نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | دسویں قسط

شیخ یحیٰ السنوار شہید رحمۃ اللہ علیہ کا شہرۂ آفاق ناول

by یحییٰ سنوار
in جنوری ۲۰۲۶ء, ناول و افسانے
0

مجلّہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ بطلِ اسلام، مجاہد قائد، شہیدِ امت، صاحبِ سیف و قلم شیخ یحییٰ ابراہیم السنوار رحمۃ اللہ علیہ کےایمان اور جذبۂ جہاد و استشہاد کو جلا بخشتے، آنکھیں اشک بار کر دینے والے خوب صورت ناول اور خودنوشت و سرگزشت ’الشوک والقرنفل‘ کا اردو ترجمہ، قسط وار شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔ یہ ناول شیخ نے دورانِ اسیری اسرائیل کی بئر سبع جیل میں تالیف کیا۔ بقول شیخ شہید اس ناول میں تخیل صرف اتنا ہے کہ اسے ناول کی شکل دی گئی ہے جو مخصوص کرداروں کے گرد گھومتا ہے تاکہ ناول کے تقاضے اور شرائط پوری ہو سکیں، اس کے علاوہ ہر چیز حقیقی ہے۔ ’کانٹے اور پھول‘ کے نام سے یہ ترجمہ انٹرنیٹ پر شائع ہو چکا ہے، معمولی تبدیلیوں کے ساتھ نذرِ قارئین ہے۔ (ادارہ)


پندرہویں فصل

۸۰ء کی دہائی کے پہلے نصف میں فلسطینی منظر نامے پر بہت سی تبدیلیاں آئیں، اور ہماری اخلاقیات اور رویوں میں بھی بہت سی تبدیلیاں ہوئیں۔ میں نے اپنی ثانوی تعلیم مکمل کی اور غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا فیصلہ کیا، حالانکہ میرے بھائی محمود نے اس کی مخالفت کی تھی جو کہتا تھا کہ یہ یونیورسٹی ہے؟ یہ تو ایک ثانوی اسکول کے لائق بھی نہیں ہے ! جبکہ حسن میرے فیصلے کے حق میں تھا اور ابراہیم بھی متفق تھا، اور میری ماں نے میری خواہش کو تسلیم کیا اور محمود سے کہا کہ اس معاملے پر خاموش رہے اور فیصلہ مجھے کرنے دے، کیونکہ یہ معاملہ میرا تھا، اور میں خود اس کا فیصلہ کرنے والا تھا، لہذا محمود خاموش ہو گیا، گو کہ ناپسندیدگی کے ساتھ۔

میں نے اسلامی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور سائنس فیکلٹی میں میرا اندراج ہو گیا۔ میں نئے سال اور تعلیم کے آغاز کا بے صبری سے انتظار کرنے لگا، خاص طور پر جب یہ خبریں آئیں کہ اس سال یونیورسٹی میں قابل ذکر ترقی ہونے والی ہے، کیونکہ اس سال پانچ سو طلباء و طالبات کو داخلہ دیا جائے گا، اور ایک پی ایچ ڈی ہولڈر کو یونیورسٹی کا صدر منتخب کیا جائے گا اور پی ایچ ڈی ہولڈرز کی ایک تعداد تدریس کے لیے آئے گی، اور یونیورسٹی کے لیے ایک خاص عمارت بھی تعمیر کی جائے گی۔

ابراہیم نے پورے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران اپنے دوست کے ساتھ تعمیراتی کام میں مشغول رہنے کا عزم کیا اور اچھا مالی فائدہ حاصل کیا۔ معاملہ یہیں نہیں رکا بلکہ وہ اب ایک ماہر تعمیراتی کارکن بن چکا تھا، کیونکہ اس نے اپنے دوست سے یہ پیشہ سیکھا، اور وہ دونوں شراکت دار بن گئے اور ایک معاون کارکن کو بھی ملازمت دی، اور وہ درمیانی درجے کی تعمیراتی ٹھیکیداریاں لینے لگے۔ یہ صاف ظاہر تھا کہ ابراہیم کی خود انحصاری اسے ایک کامیاب انسان بنا رہی تھی۔

میرے بھائی محمود اور حسن دونوں کا ایک ایک بچہ ہوا اور میری بہن فاطمہ کا بھی۔ حسن کے کام میں ترقی ہوئی کیونکہ اس نے اپنی ذاتی ورکشاپ کھولنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے جگہ کرائے پر لی اور ورکشاپ کے لیے ضروری مشینری خریدنے لگا کیونکہ اسے پیسے کی کمی نہیں تھی۔ محمد اپنی تعلیم (کیمسٹری) میں بیر زیت یونیورسٹی میں ترقی کر رہا تھا، اور ہر سمسٹر کو امتیاز کے ساتھ مکمل کر رہا تھا۔ یونیورسٹی نے فیس وصول کرنا بند کر دی تھی، کیونکہ یونیورسٹی طلباء کو امتیازی کارکردگی پر اسکالر شپ دے رہی تھی، اور اسے صرف روزمرہ کے اخراجات کی ضرورت تھی۔

تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہم نے الازہر کے دینی ادارے کی اسی عمارت میں اپنی کلاسیں شروع کیں۔ یونیورسٹی کی ترقی کے بارے میں سنی جانے والی بہت سی باتیں واقعی سچ ثابت ہوئیں، کیونکہ داخلہ لینے والے طلباء و طالبات کی تعداد درست تھی، اور یونیورسٹی کے صدر کے طور پر ایک ڈاکٹر بھی یونیورسٹی آ گیا تھا۔ اور تدریس کے لیے پی ایچ ڈی ہولڈرز کی ایک تعداد بھی آئی۔ انہوں نے اس عمارت کی تکمیل شروع کر دی جس کی بنیاد بہت پہلے سے رکھی گئی تھی، تاکہ یہ یونیورسٹی کے لیے مخصوص ہو۔ یہ سب اس بات کا اشارہ تھے کہ یونیورسٹی واقعی یونیورسٹی بننے والی ہے، اور خوشخبریاں اس کی تصدیق کرتی تھیں، جس سے ہم طلباء مستقبل کے بارے میں زیادہ مطمئن ہو گئے۔ لیکن اس کے باوجود ہم دوپہر کے بعد انسٹیٹیوٹ کے کمروں میں پڑھتے رہے۔ لڑکے الازہر کے طلباء کے لیے مخصوص کیے گئے حصے میں پڑھتے تھے جبکہ لڑکیاں الازہر کی طالبات کے لیے مخصوص مقام پر پڑھتی تھیں ۔

