مجلۂ ہٰذا کے پچھلے صفحات پر ’ وانا آپریشن کے بارے میں پاکستان کے علما کا متفقہ فتویٰ‘ قارئینِ کرام یقیناً دیکھ چکے ہوں گے۔اس فتوے کا مقصد اللہ کی اطاعت کرنا اور پاک فوج کو امریکہ کے بجائے اللہ ہی کی اطاعت کی طرف دعوت دینا تھا تاکہ پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کی آخرت بچ سکے اور وہ نارِ جہنم میں امریکی آقاؤں کی طرح داخل نہ کیے جائیں۔ لیکن اس زمانے سے اب تک کی چار پانچ فوجی و غیر فوجی حکومتوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے۔ غازی صاحب شہید کی ایک تحریر ’حقائق یہ ہیں‘ سے اس فتوے کے پس منظر اور اس فتوے کے جاری کرنےکے بعد حکومت و فوج نے کیا رویہ رکھا ، کے حال بیان کرتے چند نثر پارے منتخب کر کےذیل میں پیش کیے گئے ہیں۔
اس فتوے کے اجرا کے بعد سراپا امریکی غلامی اور اسلام کے بجائے امریکہ کی صف میں کھڑا ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ’لال مسجد آپریشن‘ کیا گیا جس میں ہزاروں طالباتِ جامعہ حفصہ اور دسیوں علمائے کرام و طلبائے عظام کے ساتھ مولانا عبد الرشید غازی کو بھی شہید کر دیا گیا۔
ذیل میں غازی صاحب شہید نے اپنی تحریر میں خود لکھا ہے کہ انہیں کہا گیا کہ اگر یہ فتویٰ واپس نہ لیا گیا ’تو یہ فتویٰ بہت مہنگا پڑے گا‘۔ لیکن اسی ’مہنگا پڑنے‘ کا ’قولی‘جواب غازی صاحب نے اپنی شہادت سے کچھ قبل یہ کہہ کر دیا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہماری جانوں کے جانے سے اس ملک میں اسلامی نظام آ جاتا ہے تو یہ سودا مہنگا نہیں ہے!‘۔ پھر اس کے بعد غازی صاحب نے ’عملی‘ جواب اپنی جان دے کر پیش کیا۔
پس اس سب میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو آنکھیں اور عقل رکھتے ہیں! (ادارہ)
سب جانتے ہیں کہ عرصۂ دراز سے لال مسجد میں ایک دارالافتاء قائم ہے جہاں لوگوں کو ان کے نجی، اجتماعی، معاشی اور معاشرتی مسائل کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں بتایا جاتا ہے اور روزانہ اس دار الافتاء سے بیسیوں فتاویٰ جاری ہوتے ہیں۔
مفتیانِ کرام کے پینل کے سامنے جو بھی سوال آتا ہے وہ ہر قسم کے اغراض و مقاصد سے بالا تر ہو کر اور ہر قسم کے خوف و خطر سے بے نیاز ہو کرمحض قرآن و سنت کی روشنی میں اس سوال کا جواب تحریر کرتے ہیں اور فتویٰ جاری کرنے کے لیے وہ کسی سے اجازت یا ڈکٹیشن نہیں لیتے۔ ہوا یوں کہ معمول کے سوالات میں ایک شخص جو کہ ریٹائرڈ کرنل تھے نے وانا میں جاری پاک فوج اور مقامی قبائل کے درمیان جنگ کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں مفتیان سے سوال پوچھ لیا اور مفتیانِ کرام نے معمول کے مطابق سائل کو قرآن و سنت کی روشنی میں دلائل کے ساتھ جواب دیا۔ اس فتوے کے جاری ہوتے وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ حکومت اس فتوے پر اتنی حساسیت کا مظاہرہ کرے گی۔ اس فتوے سے یہ بات وضاحت کے ساتھ سامنے آئی کہ وانا میں پاک فوج کا اپنے ہم وطنوں کا قتل کرنا ناجائز اور حرام ہے اور اس کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
اس فتوے کے حکومتی پالیسی کے خلاف ہونے کی وجہ سے ہم پر دباؤ ڈالا جانے لگا کہ آپ اس فتوے کو منسوخ کر دیں۔ اس سلسلے میں اس وقت کے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے مجھے کئی مرتبہ اپنے دفتر بلایا اور آئی ایس آئی کے افسران بھی لال مسجد آتے رہے۔ سب کا مطالبہ یہ تھا کہ آپ مذکورہ فتویٰ واپس لےلیں، میں نے بہت سمجھایا کہ فتویٰ، کوئی سرکاری نوٹیفیکیشن نہیں ہوتا کہ جب جی چاہا منسوخ کردیا اور یہ کہ ایک مرتبہ تصدیق کے بعد جب فتویٰ جاری ہو جائے تو وہ واپس نہیں ہو سکتا، میں نے فتوے کے طریقِ کار اور اس کی جزئیات سے بھی آگاہ کیا۔ ان کو بہت سمجھایا کہ فتوے کو withdraw کرنے (واپس لے لینے)کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم قرآن و سنت سے withdraw (رجوع) کریں جو ممکن نہیں اور ہمارے اور آپ کے لیے جگ ہنسائی کا باعث بنے گا۔
الغرض ہمارے مسلسل انکار کے بعد ہمیں اشاروں کنایوں میں ان افسران کی جانب سے دھمکیاں ملنے لگیں کہ یہ بہت حسّاس نوعیت کا مسئلہ ہے، اگر بات نہ مانی تو یہ فتویٰ بہت مہنگا پڑے گا۔
٭٭٭٭٭






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



