قبل اس کے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی دگرگوں صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے ایک نظر ان انگریزوں میں سے ایک کے بیان پر جن کی چالاکیاں ، دھوکے بازیاں مسلمانوں کے ہند میں زوال کا ایک سبب بنیں۔ یہ قول درک کرنا اس مقصد کے لیے بھی ہے کہ ہم سمجھ سکیں کہ ہم دشمن کی نظر میں کیا تھے اور اب ہم کیا ہو گئے۔
ڈاکٹر ہنٹر لکھتا ہے :
’’ایسٹ انڈیا کمپنی کے سابق ملازمین اپنی حیثیت کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ اور جب انہوں نے پہلے پہل صوبہ جات پر قبضہ کیا تو اسلامی نظام کو برقرار رکھا۔ انہوں نے شرعِ اسلامی کو ملک کا قانون بنایا اور اس کے نفاذ کے لیے مسلمان قاضی مقرر کیے۔ اس وقت جو بھی کیا جاتا دہلی کے مسلمان شہنشاہ کے نام پر کیا جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی بادشاہت کا طغری امتیاز حاصل کرنے سے اس قدر ڈرتی تھی کہ ایک طویل مدت تک بھی جب مسلمان ملازمین کی وساطت سے حکومت کرنے کی کوشش غیر اسلامی نظام کی ناقابل ذکربدعنوانیوں کے باعث قطعاً ناکامیاب ہوچکی تھی اس نے یہی ظاہرکیا کہ وہ بادشاہ کی نائب ہے۔ یہ ایک تاریخی واقعہ ہےکہ اس کی ظاہر داری نے آخر ایک قابلِ دید تماشے کی صورت اختیار کر لی تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم نے بادشاہت قبول کرنے میں دس سال بھی جلدی کی ہوتی تو ہم مسلمانوں کی ایسی بغاوت میں گھر جاتے جو ۱۸۵۷ء کی بغاوت سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہوتی۔ مسلمان محسوس کرتے کہ ان کی حیثیت بیک جنبشِ قلم بدل گئی ، ہماری اپنی حالت بھی ایک ایسی کافر طاقت کی ہوجاتی جس نے دارالاسلام پر قبضہ کرلیا ہو۔ اندریں حالات مسلمانوں کی ایک بہت بڑی اکثریت جمع ہوجاتی کہ بغاوت کو فرض عین قرار دے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازمین کی قابل تعریف اعتدال پسندی اور اس عزم بالجزم نے کہ اسلامی سلطنت کی تدریجی اور طبعی موت میں ایک لمحہ بھر کی عجلت نہیں کی جائے، نے اس مصیبت کو ہمارے سر سے ٹال دیا ، ہندوستان بتدریخ اور غیر محسوس طور پر داراالاسلام سے دارالحرب میں تبدیل ہوتاگیا۔‘‘
گیان واپی مسجد کو بابری مسجد بنانے کی تیاری
