تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس کا فرمان ہے:
وَلَا تَهِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ اِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ ۭ وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ ۚ وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاۗءَ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ (سورۃ آل عمران: ۱۳۹، ۱۴۰)
’’تم نہ تو کمزور پڑو، اور نہ غمگین رہو، اگر تم واقعی مومن رہو تو تم ہی سربلند ہو گے۔ اگر تمہیں ایک زخم لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی اسی جیسا زخم پہلے لگ چکا ہے۔ یہ تو آتے جاتے دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں، اور مقصد یہ تھا کہ اللہ ایمان والوں کو جانچ لے، اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہید قرار دے، اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
اور درود وسلام ہو انبیاء ومرسلین کے سردار محمد بن عبد الله ﷺ پر جن کا فرمان ہے:
عَجَباً لأمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ لَهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَلِكَ لأِحَدٍ إِلاَّ للْمُؤْمِن: إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْراً لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خيْراً لَهُ۔ (رواه مسلم)
’’مومن کے معاملے پر تعجب ہے کہ اس کا ہر حال اس کے لیے خیر ہی ہوتا ہے، اور یہ خصوصیت صرف مومن ہی کو حاصل ہے۔ اگر اسے خوشی ملے تو شکر ادا کرتا ہے، تو وہ اس کے لیے بہتر بن جاتی ہے؛ اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے، تو وہ بھی اس کے لیے بہتر ثابت ہوتی ہے۔‘‘
وعلى اله وصحبه أجمعين. أما بعد.
دشمنانِ اسلام کی طرف سے ہمارے مسلمان بھائیوں کے خلاف دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والی زیادتیاں بدستور جاری ہیں۔ ہم مسلسل مدد و نصرت کے ارادے سے مشرقی ترکستان کے مسلمانوں کی حالت کو دیکھ رہے ہیں، ملحد، کافر چینی حکومت کی جانب سے انہیں قتل اور طرح طرح سے ظلم و ستم کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ اپنے دینی شعائر سے منع کیا جا رہا ہے، روزے پر پابندی لگا دی گئی ہے، ان کے علماء اور داعیانِ دین کو قتل کیا جا رہا ہے۔ وحسبنا الله ونعم الوكيل۔
اور ہم مسلسل پوری ہمت اور اشتیاق کے ساتھ جہادی میدانوں پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ تاکہ ہم اپنے مظلوم مسلمانانِ اہلِ غزہ کی مدد و نصرت کا فریضہ ادا کر سکیں، جنہیں امریکی حمایت یافتہ صہیونی درندے اپنے مظالم کا شکار بنا رہے ہیں۔
اسی طرح ہم اپنی زخمی اور دکھی امت کے حالات سے بھی غافل نہیں، جو دنیا کے مختلف حصوں میں اپنے دشمنوں کی چالوں اور سازشوں کا دن رات سامنا کر رہی ہے۔
وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ (سورۃ ابراہیم: 46)
’’اگرچہ ان کی تدبیریں ایسی معلوم ہوتی ہیں کہ گویا ان سے پہاڑ بھی ہل جائیں۔‘‘
اور بے شک ایمان اور حکمت کی سرزمین(یمن) بھی دشمنوں کی ان زیادتیوں سے محفوظ نہ رہ سکی جو کئی برسوں سے جاری ہیں، جن میں صلیبی امریکی طیاروں کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزیاں، جاسوسی اور وقفے وقفے سے اس مبارک اور پاک دھرتی کے مسلمان باشندوں پر آگ برسائی جاتی ہے۔ ان حالات سے متعلق ہم کچھ تاثرات اور معروضات پیش کرنا چاہتے ہیں۔
مجاہد بھائیوں کے نام
سب سے پہلے اپنے مجاہد بھائیوں کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم آپ تک پورے فخر اور اعزاز کے ساتھ اپنے ان بھائیوں اور بیٹوں کے بلند مرتبے پر فائز ہونے کی خبر دیتے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے سخت آزمائشوں اور مصیبتوں کے باوجود اس راستے پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائی۔ انہوں نے صبر و استقامت کا دامن تھامے رکھا اور اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لیے جہاد میں ڈٹے رہے، تاکہ دین مکمل طور پر اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے راستے میں پیٹھ پھیرنے کے بجائے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے شہادت کی سعادت سے سرفراز فرمایا، نحسبهم کذلک والله حسيبهم۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ انہیں شہداء میں قبول فرمائے، جنت الفردوس میں ان کے درجات بلند کرے، اور قیامت کے دن انہیں ہمارے اور اپنے اہلِ خانہ کے لیے شفیع بنائے، اس دن جب نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد، سوائے اس کے جو اللہ کے حضور قلبِ سلیم لے کر حاضر ہو گا۔
