طویل عرصے سے صہیونی دشمن اپنے پاس موجود قتل و تباہی کے ذرائع پر شیخی بگھارتا رہا ہے، تاکہ یہ کہہ سکے کہ ہماری پہنچ فلاں فلاں جگہ تک ہے۔
لیکن آج، دنیا کے آخری کونوں تک، مسلمانوں کی آگ جا پہنچی ہے اور آسٹریلیا میں، بالخصوص دارالحکومت سڈنی میں، یہ شعلے یہودی کمیونٹی کی بڑی تعداد تک پہنچے ہیں۔
چنانچہ دو غیرت مند مسلمان ابطال نے ایک مسلح کارروائی سر انجام دی، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں یہودی ہلاک اور زخمی ہوئے، جو اپنے ایک مذہبی تہوار کی تقریبات میں ننگ دھڑنگ مصروف تھے۔ اس کے ذریعے حملہ آور یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ فلسطین اور دنیا کے ہر گوشے میں مسلمانوں کا بہایا گیا خون رائیگاں نہیں جائے گا، اور یہ کہ جو دشمن مسلمانوں کا خون بہائے گا، اس کا خون بھی دنیا کے ہر کونے میں اسی طرح بہایا جائے گا۔ اور یہ کہ صہیونیوں کے ساتھ جاری جنگ صرف مقبوضہ فلسطین تک محدود نہیں، بلکہ دنیا کے ہر اس مقام تک پھیلی ہوئی ہے جہاں یہ ملعون صہیونی موجود ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ
’’اور انہیں جہاں کہیں پاؤ قتل کرو۔‘‘
ان حملہ آوروں کا پیغام یہ ہے کہ تمہاری خفیہ معلومات، سکیورٹی ہدایات، اور نہ ہی تمہاری جانب سے روا رکھے جانے والا قتل و ظلم کی کارروائیاں مسلمانوں اور ان کے مجاہدین کے عزم کو توڑ سکیں گی، کیونکہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا اور کوئی بھی اسے معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔
يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ ۭ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ
’’وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں، مگر اللہ اپنے نور کو پورا کر کے ہی رہے گا، خواہ کافر اسے ناپسند ہی کیوں نہ کریں۔‘‘
هل اتى صهيون انا امة
دونها الجوزاء في العليا صباح
قد ورثنا المجد مجاج الثرى
وحلا من دونهم مر الكفاح
ولنا في كل ناد منبر
ولهم في ظلمة الليل نباح
ليلنا والخيل ان طافا بهم
فالنواصي الفجر والقدس انشراح
قد خطبنا الموت ودا فاحتفى
واحتفينا بالهدى والنصر لاح
کیا صہیونی جانتے ہیں کہ ہم وہ امت ہیں
جن کے مقابل فلک کی بلندیاں بھی ہیچ ہیں؟
ہم نے عظمت خاک کی گہرائیوں سے وراثت میں پائی ہے
اور ان کے حصے میں تکلیف کے سوا کچھ نہیں
ہر مجلس میں ہمارے لیے ایک منبر ہے
اور ان کے حصے میں رات کی تاریکی میں صرف بھونکنا
ہماری رات اور ہمارے گھوڑے جب ان کے گرد گھومتے ہیں
تو پیشانیاں سحر بن جاتی ہیں اور بیتُ المقدس کشادگی پاتا ہے
ہم نے موت کو محبت سے پکارا تو اس نے لبیک کہا
اور ہم نے ہدایت کو گلے لگایا، یہاں تک کہ فتح نمایاں ہو گئی
یہ پیغامات، اگرچہ اس معلوم دشمن کو مخاطب کر کے دیے گئے ہیں، مگر یہ عمومی طور پر تمام مسلمانوں کے لیے بھی ہیں، اور بالخصوص فلسطین میں موجود ان مجاہدین کے لیے جو اپنے دعوے میں سچے ہیں۔
یہ کارروائیاں وہ اسلامی دفاعی ہتھیار ہیں کہ جس کی تیاری پر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں ابھارا ہے:
وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمْ
’’اور ان کے مقابلے کے لیے جہاں تک تم سے ہو سکے قوت تیار رکھو، اور گھوڑوں کو باندھ کر رکھنے کا اہتمام کرو، تاکہ اس کے ذریعے اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن پر رعب ڈال سکو۔‘‘
پوری دنیا نے دیکھ لیا کہ ان دونوں ابطالِ امت کی بندوقیں صہیونیوں اور ان کے مظالم کے روک تھام کے حوالے سے بیانات، مظاہروں، مذمتی بیانات اور نعروں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر نکلیں۔ اللہ کے حکم سے اس طرح کے اقدامات غزہ میں جاری خونریزی اور تمام فلسطینی علاقوں میں جاری مظالم کو روکنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔
