کے میدانوں میں محمد عسکری کے نام سے مشہور ہوئے۔ محمد عسکری سے میری پہلی ملاقات ۲۰۰۸ء میں اس وقت ہوئی جب میں کچھ ماہ کی چھٹی گزار کر واپس ارض ِ جہاد و رباط وزیرستان پہنچا ۔ جب میں مضافے (مہمان خانہ) میں داخل ہوا تو دیکھا ایک کم عمر نوجوان اپنے سے کچھ بڑے ساتھیوں کے ساتھ کُشتی و زور آزمائی میں مصروف ہے ۔ انتہائی چاق و چوبند ، پھرتیلا، ہوشیار۔ کبھی ادھر سے گھوم کر ایک کو پکڑتا اورکبھی دوسرے کو ، پھر پھرتی سے اپنی جان بچا کر بھاگ جاتا ۔ میں محمد بھائی کے اس پھرتیلے پن کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا ۔ ہماری یہ ملاقات چند لمحے کی تھی جو آج بھی مجھے یاد ہے۔ پھر کچھ عرصہ بعد رب ِ کعبہ نے ہمیں اکھٹا کر دیا۔ جب میں دورۂ بارود کے لیے سہیل بھائی ؒ کے مرکز پہنچا تو میرا استقبال محمد عسکری بھائی نے ہی کیا۔ مرکز میں جب مجھے محمد عسکری بھائی کے ساتھ رہنے کا موقع ملا تو مجھ پر یہ راز افشا ہوا کہ میں جسے بچہ سمجھ رہا ہوں ، وہ شعبہ بارود میں اپنے استاد کا معاون ہے۔ محمد عسکری کو اللہ پاک نے بلا کی ذہانت عطا کی تھی۔ ہر کام کو جلد ہی سیکھ جاتے تھے۔ محمد بھائی کو ٹیکنیکل کاموں میں بہت مہارت حاصل تھی ۔

محمد عسکری خوش مزاج ، اعلیٰ اخلاق کے حامل، ہنس مکھ ساتھی تھے۔ زور آزمائی و کُشتی ان کا مشغلہ تھا۔ ہر کام میں پیش پیش رہتے ۔ اہلِ ’فاستبقوالخیرات‘ (نیکیوں میں سبقت) لے جانے والوں میں سے تھے۔ بڑھ چڑھ کر ساتھیوں کی خدمت کرنے والے اور ان کا خیال رکھنے والے تھے۔ میں نے محمد عسکری بھائی سے زیادہ سنتوں پر عمل پیرا کسی کو نہیں پایا۔ چھوٹی چھوٹی سنتوں کا خیال رکھنے والے تھے ۔ میں نے انہیں ایک باعمل مجاہد دیکھا۔ سنت ِ رسول ﷺ سے بے پناہ محبت تھی ۔ کوئی نئی حدیث یا سنت مل جاتی تو فوراً اس پر عمل کرتے ۔

نبی ملاحم ﷺ نے فرمایا:

’’میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ۔ تم اگر ان کو تھامو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔ ایک کتاب اللہ قرآن پاک اور دوسری میری سنت۔‘‘(مفہوم ِ حدیث)

قرآن پاک تو محمد عسکری نے اپنے سینے میں سجا رکھا تھا اور سنت ِ رسول ﷺ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہوا تھا ۔ کوئی چیز لینی یا دینی ہوتی تو دائیں ہاتھ سے لیتے اور دیتے ۔ اگر کوئی ساتھی بے دھیانی میں بائیں ہاتھ سے دیتا یا لیتا تو منع کرکے سیدھے ہاتھ سے دینے کی تلقین کرتے۔ کھانا کھانے بیٹھتے تو نبی آخر الزماں ﷺ کے بتائے ہوئے طریقہ پر بیٹھتے اور ساتھیوں کو بھی توجہ دلاتے ۔ یہاں تک کہ چپل جوتے پہننے میں بھی دایاں پاؤں پہلے پہنتے تھے۔ ہمیشہ آپؒ کی شلوار پنڈلیوں تک اونچی رہتی تھی۔ شانوں تک زلفیں رکھتے تھے۔ قربانی و ایثار اس حدتک کہ ساتھیوں کے لیے تازہ روٹی رکھتے اور خود پرانی روٹی کھاتے۔ کوئی چیز آ جائے تو ساتھیوں کو ہدیہ کرتے۔ ان سب کاموں میں محمد بھائی کو کمال حاصل تھا۔

