مجاہد فی سبیل اللہ ایک عظیم کردار و عمل کا پیکر جو اپنی جان ہتھیلی پہ لیے پھرتا ہے، جو اپنی ماں بہن کو چھوڑ کر امت کی ماؤں بہنوں کے دفاع کی فکر میں غلطاں رہتا ہے۔ مجاہد وہ جو گفتار و کردار کا غازی ہوتا ہے۔ مجاہد فی سبیل اللہ جو اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرتا، جو ہر وقت تیار و بیدار رہتا ہے۔ مجاہد فی سبیل الله جو اس امت کے کل پہ اپنا آج قربان کر دیتا ہے۔ مجاہد فی سبیل الله سہولت پسند اور آرام طلب نہیں بلکہ خاک و خون کے جہاں سے محبت کرنے والا ہوتا ہے۔ مجاہد فی سبیل الله وہ جو ظالموں کے لیے موت کا پیغامبر اور مظلوموں اور محقوروں سے سلوکِ مروت کرنے والا ہوتا ہے۔ مجاہد فی سبیل الله وہ جو دست باطل کے پھولوں پہ مرنے والا نہیں بلکہ جادۂ حق کے کانٹوں پہ چلنے والا ہوتا ہے۔ مجاہد فی سبیل اللہ جو دفاع دین کی خاطر اپنی جان و مال ،جسم و جان سے بھی گزر جاتا ہے۔ مجاہد فی سبیل الله وہ جو موت سے پیار کرنے والا اور تیر و تفنگ سے کھیلنے والا ہوتا ہے۔ مجاہد فی سبیل اللہ جس کی تکبیر سے کفر کے ایوان لرز اٹھتے ہیں۔ مجاہد فی سبیل الله وہ جو موت کے میدانوں میں موت کے پیچھے کچھ اس طرح بڑھتا ہے کہ موت خود اس سے بھاگتی پھرتی ہے، جنگ کے میدان میں جب رن پڑتا ہے تو ثبات و عزیمت کی مثال ہوتا ہے۔ مجاہد فی سبیل الله وہ جس کی پیٹھ نرم بستروں سے دور رہتی ہے کیونکہ یہ اس زندگی کا سبب بنتے ہیں جو دین پہ کٹ مرنے نہیں دیتی۔ مجاہد فی سبیل الله اس بات کی فکر نہیں کرتا کہ وہ مقتل میں کس کروٹ گرایا جاتا ہے، اس کی لاش کانٹوں پہ گھسیٹی جاتی ہے یا مثلہ بنادی جاتی ہے۔ مجاہد فی سبیل الله نہ تو کفر کا خوف رکھنے والا ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے سامان و آلاتِ حرب سے ڈرنے والا ،کیونکہ وہ جانتا ہے مٹی کے کھلونے ہیں سارے یہ کفر کے لشکر کچھ بھی نہیں۔ مجاہد فی سبیل الله اس علم پہ لعنت بھجتا ہے جو اسے عمل سے دور رکھے۔ مجاہد فی سبیل الله ہر وقت تلوار ہاتھوں میں تھامے کفر کی سرکوبی کے لیے تیار رہتا ہے۔ مجاہد فی سبیل الله غیرت و حمیت کا پیکر ہوتا ہے، جو اپنے دین و ملت کا دفاع کرنا جانتا ہے۔ مجاہد فی سبیل الله وہ جو ادخلو فی السلمہ کافۃ پہ عمل کرتا ہے۔
ایسے ہی ایک مجاہد فی سبیل الله ہمارے پیارے بھائی عبدالاحد بھی تھے جو عظمت دین کے لیے اپنی جان قربان کر گئے۔ (نحسبہ کذالک والله حسیبہ)