جس سال میں ہم نے داخلہ لیا تھا، وہ سال تعارفی تھا، جس میں ہم اس مواد کا مطالعہ کرتے تھے جو ہماری ثانوی تعلیم کے برابر ہوتا تھا، اور اسے الازہر کے ثانوی طلباء کے ساتھ پڑھتے تھے۔ یعنی زیادہ تر مواد نظریاتی تھے، جن میں زیادہ تر دینی مواد ہوتے تھے، جو ہمیں کچھ مشائخ پڑھاتے تھے، ساتھ ہی کچھ ابتدائی علمی مواد بھی پڑھایا جاتا تھا، لیکن یہ کم تھا، اس لیے ہمارے مطالعہ کی سنجیدگی اور تھکاوٹ کا احساس محدود تھا۔ ہم نے سال کا زیادہ تر وقت کھیل کود اور مختلف نظریاتی تنازعات کے ساتھ گزارا۔ یہ واضح تھا کہ اسلامی تحریک کے طلباء عام طلباء سے زیادہ تعداد میں تھے، اور وہ زیادہ منظم تھے اور اپنے نظریات پیش کرنے اور طلباء کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں زیادہ کامیاب تھے۔ فتح کے نوجوان کمزور تھے لیکن وہ اپنی صلاحیتوں اور سطح کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ الجبھۃ الیساریۃ کے طلباء بہت کم تھے، اور ان کی آواز قابل ذکر نہیں تھی، وہ ایک چھوٹا سا گروہ تھے جو اپنے آپ میں محدود تھا، اور ان کی تحریک بہت محدود تھی۔

سال کے آغاز کے ایک ماہ بعد یونیورسٹی میں طلباء کے درمیان تحریک شروع ہو گئی، جو جلد ہی ہونے والے طلبہ یونین کے انتخابات کی تیاری کر رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی طالبات کی تنظیم کے انتخابات بھی ہو رہے تھے۔ مختلف نظریاتی تحریکوں کے کارکن نئے طلباء سے رابطہ کرنے، اپنی نظریات پیش کرنے اور ان طلباء کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کی کوشش میں زیادہ مستعد ہو گئے۔ کینٹین کے چھوٹے سے ہال میں میزوں پر بحث کرنے والوں اور اپنے نظریات پیش کرنے یا دوسروں پر تنقید کرنے والوں کی بھرمار تھی۔ چند دنوں بعد ہمیں محسوس ہوا کہ اسلامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان کچھ مسئلہ ہے کیونکہ ان میں سے زیادہ تر اپنے سابقہ ذمہ دار سے الگ کام کر رہے تھے، جو ہلال احمر کے انتخابات کے دوران ہونے والے واقعات اور تصادم کی وجہ سے تھا۔

چند دنوں بعد ہمیں معلوم ہوا کہ وہ ان سے الگ ہو چکا ہے اور الگ پینل (کسی پارٹی یا اتحاد کے امیدواروں کی فہرست) سے انتخابات لڑے گا اور وہ دوسرے پینل سے لڑیں گے، اور قوم پرست قوتیں، فتح اورجبھۃ الیساریۃ کی تنظیموں کے ساتھ مل کر تیسرے پینل میں انتخابات لڑیں گی۔ بحث و مباحثے شدت اختیار کرنے لگے، بیانات تقسیم کیے جا رہے تھے اور نعرے دیواروں پر چسپاں کیے جا رہے تھے۔ طلباء کی قومی جماعت نے ابو عمار کی تصاویر دیواروں پر چسپاں کرنے میں اضافہ کر دیا تھا، ہر پینل نے اپنے گیارہ امیدواروں کے نام اپنی فہرست پر لکھ کر ان کا نام اور نعرہ شامل کیا اور اسے حامیوں اور مؤیدین میں تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ ابراہیم اسلامی جماعت کے نمایاں کارکنوں میں سے تھا، اور اگرچہ میں خود کو اسلامی جماعت کا حصہ یا اس کا حامی نہیں سمجھتا تھا، لیکن میرے پاس اپنے چچازاد اور اس کے پینل کو ووٹ دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ ہماری اکٹھی زندگی اور اس کی ذاتی صفات مجھے اسے رد کرنے کی اجازت نہیں دیتی تھی، حالانکہ میرے دل میں فتح کی طرف اس کی علامتی حیثیت اور اس کے فدائی اور مسلح مزاحمتی کردار کی وجہ سے کچھ میلان تھا ۔

ووٹنگ کے دن، میرے اور بہت سے لوگوں کے لیے یہ پہلا انتخابی تجربہ تھا۔ ہم ایک لمبی قطار میں کھڑے ہوئے۔ ہر کوئی اپنا ذاتی شناختی کارڈ تھامے ہوئے تھا، جسے ووٹنگ کمیٹی کو دکھایا جاتا۔ پھر ہم اندر گئے، ہمیں ووٹنگ فارم دیا گیا اور ہمارا نام ووٹرز کی فہرست سے کاٹ دیا گیا۔ پھر ہم ایک مخصوص میز پر جا کر اپنے پسندیدہ امیدوار کو منتخب کرتے تھے، کاغذ کو تہہ کر کے صندوق میں ڈال دیتے تھے۔ اس پر یونیورسٹی کے کچھ ملازمین اور ہر فہرست کے ساتھ ایک نگران نگرانی کر رہا ہوتا تھا، اور ابراہیم اپنے پینل کے نگرانوں میں شامل تھا۔ جب میں ووٹنگ ہال سے باہر آیا تو میں نے سنا کہ میدان کے ایک کونے میں کچھ ہلچل ہو رہی تھی۔ میں یہ دیکھنے کے لیے وہاں پہنچا کہ کیا ہوا ہے، دیکھا کہ فتح کے کارکنوں سے بات چیت ہو رہی تھی کہ اسلامی جماعت کے کارکنوں نے ابو عمار کی تصاویر پھاڑ دی تھی اور ان پر پاؤں رکھا تھا۔ اس واقعے نے بعض لوگوں پر منفی اثر ڈالا، اور شاید کچھ لوگوں نے اپنا ووٹ اسلامی جماعت سے ہٹا لیا۔ جب ووٹنگ کا عمل ختم ہوا تو ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی اور کچھ ابتدائی نتائج کی خبریں آنے لگیں۔ کبھی کہا جاتا کہ اسلامی جماعت جیت رہی ہے اور کبھی کہا جاتا کہ نتائج غیر یقینی ہیں۔ میں اور ابراہیم یونیورسٹی میں انتخابات کے نتائج کا انتظار کر رہے تھے، تقریباً گیارہ بجے رات کو، امور طلباء کے ڈائریکٹر نے نتائج کا اعلان کیا۔ اسلامی جماعت نے نمایاں طور پر جیت حاصل کی، اور آزاد جماعت نے قومی جماعت کو پیچھے چھوڑ دیا۔