ہم وہی بات کہتے ہیں جو ہمارے رب کو پسند ہو۔ یقیناً ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ اللہ ہمیں کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔ اور گناہ سے بچنے اور نیکی کی توفیق صرف اللہ بلند و برتر کی مدد سے ہے۔
اے بہادر مجاہدین! یہی ہجرت اور اللہ کی راہ میں جہاد کا راستہ ہے، تاکہ زمین میں اللہ کے کلمے کو بلند کیا جائے، اس کی شریعت کو نافذ کیا جائے اور ہماری امت پر ہونے والے ظلم کو ختم کیا جائے۔ اس راستے میں ہمیں وہی کچھ پہنچ سکتا ہے جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
قُلْ لَّنْ يُّصِيْبَنَآ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا ۚ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ (سورۃ التوبۃ: 51)
’’کہہ دو کہ اللہ نے ہمارے مقدر میں جو تکلیف لکھ دی ہے ہمیں اس کے سوا کوئی اور تکلیف ہرگز نہیں پہنچ سکتی۔ وہ ہمارا رکھوالا ہے، اور اللہ ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیے۔‘‘
پس اللہ ہی ہمارا مدد گار ہے، اور کافروں کا کوئی مدد گار نہیں۔ اللہ ہمیں ان کے شر اور مکر سے محفوظ رکھے۔ وہ تدبیریں کرتے ہیں اور اللہ بھی تدبیر فرماتا ہے، اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔
اے عزیز و محترم بھائیو! یاد رکھیں کہ اللہ نے جو کچھ ہمارے لیے لکھ دیا ہے، وہی ہمارے حق میں بہتر ہے۔ یہ دراصل دو بھلائیوں میں سے ایک ہے: یا تو فتح و نصرت یا اس کی راہ میں شہادت۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلَّآ اِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ ۭ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ يُّصِيْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖٓ اَوْ بِاَيْدِيْنَا فَتَرَبَّصُوْٓا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ (سورۃ التوبۃ: ۵۲)
’’ کہہ دو کہ تم ہمارے لیے جس چیز کے منتظر ہو، وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ ( آخر کار) دو بھلائیوں میں سے ایک نہ ایک بھلائی ہمیں ملے۔ اور ہمیں تمہارے بارے میں انتظار اس کا ہے کہ اللہ تمہیں اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں سزا دے۔ بس اب انتظار کرو، ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔‘‘
اور ہمارے بیٹوں اور بھائیوں کا قتل ہونا ہمیں ہرگز اس بات سے نہیں روک سکتا کہ ہم اللہ کی راہ میں ہجرت اور جہاد کے اس راستے پر آگے بڑھتے رہیں۔ بلکہ ہمارے لیے یہ ایک عظیم اعزاز ہے کہ ہمارے بیٹے میدان میں حق پر ثابت قدم رہتے ہوئے قتل ہوں، انہوں نے نہ اپنا راستہ بدلا اور نہ اپنے عہد سے پھرے، جس طرح ہمارے دوسرے بھائی دنیا کے مختلف محاذوں اور سرحدوں پر لڑتے ہوئے مارے جاتے ہیں۔
اور اسی طرح جیسے ہمارے بھائی مقبوضہ فلسطین کے شہرِ غزہ میں مسجدِ اقصیٰ کے غاصب یہودیوں کے ہاتھوں قتل کیے جا رہے ہیں۔ ہم انہیں اللہ کے حضور شہید شمار کرتے ہیں، اگرچہ ہم کسی کے بارے میں اللہ کے سامنے قطعی فیصلہ نہیں کرتے۔
اگرچہ ہم سب بھی صفحہ ہستی سے مٹا دیے جائیں تب بھی ہمیں کوئی فرق نہیں پڑنے والا، ہمارے لیے یہی کافی ہے کہ جب ہم قیامت کے دن اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے اور وہ، حالانکہ وہ سب کچھ جانتا ہے، ہم سے پوچھے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا؟ اور اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے کیا کیا؟ تو ہم اس وقت یوں عرض کریں گے کہ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم پر لبیک کہا، اپنی استطاعت کے مطابق تیاری کی اور تیری راہ میں جہاد کیا، یہاں تک کہ ہم مارے گئے۔