عبدالاحد شہید کا تعلق صوبہ سرحد کے ضلع دیر کے ایک علمی و جہادی گھرانے سے تھا۔ وہ مولانا سعید الله شہید کے بھانجے تھے۔ جہادی چنگاری ان کے انگ انگ میں رچی بسی تھی۔ وہ چھوٹی سی عمر میں سیدنا معاذ و سیدنا معوذ کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے جہاد کے میدانوں میں کود پڑنے کو مچلتے رہتے۔ انہیں امت مسلمہ کی حالت زار چین سے نہ بیٹھنے دیتی۔ ان کی پاکیزہ روح کشمیر و فلسطین عراق و شام یمن و صومال میں مسلم امہ کے بہتے لہو کو دیکھ بے قرار ہو جاتی۔ وہ اپنے مسلم بہن بھائیوں کے دکھ درد کو نبی مکرم ﷺ کے فرمان ’مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں‘ کی طرح محسوس کرتے کہ گویا اپنی جان پہ ظلم سہہ رہے ہوں۔ یہی احساسات یہی جذبے انہیں چین سے بیٹھنے نہ دیتے۔ آپ وادیٔ کشمیر جنت نظیر میں پامال ہوتی عزتیں ، ماؤں کے بہتے آنسوں، بہنوں کی چھنتی ردائیں ، بھوک سے بلکتےبچوں، جیلوں میں تڑپتی لاشوں کا غم لیے ۲۰۰۵ء میں پہلی مرتبہ جہادِ کشمیر کے معسکرات جا پہنچے۔ آپ اس وقت آٹھویں جماعت کے طالبعلم تھے اور آپ کی عمر صرف چودہ سال تھی۔ اس ننھی سی عمر میں آپ نے کشمیر کے معسکرات میں صبر و استقامت سے پہلے دورہ سعادت مکمل کیا، پھر دورہ عزیمت مکمل کیا۔ آپ کا ارادہ تو مڑ کر پیچھے جانے کا نہ تھاکہ آپ تو بتوں کے شہر میں الله کے علم کو اونچا کرنے کا عزم لیکر گھر سے نکلے تھے۔
آپ کی خواہش تو یہ تھی کہ آپ دورہ عزیمت کے بعد دورہ شہادت (لانچنگ) کے لیے بھی جائیں۔ مگر حق کی پیاسی روح کو وہاں اطمنان وسکونِ قلب حاصل نہ ہوسکا۔ وہاں کے واقعات و حالات دیکھ کر آپ نے واپس آنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ آپ وہاں یہ جان چکے تھے جہادِ کشمیر اب طاغوتی اداروں کے مفادات کی جنگ بن گئی ہے۔ پاکستانی خفیہ ادارے مجاہدین اور جہادِ کشمیر کو یرغمال بنا چکے ہیں۔ جب انہیں بھارت کی طرف سے خطرہ نظر آتا ہے تو یہ پھر انہی مجاہدین کو آگے کرتے ہیں، یہ جب چاہتے ہیں معسکرات و لانچنگ (وادی میں داخل ہونے والی تشکیلات) شروع کر دیتے ہیں ـ جب بھارت سے تعلقات میں بہتری آنے لگتی ہے تو یہ مجاہدین کے ساتھ غداری کر کے خود انڈین آرمی کو ان کی ریکی دے کر شہید کرواتے ہیں 1۔ جہادِ کشمیر کا یہ حال دیکھ کر تقریباً ۶ ماہ بعد آپ نے واپسی کی راہ لینے میں ہی عافیت جانی۔
پاکستان واپس آکر آپ نے اپنے تعلیمی سلسلے کو دوبارہ شروع کیا مگر حقیقتاً میکالے کے مکتب میں آپ کا دل نہ لگا، وہ روح جو جذبۂ جہاد و شہادت سے سر شار ہو جس کے انگ انگ میں جہاد رچا بسا ہو، بھلا اسے اس فانی دنیا میں کیسے قرار آسکتا ہے ؟اسے تو بس قتال کے میدانوں کی خاک سے ہی لذت میسر آتی ہے، پھر یہ بے چین روح کیسے محاذوں سے یہ دوری برداشت کر سکتی ہے؟ فرضیت ِجہاد کو جان لینے کے بعد آپ کی فطرتِ سلیمہ نے یہ گورا نہ کیا کہ وہ پیچھے بیٹھے رہنے والوں میں شامل ہو۔ جہادِ پاکستان کی گونج ہر طرف سنائی دینے لگی، بس آپ بھی منزل کی جستجو میں آگے بڑھتے رہے اور ارض خراسان میں موجود امام مہدی کے حواریوں کے لشکر (القاعدہ) سے جاملے۔ ۲۰۰۷ء میں آپ پہلی مرتبہ جہادِ پاکستان میں شامل ہوئے، اس وقت آپ کے چہرے پر ڈارھی بھی نہ آئی تھی، ہاں ہلکے ہلکے آثار نظر آرہے تھے۔ آپ کچھ عرصہ اپنے ماموں مولانا سعید الله شہید کے پاس رہے، پھر امرائے جہاد کے امر پر آپ کو واپس بھیج دیا گیا ـ جو دل جہاد کے میدانوں کی خاک سے آشنا ہو جائے پھر بھلا اسے اس پر فتن معاشرے میں کیسے قرار آسکتا ہے جہاں ہر طرف ظلم و زیادتی کا بازار گرم ہو، جہاں فحاشی اور عریانی کا چلن عام ہو، جہاں نیکی کرنا مشکل اور برائی کرنا آسان بنادیا گیا ہو، جہاں شریعت کی جگہ کفریہ نظام نے لے لی ہو۔ ۲۰۰۸ء میں آپ نے ایک بار پھر ارضِ خراسان کی راہ لی، اس مرتبہ آپ کے پرنور چہرے پہ نورانی تاریں (ہلکی ہلکی داڑھی) بھی نمایاں تھیں۔ اس مرتبہ آپ کو ابتدائی عسکری تربیت کے لیے انگور اڈہ بھیجا گیا۔ انگوراداہ کے میں خط اوّل پہ موجود معسکر میں ہماری پہلی ملاقات ہوئی تھی جہاں ایک ماہ قبل ہی ہماری تدریب ختم ہوئی تھی۔
صاف رنگت، بھوری چمکدار آنکھیں، درمیانے قد کے حامل عبد الاحد بھائی انتہائی بے تکلف اور ہنس مکھ طبعیت کے مالک تھے۔ ہمیشہ ہنستے مسکراتے رہتے، دل لگی اور خوش اخلاقی ان کا خاصہ تھی۔ میٹھی میٹھی شرارتیں کرنا، ساتھیوں سے زور آزمائی کرنا ان کا مشغلہ تھا۔
جنوبی وزیرستان کے گھنے جنگلات میں مجاہدین کا ایک مرکز تھا، اس مرکز سے کچھ قریب ہی ایک جگہ تھی جسے مجاہدین درّہ کے نام سے جانتے تھے، اس علاقے میں دوسری مخلوقات بھی باکثرت موجود تھیں یعنی جنات وغیرہ۔ کچھ دن پہلے ہی نئے ساتھ اس مرکز میں پہنچے تھے۔ عبد الاحد بھائی نے امیر مرکز کو مشورہ دیا کہ آپ اس بھائی کو فلاں طرف کسی کام سے بھیجیں میں وہیں ہوں، امیر صاحب نے اس ساتھی کو کام کے لیے روانہ کیا تو عبد الاحد بھائی اپنے ایک ساتھی کے ساتھ چادر اوڑھے پہلے سے وہاں چھپ کے بیٹھے ہوئے تھے۔ جیسے ہی یہ ساتھی وہاں پہنچا تو دونوں نے سامنے آکر اسے ڈرانہ شروع کر دیا وہ ساتھی ڈر گئے اور اونچی آواز سے لا حول ولا قوۃ، لاحول ولا قوۃ پڑھتے ہوئے واپس مرکز کی طرف دوڑ پڑے۔ جب وہ ساتھی مرکز پہنچے تو گھبرائے ہوئے امیر صاحب امیر صاحب کی آوازیں لگانا شروع کر دیں۔ عبد الاحد بھائی ان سے پہلے وہاں پہنچ چکے تھے، فوراً بولے کیا ہوا؟ ساتھی کہنے لگے امیر صاحب میں نے وہاں دو خوفناک چیزیں دیکھی ہیں۔