اور ان دونوں حضرات کی گولیاں نام نہاد ضامن امریکہ کی ہمدردی کی اپیل، ’’عرب ثالثوں‘‘ کی شفقت، اور ’’الفتح کے بھائیوں‘‘ کی نام نہاد دوستی سے زیادہ کارگر ثابت ہوئی ہیں۔
یہ دونوں ابطال اپنے محبوب دین اور مظلوم فلسطینیوں کی مدد کے لیے وہ کچھ کر گئے، جسے وہ اپنا فرض سمجھتے تھے۔ انہوں نے نہ کمزوری کا عذر پیش کیا اور نہ پسپائی اختیار کی۔ خوف نے اور نہ ہی مایوسی نے ان کے دلوں میں جگہ پائی۔ بلکہ جو وسائل ان کے پاس تھے، انہیں تیار کیا، مناسب دن کا انتخاب کیا اور اس امید کے ساتھ روانہ ہوئے کہ اللہ سبحانہٗ کے ہاں جو اجر ہے وہ انہیں حاصل ہو گا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۚ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ ۚ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ ۚ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
’’بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں، اس کے بدلے میں کہ ان کے لیے جنت ہے۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں، پھر مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں۔ یہ وعدہ اللہ کے ذمے حق ہے، تورات، انجیل اور قرآن میں۔ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے؟ پس اس سودے پر خوشی مناؤ جو تم نے اس کے ساتھ کیا، اور یہی عظیم کامیابی ہے۔‘‘
پس ان دونوں حضرات اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کے لیے خوشخبری ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ ۖ وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
’’دنیا کی زندگی تو محض کھیل اور تماشا ہے، اور آخرت کا گھر ہی اُن لوگوں کے لیے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟‘‘
تمام مسلمانوں نے صہیونی مجرموں کو پہنچنے والے اس عظیم نقصان پر خوشی کا اظہار کیا، اس بات سے قطعِ نظر کہ کارروائی انجام دینے والوں کا تعلق کس جماعت سے ہے۔ خواہ وہ کسی جہادی تنظیم سے وابستہ ہوں یا انہوں نے یہ اقدام انفرادی طور پر کیا ہو، انہوں نے ہدف کے انتخاب میں بھی درستگی دکھائی اور کارروائی کو عملی جامہ پہنانے میں بھی مہارت کا مظاہرہ کیا۔
نصرتِ دین کے خواہاں افراد کے اہداف ایسے ہی ہونے چاہییں، یعنی پوری توجہ اس صہیونی صلیبی اتحاد پر مرکوز رکھی جائے، یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار رکھ دے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ صہیونی جرائم، جو مسلمانوں(بچوں سے لے کر بڑوں تک) کی یادداشت میں محفوظ ہیں، دنیا کے ہر گوشے میں ایسی مزید کارروائیوں کے لیے محرک بنے رہیں گے۔ اس صورتِ حال کا بنیادی ذمہ دار وہ صہیونی نظام ہے جس نے فلسطین میں ہمارے مسلمان بھائیوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب کر کے دنیا بھر میں یہودیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا۔
آج دنیا بھر میں یہودیوں کی حالتِ زار، اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ نہ اپنے مذہبی مراسم اطمینان سے ادا کر سکتے ہیں، نہ اپنے تہوار سکون سے منا سکتے ہیں، نہ اپنے اجتماعات میں بے خوف خوشی منا سکتے ہیں، اور نہ ہی اپنے علاقوں میں امن کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ سوائے اس کے کہ خوف، بے چینی، انتظار اور دہشت کی کیفیت میں زندگی بسر کریں، کہ کہیں مسلمانوں کے فدائی حملہ آور ان پر جھپٹ نہ پڑیں اور انہیں اس تکلیف کا کچھ حصہ نہ چکھا دیں جو فلسطین میں ہمارے مسلمان بھائی اور بہنیں سہہ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ’’سڈنی‘‘ کا واقعہ پہلا اور آخری حملہ نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے ایسے حملے ہوتے رہیں گے۔
٭٭٭٭٭











