یوں تو امتِ محمدیہ کا کوئی دور بھی ابطال و رجال کے وجود سے خالی نہیں رہا ۔ لیکن انیسویں و بیسویں صدی ، خصوصاً سقوطِ خلافت کے بعد سے امّت پر جو اجتماعی جمود طاری تھا او ر امّت کے خاص و عام ’ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود‘ کا نوحہ پڑھتے نظر آتے تھے، بیسویں صدی کے اختتام اور اکیسویں کے آغاز سے ہی صفحۂ تاریخ ایسے ایسے ستاروں کی تابانی سے چمک اٹھا ہے کہ جن کی روشنی نگاہوں کو خیرہ کرتی ہے اور اہلِ عزم و ہمت کے لیے نہ صرف مشعلِ راہ، بلکہ اپنا اپنا جگر آزمانے کی ایک مستقل و مسلسل دعوت ہے۔ شیخ عبد اللہ عزامؒ اور شیخ احمد یاسینؒ ، جنہوں نے امّت کو راہِ عمل دکھائی ، سے لے کر اسامہؒ بن لادن و ملّا محمد عمرؒ تک، جنہوں نے امّت کو عروج کی راہ پر گامزن کیا، اس مقصد کے حصول کی خاطر مال و دولت، حکومت و اختیار، اور زندگی کا ہر لمحہ قربان کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ وہ الظواہری کی فکر و نظر ہو، جس نے شرق تا غرب کتنے ہی قاسم الریمیؒ، عطیۃ اللہ اللیبیؒ،احمد فاروقؒ اٹھا کھڑے کیے، یا اسمعیل ہنیہؒ کی پر مغز سیاست ہو…… غرض کہ یہ فہرست طویل ہے۔ اس میں موجود ہر ایک نام اس لائق ہے کہ اس پر کتابیں لکھی جائیں۔ وہ کس شان سے جیے، اور جب اس امتحان گاہ سے جانے کا وقت آیا، تو کس ڈھب سے مقتل کو چلے…… وہ سنوارؒ کا عصا ہو جو لمحۂ آخریں بھی مدافعانہ بلند ہوتا ہےاور مسلسل جہاد میں گزاری زندگی کی داستان اس آخری عمل میں سمٹ کر آ جاتی ہے۔ یا وہ کسی گمنام زخمی مجاہد کا اپنے ربّ کے حضور آخری سجدہ ہو، جس میں وہ اطاعت و محبت سے لبریز روح، اپنے حصّے کی گواہی دے کر اپنے محبوب رب کی آغوش میں چلی جاتی ہے۔ امّت کے ان بیٹوں نے ثابت کیا ہے کہ اس امّت کی ماؤں کی گودیں آج بھی ہری ہیں، ان کی آغوش میں آج بھی طارقؒ و قاسمؒ پل رہے ہیں، اور زوال و انحطاط کے اس دور میں بھی یہ امّت ایمان و یقین اور خوش امیدی کی بے بہا دولت سے تہی نہیں ہے۔
ادیبوں کے پاس الفاظ ختم ہو گئے، شعراء کے اشعار کم پڑ گئے…… ان ابطال کی کہانیاں لکھتے لکھتے روشنائی بھی ساتھ چھوڑ گئی۔ مگر یہ کہانیاں ختم نہیں ہوئیں۔ ہر دور، ہر خطہ، ربّ کا کلمہ بلند کرنے کی خاطر اپنے اپنے لعل و گہر پیش کرتا رہا۔ انہی میں سے ایک انمول گہر کا نام ابوعبیدہ ؒ ہے۔ وہ نقاب پوش جس کی محبت میں صرف امّت ِ مسلمہ ہی نہیں بلکہ اس دنیا کا ہر انصاف پسند ذی شرف انسان گرفتارہو گیا۔ دنیا پر قابض قوّتیں اسے’دہشت گرد‘ قرار دیتی رہیں، لیکن یہ قوّتیں بھی اپنے تمام تر وسائل، اپنے پروپیگنڈے اور نشرِ حقیقت پر عائد کردہ اپنی پابندیوں کو ناکام ہوتے دیکھ کر بے بسی سے دانت پیسنے کے سوا کچھ بھی کرنے سے معذور ہیں،جب وہ دیکھتی ہیں کہ ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود، جسے وہ ’دہشت گرد‘ کہتے ہیں، وہ دنیا کے انصاف پسندوں کےنزدیک عزت و شرف اور باطل کے سامنے مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔یہ نقاب پوش بطل کون تھا جس کے اصل نام سے بھی دنیا کی اکثریت واقف نہیں؟ وہ کس بات کے لیے کھڑا ہو گیا؟ وہ کیا کہتا تھا؟ وہ کس مقصد کی خاطر لڑتا رہا، اس نے نہ قلّتِ سامان کی پروا کی، نہ سردی و گرمی کی تکلیفوں کی ، نہ اپنے فاقہ زدہ جسم کا لحاظ کیا نہ دشمن کی تعداد و قوّت ہی اسے اپنے موقف سے ہٹنے پر مجبور کر سکی…… وہ کون تھا کہ جب وہ بولتا تھا تو دنیا دم سادھے اسے سنتی تھی، وہ کون تھا جس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے لوگ پہروں منتظر رہتے تھے، حالانکہ اس نقاب پوش کا اصل چہرہ کبھی کسی نے دیکھا تک نہ تھا۔
وہ نقاب پوش جس نے کبھی اپنی ذات کی تشہیر نہ چاہی، جو ہمیشہ ایک رمزی نام کے پیچھے مستور رہا ، حتیٰ کہ ایک تنظیم، ایک فکر اور ایک جدوجہد کی علامت بن گیا۔ آج اس کے محبّین کی ایک بڑی تعداد دنیا کو اس کی اصل شناخت سے متعارف کروا رہی ہے۔ کہنے کو بہت کچھ کہا جا سکتا ہے، اور بیان کرنے کے لیے اس کی شخصیت کے ہزار ہا پہلو ہیں۔ سیکھنے کے لیے اس کی شجاعت و بہادری، اس کی استقامت، اس کی فصاحت و بلاغت، اس کا غیر متزلزل ایمان…… یہ سب اسباق دنیا کے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح پڑے ہیں……پس جو کوئی خود میں استعداد پائے تو اس منبعٔ ایمان و استقامت سے استفادہ کرے۔ لیکن ہمارا موضوع آج اس نقاب پوش کی اپنی ذات نہیں، بلکہ اس کے پیچھے چھپا وہ دوسرا نقاب پوش ہے جس کے صبر و استقامت نے حذیفہ سمیر الکحلوت کو ابو عبیدہؒ کی جاں گسل ذمہ داریاں نبھانے کی طاقت و ہمت بخشی۔ جس کے نازک کندھوں نے اس بوجھ کو اٹھانے میں مدد کی جو اکیلے ابو عبیدہؒ کا نہیں تھا، بلکہ پوری امّت جس کی سزا وار تھی۔ جس کی دعائے نیم شب نے ربع صدی تک اس کی حفاظت کی،جس نے اس سے وعدہ کیا……’معک حتی الموت‘، اور پھرصنفِ نازک ہونے کے باوجود مردانہ وار اس وعدے کو سچ کر دکھایا۔
