نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home حلقۂ مجاہد

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: سینتیس (۳۷)

by ابو البراء الابی
in اکتوبر ۲۰۲۵ء, حلقۂ مجاہد
0

سینتیسویں وجہ: بد نگاہی

اللہ سبحانہ وتعالی نے غض بصر کا حکم دیا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے:

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ۭ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ؀ (سورۃ النور: ۳۰)

’’مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں۔ یہ ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں اللہ ان سے باخبر ہے۔‘‘

اور صحیحین کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”آنکھ بھی زنا کرتی ہے اور اس کا زنا بری نظر ہے۔“

شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں:

”بدنگاہی اور بوس و کنار کے چھوٹے گناہ (لمم) قابل مغفرت ہیں اگر کبائر سے بچا جائے۔ لیکن اگر بدنگاہی یا بوس و کنار پر اصرار ہوا تو وہ کبیرہ گناہ بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اِن پر اصرار بسا اوقات فحاشی سے زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ شہوت سے دیکھنا اور ساتھ میں عشق معاشقے اور بوس و کنار کے جو کام ہوتے ہیں ان کی برائی اس زنا سے بہت زیادہ ہے جس پر اصرار نہ ہو۔ اسی لیے فقہاء ثقہ گواہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ نہ اس نے کبیرہ گناہ کیا ہو اور نہ صغیرہ گناہ پر اصرار کرے۔ بلکہ بری نظر اور بوس و کنار سے انسان شرک تک جا پہنچتا ہے۔ جیسے کہ اللہ تعالی نے فرمایا:

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ ۭ (سورۃ البقرۃ: ۱۶۵)

’اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر اللہ کو شریک (خدا)بناتے اور ان سے اللہ کی سی محبت کرتے ہیں۔ ‘

اسی لیے تصویر سے عشق صرف اسی صورت میں ہوتا ہے جب اللہ کی محبت اور ایمان کمزور ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر عزیز مصر کی مشرک بیوی اور لوط علیہ السلام کی مشرک قوم کے بارے میں کیا ہے۔“

ابن القیم ﷫ ’روضۃ المحبین‘ میں فرماتے ہیں:

”اللہ تعالی نے آنکھ کو دل کا آئینہ بنایا ہے۔ جب بندہ اپنی نگاہ نیچے رکھتا ہے تو دل شہوت اور برے ارادے سے باز رہتا ہے۔ اور جب شخص اپنی نظر کو آزاد چھوڑتا ہے تو دل شہوت کو آزاد کر دیتا ہے۔“

آگے فرمایا:

”جب نظر دل پر اثر کر جائے تو محتاط اور پختہ ارادے والا شخص اگر جلدی کرے اور آغاز میں ہی اس کے سبب کو ختم کر دے تو اس کا علاج آسان ہوتا ہے۔ لیکن اگر بار بار دیکھے اور شکل و صورت کے حسن کو اپنی آنکھوں سے ٹٹولتا رہے اور پھر اپنے دل میں بو دے۔ تو محبت کا درخت دل میں اتنا بڑھ جاتا ہے کہ پورا دل خراب کر دیتا ہے۔ اور دل اس فکر سے دور ہو جاتا ہے جس پر سوچ و بچار کا اسے حکم ہے۔پھر یہ دل انسان کو آزمائش کی طرف لے جاتا ہے۔ اور حرام کے ارتکاب پر مجبور کرتا ہے اور فتنے میں ڈال دیتا ہے۔ “

شیخ الاسلام ابن تیمیہ حرام شہوت کے انجام بد کے بارے میں فرماتے ہیں:

”جس کا دل حرام تصویر کی پوجا کرنے لگے، عورت کی ہو یا لڑکے کی، تو یہ وہ عذاب ہے جس کے برابر کوئی اور نہیں ۔ یہ لوگ سب سے زیادہ عذاب کے مستحق اور سب سے کم ثواب کمانے والے ہیں۔ جب عاشق کا دل تصویر سے لگا رہے اور وہ اس کا غلام بن جائے، تو اس کے لیے شر اور فساد کی اتنی اقسام و انواع اکٹھی ہوجاتی ہیں جنہیں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ سب سے بڑی آفت دل کا اللہ کی یاد سے غافل ہو جانا ہے۔ کیونکہ جب دل اللہ تعالیٰ کی عبادت اور خالص اس کے لیے ہو جانے کا ایک دفعہ مزہ چکھ لے تو اس سے بڑھ کر اسے کوئی اور چیز میٹھی، لذیذ اور بھلی نہیں لگ سکتی۔“