مرکز میں اکثر دن یا رات کی کچھ روٹی بچ جاتی ، اگلے وقت محمد بھائی اور ایک اور ساتھی اس روٹی کو خاموشی سے اٹھا لیتے تاکہ دیگر بھائی گرم روٹی کھا سکیں۔ ایک دن دوپہر کی دو روٹیاں بچ گئیں جو رات کو محمد بھائی نے خاموشی سے اٹھا لیں۔ روٹی اٹھاتے ہوئے دوسرے ساتھی نے ان کو دیکھ لیا ۔ اس دن سہیل بھائیؒ مرکز میں موجود تھے۔ جب رات کو کھانا شروع ہوا تو سہیل بھائی پرانی روٹی ڈھونڈنے لگے ، روٹی نہ پا کر پوچھا کہ روٹی کس نے اٹھائی ہے ، تو اس ساتھی نے محمد بھائی کی طرف اشارہ کیا۔ سہیل بھائی نے کہا ، روٹی واپس کریں تو محمد بھائی نے پہلے ایک روٹی واپس کی ۔ سہیل بھائی بولے دوسری روٹی کس کے پاس ہے تو سب کی نظریں محمد بھائی پر گئیں تو پھر محمد بھائی کو روٹی واپس کرنی پڑی۔ سہیل بھائی نے وہ روٹی لے کر سب ساتھیوں پر تقسیم کی ۔ جس ساتھی نے محمد بھائی کا بتایا تھا ، محمد بھائی نے بعد میں اس سے بہت ناراضگی کا اظہار کیا۔

اسی طرح ایک دفعہ ہم افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے خط ِ اول پر تھے ۔ یہاں مجاہدین تقریباً ہر روز ہی امریکہ اور اس کے حواری افغان ملی فوج کے کسی کیمپ یا ائیر بیس پر میزائل ، مارٹر، ہشتاد دو(RR-82) کی کارروائیاں کرتے رہتے تھے ۔ ان کار روائیوں کے لیے کئی کئی گھنٹے پیدل سفر کرنا پڑتا ۔ ایک مرتبہ ہم چھ ساتھی تین عدد میزائل لے کر ’مچا داد ائیربیس ‘پر کارروائی کے لیے نکلے تو محمد عسکری بھائی بھی ہمارے ساتھ تھے ۔ محمد بھائی نے مرکز سے ہی ایک میزائل اپنے کندھے پر اٹھا لیا اور تقریباً تین گھنٹے کی منزل انہوں نے طے کی ۔ سارے راستے میزائل خود ہی اٹھا رکھا ، کسی دوسرے ساتھی کو نہیں دیا جبکہ ہم دیگر ساتھی باری باری میزائل اٹھاتے رہے ۔ ہم نے راستے میں کئی بار ان سے میزائل مانگا مگر انہوں نے میزائل دینے سے صاف انکار کردیا اور کہنے لگے ؛ بھائی یہ میزائل میرا ہے، میں خود ہی اسے اٹھا کر لے جاؤں گا ۔ محمد بھائی جواں ہمت ، پُر عزم ، حوصلہ مند ، شجاع اور قوت والے تھے۔ ہر وقت دشمن پر قہر بننے کے لیے بے چین رہتے ۔ جیسے ہی انہیں سُن گُن ملتی کہ آج کارروائی ہونے والی ہے تو فوراً کارروائی میں شرکت کے لیے کوششیں شروع کر دیتے ۔ محمد بھائی ہر وقت دشمن پر جھپٹنے کے لیے بے چین رہتے ۔

جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اِک بہانہ

نیکیوں میں سبقت:

محمد عسکری نیکیوں میں سبقت لے جانے کی کوشش میں لگے رہتے ۔ کہیں نیکی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے اور چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی حقیر نہ جانتے ۔ ایک مرتبہ ہم اپنے مرکز میں تھے اور پاکستانی فوج کی طرف سے خطرہ تھا کہ فوج چھاپہ مارے گی ۔ ان دنوں امرا کی طرف سے امر تھا کہ مراکز میں پہرے کے نظام کو سخت بنایا جائے۔ ایک رات محمد بھائی میرے پاس آئے اور کہنے لگے بھائی جان آپ میری ایک بات مانیں گے؟ میں نے کہا جی بولیں، تو کہنے لگے کہ آپ میرا پہلا پہرہ لگا دیں ۔ میں نے کہا کہ یہ تو غلط بات ہے، جو ترتیب چل رہی ہے ، جو نمبر آپ کا ہے ، آپ اسی پر پہرہ دیں، تو محمد بھائی ضد کرنے لگے۔ میں نے اجازت دے دی۔ اس رات جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ اس وقت جس ساتھی کا پہرہ بنتا تھا وہ تو میرے برابر میں سو رہا ہے ۔ میں اٹھا اور دبے پاؤں باہر گیا تو دیکھا کہ محمد بھائی مرکز سے باہر اپنی کلاشن کوف کندھے پر لٹکائے پہرہ دے رہے ہیں اور ان کے ہاتھ فضا میں بلند ہیں اور اپنے رب سے رو رو کر دعاؤں میں مصروف ہیں ۔ میں نے ان کے یہ الفاظ سنے ’یا اللہ ! آپ مجھے قبول فرما لیں ، یا اللہ ! میں آپ کے دین کی خاطر فدائی بن کر آیا ہوں ، آپ مجھے بھی اپنے فدائیوں میں قبول کر لیں‘۔ محمد بھائی دعائیں کیے جا رہے تھے اور میں آمین کہے جا رہا تھا ۔ وہ پوری رات محمد بھائی نے اکیلے ہی پہرہ دیا۔

نبی ملحمہ ﷺ کی حدیث ہے:

’’ایک گھڑی اللہ کی راہ میں پہرہ دینا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔‘‘

ایک اور حدیث میں آتا ہے:

’’دو آنکھوں پر جہنم کی آگ حرام ہے۔ ایک وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے بہے اور دوسری وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں پہرہ دے۔‘‘