ایک دن راقم عصر کے بعد روٹی بنانے میں مصروف تھا کہ ارد گرد ڈاکٹر معاذ، ڈاکٹر خالد، صائم بھائی(فک الله اسرہ) کھڑے تھے۔ میں نے ڈاکٹر معاذ سے کہا بھائی ذرا یہ چھوٹی لکڑی اٹھا کر مجھے دیجیئے گا، جو انہوں نے مجھے بڑھا دی۔ اس پر میں نے انہیں دعا دی کہ الله آپ کو لمبے بالوں والی اور خوبصورت آنکھوں والی حوریں عطاء فرمائیں تو سب نے کہا آمین۔ عبدالاحد بھائی فوراً بولے ڈاکٹر صیب(پشتون لہجے میں صاحب) الله آپ کو سفید بالوں والی اور موٹے چشمے والی بیوی عطاء فرمائے۔ سب ساتھی زور سے ہنسنے لگے ـ
“حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا! ’’طاقتور مومن زیادہ بہتر اور الله کو زیادہ محبوب ہے کمزور مومن سے۔اور ہر ایک (قوی اور ضعیف) میں بھلائی ہے۔‘‘(صحیح مسلم)
عبدالاحد بھائی عمر میں چھوٹے مگر پختہ ارادوں اور بلند عزائم کے مالک تھے، قربانی وایثار، ہمت و بہادری اور شجاعت ان کے اندر رچی بسی تھی۔ جنگوں میں جاتے ہوئے بھاری بھر کم سامان کبھی مائن، کبھی میزائل، کبھی مارٹر کے گولے، کبھیR.R.82 کے گولے کندھوں پہ لاد کر مجاہدین کو گھنٹوں کا سفر پیدل کرنا پڑتا ہے۔ ۲۰۰۸ء میں اسی طرح کے ایک سفر میں عبدالاحد کے ساتھ شریک رہنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب عبدالاحد بھائی کی تدریب (عسکری تربیت) اپنے آخری مراحل میں تھی مجاہدین کے مختلف مجموعہ جات نے ایک مشترکہ کاروائی ترتیب دی جس میں راقم، تنویر الاسلام بھائی (عبدالسلام شہید) اور عبدالاحد شہید شریک تھے۔ اس سفر میں عبدالاحد بھائی مائن گروپ میں شامل تھے، میں نے دیکھا عبدالاحد نے مرکز سے تقریباُ دس کلو وزنی مائن اٹھائی اور پورے راستے تقریباُ تین سے چار گھنٹے اکیلے ہی لے کر چلتے رہے، ساتھیوں کے مانگنے پہ بھی کسی کو نہ دی ۔
ایک مرتبہ۲۰۰۹ء میں مجاہدین نے وانا میں موجود پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ پہ بی ایم کاروائی کی ترتیب بنائی۔ اس کاروائی میں عبدالاحد بھی شریک تھے۔ مجاہدین نے طے شدہ پروگرام کے مطابق صبح سات بجے میزائل فائر کیے، جو الله کی تائید و نصرت سے سیدھے کمیپ کے اندر جالگے۔ اس کاروائی میں منافقینِ پاکستان کا اچھا خاصہ جانی نقصان ہوا۔ مجاہدین دشمن کی جوابی کاروائی سے بھی دشمن کے نقصان کا اندازہ لگایا کرتے تھے۔ جب دشمن کا بالکل نقصان نہ ہو تو وہ جوابی تین، چار مارٹر فائر کر کے خاموش ہو جاتا ہے، اگر اس کو ہلکا نقصان ہو یعنی ایک دو فوجی مردار ہو جائیں یا زخمی ہوجائیں، پھر دشمن ایک دو گھنٹے تک بمباری کرتا رہتا ہے، مگر اس دن دشمن کو ایسی چوٹ لگی کہ صبح سے لیکر سہہ پہر چار بجے تک دشمن پاگلوں کی طرح مارٹر فائر کرتارہا۔ الحمدالله مجاہدین بخیر و عافیت اپنے مرکز پہنچ کر ان مارٹر کی آوازوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔
۲۰۱۰ء کا ایک واقعہ بھی عبدالاحد بھائی کی شجاعت کا منہ بولتا ثبوت ہے ـ تنظیم القاعدہ کے مجاہدین نے جنوبی وزیرستان کے علاقے اسپن رغزی کی طرف کفر کے ہر اول دستے کا کردار ادا کرنے والی فوج کے خلاف ایک کاروائی ترتیب دی۔ اس کاروائی میں مجاہدین نے دشمن پہ بی ایم اور ہشتاد دو سے فائر کرنے کے ساتھ راکٹ بھی داغنے تھے۔ مجاہدین نے جنگ کا آغاز بی ایم فائر کرنے سے کیا۔ بی ایم فائر ہوتے ہی مجاہدین نے دشمن پہ ہشتاد دو اور راکٹ کے فائر شروع کر دیے، مگر جلد ہی دشمن کو مجاہدین کی سمت کا اندازہ ہو گیا۔ دشمن نے مجاہدین پہ اندھا دھن جوابی حملہ شروع کردیا، جس میں مارٹر کی گولہ باری کے علاوہ دوشکہ (اینٹی ائیر کرافٹ ہیوی مشین گن) کا خوب استعمال کیا۔ جواب اتنا شدید تھا کہ مجاہدین نے کاروائی کو ختم کرنے کا ارادہ کر لیا، مگر مسئلہ یہ درپیش تھا کہ ہشتاد دو وہاں سے اٹھا کر لانا تھا۔ فائز بھائی نے ساتھیوں سے کہا آپ لوگ گاڑی کی طرف جائیں میں ہشتاد دو اٹھا کر لاتا ہوں، تو عبدالاحد کھڑے ہوئے، کہنے لگے امیر صاحب میں لیکر آؤں گا۔ امیر صاحب نے منع کیا کہ آپ چھوٹے ہیں آپ مت جائیں، مگر عبدالاحد شہید کہنے لگے امیر صاحب جس گولی پہ میرا نام لکھا ہے وہ مجھے ہی ملے گی اور گولیوں کی بارش میں چریکی چال(کمانڈو چال) چلتے ہوئے ہشتاد دو اٹھایا اور اس میں ایک گولہ ڈال کر دشمن پہ فائر کیا اور خود ہشتاد دو لیکر پیچھے گاڑی تک آگئے۔ یہ واقعہ مجھے خود کماندان فائز بھائی (قاری شاہد شہید) نے سنایا جو اس کارروائی کے امیر تھے۔ عبدالاحد بھائی نے امریکا کی اتحادی پاکستانی فوج پہ کئی ایک مائن کاروائیاں بھی کی جن میں بیسیوں عدو الله واصل جہنم اور زخمی ہوئے۔
عبدالاحد بھائی ۲۰۱۰ء میں ارض خراسان ہی میں رشتہ ازدواج میں جڑ گئے تھے۔ اگر چہ شادی کے بعد گھریلو مصروفیات کے ساتھ دیگر جہادی کاموں میں سستی آ جاتی ہے، مگر عبدالاحد نے امرائے جہاد کی طرف سے دی جانے والی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھایا۔ حتیٰ کہ امراء نے انہیں یہ ذمہ دای دی کہ وہ خراسان سے ساتھیوں کو پاکستان پہنچائیں اور پاکستان سے ساتھیوں اور مجاہدین فیملیوں کو لیکر آئیں۔ یہ کام اپنی نوعیت کی وجہ سے سخت اور مشکل کام تھا کیونکہ اُن دنوں حالات کافی سخت تھے۔ پاکستان میں جہادی عملیات اپنے عروج پہ ہونے کی وجہ سے دشمن بھی چوکنا تھا اور ہر آئے دن ساتھیوں کی گرفتاری کی وجہ سے راستے کشف(ایکسپوز) ہوجاتے تھے۔ نئے راستے تلاش کرنا، راستوں میں انصار بنانا اور ان راستوں سے ساتھیوں کو ارضِ جہاد و رباط پہنچانا کوئی سہل کام نہ تھا۔ مگر ہمارے بھائی عبدالاحد نے الله کی تائید و نصرت سے یہ مسئولیت بخوبی انجام دی۔