امام ابن کثیر ’البدایہ والنہایہ‘ میں 279 ھ کے واقعات کے بارے میں لکھتے ہیں:

”اِس سال عبدہ بن عبد الرحیم بھی فوت ہوا۔ اللہ اسے رسوا کرے ۔ ابن الجوزی نے ذکر کیا کہ یہ شخص سلطنت روم کے علاقوں میں خوب جہاد کرنے والا تھا۔ کسی جنگ میں مسلمانوں نے ایک شہر کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ اس شخص کو شہر کے قلعے میں ایک رومی عورت نظر آئی اور وہ اس پر عاشق ہو گیا۔ اس نے عورت کو خط بھیجا کہ تم تک پہنچنے کا کیا راستہ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ عیسائی بن جاؤ اور قلعہ تک چڑھ آؤ۔ اس شخص نے بات مان لی۔ اور مسلمانوں کا خیال کیے بغیر اس عورت تک پہنچ گیا۔ مسلمانوں کو بہت دکھ ہوا اور ان پر یہ بات بہت گراں گزری۔ کچھ عرصے بعد مسلمانوں کا گزر اس قلعے پر ہوا تو یہ شخص وہاں اس عورت کے ساتھ ملا۔ مسلمانوں نے کہا اے فلاں! تمہارے قرآن کا کیا ہوا؟ تمہارے علم کا کیا ہوا؟ تمہارے روزے کا کیا ہوا؟ تمہارے جہاد کا کیا ہوا؟ تمہاری نماز کا کیا ہوا؟ تو اس نے کہا سنو! میں پورا قرآن بھول گیا ہوں ما سوائے اس آیت کے:

رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ۝ ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا وَيَتَمَتَّعُوْا وَيُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ۝ (سورۃ الحجر: ۲،۳)

’کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے کہ اے کاش وہ مسلمان ہوتے ان کو اُن کے حال پر رہنے دو کہ کھائیں اور مزے اڑائیں اور (طول)امل ان کو (دنیا میں) مشغول کئے رہے عنقریب ان کو (اس کا انجام) معلوم ہو جائے گا۔‘

اور اب تو مجھے اِن سے دولت اور اولاد بھی حاصل ہو گئی ہے۔ “

امام قرطبی ﷫ ’التذکرہ‘ میں فرماتے ہیں:

”مصر میں ایک شخص اذان اور نماز کے لیے باقاعدگی سے ایک مسجد آتا جاتا تھا۔ اس پر عبادت کا حسن اور اطاعت کا نور نظر آتا تھا۔ ایک دن اپنی عادت کے مطابق اذان دینے منارے پر چڑھا۔ منارے کے نیچے ایک ذمی عیسائی کا گھر تھا۔ اس کی نگاہ نیچے پڑی تو اسے گھر والے کی بیٹی نظر آئی۔ وہ اس کے فتنے میں مبتلا ہو گیا اور اذان چھوڑ دی۔ نیچے اترا اور اس کے گھر جا پہنچا۔ لڑکی نے کہا : کیا بات ہے تمہیں کیا چاہیے؟ اس نے کہا: مجھے تمہاری ضرورت ہے۔ لڑکی نے کہا: بھلا کیوں؟ جواب دیا کہ تو نے میری عقل چرا لی اور میرے دل پر غالب ہو گئی۔ لڑکی نے کہا: میں مشکوک بات نہیں مانوں گی۔ اس شخص نے کہا: تو میں تم سے شادی کر لیتا ہوں۔ لڑکی نے کہا: تم تو مسلمان ہو اور میں عیسائی۔ میرے والد تم سے کبھی بھی میری شادی نہیں کرائیں گے۔ اس نے کہا: تو میں عیسائی بن جاتا ہوں۔ لڑکی نے کہا: اگر تم ہو گئے تو میں کر لوں گی۔ چنانچہ شادی کی خاطر وہ عیسائی ہوگیا اور اُنہی کے ساتھ گھر میں رہنے لگا۔ اسی دن وہ گھر کی چھت پر چڑھا اور وہاں سے گر کر مر گیا۔ تو دیکھو کیسے اپنا دین بھی گنوایا اور عورت بھی نصیب نہ ہوئی۔ اللہ کی پناہ والعیاذ باللہ انجام بد اور برے خاتمے سے۔“

