نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home حیّ علی الجہاد!

عصرِ حاضر میں مسلمانوں پر جہاد کی فرضیت

by محمد مثنیٰ حسّان
in حیّ علی الجہاد!, فروری 2026ء
0

زیر نظر تحریر ادارۂ حِطّین کی جانب سے نشر کی گئی کتاب’’مختصر فضائلِ جہاد‘‘ کا مقدمہ ہے جسے قارئین کے استفادہ کے لیے مجلے میں بطورِ مضمون نشر کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)


الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین وقائد المجاھدین نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ الغر المیامین ومن سن بسنتھم وجاھد علی منھاجھم وتبعھم بإحسان إلی یوم الدین، أما بعد

بلاشبہ جہاد دینِ اسلام کی چوٹی اور ارکانِ اسلام کا سر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کے قیام اور اس کی حفاظت کا ذریعہ جہاد فی سبیل اللہ کو قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے جب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کو ختم کرنے اور اسلام کو مکمل کرنے کا فیصلہ فرمایا تو قیامت تک کے لیے دین کو قائم رکھنے اور اسلام کا بول بالا کرنے کے لیے پیغمبرِ اسلام کو تلوار دے کر مبعوث فرمایا۔ پیغمبرِ اسلام سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

بُعِثْتُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ بِالسَّيْفِ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ.1أخرجه ابن أبي شيبة (19401) وأحمد (5115) والحديث حسن

’’مجھے قیامت تک کے لیے تلوار دے کر مبعوث فرمایا گیا ہے، تاکہ ایک اکیلے اللہ کی عبادت کی جانے لگے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔‘‘

اسلام اور اس کے ماننے والوں کی عزت و شوکت کو فریضہ جہاد سے جوڑا گیا، جبکہ ترکِ جہاد کو اسلام اور مسلمانوں کی کمزوری اور مغلوبیت کا بنیادی سبب قرار دیا گیا۔ پیغمبرِ اسلام سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ، وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ، سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ.2أخرجه أبو داود (3462) والحديث حسن

’’جب تم عینہ یعنی سود کا کاروبار کرنے لگو گے، اور بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے اور کھیتی باڑی میں ہی لگ جاؤ گے، اور جہاد ترک کر دو گے، تو اللہ تم پر ذلت مسلط فرما دیں گے، جو اس وقت تک تم سے نہیں ہٹائیں گے جب تک کہ تم اپنے دین کی طرف نہ لوٹ آؤ۔ ‘‘

یعنی جب تک دوبارہ دین پر مکمل عمل نہ کرو گے اور جہاد شروع نہ کرو گے تو ذلت سے نہ بچ سکو گے۔

یہی وہ تعلیم تھی جو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے خلفاء اور اصحاب رضی اللہ عنہم نے حاصل کی اور اسے آگے نقل کیا، اور اسلام کے غلبے کے لیے جہاد فی سبیل اللہ انجام دیتے رہے، اور مسلمانوں کی حفاظت و دفاع کا سامان بھی کرتے رہے۔ تاہم رفتہ رفتہ مسلمان دنیا کی محبت میں گرفتار ہو کر موت سے بھاگنے لگے اور اسی سبب سے جہاد کے فریضے کو ترک کر کے بیٹھ گئے۔ نتیجہ وہ ہو گیا جس سے ڈرایا گیا تھا، اسلام مغلوب ہو گیا اور مسلمان ذلت میں گرفتار ہو گئے۔

ہمارے اسلاف ایک مسلمان فرد اور چپہ بھر دار الاسلام کے لیے بھی جہاد فی سبیل اللہ کے لیے نکل کھڑے ہوتے تھے، مگر رفتہ رفتہ مسلمانوں کی زمینیں کفار کے قبضے میں جانے لگیں اور مسلمان کفار کے ہاتھوں مغلوب و مقہور ہوتے گئے، لیکن وہ بحیثیتِ امت جہاد کے تارک بن گئے۔