رات میں جب میں اور ابراہیم گھر واپس آئے تو ابراہیم بہت خوش تھا، اور میری ماں ہمارے انتظار میں بے حد پریشان تھی۔ جب ہم گھر پہنچے تو مجھے یاد آیا کہ جب میں ووٹنگ ہال سے نکلا تھا تو کیا ہوا تھا۔ میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ کیا واقعی آپ کے کسی کارکن نے ابو عمار کی تصاویر پھاڑ دی تھی اور ان پر پاؤں رکھ دیا تھا؟ اس نے سختی سے انکار کیا اور کہا کہ انہوں نے فوراً اس معاملے کی جانچ کی اور یہ سچ نہیں نکلا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ قومی جماعت کے کارکنوں کی طرف سے آخری لمحے میں اسلامی جماعت کے حامیوں کو ہٹانے کی ایک انتخابی کوشش تھی۔ میں نے ابراہیم پر بغیر کسی شک کے یقین کیا، کیونکہ میں نے ہمیشہ اسے دیانت دار دیکھا تھا اور کبھی جھوٹ بولتے نہیں دیکھا تھا۔ لیکن کیا وہ لوگ جن سے ابراہیم نے پوچھا تھا، سچے تھے؟ اس بارے میں مجھے یقین نہیں تھا۔

لبنان میں خانہ جنگی کے پھوٹنے کے باوجود، جس میں فلسطینی مزاحمت ایک اہم حصہ تھی، فلسطینی مزاحمت کی لبنان میں موجودگی مضبوط رہی اور اسرائیل کے لیے ہمیشہ ایک مستقل پریشانی کا باعث بنی رہی، خاص طور پر جب مزاحمت کے لوگ وقتاً فوقتاً شمالی فلسطین میں اسرائیلی آبادیوں جیسے کہ کریات شمونی پر چند کاتیوشا راکٹ(Katyusha Rocket)1کاتیوشا راکٹ جو کہ سوویت یونین نے دوسری جنگ عظیم کے دوران تیار کیا تھا، یہ راکٹ سسٹم عام طور پر ایک پیڈ پر نصب متعدد راکٹوں کو ایک ساتھ فائر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ دشمن کے مقامات پر تیزی سے بڑی مقدار میں بمباری کر سکتا ہے۔ داغتے تھے۔ اسرائیلی حکومت نے، جس کی قیادت مناخیم بیگن کر رہا تھا اور وزیر دفاع شارون تھا یورپ میں ایک اسرائیلی شخصیت کے قتل کے واقعے کا فائدہ اٹھایا اور لبنانی سرحد پر اپنی فوج جمع کر دی، اور لبنان پر حملہ شروع کر دیا۔ کچھ لوگ توقع کر رہے تھے کہ یہ حملہ چند کلومیٹر تک محدود ہو گا تاکہ کاتیوشا راکٹوں کے داغنے کو روکا جا سکے، اور شاید بیگن بھی کی سوچ بھی یہی تھی۔ لیکن شارون نے اسرائیلی فوج کو لبنان کے اندرونی علاقوں تک دھکیل دیا، یہاں تک کہ اس نے بیروت کا محاصرہ کر لیا۔

فلسطینی انقلاب کی قیادت کے خوف کے پیش نظر، کہ اسرائیلی فوج بیروت اور اس کے ارد گرد کے فلسطینی کیمپوں پر حملہ کرے گی تاکہ مزاحمت کو ختم کیا جا سکے اور ایسی جنگ میں ہزاروں شہری ہلاک ہو جائیں گے، انہوں نے لبنان سے مزاحمت کو نکالنے کا فیصلہ کیا۔ کچھ ثالثی کے ذریعے انقلاب کی قیادت اور تمام فلسطینی مسلح افراد لبنان سے نکل گئے اور کیمپوں اور پناہ گزینوں کو لبنانی کتائب اور اسرائیلی فوج کے درمیان بغیر کسی حفاظت، ہم آہنگی اور معاہدے کے چھوڑ دیا، جس کے نتیجے میں صبرا اور شتیلا کے کیمپوں میں قتل عام کیا گیا، جس میں سینکڑوں فلسطینی پناہ گزین مرد، عورتیں اور بچے قتل ہوئے، اور اس قتل عام میں انسانیت کے خلاف بدترین جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔

جب یہ خبریں میڈیا کے ذریعے عام ہوئیں، تو مقبوضہ علاقوں میں صورتحال بگڑ گئی، اس دور میں حالات انتہائی مشکل اور سخت تھے، کیونکہ کیمپوں کے ہر گھر کا کوئی نہ کوئی فرد یا قریبی رشتہ دار لبنانی کیمپوں میں موجود تھا۔ پناہ گزینوں کو بار بار غم اور پریشانی جھیلنی پڑی، جس میں دردناک انسانی کہانیاں بھی شامل تھیں، جیسے کہ ماں کو اپنے بچوں کی خبر نہ ہو، یا بچوں کو اپنے والد کی خبر نہ ہو، یا بیوی کو اپنے شوہر کی حالت کا علم نہ ہو۔

ہم یونیورسٹی میں بہت شور و غل کے ساتھ مظاہرہ کر رہے تھے، سب نے اپنی وابستگیاں اور اختلافات بھلا دیے اور ہم قابض افواج سے جا ٹکرائے جو یونیورسٹی کے قریب شارع الثلاثینی کے راستے سے گزر رہی تھی۔ ہم نے ان پر پتھروں کی بارش کر دی اور وہ ہم پر گولیاں برسانے اور آنسو گیس کے بم پھینکنے سے باز نہ آئے۔ کئی طلباء زخمی ہو گئے اور انہیں علاج کے لیے دار الشفاء ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

