تین سال پہلے انڈیا ٹوڈے نے خبر لگائی تھی کہ سنہ سنتالیس میں جو مندر بے آباد ہو گئے تھے، عمران خان کی حکومت ان چار سو مندروں کو مکینوں سے خالی کروا کر انہیں دوبارہ مندروں کی شکل میں بحال کروانے اور انہیں ہندوؤں کے حوالے کرنے کا کام مرحلہ وار شروع کر چکی ہے۔ خبر درست تھی۔ کہیں کوئی حساب کتاب نہیں کہ جب پاکستان کی معیشت خود بیرونی قرضوں کی مصنوعی سانس پر چلائی جا رہی تھی تو اس دوران ان مندروں کی مرمت اور بحالی پر کتنا پیسہ خرچ کیا گیا اور یہ قانونی تھا؟ قانونی تھا بھی تو کیا یہ جائز تھا ؟ جو لوگ ان مندروں میں آدھی صدی سے زیادہ سے آباد تھے، ان کی قانونی حیثیت کیا تھی؟
اس کے علاوہ اسلام آباد کے بیچوں بیچ مندر کے لیے وسیع و عریض جگہ الاٹ کی گئی گویا یہ جگہ حکومت وقت کی ذاتی ملکیت ہے اور شدید عوامی ردعمل کے باوجود وہ یہ جگہ جسے مرضی دے…… (وہی مندر جس کی جگہ الاٹ ہونے سے سالوں پہلے انڈین آر ایس ایس کے لیڈر اپنی تقریروں میں یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ اسلام آباد میں مندر تعمیر کروائیں گے) ……اگر جمہوریت ہی قانون ہے تو کیا شدید عوامی رد عمل کے باوجود یہ زمین یوں الاٹ کرنا قانونی عمل تھا، اور قانونی تھا تو کیا جائز بھی تھا ……؟
کرک میں مندر پر حملہ ہوا ……ساری دنیا میں خبر بنی کہ شدت پسند مسلمانوں نے کرک کے مندر پر حملہ کیا ہے ……کہیں خبر نہیں چلی کہ انہوں نے احتجاجی حملہ مندر پر نہیں بلکہ اس کی نئی اور ’’غیر قانونی‘‘ اینکروچمنٹ پر کیا تھا جسے قانونی چارہ جوئی کے باوجود ہندو قابضین خالی نہیں کر رہے تھے، حملے کی خبر پوری دنیا میں پھیلی۔ چیف جسٹس گلزار نے فوری طور پر قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے اس غیر قانونی زمین پر مندر کو دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دیا اور اسے قانونی کر دیا اور پھر اس کی افتتاحی تقریب سے خود جج کے عہدے پر ہوتے ہوئے غیر قانونی خطاب بھی فرمایا……
بے حد مختصر یہ کہ چالیس سال سے موجود مدینہ مسجد کراچی کو گرانے کے فیصلے کا ’’قانونی اور غیر قانونی‘‘سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ……یہ سمجھنے کی کوشش بیکار ہے کہ چالیس سال سے موجود مسجد کو ڈھا کر وہاں پارک بنایا جانا کیوں قانون کے لیے اس قدر ضروری ہے جبکہ مسجد کسی کی ذاتی ملکیت یا رہائشی اراضی پر بھی نہیں بنی تھی……یہ حاکمان وقت کی ترجیحات اور نصب العین کا آئینہ دار ہے ……نیت جانچنے کے لیے یہی معلوم کر لینا بہت ہے کہ سرکار نے اب تک مسجدوں کو کتنی زمین الاٹ کی، ان پر کیا خرچ کیا اور مندروں کو کیا ملا……
سچ یہ ہے کہ پاکستان کی اسلامی شناخت کے خلاف جو جنگ مشرف نے شروع کی تھی، یہ عمران باجوہ الائنس اسے بے حد کامیابی سے لے کر آگے بڑھا ہے……جو صورتحال جا رہی ہے اس کے مطابق بہت جلد پاکستان میں ایک ایسی تہذیب اور ایسا مذہب رائج ہو گا جو اکبر کے دین الٰہی سے مماثلت رکھتا ہو گا ……مسلمان کا خود کو گھر کی چار دیواری سے باہرمسلمان کہنا مشکل ہو جائے گا……اور گھر کے اندر مسلمان رہنا مشکل ہو جائے گا……اگر آپ اسے غیر یقینی سمجھ رہے ہیں تو آپ نے تاریخ نہیں پڑھ رکھی بلکہ بالکل بھی نہیں پڑھ رکھی !
٭٭٭٭٭