ہمارے علمائے کرام نے ابتدا سے یہ فتویٰ دیا اور اس فتویٰ پر شرق و غرب، ہر صدی اور ہر مذہبِ فقہی کے علمائے کرام نے دستخط کیے کہ اگر کفار مسلمانوں کی کسی زمین پر بھی حملہ آور ہو جائیں تو اس زمین کو کفار کے قبضے سے چھڑانے کے لیے ابتداءً جہاد اس زمین میں بسنے والے مسلمانوں پر فرض ہو جاتا ہے، اگر وہ ناکافی ہوں یا سستی کریں تو ان سے قریب بسنے والے مسلمانوں پر مذکورہ حملے کو روکنے اور اپنی زمین کو آزاد کرنے کے لیے جہاد فرض ہو جاتا ہے۔ یہ سلسلہ آگے بڑھتے بڑھتے شرق و غرب کے مسلمانوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اور ایک ٹکڑائے زمین کو کفار سے چھڑانے کے لیے تمام مسلمانوں پر جہاد فرضِ عین ہو جاتا ہے۔

چوتھی صدی ہجری میں امام ابو بکر جصاص عراقی حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

وَمَعْلُومٌ فِي اعْتِقَادِ جَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ أَنَّهُ إذَا خَافَ أَهْلُ الثُّغُورِ مِنْ الْعَدُوِّ وَلَمْ تَكُنْ فِيهِمْ مُقَاوِمَةٌ لَهُمْ فَخَافُوا عَلَى بِلَادِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ أَنَّ الْفَرْضَ عَلَى كَافَّةِ الْأُمَّةِ أَنْ يَنْفِرُوا إلَيْهِمْ مَنْ يَكُفُّ عَادِيَتَهُمْ عَنْ الْمُسْلِمِينَ، وَهَذَا لَا خِلَافَ فِيهِ بَيْنَ الْأُمَّةِ، إذ لَيْسَ مِنْ قَوْلِ أَحَدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ إبَاحَةُ القعود عنهم حين يَسْتَبِيحُوا دِمَاءَ الْمُسْلِمِينَ وَسَبْيَ ذَرَارِيِّهِمْ.3أحكام القرآن (312/4)

’’یہ بات تمام مسلمانوں کو معلوم ہے کہ جب مسلمانوں کے کسی سرحدی علاقے کے مجاہدین کو کفار کے حملے کا خطرہ محسوس ہو اور ان میں مقابلے کی طاقت نہ ہو جس کے سبب وہ اپنے علاقوں، جانوں اور بچوں کے حوالے سے خوف زدہ ہوں کہ سب پر کفار قابض ہو جائیں گے تو ایسی حالت میں تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ ان مجاہدین کی طرف نکلیں، یہاں تک کہ کفار کے حملے کو روک دیں۔ اس صورت میں (جہاد کی فرضیت کے حوالے سے) امت میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ کیونکہ ایسی حالت میں جب مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہو اور مسلمانوں کے بچے قید کیے جا رہے ہوں تو مسلمانوں میں سے کسی ایک عالم کا قول بھی نہیں کہ اس وقت مسلمان کے لیے جائز ہے کہ وہ جہاد سے پیچھے بیٹھ رہے۔‘‘

پانچویں صدی ہجری میں امام الحرمین ابو المعالی خراسانی شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

فَأَمَّا إِذَا وَطِئَ الْكُفَّارُ دِيَارَ الْإِسْلَامِ، فَقَدِ اتَّفَقَ حَمَلَةُ الشَّرِيعَةِ قَاطِبَةً عَلَى أَنَّهُ يَتَعَيَّنُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَخِفُّوا وَيَطِيرُوا إِلَى مُدَافَعَتِهِمْ زَرَافَاتٍ وَوِحْدَانًا، حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى أَنَّ الْعَبِيدَ يَنْسَلُّونَ عَنْ رِبْقَةِ طَاعَةِ السَّادَةِ، وَيُبَادِرُونَ الْجِهَادَ عَلَى الِاسْتِبْدَادِ.4غياث الأمم في التياث الظلم (258) مكتبة إمام الحرمين

’’جب کفار دار الاسلام کے کسی علاقے پر حملہ آور ہو جائیں تو اس بات پر علمائے شریعت کا قطعی اتفاق ہے کہ اس وقت تمام مسلمانوں پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ ٹولیوں میں یا اکیلے اکیلے حملے کی زمین کی طرف نکلیں اور مسلمانوں کے دفاع کے لیے پہنچیں، یہاں تک کہ ایسی حالت میں غلاموں پر بھی فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے آقاؤں کی قید سے آزاد ہو کر جہاد کے لیے نکل کھڑے ہوں۔‘‘

ساتویں صدی ہجری میں امام ابو عبد اللہ قرطبی اندلسی مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