الخلیل شہر میں روز بروز آبادی میں اضافہ ہو رہا تھا، ہر ہفتہ یہودی آبادکار ایک نئے گھر پر قبضہ کرتے، اس کے مکینوں کو نکال باہر کرتے اور اس میں داخل ہو جاتے۔ فوج ان کی مکمل حمایت اور حفاظت کرتی۔ شہری اس صورتحال سے تنگ آ چکے تھے، اسی وقت فتح کے تین جوانوں کی ایک فدائی ٹیم منظم ہو رہی تھی اور انہوں نے الخلیل کے وسط میں یہودی آبادکاروں اور ان کی حفاظت کرنے والے فوجیوں کے خلاف ایک زبردست اور فیصلہ کن کارروائی کی پلاننگ شروع کر دی تھی۔ سخت حفاظتی اقدامات کے باوجود انہوں نے ہتھیار حاصل کر لیے، کچھ بندوقیں، گولیاں اور دیسی بم۔ انہوں نے شہر کے مختلف مقامات کا جائزہ لیا تاکہ سب سے آسان اور مؤثر ہدف کا انتخاب کر سکیں جہاں وہ دشمن کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا سکیں۔ مختلف بہانوں کے ساتھ شہر کے پرانے حصے میں چکر لگاتے ہوئے انہوں نے اپنے اصل مقصد کو چھپائے رکھا۔

انہوں نے الدبوئیہ بلڈنگ میں موجود استعماری اور فوجی اجتماع پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ چپکے سے اور احتیاط سے قبرستان میں داخل ہوئے، جو بلڈنگ کے اوپر سے نظر آتا تھا، انہوں نے اپنی پوزیشن لی اور فیصلہ کن لمحے کا انتظار کرنے لگے۔ پھر اپنے ہاتھ میں موجود دیسی بم پھینکے اور بندوقوں سے فائرنگ شروع کر دی۔ ہر طرف سے چیخ و پکار کی آوازیں بلند ہوئیں، فوجیوں کو حملہ آوروں پر جوابی فائرنگ کرنے کی ہمت نہ ہوئی، کافی دیر بعد بڑی تعداد میں کمک پہنچی تاکہ مرنے والوں اور زخمیوں کو ہٹایا جا سکے۔

ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں مختلف روایات ہیں، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ تعداد کم نہیں تھی۔ شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا اور ہر جگہ تلاشی اور جانچ پڑتال شروع ہو گئی تاکہ حملہ آوروں کے بارے میں کوئی معلومات مل سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر جانب منظم اور دانستہ توڑ پھوڑ کی مہم چلائی گئی۔ کرفیو کئی دن تک جاری رہا اور جب اٹھایا گیا تو قابض افواج نے شہر میں نئے قوانین نافذ کر دیے تھے۔ حرم ابراہیمی شریف میں جہاں وہ صرف سیاحوں کی حیثیت سے جاتے تھے، اب انہوں نے اس کا کچھ حصہ اپنے لیے مخصوص کر لیا تھا جہاں آبادکار مذہبی یہودی تقریباً ہمیشہ موجود رہتے تھے سوائے جمعہ کی نماز کے۔

يوسفیہ ہال میں اپنی نشستیں اور شمع دانیں رکھی گئیں اور درجنوں فوجی ہر وقت ان مقامات کی اور ان میں موجود متدین یہودیوں اور ان کی عبادت کی اشیاء کی حفاظت کرتے رہے، اسی دوران راستے بند کیے گئے، مکانات ضبط کر لیے گئے، لوگوں پر دباؤ بڑھا اور قابض فوج کی گشت بڑھ گئی جو لوگوں کے شناختی کارڈز چیک کرتی، ان کی اور ان کے سامان کی تلاشی لیتی اور ہر گلی کوچے میں موجود ہوتی، جس سے لوگوں کی زندگی حقیقی عذاب میں تبدیل ہوگئی، یہ واضح ہو گیا کہ لوگ قابضوں اور آبادکاروں کے مظالم سے تقریباً گھٹ رہے ہیں۔

جمال حرم ابراہیمی میں نماز ادا کرنے کے لیے جاتا تھا اور تمام پابندیوں اور سختیوں کے باوجود اس نے حرم میں جانا جاری رکھا، کیونکہ دنیا میں کوئی بھی چیز ہمیں اپنے مسجد میں نماز ادا کرنے سے نہیں روک سکتی۔ ان کے تمام اقدامات ہمیں دہشت زدہ کرنے اور مسجد سے نکالنے کی کوششیں ہیں، جب تک ہماری رگوں میں خون دوڑ رہا ہے، ہم کبھی بھی اپنی مسجد سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے محبت کرنے والی ماں اور فکر مند بیوی حقیقت کو قبول کر لیتے ہیں اور حفاظت و سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔

جہاں وہ (جمال) جامعہ سے وابستہ اسکول میں کام کرتا تھا، وہاں فتح تحریک کے حمایتی بہت سے اساتذہ کے درمیان ہر موقع پر مباحثہ ہوتا رہتا تھا، وہ اساتذہ اس پر اور اسلام پسندوں پر تنقید کرتے تھے جو قابض کے خلاف مسلح جدوجہد میں شامل نہیں ہوتے تھے اور تماشائی بنے رہتے تھے۔ وہ مسکراتے ہوئے بحث کرتا تھا کہ ہماری قوم کو اپنی حقیقی جنگ لڑنے کے لیے، جو کبھی رکتی نہیں، دین اور ایمان کا ہتھیار تھامنا ہو گا اور اپنے دین کی طرف لوٹنا ہو گا تاکہ جنگ اپنے حقیقی معنوں میں اور مطلوبہ سطح پر پہنچ سکے۔ جب لوگ یہ سمجھیں گے کہ وہ دنیا میں اس لیے جہاد کر رہے ہیں، تکالیف جھیل رہے ہیں اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں تاکہ آخرت میں اجر و رضوان حاصل کریں، تو وہ ان مشکلات کو آسانی سے برداشت کریں گے، بلکہ اپنے بچوں کو بھی جہاد، قربانی اور ایثار کے لیے بھیجیں گے، اس طرح وہ نہ تو کسی نقصان کا شکار ہوں گے اور نہ ہی قومی فرض سے کوتاہی کے الزام کا۔

زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ آبادکاروں نے ایک خفیہ تنظیم بنا لی تھی، جو الخلیل شہر اور دیگر مقامات پر عربوں پر حملے کی تیاری کرنے لگی۔ اس گروپ کے پاس ہتھیار، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد موجود تھا اور اس کے زیادہ تر ارکان اسرائیلی فوج کے جنگی یونٹوں میں کام کر چکے تھے۔ انتہا پسند بڑے حاخام ان کی حمایت کرتے تھے، انہیں مذہبی جواز فراہم کرتے تھے اور زیادہ سے زیادہ عربوں کو قتل کرنے اور ان کے مکانات اور عبادت گاہوں کو تباہ کرنے کے فتوے دیتے تھے۔

