یہ تحریر ادارہ حطین کے کتابچہ أنس الغريب بالصلاة على النبي الحبيب صلّى اللّه عليه وسلّم سے لی گئی ہے۔ (ادارہ)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ نحمدہ حمدا کثیرا طیبا کریما ونصلي علی رسولہ الحبیب صلاۃ دائمۃ مستمرۃ ونسلم تسلیما ونصلي علی آلہ الطیبین وأھل بیتہ الطاھرین وصحابتہ أجمعین ومن تبعھم من بعدھم إیمانا ویقینا، وبعد
ایک مومن کے لیے سب سے بڑھ کر محبوب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول، پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کیونکہ اس کے بغیر تو ایمان ہی مکمل نہیں ہوتا۔ محبت کیا چیز ہوتی ہے اور محبوب کے لیے محب کےکیا جذبات ہوتے ہیں، اس کا فیصلہ تو ہر انسان کرسکتا ہے، کیونکہ اس کے دل میں محبت کے جذبات ودیعت کیے گئے ہیں۔ اسی بنا پر ہم جانتے ہیں کہ محبوب سے محبت کی دو بنیادی علامتیں ہیں جن سے محب کی محبت کا اندازہ ہوتا ہے۔ پہلی علامت محبوب کا ذکر (یعنی محبوب کی یاد)۔ محبت کے جانچنے کا پہلا امتحان یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ محبوب کو کوئی شخص کتنا یاد کرتا ہے۔ مومن خاں مومن کا شعر ہے:
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
اور جب محبت اپنی انتہاء کو پہنچے تو محبوب کی یاد کے علاوہ کوئی یاد دل میں نہیں رہتی۔ خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمہ اللہ کے شعر میں اسی کا ذکر ہے:
ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی
اب تو آجا، اب تو خلوت ہو گئی
عرب شاعر نے اس کے لیےیہ پیرایہ اختیار کیا:
عجبت لمن یقول ذکرت حبي
وھل أنسی فأذکر من نسیت1
میں اس شخص کی بات پر حیران ہوتا ہوں جو کہتا ہے کہ میں نے محبوب کو یاد کیا،
بھلا میں کبھی اپنے محبوب کو بھولا ہوں کہ کہوں کہ میں نے بھولے ہوئے کو یاد کیا۔
وہ شخص اپنی محبت میں کیسے سچا ہوسکتا ہے جو اپنے محبوب کو یاد نہ کرتا ہو اور جو سب سے بڑھ کر کسی کو محبوب رکھنے کا دعویدار ہو تو لازم ہے کہ وہ سب سے بڑھ کر اسے یاد رکھتا ہو۔
محبت کی دوسری علامت محبوب کی فرمانبرداری ہے، اطاعت وتابعداری ہے۔ جو شخص کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کی بات بھی سنتا اور مانتا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے دیوان میں ان کا ایک شعر ہے:
لو كان حبك صادقا لأطعته
إن المحب لمن يحب مطيع
اگر تمہاری محبت سچی ہوتی تو تم اس (محبوب) کی فرمانبرداری کرتے،
بےشک محب جس سے محبت کرتاہے، اس کا فرمانبردار ہوتا ہے۔
اس کا فیصلہ اور پھر مشاہدہ خود انسانوں کے درمیان ہوتا ہے۔ اب جب ایک مومن کے لیے سب سے بڑھ کر محبوب اللہ تعالیٰ اور آپ کے رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں، تو اب ان کی یاد اور اطاعت کا کیا مقام ہونا چاہیے، ہر مسلمان خود سمجھ سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی یاد کے لیے مسلمانوں کو اپنا ذکر سکھایا۔ دل، زبان اور پھر اعضاء سے ذکر کرنا۔ دل میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا، اس کا استحضار کرنا، اس کی کائنات میں غور وتدبر کرنا، پھر زبان سے ذکر کے کلمات ادا کرنا جسے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تک نقل فرمایا، اور پھر اعضاء سے نماز وعبادات کرکے اللہ کو یاد کرنا۔ اور اطاعتِ الہٰی تو اس کے ہر حکم کو ماننا ہے۔
اب پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے یاد کیا جائے۔ یہ معاملہ بالعموم مسلمانوں میں کم اہمیت ہوجاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تو مسلمان سمجھتے ہیں، مگر یاد کرنا کیسے ہو، یہ قلب وذہن سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ طریقہ بتلایا کہ وہ اپنے نبی پر درود وسلام بھیجیں۔اور اس حکم کو ایسا معظم بالشان نازل فرمایا کہ اپنی محبت کی دلیل بھی ساتھ ذ کر کردی کہ خود اللہ تعالیٰ بھی اپنے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اور ساتھ فرشتوں کو بھی مامور فرمایا ہے کہ وہ بھی بھیجتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتے ہیں:
﴿اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰۗىِٕكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَي النَّبِيِّ ۭ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا ﴾ [الأحزاب:۵۶]
’’بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو، اور خوب سلام بھیجا کرو‘‘۔
پس جس بندۂ مومن کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ ہے، اس کے پاس اپنے دعوے کو جانچنے کا یہ طریقہ ہے کہ وہ دیکھ لے کہ وہ اپنے شب وروز میں کتنی بار پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کرتا ہے، اور کتنی بار اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتا ہے۔
