نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home تزکیہ و احسان

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں دنیا کی حقیقت | چودہویں قسط(آخری)

by شاہ حکیم محمد اختر
in اکتوبر 2020, تزکیہ و احسان
0

179۔وَعَنْ مُّحَمَّدِ ابْنِ کَعْبِنِ الْقُرَظِیِّ قَالَ حَدَّثَنِیْ مَنْ سَمِعَ عَلِیَّ ابْنَ اَبِیْ طَالِبٍ قَالَ اِنَّا لَجُلُوْسٌ مَّعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْمَسْجِدِ فَاطَّلَعَ عَلَیْنَا مُصْعَبُ ابْنُ عُمَیْرٍ مَّا عَلَیْہِ اِلَّا بُرْدَۃٌ لَّہٗ مَرْقُوْعَۃٌ بِفَرْوٍ فَلَمَّا رَاٰہُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَکٰی لِلَّذِیْ کَانَ فِیْہِ مِنَ النِّعْمَۃِ وَالَّذِیْ ھُوَ فِیْہِ الْیَوْمَ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَیْفَ بِکُمْ اِذَا غَدَا اَحَدُکُمْ فِیْ حُلَّۃٍ وَّرَاحَ فِیْ حُلَّۃٍ وَّوُضِعَتْ بَیْنَ یَدَیْہِ صَحْفَۃٌ وَّرُفِعَتْ اُخْرٰی وَسَتَرْتُمْ بُیُوْتَکُمْ کَمَا تُسْتَرُ الْکَعْبَۃُ فَقَالُوْا یَارَسُوْلَ اللہِ! نَحْنُ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مِّنَّا الْیَوْمَ نَتَفَرَّغُ لِلْعِبَادَۃِ وَنُکْفَی الْمَؤُنَۃَ قَالَ لَااَنْتُمُ الْیَوْمَ خَیْرٌ مِّنْکُمْ یَوْمَئِذٍ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ

ترجمہ: حضرت محمد بن کعب قرظی سے روایت ہے کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیاجس نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا تھا یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم لوگ مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے،اس وقت ان کے جسم پرصرف ایک چادر تھی جس میں چمڑے کے پیوند لگے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دیکھ کر رو پڑے کہ ایک زمانے میں وہ کس قدر خوش حال تھے اور آج ان کی کیا حالت ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب کہ تم صبح کو ایک جوڑا پہن کر نکلو گے اور شام کو ایک جوڑا پہن کر نکلو گے ( یعنی مال ودولت کی کثرت کی وجہ سے صبح کو ایک لباس پہنو گے اور شام کو دوسرا )اور تمہارے سامنے کھانے کا ایک بڑا پیالہ رکھا جائے گا اور دوسرا اٹھایا جائے گا ( یعنی انواع واقسام کے کھانے تمہارے سامنے رکھے جائیں گے ) اور تم اپنے گھروں پر اس طرح پردے ڈالو گے جس طرح کعبہ پر پردہ ڈالا جاتا ہے۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یا رسول اللہ! ہم اس روز آج کے دن سے بہتر حال میں ہوں گے اس لیے کہ ہم اس وقت عبادت کے لیے فارغ ہوں گے اور محنت واشغال سے بے فکری ہوگی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! آج کے دن تم اس دن سے بہتر ہو۔

تشریح:علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے جمع الجوامع میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت مصعب بن عمیر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور وہ اس حالت میں تھے کہ( بکری کی کھال کے ) تسمہ سے اپنی کمر باندھے ہوئے تھے پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو کہ ان کا قلب حق تعالیٰ نے روشن فرمایا ہے اور میں نے ان کا وہ زمانہ بھی دیکھا ہے کہ ان کے والدین ان کو نہایت عمدہ کھانا کھلاتےتھے اور یہ دو سو درہم کا لباس پہنے رہتے تھے۔ اور اللہ اور رسول کی محبت نے ان کو اس حال میں پہنچادیا جس میں تم اب ان کو دیکھتے ہو۔

مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ قریشی ہیں، اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم سے ہیں، ہجرت کرکے مدینہ آگئےتھے۔حالتِ کفر میں رئیس اور شاہزادۂ مکہ کہلاتے تھے۔ جب مسلمان ہوئے تو سب چھوڑ کر ہجرت کی اور زہد اختیار کیا اور جنگِ احد میں شہید ہوئے اور اس وقت ان کی عمر چالیس برس تھی یا کچھ زیادہ ۔ اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم شفقت اور رحم کے سبب روئے کہ ایسے معزز اور رئیس اور صاحبِ نعمت ودولت کو اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق نے اس حال کو پہنچایا کہ آج اس کے لیے کفن بھی پورا نہیں ہے۔ پس یہ رونا رنج سے نہ تھا بلکہ اس خوشی سے تھا کہ اُمت کے اندر ایسے عاشقِ حق اور ایسے زاہد پیدا ہوئے۔

ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر کُھّری چار پائی کے باندھ کے نشانات دیکھے اور روئے کہ چین کسریٰ اورقیصر کا کیا ہے اور لاڈلے رسول پر کیا تکلیف ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت ۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فقیر صابر افضل ہے غنی شاکر سے اور کافر فقیر کا عذاب خفیف تر ہوگا بہ نسبت کافر غنی کے دوزخ میں؛ پس جبکہ نفع دیا فقر نے فقیر کو اس دارِ فانی میں تو کیوں کر نفع نہ دے گا دار القرار میں۔

180۔وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ اَلصَّابِرُ فِیْھِمْ عَلٰی دِیْنِہٖ کَالْقَابِضِ عَلَی الْجَمْرِ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ اِسْنَادًا

ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایک زمانہ لوگوں پر ایسا آئے گا جس میں دین پر صبر کرنے والا شخص اس آدمی کی مانند ہوگا جس نے اپنی مٹھی میں انگارہ لے لیا ہو( یعنی جس طرح انگارے کو ہاتھ میں رکھنا دشوار ہے اسی طرح دین پر قائم رہنا دشوار ہوگا )۔

تشریح: یعنی فسق اتنا عام ہوجائے گا کہ ہرطرف فساق ہی کا غلبہ نظر آئے گا پس دین داروں کا دین پرقائم رہنا دشوار ہوگا بسبب قلت مددگاروں کے اور بہت صبر کی ضرورت ہوگی۔

181۔وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا کَانَ اُمَرَاؤُکُمْ خِیَارَکُمْ وَاَغْنِیَاؤُکُمْ سُمَحَاءَکُمْ وَاُمُوْرُکُمْ شُوْرٰی بَیْنَکُمْ فَظَھْرُ الْاَرْضِ خَیْرٌ لَّکُمْ مِّنْ بَطْنِھَا وَاِذَاکَانَ اُمَرَاؤُکُمْ شِرَارَکُمْ وَاَغْنِیَاؤُکُمْ بُخَلَاءَکُمْ وَاُمُوْرُکُمْ اِلٰی نِسَاءِکُمْ فَبَطْنُ الْاَرْضِ خَیْرٌ لَّکُمْ مِّنْ ظَھْرِھَا۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ

ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے امرا تمہارے بہتر لوگ ہوں اور دولت مند تمہارے سخی ہوں اور تمہارے اُمورباہمی مشورہ سے طے پائیں اس وقت زمین کی پشت تمہارے لیے زمین کے پیٹ سے بہتر ہوگی ( یعنی زندگی موت سے بہتر ہوگی اس لیے کہ تم کتاب وسنت کے مطابق عمل کرو گے۔ اور نیک اعمال کے ساتھ درازئ عمر نعمت ہے۔ اور جبکہ تمہارے امرا تمہارے شریر وبدکار لوگ ہوں اور تمہارے دولت مند تمہارے بخیل ہوں اور تمہارے معاملات تمہاری عورتوں کے ہاتھ میں ہوں اس وقت تمہارے لیے زمین کا پیٹ زمین کی پشت سے بہتر ہوگا ( یعنی تمہاری موت تمہاری زندگی سے بہتر ہوگی)۔

تشریح:عورتوں سے مشورہ لینا مناسب نہیں ہوتا کیوں کہ یہ ناقصاتِ عقل اور ناقصاتِ دین ہیں اور ان کے لیے وارد ہے شَاوِرُوْھُنَّ وَخَالِفُوْھُنَّ عورتوں سے مشورہ تو کرو مگر اس کے خلاف کرو1۔ اور وہ مرد بھی عورتوں کے حکم میں ہیں کم عقل ہونے میں جو ان کے مشابہ ہیں یعنی جن پر مال اور جاہ کی محبت غالب ہو اور جن کو انجام کی خبر نہیں اور نہ گناہوں کے وبال کی فکر۔ اس حدیث میں اشارہ ہے کہ اکثر جھگڑا اور فساد عورتوں کی تابع داری اور ان کے کہنے پر چلنے سے ہوتا ہے۔