تَعَيَّنَ الْجِهَادُ بِغَلَبَةِ الْعَدُوِّ عَلَى قُطْرٍ مِنَ الْأَقْطَارِ، أَوْ بِحُلُولِهِ بِالْعُقْرِ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ وَجَبَ عَلَى جَمِيعِ أَهْلِ تِلْكَ الدَّارِ أَنْ يَنْفِرُوا وَيَخْرُجُوا إِلَيْهِ خِفَافًا وَثِقَالًا، شَبَابًا وَشُيُوخًا، … فَإِنْ عَجَزَ أَهْلُ تِلْكَ الْبَلْدَةِ عَنِ القيام بعدو هم كان على من قاربهم وجاور هم أَنْ يَخْرُجُوا عَلَى حَسَبِ مَا لَزِمَ أَهْلَ تِلْكَ الْبَلْدَةِ، حَتَّى يَعْلَمُوا أَنَّ فِيهِمْ طَاقَةً عَلَى الْقِيَامِ بِهِمْ وَمُدَافَعَتِهِمْ. وَكَذَلِكَ كُلُّ مَنْ علم بضعفهم عن عدو هم وَعَلِمَ أَنَّهُ يُدْرِكُهُمْ وَيُمْكِنُهُ غِيَاثُهُمْ لَزِمَهُ أَيْضًا الْخُرُوجُ إِلَيْهِمْ، فَالْمُسْلِمُونَ كُلُّهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، … وَلَوْ قَارَبَ الْعَدُوُّ دَارَ الْإِسْلَامِ وَلَمْ يَدْخُلُوهَا لَزِمَهُمْ أَيْضًا الْخُرُوجُ إِلَيْهِ، حَتَّى يَظْهَرَ دِينُ اللَّهِ وَتُحْمَى الْبَيْضَةُ وَتُحْفَظُ الْحَوْزَةُ وَيُخْزَى الْعَدُوُّ. وَلَا خِلَافَ فِي هَذَا.5الجامع لأحكام القرآن (151/8)

’’اگر کفار مسلمانوں کے کسی علاقے پر قابض ہو جائیں یا دار الاسلام کے مرکزی علاقے میں اتر جائیں، تو جہاد فرض عین ہو جاتا ہے۔ یعنی جب یہ حالت ہو جائے تو اس علاقے کے تمام مسلمانوں پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ جہاد کے لیے نکلیں، ہلکے ہوں یا بوجھل، بوڑھے ہوں یا جوان۔ اگر اس علاقے کے لوگ کفار کے مقابلے میں عاجز پڑ جائیں تو ان کے قریب کے علاقے کے مسلمانوں پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ جہاد کے لیے نکلیں کہ حملہ آور کفار کے مقابلے میں اور مسلمانوں کے دفاع میں کفایت کر سکیں۔ اسی طرح ہر وہ مسلمان جسے حملے کے مقابلے میں مسلمانوں کی کمزوری کا علم ہو جائے اور اس کے لیے مدد کو پہنچنا ممکن ہو تو اس پر بھی جہاد کے لیے نکلنا فرض ہو جاتا ہے۔ کیونکہ تمام مسلمان اپنے مقابل کفار کے مقابلے میں ایک ہاتھ کی مانند ہیں۔ اور اگر کفار دار الاسلام پر حملے کی نیت سے آ جائیں، اگرچہ وہ دار الاسلام میں داخل نہ ہوئے ہوں تو اس وقت بھی مسلمانوں پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ ان کے مقابلے میں جہاد کے لیے نکل کھڑے ہوں، یہاں تک کہ اللہ کا دین غالب ہو جائے اور مسلمانوں کے علاقے محفوظ ہو جائیں اور کفار ناکام و رسوا ہو جائیں۔ اس مسئلے میں (مسلمانوں میں) کوئی اختلاف نہیں ہے۔‘‘

آٹھویں صدی ہجری میں امام ابن تیمیہ حرانی دمشقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

وَأَمَّا قِتَالُ الدَّفْعِ فَهُوَ أَشَدُّ أَنْوَاعِ دَفْعِ الصَّائِلِ عَنْ الْحُرْمَةِ وَالدِّينِ فَوَاجِبٌ إجْمَاعًا فَالْعَدُوُّ الصَّائِلُ الَّذِي يُفْسِدُ الدِّينَ وَالدُّنْيَا لَا شَيْءَ أَوْجَبَ بَعْدَ الْإِيمَانِ مِنْ دَفْعِهِ فَلَا يُشْتَرَطُ لَهُ شَرْطٌ بَلْ يُدْفَعُ بِحَسَبِ الْإِمْكَانِ.6الفتاوى الكبرى (538/5) دار الكتب العلمية