صبح کے وقت جب الخلیل یونیورسٹی کے طلباء و طالبات یونیورسٹی کیمپس میں جمع ہوئے تھے، ایک سفید رنگ کی پیجو ۴۰۴ (Peugeot 404) کار رکی اور اس میں سے تین مسلح افراد نکلے اور انہوں نے اپنے خود کار ہتھیاروں سے طلباء پر فائرنگ شروع کر دی۔ چند ہی منٹوں میں گاڑی وہاں سے نکل گئی اور پیچھے درجنوں طلباء و طالبات کو خون میں لت پت چھوڑ گئی، جن میں سے کچھ شہید بھی ہو گئے۔ کافی دیر بعد قابض فوج اور اس کی خفیہ ایجنسیاں وہاں آئیں اور حادثے کی تحقیقات کا ڈرامہ کرنے لگیں، انہوں نے کچھ طلباء اور راہ گیروں سے پوچھ گچھ کی جبکہ لوگ زیرِ لب کہہ رہے تھے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ کیا انہیں لگتا ہے کہ ہم یقین کر لیں گے کہ یہ حادثہ ان کی منصوبہ بندی اور سازش کا حصہ نہیں تھا؟

اسی گروپ کے آباد کاروں نے القدس کے پرانے شہر میں ایک مکان کرائے پر لیا اور وہاں جدید دھماکہ خیز مواد جمع کرنا شروع کر دیا، اور ایک ریٹائرڈ افسر کی نگرانی میں تربیت حاصل کرنے لگے تاکہ مسجد اقصیٰ کو اس میں موجود لوگوں سمیت اڑا دیا جائے اور وہاں سے اسلامی آثار کو مٹا دیا جائے۔ یہ خبر سکیورٹی اداروں تک پہنچی اور انہوں نے اس معاملے کا جائزہ لیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مسجد اقصیٰ کو تباہ کرنے کا وقت ابھی مناسب نہیں ہے۔ لہٰذا انہوں نے اس انتہا پسند گروپ کی کارروائی کو روکنے کا فیصلہ کیا اور انہیں عارضی طور پر گرفتار کر کے جیل بھیج دیا، باوجود اس کے کہ انہوں نے کئی لوگوں کو قتل کیا اور انتہائی خطرناک منصوبوں میں ملوث تھے۔

اس وقت ایک مذہبی انتہا پسند تحریک نے، جس کا نام ’’حركة أمناء الهيكل‘‘ تھا، اعلان کیا کہ وہ مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل ہو کر اپنے ہیکل کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں جو مسجد اقصیٰ کے انہدام پر قائم ہو گا اور یہ کہ وہ اس کے لیے طاقت کا استعمال کر سکتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک انتہا پسند نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا اور اسلامی وقف کے محافظوں اور عبادت گزاروں پر فائرنگ کی، جس سے کئی افراد جاں بحق ہو گئے۔

اس گروپ کے مسجد اقصیٰ پر حملہ کرنے کی نیت کی خبر ہر جگہ پھیل گئی اور دوپہر سے پہلے اسلامی یونیورسٹی تک پہنچ گئی۔ فوری طور پر طلباء کونسل کے کچھ اراکین، جن میں ابراہیم بھی شامل تھے، یونیورسٹی کے صحن میں جمع ہوئے اور مسجد اقصیٰ کو درپیش خطرات کے متعلق ایک جلسہ شروع کیا اور اعلان کیا کہ وہ طلباء کے ساتھ القدس روانہ ہوں گے۔ کچھ طلباء اپنے والدین کو بتائے بغیر سفر نہیں کر سکتے تھے اور کچھ نے اپنے بیگ اور کتابیں اپنے ساتھیوں کے حوالے کر دیں تاکہ وہ انہیں ان کے گھروں تک پہنچائیں اور ان کے والدین کو بتائیں کہ وہ القدس جا رہے ہیں۔ میں اور ابراہیم بھی ان میں شامل تھے جنہوں نے ایسا کیا۔

ہماری بس القدس کی جانب روانہ ہوئی اور ہمارے ساتھ یونیورسٹی کے ایک استاد، شیخ یونس بھی تھے۔ ہم چاہتے تھے کہ بس ہمیں اڑاتے ہوئے مسجد اقصیٰ پہنچا دے تاکہ ہم اپنے جسموں کو مسجد کی حفاظت کے لیے ڈھال بنا سکیں۔ راستے بھر شیخ ہمیں اس مقدس زمین کی فضیلت اور اس میں جہاد کی فضیلت کے بارے میں بتا رہے تھے، یہاں تک کہ ہمارے جذبات اور احساسات اپنی اصل حدود سے بھی زیادہ شدت اختیار کر گئے۔

ہم مسجد اقصیٰ پہنچے تو وہاں مردوں، عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد دیکھنے کو ملی۔ ایک بہت بڑا اور غیر منظم اجتماع تھا، ہم تقریباً ساٹھ لوگ تھے اور ہم نے مسجد کے ایک کونے میں جمع ہو کر قیادت تشکیل دی، جس کی سربراہی ابراہیم کر رہے تھے، اور شیخ یونس ہماری رہنمائی اور حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔ ہم نے خود کو کئی گروپوں میں تقسیم کیا اور ہر گروپ کو ایک دروازے کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی، جہاں سے ممکنہ طور پر حملہ آور آ سکتے تھے، ہمارے پاس اپنے دفاع کے لیے صرف ہاتھ، لکڑیاں اور پتھر تھے۔

ہم نے اپنی جگہیں سنبھال لیں اور ہمیں تاکید کی گئی کہ کسی بھی صورت اپنی جگہ نہ چھوڑیں کیونکہ اگر حملہ آور مختلف مقامات سے حملہ کریں تو غیر منظم ہجوم پہلے دروازے کی طرف دوڑ پڑے گا، جہاں سے حملے کی خبر آئے گی۔