اک مجاہد کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ وہ رتبۂ شہادت پا کر کامیاب و کامران ہو جائے۔ اسی جام کو ہونٹوں سے لگانے کے لیے دن رات جنگ کے میدانوں کی خاک چھانتا ہے۔ اس کی ساری بھاگ دوڑ کا مقصد دو میں سے ایک کامیابی پانا ہوتاہے کہ معرکہ خیر و شر میں الله کا کلمہ غالب آجائے اور زمین سے فتنہ نابود ہو جائے یا وہ اپنے جسم پہ زخموں کے نقش و نگار سجا کر بارگاۂ حق میں جا پہنچے جس کے پاس ہر ایک نے حاضر ہونا ہے۔ عبدالاحد بھائی اپنی قیمتی زندگی کے ماہ و سال الله عزوجل کی عبادت میں صرف کرتے ہوئے موت کو لبیک کہتے رہے۔
عبدالاحد بھائی سال ۲۰۱۵ء میں اپنے دیگر تین ساتھیوں کے ساتھ ایک جہادی تشکیل پہ روانہ تھے کئی دن کا سفر طے کرنے کے بعد جب آپ قندھار پہنچے تو رات آپ ایک جگہ آرام کے لیے رکے۔ رات کی تاریکی میں بزدل امریکیوں نے چھاپہ مارا اور آپ لوگوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، مگر الله نے کچھ اور ہی آپ کے مقدر کر رکھا تھا۔ رات گئے طیاروں کی آواز سن کر آپ سب بیدار ہوگئے اور فوراً سب نے اسلحہ پہنا اور چاروں ساتھی مختلف سمتوں میں پھیل گئے۔ عبدالاحد بھائی بھی فوراً ایک درخت پہ چڑھ گئے اور اپنی چادر سے اپنے آپ کو باندھ کر دشمن کا انتطار کرنے لگے۔ کچھ ہی لمحے بعد جنگ شروع ہوئی امریکی آگے بڑھتے بڑھتے جب ان کے اسلحے کی زد میں آگئے تو آپ نے اپنی کلاشن کا برسٹ کھول دیا، جس سے کئی ایک امریکی و افغانی کمانڈو زمین پہ ڈھیر ہو گئے، باقی اس اچانک آفت سے بوکھلا کر دائیں بائیں بھاگتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کرنے لگے۔ عبدالاحد بھائی نے چن چن کر کئی ایک امریکیوں کو واصل جہنم کیا مگر جلد ہی آپ کی جگہ کشف ہو گئی تو بزدل بھیڑئیے نےفضا میں دندناتے طیاروں کو سگنل دیے تو فضا دھماکوں سے گونجنے لگی اور عبدالاحد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور خیبر پختون خواہ کا یہ روشن ستارہ قندھار کی خاک اوڑھ کر ہمیشہ کے لیے سو گیا۔
اے الله تو عبد الاحد سمیت سب شہداء کی شہادتوں کو قبول فرما۔ ان کے درجات بلند فرما۔ ان کے گھر والوں کو صبرجمیل عطاء فرما۔ آمین یارب العالمین۔
1 اس بات کا انکشاف خود ایک جہاد کشمیر سے وابستہ مگر آئی ـ ایس ـ آئی کے باغی اور شریعت مطہرہ کی اتباع کرنے والے گروہ کے مجاہد عباس بھائی نے بھی اپنے ایک آڈیو بیان میں بھی کیاـ