یقیناً اللہ کی راہ میں جہاد ایک نفع بخش تجارت ہے، جو اس پر عمل پیرا ہوتا ہے وہ دردناک عذاب سے نجات پاتا ہے اور دائمی نعمتوں سے سرفراز ہوتا ہے۔ اور خوش نصیب وہ ہے جسے اللہ شہادت کا درجہ عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ فَرِحِيْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھٖ ۙ وَيَسْـتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِيْنَ لَمْ يَلْحَقُوْا بِھِمْ مِّنْ خَلْفِھِمْ ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَيْھِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ يَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضْلٍ ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ (سورۃ آل عمران: ۱۶۹ – ۱۷۱)
’’ اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوئے ہیں، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا، بلکہ وہ زندہ ہیں، انہیں اپنے رب کے پاس رزق ملتا ہے۔ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے جو کچھ دیا ہے وہ اس پر مگن ہیں، اور ان کے پیچھے جو لوگ ابھی ان کے ساتھ (شہادت میں) شامل نہیں ہوئے، ان کے بارے میں اس بات پر بھی خوشی مناتے ہیں کہ (جب وہ ان سے آ کر ملیں گے تو) نہ ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غم گین ہوں گے ۔ وہ اللہ کی نعمت اور فضل پر بھی خوشی مناتے ہیں اور اس بات پر بھی کہ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔‘‘
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ۭاِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ وَلَا تَـقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ الَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ ۙ قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ اُولٰۗىِٕكَ عَلَيْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۣوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُهْتَدُوْنَ (سورۃ البقرۃ: ۱۵۳ – ۱۵۷)
’’اے ایمان والو ! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو، بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوں ان کو مردہ نہ کہو، دراصل وہ زندہ ہیں مگر تم کو (ان کی زندگی کا) احساس نہیں ہوتا ۔ اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے اور (کبھی) بھوک سے (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو ۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے خصوصی عنایتیں ہیں، اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہیں جو ہدایت پر ہیں۔‘‘
پس اے معزز اور محترم مجاہدو! تمہارے بہادر اور دلیر بھائی اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں تاکہ دنیا اور تاریخ پر یہ ثابت کر دیں کہ اس امت میں ایسے مرد بھی موجود ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان صادق آتا ہے:
مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ……
’’انہی ایمان والوں میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اسے سچا کر دکھایا۔ پھر ان میں سے کچھ وہ ہیں جنہوں نے اپنا نذرانہ پورا کردیا……‘‘
لہٰذا تم بھی آیت کے دوسرے حصے میں مذکور لوگوں میں شامل ہو جاؤ جن کے بارے میں اللہ رب العزت نے فرمایا:
وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا (سورۃ الاحزاب: ۲۳)
’’اور کچھ وہ ہیں جو ابھی انتظار میں ہیں۔اور انہوں نے (اپنے ارادوں میں) ذرا سی بھی تبدیلی نہیں کی۔ ‘‘
فداك نفسي وما ملكت يميني
فوارس صدقت فيهم ظنوني
فوارس لا يملون المنايا
وإن دارت رحى الحرب الزبون
’’میری جان اور جو کچھ میرے اختیار میں ہے سب تم پر قربان
تم وہ جانباز سوار ہو جن کے بارے میں میرا گمان سچا نکلا
وہ ایسے دلیر شہسوار ہیں جو موت کے میدان سے کبھی نہیں تھکتے
خواہ جنگ کی ہولناک چکی ہی کیوں نہ پوری شدت سے گھومنے لگے۔‘‘
امتِ مسلمہ کے نوجوانوں کے نام
امتِ مسلمہ کے ان نوجوانوں کے نام جو اپنے دین اور اپنے بھائیوں کی نصرت کے لیے بے تاب ہیں:
ہم ان سے کہتے ہیں: اپنے آپ کو تیار کرو اور وہ علوم و مہارتیں حاصل کرو جن کے ذریعے تم اپنی امت کے لیے مفید ثابت ہو سکو، اور اس کوشش کو اللہ کے ہاں اجر و ثواب کی نیت سے انجام دو۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ ۚ اَللّٰهُ يَعْلَمُهُمْ ۭ (سورۃ الانفال: ۶۰)
