بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کائنات، تمام موجودات ومخلوقات میں جو مقام ومرتبہ عطا فرمایا، وہ کسی بھی دوسرے فرد کو نہ ملا۔ خالق ومالک، رب والٰہ نے جو کچھ تخلیق کیا، اور اس تخلیق میں جس قدر کمالات رکھے، اس کی سب سے اعلیٰ اور اکمل صورت اپنے سب سے محبوب پیمبر، ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی۔ ظاہر ہے کہ جو شخص جس قدر صفات سے متصف ہو، وہ اسی قدر قابلِ حمد وستائش بھی ہوتا ہے۔ اور جو دنیا میں ہر اعتبار سے کامل ہو، اسی کا حق ہے کہ سب سے بڑھ کر محبوب بھی ہو۔ مسلمانوں کے یہاں تو یہ محبوبیت شرطِ ایمان ہے، کہ اس کے بغیر ایمان کامل ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ ایمان اپنے اللہ کی محبت کے بعد سب سے بڑھ کر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی محبت کرتے ہیں۔ اپنی جان سے بڑھ کر، اپنے والدین، بیوی بچوں سے بڑھ کر، کل اقارب سے بڑھ کر، اپنے مال واسباب سے بڑھ کر… محبت کرتے ہیں۔ اور پھر وہ محبت کیسی کہ جس کا اظہار نہ ہو، وہ محب ہی کیسا کہ اپنے محبوب سےاپنی محبت کا اظہار نہ کرتا ہو، نہ کرنا جانتا ہو۔ ایسی محبت تو دعوے سے آگے عمل کی دنیا میں آہی نہیں سکتی جس میں اظہار کی صفت ہی نہ ہو۔ دنیا کی رسم ہے کہ محب اپنے محبوب سے محبت کا اظہار کرتا ہے اور اس میں خوب داد لیتا ہے۔ اور جب معاملہ انسانوں کے سب سے بڑے محبوب کا ہو، تو کیسے ممکن تھا کہ اس کے اظہار کی زبان میسر نہ ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ اپنے محبوب پیمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے اظہار میں کمی نہیں کی، بلکہ اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ دنیا کے ادب میں کسی کی محبت میں اس قدر مواد نہیں موجود جتنا کہ محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں موجود ہے تو اس کی صداقت میں کوئی شک نہ کرے گا۔ یہ اظہار جہاں نثر کی صورت میں بہ کثرت موجود ہے، وہاں اس اظہار کے لیے شعر گوئی کا بھی خوب استعمال کیا گیا ہے۔ انسانی دنیا میں شاعری تو وہ سب سے بہترین وسیلہ ہے جس کے ذریعے انسانی جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ الحمد للہ، اس باب میں مسلمانوں نے ادب کو اتنا نوازا ہے، کہ کسی دوسری قوم ومذہب کے ماننے والے اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔
جب ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک، ہمارے دلوں کے سکون، ہمارے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اسی وقت سے اہلِ ایمان نے آپ کی حمد وتعریف میں شعر گوئی شروع کی۔ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچنے ہی والے تھے کہ مدینہ کی گلیوں میں یہ اشعار پڑھے جا رہے تھے:
طلع البدر علینا من ثنیات الوداع
وجب الشکر علینا ما دعا للہ داع
ایھا المبعوث فینا جئت بالأمر المطاع
جئت شرفت المدینۃ، مرحبا یا خیر داع
[چودھویں کا چاند ’وداع‘ کی چوٹیوں سے ہم پر طلوع ہوا ہے، ہم پر اللہ کا شکر واجب ہے جب تک اللہ کو کوئی پکارنے والا باقی ہے، اے وہ مبارک ذات کہ جو ہم میں پیغمبر بنا کر بھیجے گئے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے امور کو لے کر آئے جن کی اطاعت واجب ہے، آپ نے مدینہ کو اپنی تشریف آوری سے شرف بخشا، مرحبا! اے بہترین پکار لگانے والے!]
پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جو شعراء تھے، وہ بھی اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اشعار کہتے تھے۔ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ شاعرِ رسول کہلائے۔ آپ کے بعض اشعار ہیں:
وأَحسنُ منكَ لم ترَ قطُّ عيني
وَأجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النّسَاءُ
خلقتَ مبرأً منْ كلّ عيبٍ
كأنكَ قدْ خلقتَ كما تشاءُ
[اور آپ سے بڑھ کر اچھا میری آنکھ نے کوئی نہیں دیکھا، اور آپ سے بڑھ کر حسین کسی عورت نے نہیں جنا۔ آپ تمام عیبوں سے پاک پیدا کیے گئے، گویا آپ ایسا پیدا ہوئے کہ جیسا آپ نے خود چاہا]
جب رسولِ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین میں سے شعراء نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو بیان کی تو سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لیے خود رسولِ محبو ب صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدِ نبوی [علی صاحبہ الصلاۃ والسلام] میں منبر لگوایا، اور آپ رضی اللہ عنہ نے دفاع کا خوب حق ادا کیا اور اپنی محبت وجان سپاری کے جذبات کا خوب اظہار کیا۔
هجوتَ محمداً، فأجبتُ عنهُ،
وعندَ اللهِ في ذاكَ الجزاءُ
هجوتَ مباركاً، براً، حنيفاً،
أمينَ اللهِ، شيمتهُ الوفاءُ
فَإنّ أبي وَوَالِدَهُ وَعِرْضي
لعرضِ محمدٍ منكمْ وقاءُ
[تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی تو میں تمہیں جواب دیتا ہوں، اور اس پر اپنے اللہ سے اجر کا خواستگار ہوں۔ تم نے ایک مبارک، نیکی کے پیکر، اپنے رب کے لیے یکسو، اللہ کے امین کی برائی بیان کی، اس کی برائی بیان کی وفاشعاری جس کی طبیعت ہے۔ پس میرا باپ، اس کا بھی باپ اور میری عزت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے تم سے دفاع میں قربان ہو]
محبوبِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہر دور میں مسلمانوں کے دلوں کے تسکین وطمانیت کا سامان کرتی رہی۔ ایک اعرابی نے روضہ مطہرہ [علی صاحبھا الصلاۃ والسلام] پر حاضری کے وقت یہ مشہور اشعار کہے:
يا خير من دفنت في الترب أعظمه
فطاب من طيبهن القاع والأكم
نفسي الفداء لقبر أنت ساكنه
فيه العفاف وفيه الجود والكرم
أنت الحبيب الذي ترجى شفاعته
عند الصراط إذا ما زلت القدم
[اےوہ صاحبِ خیر جس کا جسد اس مٹی میں مدفون ہے، جس کی مہک سے یہ زمین اور چوٹیاں گل وگلزار بنی ہوئی ہیں۔ جس قبر میں آپ آرام فرما رہے ہیں، میری جان اس پر قربان ہو، کہ اس میں عفت، سخاوت اور کرم کے کمال کا حامل مدفون ہے۔ اے نبی! آپ ہی تو وہ محبوب ہیں کہ جس سے شفاعت وسفارش کی امید ہے، اس وقت جب پلِ صراط پر قدموں کے ڈگمگانے کا لمحہ آئے۔]
علامہ بوصیری نے جب مدحِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں قصیدہ کہا تو اتنا مشہور ہوا کہ آج تک اس کی شرح اور اس پر تضمین کی جا رہی ہے۔ وہ اشعار ایسے بابرکت تھے کہ ان کی بدولت خواب میں پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنی بردہ عطا فرمائی اور اس بردہ سے آپ کو مرض سے شفا ملی۔ آج بھی انھیں برکت کی غرض سے اور حبِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تسکین کے لیے پڑھا جاتا ہے۔ بعض اشعار یہ ہیں:
قامت به وهو قبل الكون علتها
لولاه لم تخرج الدنيا من العدم
محمد سيد الكونين والثقلين
والفريقين من عرب ومن عجم
نبينا الآمر الناهي فلا أحد
إلا ومنه له سهم من النعم
[کائنات آپ ہی کے دم سے وجود میں آئی، اور آپ اس کےوجود سے پہلے ہی اس کی علتِ وجود تھے، اگر آپ نہ ہوتے تو دنیا نیست سے ہست میں نہ آتی۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو دونوں جہانوں کے سردار، جن وانس کے سردار اور عرب وعجم کے سردار ہیں۔ ہمارے نبی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے والے ہیں، پس جسے بھی نعمت پہنچتی ہے تو اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ضرور ہوتا ہے۔]
عربی زبان کے علاوہ اردو زبان میں بھی اہلِ ایمان کی طرف سے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے اظہار کا خوب مظاہرہ کیا گیا۔ اور ایسے اشعار کہے گئے جو آج تک زبان زدِ عام ہیں۔ اقبال مرحوم کی زبان سے یہ اشعار نکلے:
وہ دانائے سبل، ختم الرسل، مولائے کل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادی سینا
نگاہِ عشق ومستی میں وہی اول، وہی آخر
وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰسیں، وہی طٰہٰ
ماہر القادری مرحوم نے جب نذرانہ سلام کہا تو ایسا خوب کہا کہ اس کی مثیل لانا آج بھی مشکل ہے۔
سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دست گیری کی
سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
مظفر وارثی مرحوم ساری زندگی عشق ومحبت کی باتیں کرتے رہے، حبِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار عجیب اشعار کہتے رہے۔
مفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئی، مجھ کو عشقِ نبی اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں میرا عکسِ دروں، ایک پتھر کا آئینہ گر مل گیا
کمالِ خلّاق ذات اس کی، جمالِ ہستی حیات اس کی
بشر نہیں، عظمتِ بشر ہے، مرا پیمبر عظیم تر ہے
احسن عزیز شہید تو فراقِ حبیب صلی اللہ علیہ وسلم میں غم سے نڈھال رہے، یہاں تک کہ کاسہ شہادت پی کر انھی کے در پر پہنچ گئے، نحسبہ کذلک۔
میں تری مفارقت میں یہ جاں نہ کیوں جلاؤں
ترا غم ملے تو کیونکر کوئی اور غم اٹھاؤں
غرض، اہلِ ایمان نے اپنے پیارے حبیب، بلکہ محبوبِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی والہانہ محبت اور عشق کے اظہار میں شعر گوئی کا خوب استعمال کیا۔ شعر کہنے والا اپنے جذباتِ عشق بیان کرتا رہا، اور شعر سننے والے اپنے زمزمہ محبت کی تسکین کرتے رہے۔ یقیناً یہ تو پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہے کہ آپ کے محبین کی آنکھیں آپ کی یاد میں اشکبار ہوں، دل جوشِ محبت سے گرفتار ہوں، زبانیں ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار ہوں۔ پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے اظہار میں اشعار کہنا اور سننا خود ایک عبادت ہے۔ جو شعر گوئی کی صلاحیت سے متصف ہے، اس کے لیے خود نعت کہنا عبادت ہے، اورجو اس سے محروم ہے، اس کے لیے ایسے اشعار پڑھنا اور سننا عبادت ہے۔ جو شعر گوئی کی صلاحیت سے متصف ہے، اس کے لیے خود نعت کہنا عبادت ہے، اورجو اس سے محروم ہے، اس کے لیے ایسے اشعار پڑھنا اور سننا عبادت ہے۔ ہاں! آخر میں اتنا عرض کرتے چلیں کہ اس میں افراط وتفریط… دونوں سے بچنا انتہائی ناگزیر ہے۔ ایسا نہ ہو کہ عبادت سنت کے طریقے سے ہٹ کر بدعت کے درجے میں چلی جائے، والعیاذ باللہ۔ اس واسطے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے اظہار اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات وفضائل کے بیان میں ایسا غلو نہ ہو کہ خالق ومخلوق کا فرق مٹ جائے، جیسا کہ نصاریٰ نے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ باقی دائرہ مخلوق میں موجود ہر قسم کا کمال آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہے۔ کسی کا یہ قول اس کا صحیح اظہار ہے کہ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر۔ لہٰذا اس میں کوئی قباحت نہیں۔ رہ گئے واقعات ومعجزات کا اظہار تو اس میں یہ اضافی قید بھی ہے کہ اس کا ثبوت تاریخ میں موجود ہونا چاہیے، تاکہ بے ثبوت چیزوں کی نسبت پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہ ہو جائے۔ دوسری طرف اس انتہا سے بھی بچا جائے کہ محبت کے اظہار میں جہاں اشعار کہے جائیں، تو وہاں بدعت کے حکم لگانے میں بھی غلو نہ کیا جائے، بلکہ شاعر کے ما فی الضمیر کو سمجھا جائے کہ وہ استغاثہ کر رہا ہے، یا اپنی محبت کا اظہار کر رہا ہے۔ آج ایک فرقہ اس باب میں بھی ایسی سختی کرتا ہے کہ اہل السنۃ کے یہاں مقبول توسل تک کو شرک کہہ کر رد کر دیتا ہے، اور اپنی محبت وعشق میں اگر کوئی شعر میں پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے اپنے گناہوں کا ذکر کر دیتا ہے، اور آپ سے شفاعت کی درخواست کر دیتا ہے، تو اسے فوراً شرک کہہ کر اس پر حکم لگا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ کہنے والے کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ وہ حقیقت میں یہ گزارش کر رہا ہے، بلکہ وہ تو تخیل میں کر رہا ہوتا ہے۔ شعر گوئی سے شغف نہ رکھنے کی بنیاد پر لوگ اس غلطی کا مرتکب ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا خصوصی حصہ نصیب فرمائیں، اور ہمیں افراط وتفریط ہر دو سے محفوظ فرمائیں، آمین۔
فداہ نفسي وأمي وأبي وزوجتي وولدي، فصل اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم۔
٭٭٭٭٭






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