جو مذہب من گھڑت ہو ، اس کی آستھا بھی من گھڑت ہوتی ہے ۔ اس کے دعوے بھی من گھڑت ہوتے ہیں اور اسی طرح کے ایک من گھڑت دعوے کی بھینٹ وارانسی(اترپردیش) میں واقع گیان واپی مسجد چڑھنے کو ہے۔ سازش، دھوکے بازی ، شڑینتر کے بادل ایک عرصے سے گیان واپی مسجد کے اوپر منڈلا رہے ہیں۔ ڈر و خوف کی اس حالت نے اس وقت شدت اختیار کر لی جب بی جے پی (موجودہ حکومت)کے ایک کارکن نے عدالت میں مسجد کے خلاف ایک اپیل کی اور اس اپیل کے نتیجے میں جج نے گیان واپی مسجد کی تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم دے دیا۔ مسلمان علما و دانشور سخت سکتے میں ہیں اور اس اندیشے کا اظہار کررہے ہیں کہ کہیں گیان واپی مسجد کو بھی بابری مسجد نہ بنا دیا جائے ۔ ہندو شدت پسندوں کے نشانے پر بنارس کی شاہی مسجد کے ساتھ ساتھ تین ہزار (۳۰۰۰)مسجدیں اور بھی ہیں جن کو وہ شہید کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور موجودہ حکومت کے وزیرِ اعلیٰ نے اپنی خواہش کا اظہار یہ کہہ کر کیا کہ وہ چاہتا ہے ہرمسجد میں نعوذباللہ ، گوری، گنیش اور نندی کی مورتیاں رکھیں جائیں……مگر افسوس اور ہم ……یونہی اپنی بے بسی پر روتے رہے۔ تھکی ہوئی ، سوئی ہوئی قوم کو ہندوؤں نے ایک بار پھر میدان میں للکارا ہے اور شاید یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہندوؤں نے مسلمانوں کو پھر سے اپنے ناپاک ارادوں سے ڈرایا ہے ، یہ قوم ( جس نے ایک ملک پر آٹھ سو سال حکومت کی ہے ) کبھی تھکی یا سوئی نہیں تھی جب تک قوم نے قرآن و حدیث کو اپنا مشن بنائے رکھا تھا۔ غلاظت میں ڈوبے ، ناپاک ارادوں کے حصول کے لیے من گھڑت باتیں تاریخ پر تھوپی جا رہی ہیں۔ متعصب ذہن یہ شٹینتر (سازش ) رچتے ہیں کہ مسجد میں مندر کی باقیات موجو د ہیں، خاص طور پر مسجد کی مغربی دیوار، اس کے ستون مندر کی عکاسی کرتے ہیں اور اس حد تک کہا جاچکا ہے کہ مندروں کے ستونوں پر مسجد کو تعمیر کیا گیا ہے۔ اب ذرا سوچیں کہ کیا اورنگ زیؒب کو فنڈ کی کمی ہو گئی تھی کہ انہوں نے مندروں کے ستونوں کے اوپر ہی چھت ڈلوا دی یا مندر کو منہدم کرنے کا خرچا ملک کا حاکم برداشت نہیں کر سکتا تھا؟ اول تو مندر گرجے اسلام ڈھاتا نہیں، اور اگر ڈھاتا ہے تو تب جب مندر گرجے والوں سے علاقہ بزور فتح کیا گیا ہو۔اگر مندر کو گرایا گیا ہے تو، مؤرخین مندر کو ڈھانے کی ایک وجہ یہ بتاتے ہیں کہ مندر کو تعمیر کرنے والے راجا مان سنگھ کے پوتے جے سنگھ نے مغل حکومت کے دشمن شواجی کو پناہ دے کر اس کی حفاظت کی تھی اور شہر کے ہندو برہمن بھی اسلامی نظام کے لیے مشکلات پیدا کر رہے تھے، یہ عمل ان لوگوں کےلیے ایک چیتاؤنی تھی کہ سدھر جاؤ، سدھرجاؤ!
ہندوستان کی سب سے بڑی عدالت (سپریم کورٹ) نے ۱۹۹۲ یا ۱۹۹۳ میں یہ فیصلہ دیا کہ ۱۹۴۷ کے بعد عبادت گاہوں کو نہیں بدلہ جائے گا ، یعنی ۴۷ کے بعد جو مسجد ہے اسے مسجد اور جو مندر ہے اسے مندر رہنے دیا جائے۔ لیکن یہ فیصلہ صرف کاغذوں کی حد تک تھا، ہو وہ رہا ہے جو شدت پسند چاہتے ہیں، جس کی پوری سپورٹ انتظامیہ کر رہی ہے ۔