سبحان اللہ! میرے محمد بھائی کیا ہی خوش نصیب ہیں جنہوں نے اللہ کی راہ میں پہرہ بھی کیا اور اللہ کے خوف سے روتے بھی رہے ۔ اس واقعہ سے قبل مجھے معلوم نہ تھا کہ محمد بھائی ایک فدائی مجاہد ہیں ۔ اگلے دن میں نے محمد بھائی کو رات والا واقعہ سنایا تو وہ حیران رہ گئے اور پھر مجھ سے وعدہ لیا کہ یہ قصہ میں کسی کو نہیں بتاؤں۔ پھر میں نے محمد بھائی سے پوچھا کیا آپ سچ میں فدائی کرنا چاہتے ہیں ؟ بولے ، جی ! میں نے ان سے کہا بھائی اتنا عرصہ ایک جگہ ایک مرکز میں ایک ساتھ گزرا لیکن آپ نے کبھی ذکر نہیں کیا تو وہ مسکراتے ہوئے بولے ، ’بھائی جان ! ناراض نہ ہوں ، آپ کو تو اندازہ ہے کہ ایسی باتیں بتائی نہیں جاتیں‘۔ محمد بھائی کے شوق ِ فدائی اور فدائیوں سے محبت کا اندازہ اس ایک چھوٹے سے واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک مرتبہ میں ارض ِ خراسان سے واپس پاکستان جا رہا تھا تو میں نے محمد بھائی سے کہا ’بھائی میں تو جارہا ہوں ، آپ میرے لیے کامیابی اور مقبول شہادت کی دعائیں کرتے رہنا‘۔ محمد بھائی انتہائی جذباتی انداز میں مجھے گلے لگایا اور نم آنکھوں سے مجھے دعائیں دینے لگے اور کچھ نصیحت کی۔ پھر بولے ’بھائی مجھے معلوم ہے آپ فدائی کے لیے جا رہے ہیں ‘، تو میں ہنس پڑا اور اپنےپیارے سے بھائی کو جواب دیا کہ ’نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ‘۔ پھر محمد بھائی کمرے میں گئے اور اپنا نیا سوٹ نکال کر مجھے دیتے ہوئے بولے ’بھائی جان جب آپ فدائی کے لیے جائیں تو یہ سوٹ پہننا ‘۔ میں نے انہیں منع کیا کہ بھائی مجھے سوٹ نہ دیں ، میں تو بس گھر والوں سے ملنے جارہا ہوں۔

شوق ِ شہادت :

ویسے تو ہر مجاہد کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ وہ رب ِ کعبہ کے راستے میں لڑتے ہوئے جام ِ شہادت نوش کرے ۔ مگر کچھ اللہ کے پیاروں کا شوق ِ شہادت قابل ِ دید ہوتا ہے ۔ ایسے ہی میرے محمد بھائی کا معاملہ بھی تھا۔ اکثر محفل و مجالس میں جب کبھی بات کرتے تو جنت و شہادت ان کا موضوع ِ خاص ہوتا اور اکثر شہادت کی دعاؤں کی درخواست کرتے ۔ ایک مرتبہ میں نے محمد بھائی سے پوچھا آپ کی خواہش کیا ہے؟ تھوڑی دیر فضا میں گھورا اور ایک ٹھنڈی آہ بھر کر بولے ، میرا جی تو چاہتا ہے کہ میں دشمنان ِ دین پر فدائی حملہ کروں اور میرے جسم کے ٹکڑے فضا میں بکھر جائیں اور میرے جسم کی ہڈیاں پارچوں میں بدل جائیں جو کفار و مرتدین کے جسموں میں گھس کر انہیں واصل ِ جہنم کریں اور میں اپنے رب کی جنتوں کو روانہ ہو جاؤں ۔

محمد بھائی پُرخلوص نیت ، قول کے پکے ، من کے سچے تھے۔ اللہ نے بھی اپنے بندے کی بات کو سچ ثابت کیا ۔ بالکل اسی طرح جیسے سیرت کی کتابوں میں ایک اعرابی صحابیؓ کا واقعہ ملتا ہے جس نے اپنی گردن کی طرف اشارہ کرکے کہا تھا یہاں تیر لگے اور میں شہید ہو جاؤں۔ اللہ کے نبی مہربان ﷺ نے فرمایا’اگر یہ اپنے قول میں سچا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ یہی معاملہ فرمائیں گے‘۔ جب غزوہ ختم ہوا تو دیکھا ایک شخص کے گلے میں تیر لگا ہے اور وہ شہید ہو گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے صحابہ ؓ سے پوچھا یہ وہی شخص ہے ؟ صحابہ کرام ؓ نے جواب دیا، جی ہاں ! تو نبی ملحمہ ﷺ نے فرمایا’ اللہ کے ساتھ اس کا معاملہ سچا تھا، اللہ نے اسے سچ کر دکھایا‘۔