182۔وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوْشِکُ الْاُمَمُ اَنْ تَدَاعٰی عَلَیْکُمْ کَمَا تَدَاعَی الْاٰکِلَۃُ اِلٰی قَصْعَتِھَا فَقَالَ قَائِلٌ وَّمِنْ قِلَّۃٍ نَّحْنُ یَوْمَئِذٍ قَالَ بَلْ اَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ کَثِیْرٌ وَّلٰکِنَّکُمْ غُثَاءٌ کَغُثَاءِ السَّیْلِ وَلَیَنْزِعَنَّ اللہُ مِنْ صُدُوْرِ عَدُوِّکُمُ الْمَھَابَۃَ مِنْکُمْ وَلَیَقْذِفَنَّ فِیْ قُلُوْبِکُمُ الْوَھْنَ قَالَ قَائِلٌ یَّارَسُوْلَ اللہِ! وَمَا الْوَھْنُ؟ قَالَ حُبُّ الدُّنْیَا وَکَرَاھِیَۃُ الْمَوْتِ۔ رَوَاہُ اَبُوْدَاوٗدَ وَالْبَیْھَقِیُّ فِیْ دَلَائِلِ النُّبُوَّۃِ

ترجمہ:حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کفر وضلالت کے گروہ قریب ہیں کہ ان کے بعض آدمی بعض کو تم سے لڑنے اور تمہاری شان وشوکت کو مٹانے کے لیے بلائیں گے جس طرح کہ ایک کھانا کھانے والی جماعت جمع ہوتی ہے اور اس کے بعض بعض کو کھانے کی طرف بلاتے ہیں۔ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے پوچھا:کیا وہ لوگ اس لیے ہم پرغلبہ حاصل کرلیں گے کہ ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم اس زمانے میں بڑی تعداد میں ہو گے لیکن ایسے جیسے نالوں کے کنارے پانی کے جھاگ ہوتے ہیں یعنی تم میں قوت وشجاعت نہ ہوگی اس لیے نہایت ضعیف وکمزور ہوگے، تمہارا رعب اور تمہاری ہیبت دشمنوں کے دل سے نکل جائے گی اور تمہارے دلوں میں وهن (ضعف وسستی) پیدا ہوجائے گا۔ کسی نے عرض کیا:یا رسول اللہ ! وھن (ضعف وسستی ) کیا چیز ہے؟ ( یعنی اس کے پیدا ہونے کا سبب کیا ہے ؟ ) فرمایا:دنیا کی محبت اور موت سے بے زاری اور نفرت ۔

تشریح: اس زمانے میں اہلِ کفر سے اہلِ اسلام کا رعب جاتا رہا اور اہلِ کفر جنگ میں غالب آرہے ہیں۔ اس کا راز یہی ہے کہ اُمتِ مسلمہ کے دلوں میں دنیا کی محبت اور موت سے نفرت پیدا ہوگئی ہے اس وجہ سے جہاد کی اصلی روح نہیں پیدا ہوتی۔ اور اسلامی ملک صرف نام کا تو اسلامی ہے لیکن اکثریت اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی میں مبتلا ہے۔ بے پردگی ، بے حیائی ، سینما، نائٹ کلب ، ٹیلی ویژن اور پوری زندگی سنتِ نبوی سے دور اور اہلِ مغرب کی عیاشی کے خطوط پر محو گردشِ ہلاکت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہماری ہدایت کے لیے اسباب پیدا فرمائیں ،آمین۔

فصلِ سوم

183۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَاظَھَرَ الْغُلُوْلُ فِیْ قَوْمٍ اِلَّا اَلْقَی اللہُ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ وَلَا فَشَاَ الزِّنَا فِیْ قَوْمٍ اِلَّا کَثُرَ فِیْھِمُ الْمَوْتُ وَلَا نَقَصَ قُوْمُنِالْمِکْیَالَ وَالْمِیْزَانَ اِلَّا قُطِعَ عَنْھُمُ الرِّزْقُ وَلَا حَکَمَ قَوْمٌ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّا فَشَا فِیْھِمُ الدَّمُ وَلَا خَتَرَ قَوْمٌ بِالْعَھْدِ اِلَّا سُلِّطَ عَلَیْھِمُ الْعَدُوُّ۔ رَوَاہُ مَالِکٌ

ترجمہ:حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جس قوم میں مالِ غنیمت کے اندر خیانت کرنے کا عیب پیدا ہوجائے اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں دشمنوں کا رعب اور خوف پیدا کردیتا ہے اور جس قوم میں زنا کاری پھیلتی ہے اس میں اموات کی زیادتی ہوجاتی ہے اور جو قوم ناپنے تولنے میں کمی کرتی ہے ( یعنی کم ناپتی اور کم تولتی ہے ) اس کا رزق اٹھا لیا جاتا ہے ( یعنی رزقِ حلال یا رزق کی برکت اٹھالی جاتی ہے ) اور جو قوم نا حق حکم کرتی ہے ( یعنی اس کے امرا احکام نافذ کرنے میں عدل وانصاف کو ملحوظ نہیں رکھتے اور نا حق احکام جاری کرتے ہیں ) اس میں خونریزی پھیل جاتی ہے اور جو قوم اپنے عہد کو توڑتی ہے اس پر دشمن کو مسلط کر دیا جاتا ہے۔