امّ ابراہیم اسراء غسان جبر، غسان جبر (ابو ہمام) کی بیٹی تھیں، جو مخیم الجبالیا کی ایک جانی پہچانی شخصیت تھے۔ غسان جبر نے اپنی دونوں بیٹیوں، لطیفہ اور اسراء کی شادیاں مجاہدین ِ قسام سے کیں۔ لطیفہ کی شادی راعد اللدوی (ابو الفہد) سے ہوئی جو پہلی انتفاضہ کے دوران مخیم الجبالیا میں قسام کے ایک اہم کمانڈر رہے۔ ۲۰۲۳ ء میں لطیفہ اپنے شوہر اور خاندان کے ۱۷ دیگر افراد کے ہمراہ شہادت سے سرفراز ہوئیں۔ جبکہ اسراء کی شادی حذیفہ سمیر الکحلوت سے ہوئی، جب انہیں قسام کا ترجمان مقرر ہوئے کچھ ہی عرصہ گزرا تھا۔ اسراء نے غزہ کی اسلامی یونیورسٹی سےمیڈیا اور جرنلزم کی تعلیم حاصل کی۔ انہی کے ڈپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والی یسریٰ اکلوک کہتی ہیں کہ :’’وہ مجھ سے ایک سال سینیئر تھیں، اور ہم اکثر مشترکہ کورسز اور کلاسز میں اکٹھے ہوتے، لیکن نہ صرف میں بلکہ ہمارے ساتھ پڑھنے والی اکثر طالبات اس بات سے بے خبر تھیں کہ اسراء کے شوہر کون ہیں۔ اسراء کی شہادت پر ہی ہم پر یہ عقدہ کھلا کہ وہ خوبصورت و خاموش لڑکی ہی نقاب پوش مجاہد کی بیوی تھی۔ میرا یہ خیال ہے کہ ہر نقاب کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے…… جو اس راز اور وعدے کی حفاظت کرتی ہے۔ اور حذیفہ کے پیچھے اسراء جبر تھی……‘‘
مجاہدینِ قسام کو سرنگوں میں چھپ کر اپنی جانیں بچانے کے طعنے دینے والے اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ ان مجاہدین کے اہل و عیال غزہ کی عام عوام کی طرح بھوکے پیاسے، ہر قسم کے تحفظ سے محروم، اپنی عوام کے ہمراہ خیموں میں ہی زندگی بسر کرتے رہے۔ اسراء اگرچہ شیخ ابو عبیدہ کی اہلیہ تھیں، لیکن دیگر قائدین کے اہلِ خانہ کی طرح انہوں نے بھی اس طویل و کٹھن جنگ کا مکمل عرصہ اپنے بچوں کے ساتھ خیموں میں گزارا۔ بلکہ اپنے شوہر اور ان کے ساتھیوں سے روابط کٹ جانے کے سبب ان کی حالت عا م لوگوں سے بھی زیادہ سخت تھی۔ کتنی ہی راتیں گزر جاتیں جب ان کے بچوں کے پاس رزق کی شکل میں کلام اللہ کی آیات کے سوا کچھ نہ ہوتا تھا۔ غذا کی نایابی کے اس دور میں اسراء اپنے بچوں کو آیاتِ الٰہی سے صبر کی تلقین کرتیں۔ اس منظر کا تصور کرنا چاہیں تو تصوّر بھی مشکل ہو جاتا ہے، چار چھوٹے چھوٹے بچے……ابراہیم، منۃ اللہ، یمان اور ننھی لیان…… اور ان کی تنہا ماں جو آزمائش کے یہ دن صبر و استقامت سے گزار تی ہیں۔ ایسی شدید ابتلا کے دوران کہ جب سردیوں میں سردی سے بچنے کے لیے کپڑے نہیں، جب بارش و بمباریوں سے پناہ دینے کے لیے خیمے کے مہین کپڑے کے سوا کوئی چھت نہیں، جب پانی اور خوراک حاصل کرنا مردوں کے لیے جوئے شیر نکال لانے سے کم نہیں، ایسے میں یہ اکیلی خاتون کلام اللہ کے سہارے خود کو اور اپنے بچوں کو سنبھالے ہوئے ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ اس کا شوہر ظالم و قابض یہودیوں کے خلاف بر سرِ پیکار ہے، یہ خاتون نہ صرف یہ کہ اپنے رب کے سہارے جیے جاتی ہیں، بلکہ کیا خوب زندگی ہے، کیسی پر سعادت زندگی ہے، کہ ایسی زندگی صرف خوش بختوں کے حصّے میں آتی ہے۔
