کالے جھنڈوں والی حدیث صحیح ہے یا ضعیف؟ یہ سوال تو تب ہی ہم سے پوچھا جائے جب یہ ہماری بنیاد ہو اور ہم اسی کے سبب اپنے راستے و تحریک کو حق سمجھتے و سمجھاتے ہوں۔ نہ تو ہم میں سے کوئی فقط یہ حدیث پڑھ کر جہاد میں نکلا ہے اور نہ ہی حق و باطل کا پیمانہ کبھی اس حدیث کو ہم نے سمجھا ہے۔ اس سے بڑھ کر جہالت و غلو کیا ہو گا کہ عقیدے، نظریے اور دعوت و کردار کے برعکس نام اور جھنڈوں کو صحیح و غلط کا پیمانہ سمجھا جائے۔ یہی معاملہ علمائے کرام کے قتل اور انہیں دھمکیاں دینے کا ہے۔ کون ظالم ہو گا جو جہاد فی سبیل اللہ جیسے با برکت عمل کے لیے نکلا ہو اور محض اس وجہ سے کسی دین دار کو اپنا دشمن سمجھتا ہو کہ وہ جمہوریت میں کیوں شامل ہے؟ جمہوریت کیا ہے اور کیا نہیں، اس پر بعد میں بات کرتے ہیں۔ البتہ یہ ذہن میں رہے کہ اس کو جہادی جماعتوں سے بہت پہلے امت کے اہل علم نے واضح کیا ہے۔ مگر یہ کہ اس کے سبب کسی دین دار کی تکفیر ہو، یا اس وجہ سے اس کی جان و مال کو اپنے لیے جائز سمجھا جائے، یہ ظلم، جہالت اور فساد پر مبنی وہ فکر ہے جس کا خمیازہ اہل دین سے پہلے خود ہم مجاہدین نے بھگتا ہے اور جس کی بنیاد پر آج بھی خراسان سے عالم عرب و افریقہ تک داعشی خوارج کے ہاتھوں اہل حق مجاہدین کو شہید کیا جا رہا ہے۔ سوال اس فتنے کا نہیں ہے، بلکہ فتنوں کے بیچ حق و باطل میں تمیز کرنے کا سوال ہے، اور یہی اہل حق علمائے کرام کا کام ہے۔ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، یہ ذمہ داری علمائے کرام کی ہے کہ وہ امت کو بتائیں۔ مگر اس سے زیادہ زیادتی اور نا انصافی کیا ہو گی جب باطل کی موجودگی کے سبب حق کا انکار کیا جائے؟ کچھ ظالم اور فتنہ و فساد پھیلانے والے داعشیوں کی موجودگی کے سبب اُن مجاہدین کے وجود کا انکار کیا جائے جو امت کے دفاع میں نظام پاکستان کے خلاف کھڑے ہی اس لیے ہیں کہ پاکستان امریکی تسلط سے آزاد ہو، یہاں عوام و اہل دین کی عزت ہو اور اللہ کا دین یہاں غالب ہو! اس نظام باطل کے اندر عاصم منیر و زرداری جیسے بھی ہیں اور دینی جماعتوں کی صورت میں اہل دین بھی ہیں جو شر کو کم کرنے کی نیت سے اس جمہوری نظام کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ ہم دونوں فریقوں میں تفریق سمجھتے ہیں، ایک کو ظالم، امریکہ کے غلام اور امت کے دشمن کے طور پر دیکھتے ہیں تو دوسرے دین دار فریق کو مظلوم خیال کرتے ہیں۔ اور ہمارا گمان و نظریہ ہے کہ یہ دین دار حضرات اس کفریہ نظام کے فساد کو کم کرنے کی نیت سے اس میں شامل ہیں اور ان کا مقصد دین اسلام کی خدمت اور ملک و قوم کو مغربی استعمار سے نکالنا ہے، لہذا ان کے اس انتخابی راستے کے ساتھ اختلاف کے باوجود ہم ان پر نہ فتوی لگاتے ہیں اور نہ ہی ان پر کسی قسم کا ظلم ہمارے نزدیک جائز ہے۔ ہم یہ تفریق شرعی ذمہ داری سمجھ کر کرتے ہیں اور یہ کسی پر احسان نہیں۔ بعینہٖ یہی شرعی ذمہ داری ہمارے اہل دین بھائیوں کی بھی ہے کہ جس طرح ہم نظام میں کھڑے ہر شخص و قائد کو حریف نہیں سمجھتے، بلکہ اہل دین کو اپنا حلیف خیال کرتے ہیں، بالکل اسی طرح آپ اہل دین بھی اس نظام کے خلاف کھڑے بندوق اٹھانے والے ہر فرد و جماعت کو خوارج کی صف میں نہ کھڑا کریں، بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کون مسلمان عوام اور اہل دین کی جان و مال اور ان کی عزت کا دفاع اپنا فرض سمجھتا ہے اور کون اپنے سوا دیگر اہل دین کو اپنا حریف و دشمن کہتا ہے اور ان کی جان و مال پر دست درازی کا مرتکب ہے۔
