بھارت میں ہندو دھرم کے پرچارک اپنا اصل دکھائے جا رہے ہیں اور ہمارے ملک پاکستان میں بے غیرت بھی اس سے دوگنی رفتار سے اپنی بے غیرتی آشکار کیے چلے جا رہے ہیں۔ گائے ماتا کے رَکھشک مسلمانوں کو پکڑ پکڑ کر مارتے رہے، لہولہان کرتے رہے۔ چلیے ہم ملک کے غداروں نے تو جہاد کا مطلب غلط سمجھ لیا۔ ہم تو دہشت گرد ہیں۔ غامدیت کے پجاریوں کے بقول جہاد تو ریاست کا کام ہے ،تو مجھ گستاخ کا سوال ہے کہ ریاست پر وہ جہاد آخر کب فرض ہوگا؟ کیا اب ہمارا فرض صرف سوشل میڈیا پر مسکان نامی خاتون کی نعرے لگاتی ویڈیو کے نیچے لمبی لمبی چھوڑنے تک محدود ہے؟ کیا نعرے لگاتی اس خاتون کی ویڈیو کے نیچے تبصرہ آرائی کرنے والے بقراط، ڈاکٹر عافیہ کی گرفتاری اور امریکیوں کے زندانوں میں آہ و بکا پر بھی نظر ڈالنا پسند فرمائیں گے؟ کیا ان دلہنوں کے سہاگ پر کوئی رائے زنی کریں گے جو جعلی پولیس مقابلوں میں مار ڈالے گئے۔ ان بہنوں کے زخموں کی مرہم جوئی کریں گے جن کے بھائی زندانوں کے اندھیروں میں لاپتہ کر دیے گئے۔
اس قومی بے غیرتی کا سب سے بڑا مظہر ہیں پاکستان کی نام نہاد افواج۔ لال خان نامی ایک ملحد جو اب وفات پا چکا ہے، بہت ماہ پہلے اس کی ایک تقریر سننے کا اتفاق ہوا۔ اس نے کہا کہ پاکستانی فوج اب لڑنے کے قابل نہیں رہی کیونکہ پراپرٹی ڈیلر کب جنگ لڑا کرتے ہیں۔ تاریخ اٹھا لیجیے جہاد فی سبیل اللہ کو بدنام کرنے والی یہ فوج سوائے دم دبا کر بھاگنے کے کچھ نہیں کر پاتی۔ حال ہی میں تربت اور پنجگور میں علیحدگی پسند بلوچوں نے ان کو تگنی کا ناچ نچوایا۔ بے غیرتی کا اس سے بڑا اظہار کیا ہوگا کہ جس کشمیر کے نام پر ستّر سال سے اس قوم کو لوٹ رہے ہیں، اس کا سودا اس حکومت کے دور میں ہوا جس میں وزیراعظم کی اوقات فوج کی کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں ہے۔ اب اس امر میں کوئی شک باقی نہ بچا ہے کہ ہند میں کشمیر کا جدید الحاق پاکستانی فوج کی ملی بھگت سے ہوا ہے۔ آپ اندازہ لگائیے کہ جس وقت قمر سنگھ باجوہ اپنے آباؤاجداد کی سمادھیوں کی راہداریاں بنوا رہا تھا عین اس وقت ہندوستان کشمیریوں کی آزادی کے تمام راستے مسدود کر رہا تھا۔
اکثر میں سوچتا تھا کہ بچپن سے ہم بزرگوں سے غزوۂ ہند کی احادیث ِمبارکہ سنتے چلے آرہے ہیں اور پاکستان میں اکثر سادہ لوح حضرات پاکستانی فوج کو غزوۂ ہند میں شامل سمجھتے ہیں۔ بلکہ یوں کہہ لیں کہ ہراول دَستہ سمجھتے ہیں ۔ ان کے خیال میں یہ فوج وہ ہے جس کے لیے غزوہ ٔ ہند کی بشارت دی گئی ہے۔ مگر جب اس فوج کے کرتوتوں پر نظر ڈالتے تو لگتا تھا کہ یہ غزوۂ ہند میں شامل تو ضرور ہوں گے مگر دوسری سائیڈ سے۔ جہادِ کشمیر کے نام پر جس طرح فوج نے اپنے درباری مولویوں کو کروڑ پتی بنایا ہے اس نے بھارتیوں کو جہاد کو بدنام کرنے کا موقع فراہم کرنے اور پڑھے لکھے مسلمان نوجوانوں کو اس سے متنفر کرنے کا کام بخوبی کیاہے۔ کچھ ایسے نوجوان بھی نظر سے گزرے جو مجاہدین کے امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر بے مثال حملے سے متاثر ہوئے۔ یورپ کی عیاشیوں بھری زندگیوں کو ترک کیا اور مجاہدین کی صفوں میں شامل ہونے کے لیے امیر المومنین ملامحمد عمر مجاہدؒ کی پکار پر لبیک کہنے، پاکستان آ پہنچے ۔مگر بد قسمتی سے یہاں بعض ٹھگوں کے ہاتھ لگ گئے اور یا تو مایوس ہو کر کچھ عرصہ بعد واپس چلے گئے اور اپنے طور پر کوئی کام کرنے کی کوشش کی یا ترتیب و تربیت کی کمی کے سبب پکڑے گئے اور کال کوٹھڑیوں کی نذر ہوئے۔ گنتی کے چند خوش قسمت ہی ایسے ہوں گے جنہوں نے ان جعلسازوں کو پہچان لیا ، ان سے علیحدہ ہوئے اور مجاہدین سے آخرکار جا ملے۔
لیکن اللہ کے گھر میں دیر ہے، اندھیر نہیں ہے۔ ان ٹھگوں اور اس پلاٹ فی سبیل اللہ کے داعیوں کے اصلی گندے چہرے بے نقاب ہو گئے۔ مکروفریب کے ان گھناؤنے کرداروں کی ایک مثال دیکھیے کہ طالبان کے پیچھے نماز ادا کرنے والا، جنرل فیض اب خیبر پختونخوا میں مجاہدین پر حملے کروانے کا ذمہ دار ہے۔ کیا اس کروڑ کمانڈر کو اپنا پروپیگنڈا بھول گیا ہے جو اس کے پالتو بھانڈوں نے اس کو فاتحِ افغانستان بنا کر پیش کرنے کی خاطر کیا۔ جیسے اس نے اپنے مداری پن سے امریکہ کو بے وقوف بنا کر افغانستان سے نکالا ہو۔ ان شاءاللہ، وہ دن دور نہیں ہیں جب مجاہدین ِاسلام اس کو دکھائیں گے کہ تم نے مکر کیا لیکن اللہ کا مکر تم سب پر بھاری ہے۔ امریکہ بھی بے وقوف بنا اور یہ تو بے وقوفی سے بھی کسی اگلی سطح پر پہنچے اور الحمدللہ کیا ہی خوبصورت منظر تھا جب مجاہدینِ اسلام فتح یاب ہو کر کابل میں داخل ہوئے۔
کالے جھنڈے والوں کا یہ لشکر ان شاءاللہ رسول پاکﷺ کی بشارت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے جلد ہی مسکان کے پیچھے بھونکتے سگوں کے تعاقب میں پہنچے گا۔
طرفہ تماشا یہ کہ کاکول اکیڈمی کی سڑکوں پر لڑکوں کے ساتھ ساتھ اب لڑکیوں سے بھی وہی گھٹیا مذاق کروا کر اپنا تماشا بنوا رہے ہیں۔ اس پر مستزاد، نا محرم مردوں کو اچھل کود کر کے دکھاتی، بے غیرتی کی تصویرِ مجسم بنی ان خواتین کو صنفِ آہن کا خطاب دیا جا رہا ہے۔آج تک پاک فوج نے خود تو کبھی کسی میدان میں مردانگی کا ثبوت دیا نہیں، شاید اسی لیے (صنفِ آہن سے نسبت کے ساتھ)قوم کی (نور جہاں اور جنرل رانی قسم کی )’بیٹیوں‘ نے سوچا کہ اگر ملک و قوم کی حفاظت کا یہ کام ناچ گانے اور ڈرامے بنا کر ہی کرنا ہے، تو یہ کام ہم بہتر طور پر کر سکتی ہیں۔
دوسری جانب شیخ اسامہؒ و شیخ ایمن الظواہری کی پاکباز و عفیفہ و مطہرہ بیٹیوں اور بیویوں سے لے کر ہماری بہن عافیہ صدیقی تک، لاتعداد مظلوم بہنیں ہیں۔ جو جیلوں میں برسہا برس سے قید ہیں، لیکن آج بھی اپنے اللہ پر اپنے ایمان، رسولﷺ کی بشارتوں پر یقین اور اسلام و مجاہدین کی سربلندی کا خواب آنکھوں میں لیے ، ثابت قدم ہیں۔میں پوچھتا ہوں صنفِ آہن یہ نہیں تو اور کون ہے، جنہیں برسوں کا قید، اپنوں سے جدائی، اور ہر قسم کا ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی تشدد توڑ نہ سکا۔ اقبال نے کیا خوب کہا ہے:
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
٭٭٭٭٭










