بسمِ اللّه والحمدُ للهِ والصلاةُ والسلامُ على رسولِ اللّه وآلِه وصحبِه ومن والاه
پوری دنیا نے برما میں روہنگیا مسلمانوں کا قتلِ عام دیکھا لیکن اس کے باوجود مذمت و ملامت کے چند الفاظ اور امداد کے چند روکھے ٹکڑوں کے علاوہ دنیا نے کسی قسم کے ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا۔
جہاں تک برما کی جمہوری حکومت کا تعلق ہے تو مغرب نے ایک آنکھ سے کانی جمہوریت کو نافذ کرنے پر اس کو بہت سراہا۔ بہتے خون اور کٹے پھٹے جسمانی اعضا کے صوتی و بصری شواہد کے باوجود، مغرب نے برما (میں سوچی)کی اس حکومت پر کسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں کی ، اس کے خلاف کسی قسم کی کوئی مہم شروع نہیں کی گئی، اس کے خلاف کسی قسم کے اتحاد کو حرکت میں نہیں لایا گیا۔ اور اس سب منافقت کا فقط ایک ہی سبب ہے، اور وہ یہ کہ جن لوگوں کو مشقِ ستم بنایا جا رہا ہے ’وہ مسلمان ہیں‘!
بد قسمتی سے مسلمان دنیا کی حکومتوں کا ردِ عمل، مغرب کے ردِ عمل سے زیادہ مختلف نہیں تھا، کیونکہ یہ اُنہی کی پیداوار، اُنہی کے حمایتی اور اُنہی کے مفادات کے محافظ ہیں۔
پس میں اپنے الفاظ برما کے خسیس مجرموں ، مغرب کے بڑے مجرموں کو مخاطب کر کے ضائع نہیں کروں گا۔ نہ ہی میں مسلمان ممالک کی ان کٹھ پتلی حکومتوں کو مخاطب کر کے اپنے الفاظ ضائع کروں گا جن کی اپنے علاقوں میں بھی آج کچھ وقعت نہیں۔
بلکہ میں اپنے بھائیوں سے مخاطب ہوں، اپنے روہنگیا مسلمانوں سے اور باقی تمام مسلمانوں سے اور میں اُن سے کہتا ہوں: بھکاریوں کو اپنی پسند کے مطابق کچھ نہیں ملتا، بلکہ روٹی کے ٹکڑے ہی ملتے ہیں، انسانی تاریخ یہی ہے اور اور یہی قانون انسانوں میں چلتا آیا ہے ۔ اسی لیے قرآنِ کریم نے ہمیں اسی حقیقت کے بارے میں تنبیہ کی جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :
وَلَوْلاَ دَفْعُ اللّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الأَرْضُ وَلَـكِنَّ اللهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ (سورۃ البقرۃ: ۲۵۱)
’’ اگر اللہ لوگوں کا ایک دوسرے ذریعے دفع نہ کرے تو زمین میں فساد پھیل جائے، لیکن اللہ تمام جہانوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ ‘‘
اور اللہ پاک نے فرمایا:
وَمَا لَكُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاء وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَـذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيّاً وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيراً (سورۃ النساء: ۷۵)
’’ اور (اے مسلمانو) تمہارے پاس کیا جواز ہے کہ اللہ کے راستے میں اور ان بےبس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو یہ دعا کر رہے ہیں کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اس بستی سے نکال لایئے جس کے باشندے ظلم توڑ رہے ہیں، اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی حامی پیدا کردیجیے، اور ہمار لیے اپنی طرف سے کوئی مددگار کھڑا کردیجیے۔ ‘‘
اور اللہ عزّ و جلّ نے فرمایا:
فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللّهِ لاَ تُكَلَّفُ إِلاَّ نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَسَى اللّهُ أَن يَكُفَّ بَأْسَ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَاللّهُ أَشَدُّ بَأْساً وَأَشَدُّ تَنكِيلاً (سورۃ النساء: ۸۴)