’’جہاں تک کفار کے حملے کے دفاع میں قتال کا مسئلہ ہے تو یہ دفاع کی سب سے شدید صورت ہے کہ یہ مسلمانوں کی ناموس اور دین پر حملہ آور دشمن سے دفاع ہے۔ اس کے فرض ہونے پر اجماع ہے۔ پس وہ حملہ آور دشمن جو دین اور دنیا، دونوں کی تباہی کا سبب ہو، اس کا مقابلہ کرنا ایمان کے بعد اہم ترین فرض ہے۔ اس کی فرضیت میں کوئی شرط نہیں، بلکہ اسے حسبِ استطاعت ادا کیا جائے گا۔‘‘

یہ مسئلہ ہمیشہ سے تمام مسلمانوں پر واضح رہا تھا، لیکن خلافت کے سقوط کے بعد اور دورِ استعمار کی مغلوبیت کے بعد یہ مسئلہ بھی رفتہ رفتہ مسلمانوں کی نظروں سے اوجھل ہوتا گیا۔ دار الاسلام کے بعض علاقوں میں مسلمانوں نے حملہ آور کافروں کا تسلط مکمل ہو جانے کے بعد انہیں اپنا حاکم مان لیا اور ان سے امن کا معاہدہ کر کے اس علاقے کو دار الامن قرار دے دیا اور حملہ آور کفار کے خلاف جہاد کو معطل کر دیا۔ حالانکہ جو فقہائے کرام حملہ کے وقت جہاد کی فرضیت کا فتویٰ بالاتفاق دے رہے تھے تو کیا ان کے یہاں اس بات کی کوئی گنجائش بنتی تھی کہ جب کفار قبضہ مکمل کر لیں، وہاں حاکم بن بیٹھیں اور ان علاقوں کو دار الکفر بنا دیں تو پھر جہاد ختم اور ان کی حکومت تسلیم کر لی جائے؟ حاکم و محکوم اور قاہر و مقہور کے درمیان ایسے کسی معاہدے کی بھلا اسلام میں کیا گنجائش ہونی تھی؟

دوسری طرف دار الاسلام کے بعض علاقوں پر کفار نے قبضہ مکمل کرنے اور وہاں اپنا کفری نظام اور کفری قوانین جاری کرنے کے بعد انہیں اپنے وفادار نام نہاد مسلمانوں کے حوالے کر دیا، اور وہاں بھی جہاد اس لیے معطل ہو گیا کہ اب حکمران نام نہاد مسلمان تھے، حالانکہ وہ اسلام کی بجائے کفر سے وفادار اور کفار کے قوانین (یعنی سیکولر نظام اور قوانین) کے محافظ تھے۔ تو امت کے تمام فقہائے کرام نے کفار کے حملہ آور ہونے کے وقت جہاد کی فرضیت کا جو فتویٰ دیا تھا، تو کیا وہ محض اس لیے تھا کہ دار الاسلام سے کفار بے دخل ہو جائیں اور وہاں کفار کے قوانین جاری کر کے انہیں دار الکفر بنا دیا جائے اور پھر رہنے دیا جائے؟ حاشا وکلا! ایسا قطعاً نہیں تھا۔ جہاد کی فرضیت کا تو مقصد ہی یہ تھا کہ وہاں مسلمانوں کی جان و مال محفوظ ہو جائے اور وہاں اسلام کی سرکوبی کا جو خطرہ ہے وہ رفع ہو جائے اور اسلام کا کلمہ بلند ہو جائے، اسلامی احکام نافذ ہو جائیں اور مسلمانوں کے لیے اپنے دین پر مکمل عمل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ} [الأنفال: 39] فَإِذَا كَانَ بَعْضُ الدِّينِ لِلَّهِ وَبَعْضُهُ لِغَيْرِ اللَّهِ وَجَبَ الْقِتَالُ حَتَّى يَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ.7الفتاوى الكبرى (535/3)