’’اور ان کے مقابلے کے لیے جہاں تک تم سے ہو سکے قوت اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکھو، تاکہ اس کے ذریعے اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو مرعوب کر سکو، اور ان کے سوا دوسرے دشمنوں کو بھی جنہیں تم نہیں جانتے، مگر اللہ انہیں جانتا ہے۔‘‘
فی زمانہ جہاد کو مختلف نوعیت کے علم اور مہارتوں کی شدید ضرورت ہے۔ اس لیے جہاں تم ہو وہیں وہ علم اور صلاحیتیں حاصل کرو جن کے ذریعے اپنے دین کی خدمت کر سکو، تاکہ جب وقت آئے تو تم اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے پوری طرح تیار ہو۔
موجودہ حالات اس بات کی نوید دے رہے ہیں کہ مشرق و مغرب میں امتِ مسلمہ کے لیے بڑی فراخی کا وقت آنے والا ہے۔ لہٰذا آنے والے مرحلے کے لیے مکمل تیاری میں رہو، کیونکہ خیر اور بھلائی ان شاء اللہ ضرور آنے والی ہے۔
اللہ نے ہمیں اہلِ کفر کے اندر ان کے زوال کی ابتدائی نشانیاں دکھا دی ہیں۔ ان کے باہمی اختلافات اب اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ کھل کر سامنے آنے لگے ہیں، اور ان کے نہایت گندے اور شرمناک اعمال آشکار ہو رہے ہیں جو فطرتِ سلیم کے خلاف ہیں، ایسے اعمال جنہیں دیکھ کر انسان تو کیا، شیطان بھی حیران رہ جائے۔
اور امریکی حکومت کے محکمۂ ظلم جسے وزارت عدل کہا جاتا ہے، کی جانب سے یہودی جیفری ایپسٹین کے ان شرمناک اور رسوا کن دستاویزات کا منظرِ عام پر آنا، جن میں اس متکبر ریاست کے سیاست دانوں اور سربراہوں کے اسکینڈل بے نقاب ہوئے، دراصل اس جھوٹی تہذیب کے زوال کی محض ابتدا ہے۔ یہ تہذیب درحقیقت ایک سراب کی مانند ہے جسے پیاسا پانی سمجھ بیٹھتا ہے۔
امت کے معزز و نیک علماء کے نام
ہماری امت کے ان معزز اور نیک علماء کے نام ہے جن سے اللہ نے عہد لیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے حق کو واضح کریں گے اور اسے چھپائیں گے نہیں، ان اہلِ علم کے نام جو سورۂ بقرہ اور آلِ عمران کے حامل ہیں اور سورۂ توبہ و انفال کے حافظ ہیں۔
کیا آپ تک اپنے ان مجاہد بیٹوں کی شہادت کی خبر نہیں پہنچی جو مختلف محاذوں پر دھوپ کی تپش اور سخت گرمی میں اس طرح قدم رکھتے ہیں کہ اس سے کافروں کے دلوں میں غیظ و غضب پیدا ہوتا ہے؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ صلیبی دشمن اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ انہوں نے حرمتوں کو پامال کیا، خون اور عزتوں کو مباح سمجھا، پرامن گھروں پر بمباری کی اور عورتوں اور بچوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کیا؟ اور پھر بھی وہ اپنی جرائم پیشہ روش پر قائم ہیں، جبکہ امت ابھی تک اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے پوری طرح بیدار نہیں ہوئی۔
یا پھر کیا ہم واقعی اسی زمانے میں جی رہے ہیں جسے رسول اللہ ﷺ نے دین کی اجنبیت کا زمانہ قرار دیا تھا، جب آپ ﷺ نے فرمایا:
بدأ الإسلام غريبا وسيعود كما بدأ غريبا. فطوبى للغرباء
’’اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا تھا اور دوبارہ اسی طرح اجنبی ہو جائے گا، پس خوشخبری ہے ان اجنبیوں کے لیے۔‘‘
پس آج آپ حضرات کی ذمہ داری ہے کہ اپنی مسلم امت کے سامنے حق کو واضح کریں اور اسے اپنے بیٹوں کی نصرت کے لیے دعوت دیں، جو توحید کے علم بردار، حرمتوں اور عزتوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ آپ میں سے بہت سے علماء نے، اللہ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے، ابین کے علاقے المعجلة میں مسلمانوں پر بمباری کے بعد جہاد کے وجوب کے بارے میں فتاویٰ جاری کیے۔ مگر یہ کافی نہیں، کیونکہ ظالم دشمن کی جارحیت اور سرکشی بدستور جاری ہے۔ آپ پر لازم ہے کہ امت کے نوجوانوں کو ابھاریں اور انہیں ان کی عزت و وقار کے راستے کی طرف رہنمائی کریں، وہ راستہ جو ہجرت اور اللہ کی راہ میں جہاد کا راستہ ہے، جو انبیا اور رسولوں علیہم السلام کا راستہ رہا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
والذي نفس محمد بيده لوددت أني أغزو في سبيل الله فأقتل. ثم أغزو فأقتل ثم أغزو فأقتل