یہ ۲۰۱۲ء کی بات ہے۔ عید الفطر کا پہلا دن ہے ، عام مسلمانوں کی طرح مجاہدین ِ اسلام بھی ماہ ِ صیام کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کے بعد عید کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ یہ جنوبی وزیرستان محسود کے علاقہ سپِن قمر کے محاذ پر مجاہدین کا مرکز ہے۔ مجاہدین خوش گپیوں میں مصروف ہیں ۔ کوئی گوشت کاٹ رہا ہے تو کوئی پانی لا رہا ہے ، کوئی کھانا پکانے کی تیاری کر رہا ہے تو کوئی لکڑی جمع کر رہا ہے ۔ فضا میں موجود ڈرون یہ سب مناظر دیکھ رہا ہے اور اس کو یہ مناظر بالکل پسند نہیں آتے اور چونکہ کافر مسلمانوں کو خوش ہوتا نہیں دیکھ سکتا ، سو چند ہی لمحوں میں فضا سے میزائل فائر ہونے کی آواز آتی ہے۔ ہدف مجاہدین ِ القاعدہ کا مرکز ہے۔میزائل مرکز پر لگتے ہیں جس کے نتیجہ میں گلدستہ ٔ شہداء میں آٹھ نئے پھولوں کا اضافہ ہو جاتا ہے ۔ انہی میں سے ایک پھول میرا پیارا بھائی محمد عسکری بھی ہے۔ محمد عسکری کی شہادت کی تمنا پوری ہوئی ، وہ کامران ہوا، رب کی جنتوں کا مستحق ٹھہرا (ان شاء اللہ)۔

ساتھیوں نے بتایا کہ ایک میزائل محمد عسکری بھائی کے قریب لگا جس سے محمد بھائی کا جسم سلامت نہ رہا۔ لوگ چُن چُن کر اُن کا جسد ِ خاکی پورا نہ کرسکے ۔ یقیناً اللہ رب العزت گمان کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ (نحسبہ کذلک واللہ حسیبہ)

کوئی تلاش کرنا چاہے تو تلاش کر سکے نہ
چن چن کے میرے ٹکرے پوری لاش کر سکے نہ
میں کٹوں کچھ اس ادا سے کہ ہر جزو میرا بکھر جائے
نہ کفن مجھے کوئی دے، نہ جنازہ کوئی پڑھائے

یا اللہ ! تو میرے پیارے بھائی محمد عسکری سمیت تمام شہدا کی شہادت قبول فرما۔ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما۔ یا اللہ! تو ہمیں بھی قبول فرما۔ یا اللہ ! آپ نے خود ہی تو قرآن عظیم الشان میں فرمایا:

مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا ؀ (سورۃ الاحزاب : ۲۳)

’’ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے ۔ اور انہوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔‘‘

یا اللہ ! میں بھی اپنی باری کا منتظر ہوں ۔ یا اللہ ! تو مجھے بھی قبول فرما لے،آمین!
٭٭٭٭٭

Previous Post

سحر ہونے کو ہے | قسط نمبر: 9

Next Post

ہندوستان کے دگرگوں حالات اور ہم

Related Posts

اسلام کا مسافر! | دوسری قسط
جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!

اسلام کا مسافر! | تیسری(و آخری) قسط

31 مئی 2024
اسلام کا مسافر! | دوسری قسط
جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!

اسلام کا مسافر! | دوسری قسط

30 مارچ 2024
اسلام کا مسافر! | دوسری قسط
جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!

اسلام کا مسافر! | پہلی قسط

28 فروری 2024
شہیدِ ازل
جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!

شہیدِ ازل

31 جولائی 2023
جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!

آخرت کے راہی: دو شہید بھائی

9 فروری 2023
جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!

جن سے وعدہ ہے مرکر بھی جو نہ مریں!

31 دسمبر 2022
Next Post

ہندوستان کے دگرگوں حالات اور ہم

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

by ادارہ
15 فروری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version