’ذم الہوی‘ میں ابو الفرج ابن الجوزی ﷫ فرماتے ہیں:

”بغداد میں ایک شخص کے بارے میں مجھے خبر پہنچی جسے ’صالح مؤذن‘ کہا جاتا تھا۔ چالیس سال تک اذان دیتا رہا۔ اس کی نیکی مشہور تھی۔ ایک دن اذان دینے منارے پر چڑھاتو اس کی نظر ایک عیسائی کی بیٹی پر پڑی جس کا گھر مسجد کے ساتھ تھا۔ یہ شخص اس لڑکی کے فتنے میں پڑ گیا۔ گھر جا کر دروازہ کھٹکھٹایا۔ لڑکی نے کہا: کون؟ جواب دیا: صالح مؤذن ہوں۔ لڑکی نے دروازہ کھول دیا۔ اس نے داخل ہوتے ہی لڑکی کو گلے لگائے۔ لڑکی بولی: تم لوگ تو امانتوں کے رکھوالے ہو یہ کیسی خیانت کر رہے ہو؟ اس نے کہا: جو میں چاہتا ہوں یا اس پر راضی ہو جاؤ اور یا میں تمہیں قتل کر دوں گا۔ اس نے کہا: نہیں! البتہ اگر تم اپنے دین سے پھر جاؤ تو ممکن ہے۔ اس شخص نے کہا: میں اسلام اور محمد (ﷺ) جو لائے ہیں اس سے بری ہوں۔ پھر وہ لڑکی کے نزدیک ہوا۔ لڑکی نے کہا: تم نے تو یہ اس لیے کہہ دیا کہ اپنا مقصد پورا کر لو اور پھر دوبارہ مسلمان ہو جاؤ۔ اگر سچے ہو تو سور کا گوشت کھاؤ۔ اس شخص نے سور کا گوشت کھا لیا۔ لڑکی نے کہا: تو پھر شراب بھی پی لو۔ اس نے شراب بھی پی لی۔ جب نشہ چڑھ گیا اور وہ لڑکی سے قریب ہوا تو لڑکی ایک کمرے میں چلی گئی اور دروازہ بند کر دیا۔ اور اس سے کہا: تم چھت پر چڑھ جاؤ جب میرے ابو آئیں گے تو میری شادی تم سے کر دیں گے۔ یہ شخص چھت پر چڑھا اور گر کر مر گیا۔ لڑکی نے نکل کر اسے ایک کپڑے میں لپیٹ دیا۔ اس کے والد آئے تو اس نے پوری کہانی سنائی۔ اس کے والد نے راتوں رات اسے نکال کر راستے میں پھینک ڈالا۔ جب اس کی خبر پھیلی تو اسے کوڑے میں پھینک دیا گیا۔“

٭٭٭٭٭

Previous Post

عمر ِثالث | گیارہویں قسط

Next Post

شام میں جہاد کا مستقبل | حصہ سوم – پہلی قسط

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | اکتوبر 2025

16 دسمبر 2025
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | نویں قسط

4 نومبر 2025
امنیت (سکیورٹی) | پہلی قسط
الدراسات العسکریۃ

امنیت (سکیورٹی) | چوتھی قسط

4 نومبر 2025
شام میں جہاد کا مستقبل | حصہ دوم – دوسری قسط
علیکم بالشام

شام میں جہاد کا مستقبل | حصہ سوم – پہلی قسط

4 نومبر 2025
عمر ِثالث | ساتویں قسط
افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ

عمر ِثالث | گیارہویں قسط

4 نومبر 2025
وقت قریب آ رہا ہے!
کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!

وقت قریب آ رہا ہے!

4 نومبر 2025
Next Post
شام میں جہاد کا مستقبل | حصہ دوم – دوسری قسط

شام میں جہاد کا مستقبل | حصہ سوم - پہلی قسط

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

اکتوبر ۲۰۲۵ء

اکتوبر 2025ء

by ادارہ
4 نومبر 2025

Read more

تازہ مطبوعات

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2025 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version