’’ لہذا تم اللہ کے راستے میں جنگ کرو، تم پر اپنے سوا کسی اور کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ہاں مومنوں کو ترغیب دیتے رہو، کچھ بعید نہیں کہ اللہ کافروں کی جنگ کا زور توڑ دے۔ اور اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست ہے اور اس کی سزا بڑی سخت۔ ‘‘
اور ہمارے پاک رب نے فرمایا:
الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُواْ عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ وَاتَّقُواْ اللّهَ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ(سورۃ البقرۃ: ۱۹۴)
’’ حرمت والے مہینے کا بدلہ حرمت والا مہینہ ہے، اور حرمتوں پر بھی بدلے کے احکام جاری ہوتے ہیں چناچہ اگر کوئی شخص تم پر کوئی زیادہ کرے تو تم بھی ویسی ہی زیادتی اس پر کرو جیسی زیادتی اس نے تم پر کی ہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ انہی کا ساتھی ہے جو اس کا خوف دل میں رکھتے ہیں ۔‘‘
پس اس مجرم بُدھ حکومت کا ہٹایا جانا فقط قوت کے ذریعے ممکن ہے اور ان بدھوں میانمار کے اندر اور میانمار کے باہر قوت ہی کے ذریعے مسلمانوں پر روا رکھے جانے والے ظلم و جارحیت کی کی قیمت وصول کی جا سکتی ہے اور یہ انتقام لینا پوری امتِ مسلمہ پر فرض ہے۔
روہنگیا مسلمانوں کا زخم پوری اُمت کا زخم ہے۔ ہمارے دشمن ہر طریقے سے ہمارے درمیان تفریق ڈالنا چاہتے ہیں۔ وہ مصریوں سے یہ کہتے ہیں ’تمہیں صرف مصر کی فکر کرنی چاہیے‘۔ وہ مراکش کے لوگوں کو کہتے ہیں،’تمہیں صرف مراکش کی فکر کرنی چاہیے‘۔ اور یہی شامیوں، ہندوستانیوں، چیچنیوں، فلپینیوں اور صومالیوں سے کہا جاتا۔ اور ان سے یہ کہتے ہیں کہ کہ ’اگر تم نے حدود کی وہ لکیریں پار کیں جو ہم نے تمہارے لیے کھینچی ہیں تو تم عالمی دہشت گرد ہو، ہم تمہیں دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیں گے، ہم تم پر پابندیاں لگا دیں گے اور تم پر بموں اور میزائلوں کی بارش کر دیں گے‘۔
ہر حُریت پسند اور معزز مسلمان جو امت اور اُس کی مقدسات کے لیے غیرت رکھتا ہے، جو اللہ کو اپنا رب، اسلام کو اپنا دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس کا نبی اور رسول مانتا ہے اور اپنے رب کا جو حکم وپیام اس تک پہنچا ہے اُس پر عمل پیرا ہوتا ہے، وہ یہی چاہتا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’سب مسلمانوں کا خون برابر ہے اور وہ غیروں کے مقابل گویا ایک ہاتھ ہیں اور اگر کوئی ادنیٰ بھی کسی کو امان دے دے تو اس کی امان کا لحاظ کیا جائے۔‘‘(رواہ ابو داود)
میرے مسلمان بھائیو!میرے مجاہد بھائیو !اے مردانِ حر اور میرے معزز بھائیو!اے ہر ناانصافی کا رد کرنے والے میرے بھائیو! پس اصل راستہ یہ ہے کہ برما اور اُس کے مفادات کو اور اُس کے مجرموں کو جہاں تک ہماری رسائی ہو سکے، نشانہ بنائیں!!!
قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَن يَشَاء وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (سورۃ التوبۃ: ۱۴، ۱۵)
’’ ان سے جنگ کرو تاکہ اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے، انہیں رسوا کرے، ان کے خلاف تمہاری مدد کرے، اور مومنوں کے دل ٹھنڈے کردے۔ اور ان کے دل کی کڑھن دور کردے، اور جس کی چاہے توبہ قبول کرلے اور اللہ کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل ۔‘‘
وآخرُ دعوانا أنِ الحمدُ للهِ ربِ العالمين، وصلى اللّهُ على سيدِنا محمدٍ وآلِه وصحبِه وسلم. والسلامُ عليكم ورحمةُ اللّهِ وبركاتُه.




![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