’’اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [اور ان کے خلاف قتال کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور اللہ کا دین پورا کا پورا نافذ ہو جائے] پس جب کچھ دین اللہ کا نافذ ہو اور کچھ دین غیر اللہ کا نافذ ہو، تو اس وقت بھی قتال فرض ہے، یہاں تک کہ دین پورا اللہ کا نافذ ہو جائے‘‘۔

آج کے دور میں، خصوصاً فلسطین میں اسرائیل کی جارحیت اور مسلمانوں پر مظالم کو دیکھ کر، ہر مسلمان یہ جان گیا ہے کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کھلی صلیبی و صہیونی جنگ ہے۔ ہر طرف مسلمانوں کے علاقے جو کفار نے اپنے قبضے میں لے رکھے ہیں، یہ سب اسی جنگ کا حصہ ہیں۔ پس مسلمانوں پر آج کے دور میں صلیبی و صہیونی کفار کے خلاف جہاد فرضِ عین ہے، یہاں تک کہ مسلمانوں کے تمام مقبوضہ مقدسات اور علاقے واپس مسلمانوں کے ہاتھ نہ آ جائیں اور وہاں اسلام غالب و نافذ نہ ہو جائے۔

اور یہ بھی ہر مسلمان دیکھ رہا ہے کہ مسلمانوں پر مسلط اکثر نام نہاد حکمران اور افواج اس صلیبی صہیونی جنگ میں کفار کی صف میں کھڑے ہیں۔ ایک طرف وہ براہ راست کفر کے تعاون کے لیے اپنی جانی و مالی خدمات فراہم کرتے ہیں، جیسا کہ اس وقت غزہ میں مجاہدین کی سرکوبی اور اسرائیل کے دفاع کے لیے مسلم ممالک کی افواج کو بھیجا جا رہا ہے، اور دوسری طرف یہ مسلم ملکوں میں کفری، لادین، نظامِ حکومت و قوانین کو اپنی قوت سے نافذ کرتے ہیں۔

لہٰذا آج کی پندرہویں صدی ہجری میں مسلمانوں پر جہاد فرضِ عین ہے، یہاں تک کہ اندلس و اقصیٰ و ہندوستان کفار کے تسلط سے آزاد نہ ہو جائیں، اور یہاں تک کہ ازبکستان، تاجکستان، ترکی و سعودیہ، پاکستان و بنگلہ دیش و دیگر مسلم ممالک میں اسلام غالب و نافذ نہ ہو جائے۔

اس دور میں دینِ اسلام کا تقاضا ہے کہ اس عالمی صلیبی و صہیونی جنگ میں مسلمان بطورِ امت مقابلے میں کھڑے ہوں۔ اور ہر مسلمان دوسرے مسلمان کی تقویت کا باعث بنے۔ اس موقع پر ہم جہاد سے وابستہ ان افراد اور جماعتوں سے عرض کرتے ہیں، جو دنیا کے ائمہ کفر کے خلاف جہاد کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ یہ جہاد مقامی لادین حکمرانوں اور افواج کی مدد سے کرنا چاہتے ہیں، کہ جب ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اس دور کی صلیبی و صہیونی جنگ میں ہماری گردنوں پر مسلط حکمران اور افواج اسلام اور مسلمانوں کی نہیں، بلکہ اپنے مغربی صلیبی آقاؤں کی غلام و ایجنٹ ہیں اور یہ اسلام کے مقابل صلیبی صف میں کھڑی ہیں، تو کیا یہ معقول بات ہے کہ صلیبی و صہیونی دشمن سے لڑنے کے لیے ان کا سہارا لیا جائے۔ ہرگز نہیں! جاننا چاہیے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو صلیبی آقاؤں کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کرتے ہیں۔ آج صلیبی و صہیونی دشمنوں کے مقابلے میں جہاد اس وقت تک ہو نہیں سکتا جب تک انہیں راستے سے ہٹا نہ دیا جائے۔

اسی طرح ہم جہاد سے وابستہ ان افراد اور جماعتوں سے بھی عرض کرنا چاہتے ہیں، جو مقامی طواغیت کے خلاف جہاد کرنا چاہتے ہیں، مگر اس کے لیے عالمی کفری طاقتوں سے مدد و تعاون کے خواہاں ہیں،کہ برادران عزیز! کیا یہ بات قابلِ فہم ہے کہ جو برائی کی اصل جڑ ہیں ان کے خلاف جہاد سے روگردانی کی جائے، جن کے خلاف اول جہاد فرض ہے ان سے تعاون لینے کا راستہ اپنایا جائے، اور ان کے تعاون سے مقامی طواغیت کے خلاف جہاد کیا جائے؟ یہ تو خود عالمی طاقتوں کی سازش اور چال ہے کہ وہ مسلمانوں کو جنگوں میں ایسی جگہ اتاریں جہاں ان کے اپنے مفادات وابستہ ہوں، تاکہ ایک طرف وہ جہاد کے ثمرات کو ضائع کر کے اپنے مفادات پورے کریں اور دوسری طرف اپنے آپ کو مسلمانوں کی جہادی ضربوں سے محفوظ رکھ سکیں۔

سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آج عالمی صلیبی صہیونی جنگ کا مقابلہ مسلمان اسی صورت میں کر سکتے ہیں جب تمام مسلمانوں کی قوت کو جمع کیا جائے، اور عالمی کفری طاقتوں کو یہ موقع نہ دیا جائے کہ وہ مسلمانوں میں تفریق پیدا کریں اور مسلمانوں کے جہاد کے ثمرات اپنے مفاد میں استعمال کر لیں۔

یہ حقیقت ہے کہ جہاد کی فرضیت کی ادائیگی حسبِ استطاعت ہے، اور عقل و فہم اور شریعت کا علم رکھنے والا کوئی بھی شخص یہ نہیں کہتا کہ کوئی مجاہد ایک وقت میں ہر جگہ لڑنے نکل کھڑا ہو اور ایک وقت میں ہر ایک دشمن سے لڑنے لگے، اور نہ ہی یہ کہ ہر وقت ہی کوئی لڑے اور کبھی کسی سے، اسلام اور جہاد کی مصلحت میں، جنگ بندی یا صلح نہ کرے۔ بلکہ چاہیے کہ مجاہدین کا کوئی بھی گروہ یا جماعت جس علاقے میں استطاعت رکھتی ہو، وہاں جہاد فی سبیل اللہ و علی منہاج النبوۃ کے لیے برسرِ عمل ہو جائے۔ اور دنیا کے مختلف خطوں میں برسرِ جہاد جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو بڑھائیں اور ایک دوسرے کی تقویت کا باعث بنیں۔ یوں امت کی سطح پر مجاہدین کی قوت بنے گی، اور وہ اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ اس زمانے میں جہاد کی فرضیت کی ادائیگی، مظلوم مسلمانوں کی نصرت اور اسلام کے غلبے کا عائد فرض ادا کر سکیں۔

آخر میں یہ نکتہ بھی ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ عام مسلمان پراس دور میں جو جہاد فرضِ عین ہے، جیسا کہ ہم نے اوپر واضح کر دیا، اس کی ادائیگی اور اپنے فرض سے سبکدوش ہونے کا راستہ یہ ہے کہ یا تو وہ دنیا بھر میں سجے جہادی میدانوں کی طرف نکل کھڑا ہو اور وہاں بنفسِ نفیس جہاد میں شریک ہو جائے، اور یا وہ کسی بھی جہادی جماعت سے وابستہ ہو جائے اور انہیں اپنا آپ سپرد کر دے، کہ وہ مصلحتِ جہاد کے مطابق اس مسلمان سے کام لے سکیں ۔8یہ حکم استاد احمد فاروق شہید رحمۃ اللہ علیہ بیان فرمایا کرتے تھے اور آپ شیخ ابو یحییٰ شہید رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے نقل کیا کرتے تھے۔ البتہ خود استاد احمد فاروق شہید رحمۃ اللہ علیہ نے بندہ سے فرمایا تھا کہ اس میں شیخ عطیۃ اللہ شہید رحمۃ اللہ علیہ یہ استثناء بیان کرتے تھے کہ امت کی سطح پر موجود کبار علمائے کرام کو کسی خاص جماعت میں شامل ہونے کا پابند نہیں کیا جاسکتا، جنہیں امت کے عوام و خواص اور مجاہدین کی رہنمائی کی مسند پر اللہ تعالیٰ نے فائز کیا ہو اور جو خود جہادی جماعتوں میں بھی قربت و وحدت لانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ایسے کبار علمائے کرام بہتر سمجھتے ہیں کہ ان کے لیے جہاد کے حوالے سے کیا کام کرنا اہم ہے اور وہ یہ کام کس طریقے سے کر سکتے ہیں، تو یہ ان کے حق میں فرضیت کی ادائیگی کے لیے کافی ہے۔ واللہ اعلم! ان دو صورتوں کے علاوہ کوئی صورت ایسی نظر نہیں آتی کہ امت کا درد رکھنے والا کوئی بھی مسلمان، جس کے گلے میں جہاد کی فرضیت کا طوق ہے، اس فرض سے سبکدوش ہو سکے اور خود کو تارکینِ جہاد کی صف سے نکال سکے۔

