ایپسٹین سے متعلق تازہ فائلوں کے اجرا نے سوشل میڈیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں فہرست میں شامل اور خارج ناموں کی اخلاقی حیثیت جانچنے کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔
یہ جنون کہ ’’فائلوں میں کون ہے‘‘دراصل امریکی اداروں کو بری الذمہ ٹھہراتا ہے اور اصل مسئلے کو فرد کے انفرادی انحراف کے پردے میں چھپا دیتا ہے۔ ایپسٹین نیٹ ورک کو بلیک میل کے ذریعے سیاسی طور پر مفلوج کیے گئے برے کرداروں کے ایک خفیہ گروہ کے طور پر پیش کر کے ہ بیانیہ اس حقیقت کو نظرانداز کرتا ہے کہ ہم طاقت کے کسی استثنائی حادثے کا مشاہدہ نہیں کر رہے، بلکہ طاقت کی بنیادی فطرت کے ظہور کو دیکھ رہے ہیں۔
نتیجتاً، سیاسی تقسیم کے دونوں جانب غالب بیانیہ یہ بتاتا ہے کہ واشنگٹن کی اسرائیل کے لیے غیر متزلزل حمایت، اور غزہ میں نسل کشی میں اس کی براہِ راست شراکت داری، سیاست دانوں پر بیرونی خفیہ اداروں کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔
یہ فریم ورک تجزیاتی طور پر ناقص ہے، کیونکہ یہ اس غلط مفروضے پر قائم ہے کہ امریکی سیاسی طبقہ کسی لبرل اخلاقی قطب نما سے رہنمائی لیتا ہے، اور یہ کہ اجتماعی قتلِ عام کی اس کی حمایت، اس کے دیگر نیک نیتی پر مبنی اقدار سے انحراف ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مغربی استعماری اور سرمایہ دار اشرافیہ کو فلسطینی زندگی کی تباہی میں اپنی شرکت کے جواز کے لیے بلیک میل کیے جانے کی ضرورت نہیں۔ امریکی صہیونی اتحاد مادی اور نظریاتی تقاضوں میں جڑا ہوا ہے، جہاں اسرائیل خطے میں امریکی بالادستی کا ایک کلیدی اڈہ اور اسٹریٹیجک ملٹری انڈسٹریل لیبارٹری کا کردار ادا کرتا ہے۔
1492ء میں اپنے آغاز سے ہی امریکی سلطنت کی شناخت یورپی سرمائے کی توسیع کے لیے مقامی آبادیوں کی منظم بے دخلی، غلامی اور نسل کشی سے رہی ہے۔
غزہ میں جاری نسل کشی اسی تاریخی ورثے کا معاصر اظہار ہے۔ یہ کہنا کہ فلسطین پر تسلط کے لیے امریکی حمایت سیاسی بلیک میلنگ کا نتیجہ ہے، دنیا بھر میں صدیوں پر محیط امریکی مظالم کو نظر انداز کرنا ہے۔ صہیونی آبادکار استعماری منصوبے کے ساتھ امریکی وابستگی مستقل رہی ہے قطع نظر اس کے کہ اقتدار کس کے پاس ہو، کیونکہ سامراج کے اسٹریٹیجک مفادات یہی تقاضا کرتے ہیں۔
’’انسانی جانور‘‘
یہ سامراجی فریم ورک مسلسل انسانوں کو غیر انسانی بنانے کے عمل (dehumanization) پر انحصار کرتا ہے، ایسا عمل جو ریاستی سرپرستی میں نسل کشی اور جنسی سمگلنگ، دونوں کو ممکن بناتا ہے۔ دونوں صورتوں میں انسان کو سیاسی اور اخلاقی اختیار سے محروم کر کے محض ایک شے یا مال میں بدل دیا جاتا ہے۔
غزہ میں فلسطینیوں کی غیر انسانی تصویر کشی نسل کشی کی پیشگی شرط ہے۔ جب پوری آبادی کو ’’آبادیاتی خطرہ‘‘ یا ’’انسانی جانور‘‘ قرار دیا جائے تو ان کا خاتمہ جرم نہیں رہتا، بلکہ آبادکار استعماری ریاست کی ’’سلامتی‘‘ کے لیے ایک انتظامی ضرورت بنا دیا جاتا ہے۔
ایپسٹین کے سمگلنگ نیٹ ورک میں بھی متاثرین کو قابلِ استعمال اشیاء بنا دیا گیا، جنہیں اشرافیہ کے مفادات اور لذتوں کے لیے خریدا، بیچا اور استحصال کیا جا سکتا تھا۔
یہ محض اتفاق نہیں کہ وہی سیاسی اور معاشی طبقہ جو غزہ میں بیس لاکھ افراد کی نسلی تطہیر میں سہولت کار ہے، جنسی درندوں کی فہرست میں بھی نظر آتا ہے۔ یہ کسی خفیہ سوسائٹی کی بات نہیں جس نے ریاست کو اغوا کر لیا ہو، یہ اس طبقے کی بات ہے جس کا نظریاتی اور مادّی عالمی نظریہ دوسروں کے مطلق استحصال پر قائم ہے۔
سامراجی طاقتوں کے نزدیک جسم، خواہ محصور علاقے میں ایک فلسطینی بچے کا ہو یا کسی نجی جزیرے پر اسمگل کیے گئے فرد کا، محض سیاسی بالادستی کی بقا اور جنسی درندگی کی تسکین کے لیے ایک شے ہے۔