ہر گروپ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تاکہ نماز کے وقت ایک گروپ نماز ادا کرے اور دوسرا پہرہ دے، جب پہلا گروپ نماز ختم کر لے، تو وہ پہرہ سنبھال لے اور دوسرا گروپ نماز کے لیے جائے۔ رات ہوتے ہی جب معاملہ طویل ہوتا دکھائی دیا، تو طے ہوا کہ پہلا گروپ رات کے پہلے حصے میں سوئے گا اور پھر دوسرا گروپ رات کے دوسرے حصے میں آرام کرے گا۔ قیادت کی ٹیم ہر گروپ کو احکام پہنچاتی رہی تاکہ سب کا عمل متحد رہے۔ جنہوں نے پہرہ دینا تھا، انہیں رات کی سردی نے گھیر لیا، کچھ مقامی لوگ جلدی سے اون کے کمبل لے آئے اور ہر ایک کو ایک کمبل دیا تاکہ وہ خود کو ڈھانپ سکیں۔ ہم پتھر کے ستونوں اور دیواروں کے پاس بیٹھ کر ہر لمحے اسے دیکھنے لگے اور ہمارے دلوں میں اس مقدس مقام کی عظمت اور اس کے تاریخی مراحل کی خوبصورت یادیں گردش کرنے لگیں۔ ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ ہمیں مسجد اقصیٰ کی عملی حفاظت کا شرف حاصل ہوا۔

ہم نے رسول اللہ ﷺ کے اسراء و معراج کو یاد کیا، صلاح الدین ایوبی کو یاد کیا اور ہماری آنکھیں نم ہوگئیں۔ کچھ لوگوں کی سسکیاں سنائی دینے لگیں، آدھی رات کو دوسری ٹیم نے ہماری جگہ لے لی۔ ہم نے انہیں کمبل اور پتھر دے دیے اور ہم مسجد اقصیٰ کے صحن میں چلے گئے اور کمبل کا کچھ حصہ بچھا کر سو گئے، اور کچھ حصہ سے خود کو ڈھانپ لیا۔ فجر کی اذان پر ہم اٹھے، وضو کیا اور نمازیوں کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی۔ مسجد اقصیٰ کے ایک محافظ نے ہماری تنظیم اور تیاری کا جائزہ لیا اور ابراہیم کے کان میں سرگوشی کی کہ یہاں سینکڑوں لوہے کی پائپیں ہیں جو تعمیراتی کاموں میں سہاروں کے لیے استعمال ہوتی ہیں، انہیں لے لو اور اگر ضرورت پڑے تو استعمال کرو۔

جب سورج نکلا تو ایک اور بس یونیورسٹی کے طلباء سے بھری ہوئی پہنچ گئی اور ہماری تعداد سو سے زائد ہو گئی، ہر ایک کے پاس ایک لوہے کی پائپ تھی، جو ہاتھوں یا پتھروں سے کہیں بہتر تھی۔ سب نے اپنی جگہیں سنبھال لیں، اور لوگ دوبارہ مسجد کی طرف بڑھنے لگے، کبھی کبھار یہ افواہ پھیلتی کہ وہ باب المغاربہ سے حملہ کریں گے، تو لوگ مجموعی طور پر اس دروازے کی طرف بڑھ جاتے، اور یونیورسٹی کے طلباء اپنی جگہوں پر موجود رہتے۔ ہم نے دیکھا کہ ایک بڑی تعداد نوجوانوں اور مردوں کی تھی جو عوام الناس سے زیادہ منظم تھے، اور انہوں نے بھی ہمیں دیکھا اور اندازہ کر لیا کہ ابراہیم ہمارے قائد ہیں۔ کچھ لوگ ان کے پاس آئے، اپنا تعارف کرایا، وہ 1948ء کی سرزمینوں سے، خاص طور پر ام الفحم کے مذہبی نوجوان تھے۔ فوراً وہ ہمارے ساتھ شامل ہو گئے اور ہماری ٹیم کا حصہ بن گئے۔ ان کی سب سے خاص بات ان کے دل کی غیر معمولی نرمی ، قربانی اور فداکاری کے لیے حیرت انگیز تیاری تھی۔ آپ دیکھتے کہ جلد ہی کوئی نہ کوئی نشید یا نغمے کے لیے تیار ہو جاتا، جس میں الفاظ کی انتہائی بلندی اور پاکیزگی ہوتی جو روح اور خون کو اقصیٰ پر فدا کرنے کے موضوع پر ہوتی اور ہم اپنی آنکھوں کے آنسو نہیں روک پاتے تھے، اور ہمارے ہاتھوں کی گرفت لوہے کے پائپوں پر مضبوط ہو جاتی تھی۔

وہ دن جو الہیكل کے نگہبانوں نے مقرر کیا تھا گزر گیا اور وہ مسجد اقصیٰ کے قریب آنے کی جرات نہ کر سکے اور ہم نے مزید ایک دن وہاں گزارا تاکہ اطمینان ہو۔ جب ہمیں یقین ہو گیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے تو ہم نے مسجد اقصیٰ میں ظہر کی نماز ادا کی، پھر مسجد کے صحن میں ایک حلقہ بنایا اور شیخ یونس نے ہمیں اس سریہ کے بارے میں بتایا جس میں ہم اللہ کی راہ اور اپنی اقصیٰ کی راہ میں نکلے تھے۔ جس میں اللہ نے ہمارے لیے دشمن سے ملاقات نہیں لکھی، اور نہ ہی کسی کو شہادت نصیب ہوئی۔ پھر انہوں نے دعائیں کیں کہ اللہ ہماری اقصیٰ کو ان کی چالوں سے محفوظ رکھے اور ہمیں اس کی ساحات میں شہادت اور جہاد کی فضیلت عطا فرمائے۔ انہوں نے طویل دعائیں کیں اور ہم سب نے آمین کہا، اور سب کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور نالہ و فریاد بلند ہو گئی۔ پھر ہم بس پر واپس غزہ پہنچ گئے اور سارے راستے خاموشی چھائی رہی۔

مسجد اقصیٰ کا یہ سفر اور ہمارے اپنے لوگوں سے ملاقات جنہیں عرب الداخل کہا جاتا ہے، جس نے ہمیں ہماری بکھری ہوئی قوم کے ایک حصے کو یاد دلایا۔ یہ پہلی بار تھا جب عرب الداخل کے لوگوں سے براہ راست ملے اور میں نے ان کے بارے میں پہلے تھوڑا سنا تھا۔ لیکن اس ملاقات میں میں نے انہیں قریب سے جانا اور انہوں نے جلدی ہی میرے دل میں اپنی پیاری خصوصیات، اچھے دل اور خوش مزاجی کی وجہ سے جگہ بنا لی ۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اس پوری مدت کے دوران قابض افواج کے سامنے ثابت قدم رہے۔ اگرچہ ہر ممکن کوشش کی گئی کہ وہ اپنے عرب اور اسلامی تشخص اور فلسطینی ہونے سے محروم ہو جائیں، مگر وہ اس سے کہیں زیادہ ثابت قدم رہے، جتنا کوئی بھی انسان تصور کر سکتا ہے جو ان سے نہیں ملا اور ان کی روح اور عزم کو نہیں دیکھا۔