یہ آسان معاملہ نہیں ہے۔ یقینا ً جہاد فی سبیل اللہ اسلام کے سر کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ ہر مسلمان سے قربانی کا مطالبہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کا شوق نصیب فرمائیں، دنیا کی محبت ہمارے دلوں سے نکال دیں، شہادت کی خواہش دلوں میں زندہ کر دیں، اور ہمیں جہاد فی سبیل اللہ میں نکلنے اور نکلنے کے بعد ثابت قدم رہنے کی توفیق نصیب فرمائیں، آمین۔ اللہ تعالیٰ اسلام اور اہلِ اسلام کو معزز فرمائیں، اور کفر اور اہلِ کفر و نفاق کو ذلیل و رسوا فرمائیں، آمین۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان اعمال کی توفیق نصیب فرمائیں جو اسے راضی کر دیں، اور ہمیں اخلاصِ نیت کے ساتھ اور شریعت کے احکامات کے مطابق جہاد کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، اور اسی راستے میں مقبول شہادت، مقبلاً غیر مدبر، نصیب فرمائیں، آمین۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین، وصلی اللہ تعالی علی نبینا الأمین۔

٭٭٭٭٭

  • 1
    أخرجه ابن أبي شيبة (19401) وأحمد (5115) والحديث حسن
  • 2
    أخرجه أبو داود (3462) والحديث حسن
  • 3
    أحكام القرآن (312/4)
  • 4
    غياث الأمم في التياث الظلم (258) مكتبة إمام الحرمين
  • 5
    الجامع لأحكام القرآن (151/8)
  • 6
    الفتاوى الكبرى (538/5) دار الكتب العلمية
  • 7
    الفتاوى الكبرى (535/3)
  • 8
    یہ حکم استاد احمد فاروق شہید رحمۃ اللہ علیہ بیان فرمایا کرتے تھے اور آپ شیخ ابو یحییٰ شہید رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے نقل کیا کرتے تھے۔ البتہ خود استاد احمد فاروق شہید رحمۃ اللہ علیہ نے بندہ سے فرمایا تھا کہ اس میں شیخ عطیۃ اللہ شہید رحمۃ اللہ علیہ یہ استثناء بیان کرتے تھے کہ امت کی سطح پر موجود کبار علمائے کرام کو کسی خاص جماعت میں شامل ہونے کا پابند نہیں کیا جاسکتا، جنہیں امت کے عوام و خواص اور مجاہدین کی رہنمائی کی مسند پر اللہ تعالیٰ نے فائز کیا ہو اور جو خود جہادی جماعتوں میں بھی قربت و وحدت لانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ایسے کبار علمائے کرام بہتر سمجھتے ہیں کہ ان کے لیے جہاد کے حوالے سے کیا کام کرنا اہم ہے اور وہ یہ کام کس طریقے سے کر سکتے ہیں، تو یہ ان کے حق میں فرضیت کی ادائیگی کے لیے کافی ہے۔ واللہ اعلم!
Previous Post

جنوں یا خرد

Next Post

مغرب کو بالآخر بین الاقوامی اخلاقیات یاد آ گئیں

Related Posts

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | گیارہویں قسط

15 فروری 2026
امنیت (سکیورٹی) | پہلی قسط
الدراسات العسکریۃ

امنیت (سکیورٹی) | پانچویں قسط

15 فروری 2026
مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: چونتیس (۳۴)
حلقۂ مجاہد

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: اڑتیس (۳۸)

15 فروری 2026
علیکم بالشام

شام میں جہاد کا مستقبل | آخری قسط

15 فروری 2026
طوفان الأقصی

شہ سرخیوں سے چھپی اسرائیل کی ایک اور جنگ

15 فروری 2026
کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!

کشمیر اور بھارت میں بے دخلی کو معمول بنانے کا عمل

15 فروری 2026
Next Post

مغرب کو بالآخر بین الاقوامی اخلاقیات یاد آ گئیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

by ادارہ
15 فروری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version