یہ کام تو ہم اس لیے کریں کہ ہم اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ سے محبت کے دعویدار ہیں اور روزِ محشر آپ کے ہاتھ سے حوضِ کوثر کا جام پینے کے متمنی ہیں، لیکن اگر پھر بھی دل میں داعیہ کمزور ہو تو انعام کو جان کر شاید ہم سے میں سے کوئی اس کی کثرت پر تیار ہوجائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا:
من صلى علي واحدة صلى الله عليه عشراً.2
’’جو کوئی مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے تو اللہ تعالیٰ اس بندے پر دس مرتبہ درود (رحمت) بھیجتے ہیں‘‘۔
سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ نے اپنی یاد کے حامل کے لیے فرمایا:
﴿فَاذْکُرُوْنِيْ أَذْکُرُکُمْ﴾
’’تم لوگ مجھے یاد کروِ میں تمہیں یاد کروں گا‘‘
جبکہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کرنے اور آپ پر درود بھیجنے والے کے لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس پر ایک کے بدلے دس بار رحمتیں نازل فرمائیں گے، یعنی نہ صرف یاد کریں گے، بلکہ دس بار رحمتوں بھرا یاد کریں گے۔ علامہ فاکہانی رحمہ اللہ نے تو فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی بندے پر ایک مرتبہ نظرِ رحمت فرمائیں تو یہ اس کے لیے دنیا وما فیھا سے بہتر ہے، اور کہاں اس موقع پر دس بار نظرِ رحمت فرمائی جا رہی ہے۔
نہ صرف اللہ تعالیٰ یاد کریں گے، بلکہ فرشتوں کو بھی مامور فرمایا کہ وہ بھی ایسے شخص پر درود بھیجیں، رحمتوں کا سوال کریں، جیسا کہ مسند أحمد کی روایت سے معلوم ہوتا ہے3۔
اس پر مزید مستزاد یہ کہ محب کا یہ یاد کرنا خود محبوب تک پہنچا دیا جائے گا، بلکہ آپ بھی جواب میں یاد فرمائیں گے اور سلام کا جواب دیں گے۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صلى علي بلغتني صلاته وصليت عليه.4
’’جو مجھ پر درود بھیجے تو اس کا درود مجھے پہنچتا ہے اور میں اس پر جواب میں درود بھیجتا ہوں‘‘۔
ما من أحد يسلم علي إلا رد الله إلي روحي حتى أرد عليه.5
’’کوئی بھی مسلمان جب مجھے سلام بھیجتا ہے، تو اللہ تعالی نے میری روح مجھے لوٹادی ہے، (چنانچہ) میں اس (سلام بھیجنے والے) کے سلام کا جواب دیتا ہوں‘‘۔
یہاں تک بعض روایات میں آتا ہے کہ فرشتے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے درود بھیجنے والے کا نام لے کر بتاتے ہیں کہ فلاں آپ پر درود وسلام بھیجتا ہے6۔
کیا یہ انعام کم تھا کہ خود اللہ تعالیٰ نے ہمارے اس یاد کرنے پر دس بار رحمت کی نظر سے دیکھا، بلکہ فرشتوں کی مجلس میں یاد کیا گیا، مگر مزید یہ انعام کہ خود درود بھیجنے والے کا نام پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جواب میں یاد فرمایا، سلام بھیجا۔ صلی اللہ علیہ وسلم!
یہ تو چند انعامات کا ذکر ہوا، وگرنہ انعامات کی ایک فہرست ہے جو علمائے کرام نے ذکر کی ہے۔ ہمارا مقصد تو بس اہلِ ایمان کی توجہ اس طرف مبذول کرانا ہے کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہے کہ ہم انھیں یاد کریں ، جس طرح ہم اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرتے ہوئے اس کا ذکر کرتے ہیں، اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کرنے کا بہترین ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا ہے۔ اب جو اپنے شب وروز میں جس قدر کثرت سے درود بھیجے گا، وہ اتنا ہی بڑا محب ہوگا۔ ہاں! چاہیے کہ شوق ومحبت سے درود کے کلمات ادا کیے جائیں، لا پرواہ دل سے نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دیں۔
پھر آج کے زمانے میں … جب کفر وکفار کا شوکت ودبدبہ ہے، اور اسلام اور اہلِ اسلام کی مغلوبیت ہے… ایسے میں ایمان کو مضبوطی سے تھامنے والوں کے لیے باطنی سکون اور ظاہری فتح وکامرانی کے حصول کے لیے بھی یہ ایک وسیلہ ہے، جسے تھامنے میں کمی نہیں کرنی چاہیے اور جس کی اہمیت دل میں خوب راسخ ہونی چاہیے۔
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین، وصلی اللہ تعالیٰ علی نبینا وحبیبا وسیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ وأمتہ وعلینا أجمعین، آمین۔
٭٭٭٭٭
1 ذکرھاالإمام ابن القیم في جلاء الأفھام في فضل الصلاۃ والسلام علی محمد خیر الأنام
2 أخرجہ مسلم وأحمد وأبو داود والنسائي
3 عن عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضي اللہ عنھما قال: من صلی علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم واحدۃ صلی اللہ علیہ وملائکتہ بھا سبعین صلاۃ، فلیقل عبد من ذلك أو لیکثر۔حسنہ الھیثمي والسخاوي وقال السخاوي: وحکمہ الرفع، إذ لا مجال للاجتھاد فیہ۔
4 أخرجہ الطبراني في الأوسط وحسنہ السخاوي
5 أخرجہ أبو داود وأحمد وحسنہ جمع من المحدثین أمثال النووي والعراقي والحافظ وغیرھم
6 أخرجہ إسحاق بن راھویہ في مسندہ وابن عدي في الکامل عن ابن عباس رضي للہ عنھما






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