رب کی مقدس کتاب (قرآن) کی بے حرمتی
ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی زندگی قرآن ِ کریم کے مطابق بسر کرے کیوں کہ اسی میں اس کی دنیا و آخرت کی فلاح ہے اس سے بڑی ذمہ داری امت کے کاندھوں پر اس کی حفاظت کی ہے کیوں کہ دنیا بھر میں شیطان کے پیروکار، اپنے نفس کی غلامی میں اللہ کے پیغام کو انسانیت تک پہنچنے نہیں دینا چاہتے ، وہ چاہتے ہیں کہ انسان انسان نہ رہے بلکے اپنے نفس کا غلام بن جائے اور وہ سارے کام کرتا پھر ےجس سے انسانیت شرمسار ہو جائے۔ ایسی ہی ایک کوشش ہندو شدت پسند تنظیم بی جے پی کے خبیث وسیم رضوی نے قرآن کریم کی چھبیس (۲۶) آیتوں کے خلاف عدالت میں اپیل کر کے کی ہے ۔ اللہ کی کتاب کی بے حرمتی بھارت میں پہلی بار نہیں کی گئی ہے۔ سیکڑوں بار قرآن کے اوراق جلائے گئے۔ دنگوں میں مسجدوں کے ساتھ قرآن کی بے حرمتی کی گئی۔ انہیں نذر آتش کیا گیا اور اب نعوذ باللہ اللہ کی پاک کتاب کے متعلق مشرکین بحث کریں گے ، اپنے گندے ارادوں کا اظہار کریں گے، اس کو بدلنے کی کوشش کریں گے؟؟؟
اللہ رب العزت کا یہ پاکیزہ قرآن ہر اس مسلمان سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ آخر میری حفاظت کرنے والے وہ شمشیر تھامے بازو کہاں ناپید ہوگئے ہیں؟ تمہارے آبا ہی تھے جنہوں نے مجھے تھامے رکھا اور کسی خبیث النفس کی کیا مجال تھی جو میری شان میں ایک لفظ بھی کہے ؟!
تو شاید ، ہم جواب میں یہ کہیں……
کہ ہم سیکولر ہندوستان کی آزاد فضا میں سانس لیتے ہیں نعوذباللہ انہیں یہ حق ہے کہ وہ جو چاہے کریں ، بکیں اور ہمیں بھی یہ حق ہے کہ ہم بھی آئین کا احترام کرتے ہوئے عدالتوں کے چکر لگائیں۔
آئے ذرا کوئی مائی کا لال، ہندوستان کے آئین کی بے حرمتی کر کے تو دکھائے(دو کشمیریوں کو سنیما گھر میں قومی ترانے کے احترام میں نہ کھڑے ہونے کے نتیجے میں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا)۔
واہ رے مسلمان، اس ملک کے ناقص آئین کا اتنا احترام اور میرے رب کی کتاب کی یہ حیثیت، میرے رب کی پاکیزہ کتاب کے ساتھ یہ برتاؤ،اور ہم خاموش،بے بس،دنیاوی ضروریات کے انتظام میں پھنسے،مصلحتوں کا جاپ الاپتے، امن پسندی کا ثبوت دیتے ،ملک ملک،وطن وطن،وغیرہ وغیرہ۔ ایک دن، آنکھیں تو بند ہونی ہیں، سانسیں تو ٹوٹنی ہیں، جسم نے ایک دن ساتھ چھوڑنا دینا ہے ، تو اس کٹھن وقت میں ہم اپنے رب کا سامنا کیسے کریں گے؟ جب رب العالمین ہم سے فرمائیں گے کہ آخر کیا کیا تو نے؟ میری کتاب کی بے حرمتی کی جاتی رہی، میرے پیارے محبوبﷺ کا مذاق اڑایا جاتا رہا اور تو مصلحتوں میں پڑا اپنی جان بچاتا رہا!!!