ہم واضح کرتے ہیں کہ یہ جنگ امریکہ کے خلاف تھی اور آئندہ بھی ہو گی۔ اسے اپنی جنگ یہاں کے خائن جرنیلوں نے بنایا ہے اور ان کے خلاف ہماری لڑائی ان کے امریکہ کے غلام ہونے کے سبب ہے۔ یہ امریکہ کا دفاع چھوڑ دیں اور نفاذ اسلام کی تحریک کی راہ میں روڑے نہ اٹکائیں تو ہم یہاں ایک گولی چلانے کے بھی روادار نہیں۔ لیکن جب تک یہ اہل غزہ کے بدترین دشمنوں کی صف میں ہوں گے ہم بھی انہیں اپنی فوج کبھی نہیں سمجھیں گے، بلکہ (وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ)کے مصداق، ان کے ساتھ معاملہ وہی ہو گا جو امریکیوں و اسرائیلیوں کے ساتھ کرنا فرض ہے۔
ایسے میں اس جنگ کے اندر علمائے کرام و اہل دین کو ہم اپنے ساتھ سمجھتے ہیں، نہ کہ ان ظالم شیاطین کے ساتھ۔ یہ ان ظالموں کی سازش و مکر ہے کہ وہ ایک طرف اپنے ظلم و فساد اور عیاشیوں کے دفاع کے لیے ہمارے سامنے اہل دین کو آگے کرتے ہیں تو دوسری طرف داعش جیسے نام استعمال کر کے اپنے خفیہ کارندوں کے ذریعے علمائے کرام کو شہید کرتے ہیں اور یوں ایک تیر سے کئی شکار کر کے ہم اہل دین کی سادگی پر ٹھٹھے اڑاتے ہیں۔
دوسری اہم بات یہ سمجھانا ضروری ہے کہ جمہوریت کے آگے و پیچھے ہم لاکھ سابقے لاحقے لگائیں، یہ کفری مغربی جمہوریت اسلامی نہیں ہو سکتی۔ علمائے کرام نے اس میں شرکت اضطرار کی حالت میں کی تھی، مگر ان میں سے کسی نے بھی اس کو عین اسلام اور عین مطلوبِ شریعت راستہ نہیں کہا ہے۔ جو لوگ اس جمہوریت میں اہل دین کی شمولیت کے باعث ان پر فتویٰ لگاتے ہیں یا انہیں قتل کرتے ہیں، وہ غلط ہیں، وہ ظالم ہیں اور وہ خوارج کی صف میں بھی شاید شامل ہوں گے۔ مگر دوسری طرف جو حضرات پاکستان میں رائج اس مغربی جمہوریت کو عین اسلامی کہتے ہیں، اسی کو نفاذِ شریعت کا راستہ بتاتے ہیں اور اس کے علاوہ دیگر راستوں کو ناجائز و حرام قرار دیتے ہیں، ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ یہ بھی زیادتی ہے، شریعت محمدی ﷺ کی مخالفت ہے۔ اور جو حضرات اپنے اس موقف کو صحیح کہنے پر ہی مصر ہیں ہم انہیں اللہ کا خوف دلاتے ہیں کہ ایسا مت کیجیے۔ جس جمہوریت میں چور، لٹیرے، ڈاکو اور آپ جیسے دین دار و اہل علم کی حیثیت ایک ہو، جہاں زرداری اور کسی اور شرابی اور متقی مومن کو ایک پلڑے میں برابر تولا جاتا ہو اور جس جمہوریت میں فساق و فجار کی رائے کو محض اس وجہ سے اہمیت دی جاتی ہو کہ وہ زیادہ ہیں، وہ جمہوریت اسلامی کبھی نہیں ہو سکتی۔ وہ عین مغربی جمہوریت ہے، عین وہی جمہوریت ہے جس کو حضرت تھانوی، حضرت مولانا قاری محمد طیب، مولانا یوسف لدھیانوی اور دیگر اکابر علماء رحمہم اللہ نے غیر شرعی، کفری بلکہ عصر حاضر کا صنم اکبر تک کہا ہے۔ اس جمہوریت کو اُسی جگہ رکھیے جو اس کی اصل حیثیت ہے۔ اُس حیثیت میں آپ اس میں شامل ہیں، دین کی خدمت کی امید رکھتے ہیں تو ہم لاکھ آپ کے ساتھ اختلاف کریں گے، آپ کو اس پر فریب راستے پر چلنے سے منع کریں گے مگر آپ کی جان و مال اور عزت کو ایسا ہی اپنے اوپر حرام سمجھیں گے جس طرح اپنے مجاہد بھائی کی جان و مال اور عزت کو۔ ایسے میں خدا کے لیے، امت مسلمہ پر آئے اس بدترین دور کا واسطہ، اس امت پر رحم کیجیے اور اُس جمہوریت کو اسلامی نہ سمجھائیے کہ استعمار کی آمد سے پہلے امت مسلمہ کی پوری تاریخ میں جس کا کہیں کوئی وجود نہیں ملتا اور جسے عالم اسلام پر مسلط ہی اس لیے کیا گیا ہے کہ ہم سے دعوت و جہاد اور امربالمعروف و نہی عن المنکر کا شرعی راستہ چھینا جائے۔
اللہ تعالیٰ آپ و ہم کو عدل و انصاف اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، اور یہ توفیق بھی کہ آپ و ہم ایک دوسرے کو حلیف سمجھیں، بھائی سمجھیں اور اس نظام باطل کے خلاف ایک دوسرے کی راہ کی رکاوٹ نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون و مددگار بن جائیں۔ آمین یارب العالمین۔
٭٭٭٭٭