میرے بھائی محمد نے اندرونی علاقے کے کچھ نوجوانوں سے ملاقات کی تھی جب وہ جامعہ الخليل کا دورہ کر رہے تھے، جیسا کہ مختلف دھڑوں کے سرگرم کارکنوں کا معمول ہوتا ہے۔ محمد اپنے ساتھیوں کے ساتھ مغربی کنارے اور غزہ پٹی کی دوسری یونیورسٹیوں میں دورے کر رہا تھا، جہاں وہ اپنے ہم نظر کارکنوں سے ملاقات کرتا اور کام اور مؤقف میں ہم آہنگی پیدا کرتا۔

ان میں سے ایک دورے کے دوران جب وہ جامعہ الخليل میں تھے، ایک کارکن نے انہیں دوپہر کے کھانے کے لیے طلباء کے ایک گھر میں مدعو کیا۔ وہاں ان کی کچھ نوجوانوں سے ملاقات ہوئی جنہوں نے ان کا بہت اچھا استقبال کیا اوران کے لیے کھانے کا انتظام کیا۔ محمد کو اس وقت علم ہوا کہ وہ اندرونی علاقے(۴۸) کے نوجوان ہیں، جیسے أم الفحم اور كفر قاسم وغیرہ۔ یہ واضح تھا کہ یہ نوجوان بہت ہی اچھے اخلاق کے حامل تھے اور ان کی دینی سطح بہت بلند تھی۔ وہ دین اور قوم کے ساتھ حقیقی وابستگی محسوس کرتے تھے اور قابضین کے زیرِ نگیں زندگی گزارنے نے انہیں اپنے دین اور اپنے قضیہ کے ساتھ اور زیادہ مضبوطی سے وابستہ کر دیا تھا ۔

میرا بھائی محمدامتیازی حیثیت میں سائنس کالج سے فارغ التحصیل ہوا، جس کی وجہ سے اسے فوری طور پر جامعہ بيرزيت میں کیمیا کے شعبے میں معید (معاون)کے طور پر قبول کر لیا گیا۔ میری والدہ اس کی فراغت اور غزہ میں اس کی واپسی کی منتظر تھی، لیکن اس کی تعیناتی کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ وہ زیادہ تر وقت مغربی کنارے میں ہی گزارے گا۔ یہ بات فی نفسہ میری والدہ کے لیے ایک مسئلہ تھی کیونکہ محمد رام اللہ میں مسلسل غائب رہتا تھا، لیکن یہی ایک مسئلے کا حل بھی تھا کیونکہ گریجوئیشن کے بعد جب وہ واپس آتا تو اسے ایک نئے کمرے کی ضرورت ہوتی اور گھر میں اس کے لیے جگہ نہیں تھی۔ جب انہوں نے رام اللہ میں اس کے رہائش کے موضوع پر بات کی تو اس نے بتایا کہ وہ کم سے کم پہلے سال تک اپنے ساتھی طلباء کے ساتھ مشترکہ اپارٹمنٹ میں رہے گا جیسا کہ وہ اپنی تعلیم کے دوران کرتا تھا۔

ایک دن مسجد الأقصى میں رباط کے بعد جب ہم گھر میں ایک خاندانی مجلس میں تھے تو میں نے اس واقعہ کا ذکر کر دیا۔ بات بے اختیار میرے منہ سے نکل گئی اور میں اپنی بات سے ہٹنے کے قابل نہیں رہا۔ ابراہیم کی نظریں فوراً تیز ہو گئیں، محمود نے ابراہیم، محمد اور حسن پر جو اسلامی تحریک کے رکن تھے، مسلح مزاحمت میں حصہ نہ لینے اور صرف سیاسی اور عوامی کاموں پر اکتفا کرنے پر تنقید کرتے ہوئے حملہ کرنا شروع کر دیا ۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اس وقت یہ طرزِ عمل تمہاری قیادت کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے، کیونکہ وہ دین کے نام پر نوجوانوں کی اعلیٰ صلاحیتوں کو مزاحمت میں عملی طور پر لگنے سے روک رہی ہے۔

محمد نے جواب دیا کہ لگتا ہے کہ طالب علمی کے کام میں مشغولیت نے اسے سیاسی بحث میں بہت تجربہ کار بنا دیا ہے۔ تمہاری بات سن کر کوئی یہ سمجھے گا کہ تمہاری بندوقیں کبھی خاموش نہیں ہوں گی اور تمہاری کارروائیاں یہودیوں کو چند گھنٹوں میں بھاگنے پر مجبور کر دیں گی، تم جانتے ہو کہ کئی سالوں سے مسلح مزاحمت نام کی کوئی چیز نہیں تھی اور جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ کمزور سی کوششیں ہوتی ہیں جو اپنی ابتدائی حالت میں ہی ختم ہو جاتی ہیں۔ باش مہندس کیا بات اسی طرح نہیں ہے؟

جب ہم اگلے دن مغرب کی نماز کے لیے مسجد گئے، تو نوجوان مسجد میں معمول کے مطابق حلقہ بنا کر بیٹھ گئے۔ شیخ احمد گفتگو کرنا چاہتے تھے، محمد نے ان سے اجازت لیتے ہوئے کہا کہ شیخ احمد، اگر اجازت ہو تو ایک سوال ہے جس کا جواب میں چاہتا ہوں کیونکہ یہ اکثر مواقع پر ہم سے پوچھا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ اسلام پسندوں کا قومی عمل، یعنی مزاحمت میں کردار کہاں ہے؟ شیخ احمد مسکراتے ہوئے حاضرین کے چہروں کو دیکھتے ہوئے اور اپنے ارد گرد نظر ڈالتے ہوئے بولے کہ ہم اس وقت تربیت اور تیاری کے مرحلے میں ہیں، اور پھر انہوں نے تربیت کی اہمیت اور ان قوموں اور عوام کے مستقبل کی تعمیر میں اس کی ضرورت پر بات کی جو اعلیٰ مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پھر وہ اس موضوع کی طرف منتقل ہو گئے جس پر وہ پہلے بات کرنا چاہتے تھے۔