کیا اس ملک کا آئین میرے رب کی کتاب سے زیادہ مقدس ہے ؟ کیا اس ملک کی عدلیہ اسلام اور قرآن کی توہین کرنے والوں کو سزا دے سکتی ہے ؟ کیا اس ملک میں ایک عرصے سے اسلام کے خلاف زہر اگلتے آر ایس ایس کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکتا ہے ؟ پچھلے تہتّرسالوں سے ہمارے ساتھ یہی ہوتا رہا ہے کہ ایک مارتا ہے تو دوسرا پچکارتا ہے ، پھر پہلا مارتا ہے تو دوسرا پچکارتا ہے ، شاید ہماری قوم کی مثال اس بڑھیا کی سی ہو گئی ہے ، جس کے دوشمن صبح آتے اور اس بڑھیا کے جسم کے ہر حصے میں سوئیاں چبھو دیتے، شام کو اس بڑھیا کے نام نہاد ہمدرد آتے اور سوائے اس کی آنکھوں کے بڑھیا کے جسم سے ساری سوئیاں نکال دیتے، یہ معمول ہر روز چلتا رہا اور بڑھیا درد کی مورتی بن کر رہ گئی، شاید ہماری حالت اس بڑھیا سے بھی بدتر ہے کیوں کہ ہمیں زخم تو دیے جاتے ہیں لیکن ان پر صرف افسوس ہی کیا جاتا ہے کسی بھی زخم کا کوئی علاج نہیں کیا جاتا کیوں کہ ہم جہاں اپنی بیماری کا علاج ڈھونڈ رہے ہیں اپنے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں وہاں صرف اور صرف رسوائی ہمارا مقدر بنتی ہے۔
بات ہمارے رب کی ہے، اس مالک کی ہے جس نے ہمیں بنایا اور ہمیں دنیا کی ہر نعمت عطا کی، معاملہ ہمارے پیارے نبیﷺ کی ناموس کا ہے جو ساری انسانیت کے لیے رحمت بن کر آئے، فکر اب اس مقدس کتاب کی ہے جس کے سامنے کوئی کتاب نہیں ٹک سکتی، یہی وہ کتاب ہے جو ہمیں جینے کے ڈھنگ سکھاتی ہے اور انسان کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں لاتی ۔
مجھے ہے حکمِ اذاں لا الہ الا للہ
توحید کی صدائیں جن کے کانوں میں چبھتی ہوں، اسلام اور اس کے ماننے والوں سے جنہیں بیر ہو، تو بھلا ان لوگوں سے آپ کیا توقع کر سکتے ہیں ؟ جی ہاں، ایک مرتبہ پھر بی جے پی کے ایک وزیر آنند شکلا نے لاؤڈ اسپیکر میں دی جانے والی اذان کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کر کے اپنی اسلام دشمنی کا ثبوت دیا ہے ، اذان سے جن کی پوجا ، یوگا اور روز مرہ کا روٹین متاثر ہوتا ہو ان سے آپ کون سی مصلحت و محبت قائم کر سکتے ہیں؟ اللہ ہمیں ایسے لوگوں میں نہ کر دیں جو مصلحت کے نام پر گستاخِ رسولﷺ سے بھی محبت سے پیش آنے کا درس دیتےہوں۔
سیکولرازم کا وہ مضبوط ڈھانچہ اب کہاں گیا؟ انصاف کی اندھی دیوی کیوں خاموش ہے؟ ہندو مسلم بھائی بھائی کرنے والے دھوکے باز کہاں چھپے ہیں؟ مگرمچھ کے آنسو بہا کر، اپنے علاقوں میں ووٹ بینک کےلیے چیخم دھاڑ مچا نے والے، مسلمانوں کو اس ملک کے آئین ، اس ملک کی عدلیہ اور نظام پر بھروسے کی تھپکی دے کر انہیں ڈبونے والےاب کیوں سامنے نہیں آتے۔ یہ پابندیاں تو یوں ہی بڑھتی جائیں گی اگر ہم نہیں جاگے۔ اتر پردیش کاوزیرِ اعلی یوگی پہلے ہی بیان دے چکا ہے کہ وہ اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک یوپی اور ہندوستان کو ہندو راشٹر نہیں بنا دیتا۔
ہمیں ان شدت پسندوں سے لڑنے کے لیے وہ اذان دینی ہو گی جو اذان جو محمد بن قاسمؒ (فاتح سندھ) نے دی، وہ اذان جو محمود غزنویؒ (بت شکن) نے دی، وہ اذان جو شہاب الدین غوریؒ نے دی، وہ اذان جو اورنگ زیبؒ(حاکم ہندوستان) و ٹیپو سلطانؒ (شیرِ میسور) نے دی۔