ایپسٹین فائلوں میں نظر آنے والی اخلاقی گراوٹ، انہی اشرافیہ کی جانب سے عالمی جنوب (Global South) کو برآمد کی گئی بدعنوانی کا داخلی تسلسل ہے۔ ان کے نجی جنسی جرائم، ان کے عوامی اور پُرتشدد سیاسی جرائم کے ساتھ اسی سامراجی منطق کے عین مطابق ہیں۔
درحقیقت، ان کی جنسی مجرمانہ سرگرمیاں ان کے نسلی برتری کے عالمی نظریے سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں۔ اگر اشرافیہ جغرافیائی سیاسی فوائد کے لیے بچوں کے قتلِ عام کی منظوری دینے میں مطمئن ہے، تو جنسی سمگلنگ میں اس کی شمولیت پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔
ہمیں اس فکری کاہلی کو بھی رد کرنا ہو گا جو اس سامراجی اور سرمایہ دارانہ بدکاری کو سازشی نظریات کی عینک سے دیکھتی ہے۔ ایسے نظریات اکثر مغربی یہود مخالف سانچوں پر انحصار کرتے ہیں تاکہ کرپشن اور برائی کی وضاحت کی جا سکے۔
یہ ملغوبہ مغربی فیصلہ سازوں کے لیے فائدہ مند ہے، کیونکہ اس سے ایک ’’بفر کلاس‘‘ پیدا ہوتی ہے جس پر دنیا بھر میں سامراجی منصوبوں کے نتائج کا الزام ڈال دیا جاتا ہے۔ سامراج کے ڈھانچوں میں، سرکاری اہلکار، ان کی مذہبی یا نسلی شناخت سے قطع نظر، سامراج کے ایجنٹ ہوتے ہیں۔ ان کی بنیادی وفاداری اور مقصد عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو برقرار رکھنا ہے۔
جھوٹا بیانیہ
صہیونی منصوبے یا ایپسٹین نیٹ ورک کو کسی ’’یہودی لابی‘‘ کا کام بنا کر پیش کرنا، غالب بیانیے کے ذریعے وسیع تر مغربی استعماری ڈھانچوں اور اشرافیہ کو بری الذمہ ٹھہراتا ہے، اور یوں ان سامراجی طاقتوں کو بچ نکلنے کا موقع دیتا ہے جنہوں نے تاریخی طور پر ان منصوبوں کی سرپرستی کی ہے۔
یہ بیانیہ غلط طور پر یہ تاثر دیتا ہے کہ امریکہ اسرائیل تعلقات امریکی ایجنڈے پر کسی قبضے کا نتیجہ ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ دو آبادکار استعماری طاقتوں کے درمیان ایک سوچا سمجھا اور اسٹریٹیجک اشتراک ہے۔
یہ ہٹ دھرمی سوشل میڈیا کی الگورتھمک معیشت سے مزید بڑھتی ہے، جو منظم تجزیوں اور درست معلومات کے بجائے سنسنی خیز من گھڑت باتوں کو ترجیح دے کر ’’انگیجمنٹ‘‘ کماتی ہے۔
سازشی فریم ورک عالمی نظام کی درست سمجھ میں رکاوٹ بنتا ہے، یعنی یہ کہ اشرافیہ اور طاقتور ادارے مغربی سامراج کی خدمت میں فیصلے کیسے کرتے ہیں۔
سازشی نظریات یہ تاثر دیتے ہیں کہ استعماری طاقتیں اس قدر خفیہ اور ہمہ گیر ہیں کہ ہمیں ان کے منصوبے لیک شدہ دستاویزات سے ڈی کوڈ کرنے پڑتے ہیں۔ حالانکہ سامراجی طاقتوں کے اصل منصوبے شاذ ہی خفیہ ہوتے ہیں۔ وہ تھنک ٹینکس کے وائٹ پیپرز میں شائع ہوتے ہیں، عالمی رہنماؤں کے مباحث میں زیرِ بحث آتے ہیں، اور امریکی و بین الاقوامی اداروں میں قانون کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
یورپی اور امریکی استعمار کے صدیوں پر محیط لاکھوں متاثرین ان سامراجی اور سرمایہ دارانہ منصوبوں کی اصل فطرت کو عیاں کرتے ہیں۔ سچ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے، امریکی سامراج نسل کشی کی حمایت پر بلیک میل نہیں ہو رہا، وہ اپنا تاریخی فریضہ ادا کر رہی ہے۔
ایپسٹین فائلوں میں موجود اخلاقی گراوٹ کوئی استثنا نہیں۔ یہ ایک ایسی استعماری اور سرمایہ دارانہ اشرافیہ کی سچی عکاسی ہے جو پوری دنیا کے استحصال کی اپنی صلاحیت پر خود کو ناقابلِ شکست محسوس کرتی ہے۔ غزہ کی نسل کشی اور ایپسٹین کا اسمگلنگ نیٹ ورک کوئی معمّے نہیں جنہیں حل کیا جائے، یہ اس مادّی نظام کے منطقی نتائج ہیں جو 1492 سے انسان کو قابلِ تلف مال سمجھتا آیا ہے۔
[یہ مضمون ایک معاصر آن لائن جریدے میں شائع ہو چکا ہے۔ مستعار مضامین، مجلے کی ادارتی پالیسی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں۔ (ادارہ)
٭٭٭٭٭




![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