تربیت اور تیاری کے الفاظ بار بار سنائی دیتے رہے، مہینوں اور سالوں تک ہر بار جب بھی ہمارے گھر میں یا ام العبد کے گھر میں ان کے بیٹے عبد الحفیظ کی موجودگی میں کوئی بحث ہوتی، یا یونیورسٹی میں کسی بھی بحث میں جب بھی اسلام پسندوں کے مسلح مزاحمت میں کردار کے بارے میں پوچھا جاتا تو جواب دینے والا کہتا ’’ہم اس وقت تربیت اور تیاری کے مرحلے میں ہیں‘‘، اور اکثر وہ اس جواب کے لیے اسلامی دعوت کے پہلے راہنما، محمد رسول اللہ ﷺ کی مثال دیتے کہ انہوں نے بھی تلوار کے جہاد سے پہلے کئی سالوں تک تربیتی اور دعوتی کام کیا۔

ایک دن ہم دیر سے گھر پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ ہماری ماں بہت پریشان ہیں اور ہمیں پتہ چلا کہ ایک پولیس والے نے ابراہیم کو ایک نوٹس دیا ہے جس میں اسے اگلی صبح خفیہ ایجنسی کے دفتر میں جانے کا حکم دیا گیا ہے اور دیر نہ کرنے کی تنبیہ کی ہے۔ ابراہیم پریشان نہیں ہوا، نہ ہی اس کے چہرے پر کوئی فکر یا خوف تھا اور اس نے ہماری ماں کو یقین دلایا کہ یہ بہت معمولی بات ہے، اور اس طرح کے نوٹس درجنوں نوجوانوں کو اسی طرح دیے جاتے ہیں جہاں ان سے کچھ سوالات پوچھ کر انہیں جانے دیا جاتا ہے۔ اگلے دن ابراہیم اس انٹرویو کے لیے گیا جہاں اسے اور اس جیسے دیگر مطلوبہ افراد کو کئی گھنٹوں تک ایک کمرے میں بند رکھا گیا، یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا۔ اس کے بعد انہیں علاقے کے انٹیلی جنس افسر کے دفتر میں لے جایا گیا، جس کی کنیت ابو ودیع تھی، اور اس نے ابراہیم سے اس کے اہل خانہ، رشتہ داروں، رہائش اور تعلیم کے بارے میں عام سوالات پوچھنے شروع کیے۔ ابراہیم نے مختصر سے مختصر جوابات دیے، اور ابو ودیع نے اسے بات چیت میں مشغول کرنے کی کوشش کی، لیکن ابراہیم نے اختصار کی پالیسی پر عمل کیا۔

کچھ دیر ان سوالات کے بعد، اس نے یونیورسٹی میں اس کی، طلبہ کی سرگرمیوں کے بارے میں سوالات پوچھنا شروع کیے، لیکن اسے صرف ’’ہاں‘‘ یا ’’پتہ نہیں‘‘ کے جوابات ملے، ابو ودیع غصے سے بپھر گیا اور چیخ کر بولا: کیا تمہیں لگتا ہے کہ ہمیں تمہاری سرگرمیوں اور تعلقات کا علم نہیں ہے؟ اور کیا ہمیں یہ معلوم نہیں کہ تمہارا سر پتھر کی طرح سخت ہے؟

ابراہیم خاموش رہا، جس پر انٹیلی جنس افسر کا غصہ مزید بڑھ گیا اور اس نے ابراہیم کو اپنے ہاتھ سے دھکیلنا یا ہلکے تھپڑ مارنے شروع کر دیے، لیکن ابراہیم نے کوئی حرکت نہیں کی اور اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ ابو ودیع چیخا، تربیت اور تیاری، تربیت اور تیاری کیوں ؟ ابراہیم نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم کہ آپ کس کے بارے میں بات کر رہے ہیں ؟ ابو ودیع ہنس پڑا ، مجھے معلوم تھا کہ تم یہی کہو گے اور میں تم سے کچھ اور توقع نہیں کر رہا تھا۔ لیکن یاد رکھو کہ ہمیں معلوم ہے کہ تم یہ الفاظ دہراتے رہتے ہو، اور تم نے یونیورسٹی میں طلبہ کی قومی جماعت کے سوالات کے جوابات میں یہ سینکڑوں بار کہا ہے۔ اور جان لو کہ ہم تمہاری نگرانی کر رہے ہیں، اور ہمیں ہر اس سانس کا علم ہے جو تم لیتے ہو اور جیسے ہی تم کچھ کرنے کا سوچو گے ہمیں معلوم ہو جائے گا۔ عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم تمہیں جیلوں میں کیسے ڈالتے ہیں۔ ابو ودیع نے شناختی کارڈ ابراہیم کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا : تمہاری آنکھوں میں جو نفرت بَھری ہوئی ہے جیسے کسی خچر کی آنکھوں میں ہو، اسے اگلی بار جب میں تمہیں بلاؤں تو گھر چھوڑ کر آنا۔ ابراہیم نے اپنا کارڈ لیا اور کمرے سے نکلتے ہوئے مسکرا دیا جسے چھپانا مشکل تھا ۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

  • 1
    کاتیوشا راکٹ جو کہ سوویت یونین نے دوسری جنگ عظیم کے دوران تیار کیا تھا، یہ راکٹ سسٹم عام طور پر ایک پیڈ پر نصب متعدد راکٹوں کو ایک ساتھ فائر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ دشمن کے مقامات پر تیزی سے بڑی مقدار میں بمباری کر سکتا ہے۔
Previous Post

سوشل میڈیا: دشتِ بے آب میں اِک سراب

Next Post

اِک نظر اِدھر بھی! | جنوری 2026

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | جنوری 2026

23 جنوری 2026
سوشل میڈیا: دشتِ بے آب میں اِک سراب
نقطۂ نظر

سوشل میڈیا: دشتِ بے آب میں اِک سراب

20 جنوری 2026
عمر ِثالث | ساتویں قسط
افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ

عمر ِثالث | بارہویں قسط

20 جنوری 2026
غزہ بنے گا ایک اور بنتوستان
طوفان الأقصی

غزہ بنے گا ایک اور بنتوستان

20 جنوری 2026
ابو عبیدہ: مسکن مرا آسماں ہو گیا!
طوفان الأقصی

ابو عبیدہ: مسکن مرا آسماں ہو گیا!

20 جنوری 2026
اخباری کالموں کا جائزہ | اگست ۲۰۲۵ء
عالمی منظر نامہ

اخباری کالموں کا جائزہ | جنوری ۲۰۲۶ء

20 جنوری 2026
Next Post
اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025

اِک نظر اِدھر بھی! | جنوری 2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جنوری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

جنوری 2026ء

by ادارہ
20 جنوری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version