رمضان المبارک اور متعصب بھارت
آپ ہندوستان میں کورونا وائرس کی صورتِ حال سے تو واقف ہوں گے، اور اسی وائرس کی آڑ میں مودی اور اس کی انتظامیہ کی اسلام دشمنی سر چڑھ کر بول رہی ہے ، کمبھ کے میلے میں ایک طرف جہاں تیرہ لاکھ ہندوؤں نے ڈبکی لگائی، جہاں نہ سوشل ڈسٹینسنگ کا خیال رکھا گیا اور نہ کسی قسم کی احتیاط کی گئی وہیں دوسری طرف دہلی کے تبلیغی مرکز میں پانچ بندوں پر اکٹھے ہونے پر بھی پابندی لگا دی گئی اور رمضان المبارک کے مہینے میں کہیں تراویح کے اوقات بدل دیے گئے توکہیں مسجدوں کو ہی بند کر دیا گیا، آخر ایسا کیوں کیا گیا؟؟؟ ایک قوم کو مذہبی رسومات کی پوری پوری اجازت ، تو دوسری قوم پر پابندیوں کے انبار……کیا وجہ ہے؟ جب جواب طلب کیا گیا تو سچ سامنا آگیا ۔ کہا گیا کہ نعوذ باللہ کورونا وائرس مسجدوں سے پھیلتا ہے ۔ واہ رے مودی اور اس کی ٹیم ۔ ذرا ایک بار افغانستان اور امریکہ میں کورونا وائرس کے اعدادو شمار دیکھ لیے ہوتے تو بات سمجھ میں آ جاتی ۔ گائے پیشاب امرت و پوتر (آبِ حیا ت وپاک) سمجھ کر پینے والے، بتوں اور بتوں کے لنگ (شرم گاہ) کی پوجا کرنے والے اب ہماری مسجدوں کو وائرس پھیلنے کی جگہ بتائیں گے۔ ہندو حکومت ہر اس موقع کی تلاش میں رہتی ہے جہاں انہیں اسلام اور مسلمان کو بدنام کرنے کا کوئی بھی موقع ملے۔پہلے بھی مودی نے کورونا جہاد کے نام پر مسلمانوں کو اپنی نفرت کا نشانہ بنایا تھا جس کی وجہ قوم کی غفلت ہے۔
مندرجہ بالا دگر گوں حالات اور ایک انگریز کا بیان نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم مسلمان کو دشمن نے کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے ، لال قلعے سے پستی تک ، ایک وہ دور تھا جب باوجود اس کے کہ مسلمانوں کا زوال ہو چکا تھا لیکن غیرتِ دین کی یہ حالت تھی کہ دشمن بھی اپنے منصوبے قوم کی غیرت کو دیکھ کر ملتوی کرتا تھا اور آج یہ حالت ہے کہ نظام تو ایک عنقا شے معلوم ہوتی ہے مذہبی آزادی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے اور ہم بچو ، بچو ،بچو کرتے ہوئے موت کے گھاٹ اترتے جا رہے ہیں۔
ہمارے لیے نجات کا وہی راستہ بچتا ہے جس کی تعلیم ہمیں قرآن دیتا ہے ۔ مزاحمت کا راستہ، کیوں کہ مزاحمت ہم پر فرض ہے ۔ اسی فرض کی ادائیگی کے لیے ایک گروہ دو طوفانوں کے درمیان اپنے خون سے دِیا جلائے ہوئے ہے ۔ کاشمیر میں یہ شیر، ہند کی حکومت کو پیغام دیتے ہیں کہ تم جو چاہے کرلو، جتنی طاقت لگانی ہے لگا دو، پاکستانی خفیہ اداروں اور فوج والو تم جو چاہے منافقت کر ڈالو، لیکن یاد رکھو، ہماری زندگی کے دِیے تو بجھ سکتے ہیں لیکن یہ شریعت کا دِیا جسے ہم نے اپنا خون دے کر جلایا ہے ، کبھی نہیں بجھے گا ان شاء اللہ۔میں ہندوستان میں بسنے والے غیور مسلمانوں سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے دین اور شعائرِ دین کی حفاظت کریں، آپ اپنی تیاری کیجیے ، دین سے اپنے تعلق کو جوڑ لیجیے، ہر اس راستے کو خیرباد کہیے جو آپ کو بزدل بناتا ہے، دین کے لیے کٹ کر ہی جینے میں عزت و عظمت کی زندگی ہے!







![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



