حضر ت سہل بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ لوگ اس وقت تک خیرو عافیت میں ہیں جب تک وہ علما اور سلطان کی تعظیم کرتے رہیں، اگر ان دونوں کا احترام بجا لاتے رہیں تو دنیا و آخرت ان کی کامیاب ہوں گی اور اگر ان دونوں کی تحقیر کرلی تو دنیا و آخرت ان کی ناکام ہوں گی۔ ‘‘
حضرت ابی بکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’جس نے دنیا میں اللہ رب العزت کے خلیفہ کو عزت دی اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن عزت دے گا اور جس نے دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کے خلیفہ و سلطان کی تحقیر کی اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن تحقیر کرے گا۔‘‘
زیاد بن کسیب عدوی سے روایت ہے کہ میں ابو بکرہؓ کے ساتھ ابن عامر کے منبر کے نیچے بیٹھا تھا، آپ خطبہ ارشاد فرمارہے تھے اور آپ نے پتلے کپڑے زیب تن کیے تھے، تو ابو بلال نے کہا، دیکھو! اپنے امیر کو ، جس نے فاسقوں کے کپڑےپہنے ہیں، ابو بکرہؓ نے فرمایا: خاموش ہوجاؤ! میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے جو فرما رہے تھے’ جو شخص زمین پر اللہ تعالیٰ کے خلیفہ اور سلطان کی تحقیر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن تحقیر کرے گا‘۔
جیسا کہ خلیفہ اور مسلمانوں کے بڑے امیر کا احترام کرنا لازم ہے، ایسا ہی ان کے تحت امرا کے امر کی اطاعت کرنا اور ان کی تعظیم و احترام کرنا بھی لازم ہے۔ہجرت کے گیارہویں سال نبی کریمﷺ نے روم کے غزوہ کے لیے ایک لشکر تیار کیا، جس میں حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے کبار صحابہ شامل تھے اور اس لشکر کا امیر حضرت اسامہ بن زیدؓ کو بنایا، جب کہ ان کی عمر اس وقت بیس سال سے کچھ اوپر تھی، اس وقت نبی کریمﷺ کا مرض شدید ہوگیا جس کی وجہ سے لشکر کی روانگی میں تاخیر ہوگئی، آپﷺ اسی مرض میں فوت ہوگئے، اس کے بعد مسلمانوں نے حضرت ابو بکرصدیقؓ کے ہاتھ پر بیعتِ امارت کی، آپؓ نے اس لشکر کی روانگی کا حکم دیا اور اسامہ بن زیدؓ سے کہا، اگر آپ کی اجازت ہو تو حضرت عمر ؓ کو میرے پاس چھوڑدیں، حضرت اسامہ بن زیدؓ نے اس کی اجازت دے دی اور حضرت عمرؓ ، حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے پاس رُک گئے، اس کے بعد حضرت عمرؓ کا جب بھی حضرت اسامہؓ سے سامنا ہوتا، تو آپ ان کو کہتے’خوش آمدید میرے امیر ‘، جب حضرت عمرؓ اسامہؓ کو عزت دیتے تو لوگ حیران ہوتے، تو آپؓ فرماتے، نبی کریمﷺ نے ان کو میرے اوپر امیر مقرر کیا تھا۔
یہاں امیر کی تعظیم کرنا بھی واضح ہوگیا اور یہ بھی واضح ہوگیا، کہ اگر بڑا امیر آپ پر کسی اور کو امیر بنائے ،چاہے وہ آپ سے عمر میں چھوٹاہی ہوتب بھی اس کی اطاعت کرنا لازم ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’جس نے میری اطاعت کی، گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی ، گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی، گویا اس نے میری نافرمانی کی۔‘‘
ایسی ہی ایک روایت حضرت ابو ہریرہ ؓ سے دوسری بھی نقل ہے جس میں رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’تم سب ہر حال میں امیر کی اطاعت کروگے اگرچہ تنگی میں ہو یا آسانی میں ، پسند ہو یا ناپسند، اگرچہ تم پر کسی اور کو فوقیت دی جائے۔‘‘(مسلم)
فتح الملہم میں [اثرة……(فوقیت)] کی تشریح میں یہ لکھا ہے کہ :
’’اگرچہ تم پر دوسرے کو زیادہ فوقیت دی جائے، اس کی غلطیوں سے درگزرکرنا اور دیگر لوگوں کو آسانیاں دے دی جائیں، تب بھی ان وجوہات کی بنا پر اس کی اطاعت چھوڑنا جائز نہیں، یعنی امیر اپنے مامورین کے بارے میں عدل سے کام نہیں لیتا اور ایک پر دوسرے کو زیادہ توجہ دیتا ہو تب بھی اس کی اطاعت کی جائے۔‘‘
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’ میرے دوست محمد رسول اللہﷺ نے مجھے وصیت فرمائی کہ میں اپنے امیر کی اطاعت کروں گا اگرچہ وہ مقطوع الاطراف ہی کیوں نہ ہو یعنی کہ وہ ایک ناچیز ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
تنبیہ: اگرچہ مجاہدین کا امیر ’دَني النسب‘ (کم ذات) ہی کیوں نہ ہو اس کی اطاعت کرنا لازم ہے۔
(وما علینا إلّا البلاغ المبین!)



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