’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میری خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں جہاد کروں اور شہید ہو جاؤں، پھر جہاد کروں اور شہید ہو جاؤں، پھر جہاد کروں اور شہید ہو جاؤں۔‘‘
ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ اس سال کے رمضان اور اس کے بعد بھی اپنی عبادات میں کلمۂ حق کہنے کو شامل کریں۔ کیونکہ جس رب نے ہم پر روزہ اور نماز فرض کیے ہیں، اسی نے اپنی راہ میں جہاد کو بھی فرض قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (سورۃ البقرۃ: ۱۸۳)
’’ اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کردیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تمہارے اندر تقوی پیدا ہو ۔‘‘
اور فرمایا:
كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَـيْـــــًٔـا وَّھُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (سورۃ البقرۃ: 216)
’’تم پر قتال فرض کیا گیا ہے حالانکہ وہ تمہیں ناگوار لگتا ہے، ممکن ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو، اور ممکن ہے تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو، اور اللہ جانتا ہے جبکہ تم نہیں جانتے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے مزید ایک جگہ فرمایا:
فَقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭ وَاللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّاَشَدُّ تَنْكِيْلًا (سورۃ النساء: ۸۴)
’’ لہٰذا تم اللہ کے راستے میں جنگ کرو، تم پر اپنے سوا کسی اور کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ہاں مومنوں کو ترغیب دیتے رہو، کچھ بعید نہیں کہ اللہ کافروں کی جنگ کا زور توڑ دے۔ اور اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست ہے اور اس کی سزا بڑی سخت۔‘‘
ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ اس دینِ مبین کی نصرت ایک ایسا شرف ہے جس کی توفیق اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ لہٰذا اس شرف سے محروم نہ رہیں۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اور آپ کو انہی لوگوں میں شامل فرمائے۔
باحمیت یمنی قبائل کے نام
آخر میں اپنے باحمیت یمنی قبائل سے کہنا چاہتا ہوں، وہ قبائل جنہیں اللہ نے اپنے مہاجر بھائیوں کی مدد اور پناہ دینے کا شرف عطا کیا، وہ مہاجر جو اپنے دین کی حفاظت اور اپنی کمزور امت کی مدد کے لیے اپنے گھروں اور مال سے بے گھر کر دیے گئے، مگر اپنے انصار بھائیوں کے پاس انہیں مضبوط پناہ، محفوظ ٹھکانہ اور دفاع کے لیے بھر پور مدد ملی۔
اے عظیم قبائل! تمہیں باوقار مؤقف مبارک ہو، اور یہ توفیق ربانی مبارک ہو۔ اور تمہیں اپنے رسول ﷺ کے اس وعدے پر خوشخبری ہو۔
آپﷺ نے فرمایا:
وما من امرئ ينصر مسلما في موضع ينتقص فيه من عرضه، وينتهك فيه من حرمته إلا نصره الله في موطن يحب فيه نصرته
’’جو شخص کسی ایسے مقام پر کسی مسلمان کی مدد کرتا ہے جہاں اس کی عزت پامال کی جا رہی ہو اور اس کی حرمت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہو، اللہ اسے ایسے مقام پر مدد عطا فرمائے گا جہاں وہ اپنی مدد کو پسند کرے گا۔‘‘
ہم اپنے قوی و عزیز رب سے دعا کرتے ہیں کہ وہ تمہاری قدر و منزلت بلند کرے، تمہارا مقام اونچا کرے اور اپنے دین اور اپنے مجاہد بندوں کی مدد میں تمہیں قوت عطا فرمائے۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت و نصرت سے بہرہ مند فرما!
اے اللہ! غزہ و فلسطین، برما، مشرقی ترکستان، مغربِ اسلامی، چیچنیا، داغستان، کشمیر، ہندوستان، صومالیہ، سوڈان، یمن اور دنیا بھر کے ہمارے کمزور بھائیوں کی مدد فرما۔
اے اللہ! جو ہمارے اور مسلمانوں کے خلاف برائی کا ارادہ کرے اسے اپنی مشکلات میں مشغول کر دے اور اس کی تدبیر کو اسی پر الٹ دے۔
اے اللہ! جس طرح چاہے اور جس طرح مناسب سمجھے ہمیں ان کے شر سے بچا لے اور ہمیں محفوظ رکھ۔
اے اللہ! تو ہی ہمارے لیے کافی ہے اور تو ہی بہترین کارساز ہے۔
ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم.
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين.
٭٭٭٭٭









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