کہتے ہیں کہ اسراء نے اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے کی خاطر قرآنِ مجید حفظ کیا۔ اور جنگ کے دو سالوں کے دوران ان کی بیٹی منۃ اللہ نے معاہدے سے کچھ عرصہ قبل ہی تحفیظِ قرآن مجید مکمل کی۔ وقتِ شہادت اسراء سورۃ البقرۃ کی تلاوت میں مشغول تھیں۔ اللہ اللہ……یہ کیسے کیمیا گر تھے جنہوں نے ہر ابتلاء کو نعمت میں ڈھال لیا۔ جنہوں نے خود پر پڑی آزمائش و مشکل کے دور کو جنت کمانے کے بہترین موقع میں تبدیل کر لیا ۔ جنہوں نے اپنی بھوک و پیاس اللہ کی آیات سے مٹائی۔ جنہوں نے اپنے خوف اور تمنائیں سب اپنے ربّ کے سپرد کر دیں، جس نے پھر انہیں ایک لمحے کو بھی تنہا نہیں چھوڑا۔ سوچنے لگیں تو ما فوق الفطرت لگتے ہیں یہ لوگ…… ناقابلِ یقین عزم و ہمت کے مالک، ناقابل شکست ایمان کے حامل…… مگر وہ انسان تھے، ہمارے آپ کے جیسے، گوشت پوست کے بنے انسان۔ اسراء کو کہیں سے اسرائیل کا تقسیم کردہ اشتہار ملا، جس میں ابو عبیدہ کے حوالے سے معلومات پہنچانے والے کے لیے کثیر انعام کا وعدہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس اشتہار میں سے ابو عبیدہؒ کی تصویر پھاڑ کر اپنے ۱۲ مربع فٹ کی پناہ گاہ کی دیوار پر لگا لی، کیونکہ وہ ایک انسان تھی۔ اپنے شوہر سے محبت کرنے والی، اس کی وفا دار، اور اس کے فراق میں اس کی اولاد کی اس کی منشاء کے مطابق تربیت کرنے والی۔
۲۰۲۵ء کے موسمِ گرما میں لیان، یمان اور منۃ اللہ تو اپنے والدین کے ساتھ اس دنیا کو الوداع کہتے عازمِ جنّتاں ہوئے، لیکن ابراہیم…… کہ جس کے نام پر اس کے دونوں والدین کی کنیت ہے، کے حصّے میں ان سب کی جدائی آ گئی۔ آگ و آہن کی برسات میں پیدا ہونے اور پلنے بڑھنے والا یہ بچہ، جس کو ننھیال و ددھیال کی جانب سے پورا خاندان ہی ایسے جفا کش ابطال کا ملا جنہوں نے اپنے دین کے نام پربے شمار قربانیاں دیں، جو اسراء کی گود میں پلا، جس نے اپنی ماں کو ہر رات بلا ناغہ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوتے دیکھا، اپنی اولاد و شوہر کے حق میں بے شمار آہ و فریاد کرتے پایا…… اگر اسرائیل آج ابراہیم سے بچوں سے خوفزدہ ہے تو اسے خوفزدہ ہونے کا حق ہے۔ کیونکہ یہ وہ بچے ہیں جو ہر دور میں ابو عبیدہ بن الجراح کی سنّت پوری کرتے ہیں۔ جو اس امّت کی عزت و حمیت کے امین ہیں۔ یہی وہ بچے ہیں جو آج کے فراعنہ کا تخت الٹائیں گے اور اپنے آباء کے خواب کو زندہ تعبیر بخشیں گے…… کیونکہ اس امّت کی ماؤں کی گودیں، آج بھی ابراہیم و ابو عبیدہ تیار کر رہی ہیں۔
٭٭٭٭٭