تشریح:اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گناہوں کی سزا آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی بصورت مصائب ( یعنی بے اطمینانی اور عمر میں کمی، رزق میں تنگی اور آپس میں خونریزی اور ظالم دشمن کا تسلط وغیرہ ) ہوتی ہے، اب کوئی نادان یہ کہے کہ فلاں فلاں رات دن نافرمانی کررہے ہیں اور ان کو دنیا خوب مل رہی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے دلوں کو ہر گز سکون نہیں۔ ان کی دنیا کا ٹھاٹ باٹ صرف ظاہری جسم پر نظر آتا ہے ان کے قلب ہزاروں غم اور فکرمیں مبتلا ہوتے ہیں، جیسا کہ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ اس کی تشریح فرماتے ہیں کہ

از بروں چوں گورِ کافر پُر حلل
و اندروں قہرِ خدائے عز وجل

ترجمہ: کافرکی قبر باہر سے بہت پُر رونق ہے مثلاً پھول کی چادر، روشنی کے قمقمے ، بینڈ باجے اور اندر اس کی روح پراللہ تعالیٰ کا قہر ہورہا ہے۔ اورگناہ جس کو موافق آجائے اور پکڑ نہ ہو اور گناہ کے ساتھ دنیا خوب ملے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل ہے۔ زہر کا ہضم ہونا خطرناک ہوتا ہے اور زہر کا قے ہونا مفید ہو تا ہے پس گناہوں کے ساتھ نعمت نعمت نہیں عذاب ہے، مصیبت ہے، اور جو مصیبت غفلت دور کردے وہ رحمت ہے۔

ڈرانے اورنصیحت کرنے کا بیان

184۔وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَاَنْذِرْعَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ فَصَعِدَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصَّفَا فَجَعَلَ یُنَادِیْ یَابَنِیْ فِھْرٍ یَّابَنِیْ عَدِیٍّ لِّبُطُوْنِ قُرَیْشٍ حَتَّی اجْتَمَعُوْا فَقَالَ اَرَأَیْتُکُمْ لَوْ اَخْبَرْتُکُمْ اَنَّ خَیْلًا بِالْوَادِیْ تُرِیْدُ اَنْ تُغِیْرَ عَلَیْکُمْ اَکُنْتُمْ مُصَدِّقِیَّ ؟قَالُوْا نَعَمْ مَاجَرَّبْنَا عَلَیْکَ اِلَّاصِدْقًا، قَالَ: فَاِنِّیْ نَذِیْرٌ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ۔ فَقَالَ اَبُوْ لَھَبٍ تَبًّا لَّکَ سَائِرَ الْیَوْمِ اَلِھٰذَا جَمَعْتَنَا فَنَزَلَتْ تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ۔مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ نَادٰی یَابَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ اِنَّمَا مَثَلِیْ وَمَثَلُکُمْ کَمَثَلِ رَجُلٍ رَّاَی الْعَدُوَّ فَانْطَلَقَ یَرْبَأُ اَھْلَہٗ فَخَشِیَ اَنْ یَّسْبَقُوْہُ فَجَعَلَ یَھْتِفُ یَا صَبَاحَاہُ

ترجمہ:حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ یعنی اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈراؤ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوہِ صفا پرتشریف لے گئے اور پکارنا شروع کیا: اے بنی فہر ! اے بنی عدی! یعنی قریش کے فرقوں اور جماعتوں کو بلانا شروع کیا، جب سب جمع ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ جنگل میں ایک لشکر آکر اترا ہےاور تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات کو سچا مانو گے ؟ قریش نے کہا:ہاں ! آپ ہمیشہ ہمارے تجربہ میں سچے ثابت ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈرانے پر مامور ہوا ہوں ، پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مجھ پر ایمان لے آؤ ورنہ تمہارے سامنے سخت عذاب موجود ہے۔ یہ سن کر ابو لہب نے کہا: تجھ پر سارے دن ہلاکت ہو(نعوذباللہ)۔ کیا اسی ( غلط بات ) کے لیے تو نےہم کو جمع کیا تھا۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَہَبٍ وَّ تَبَّ یعنی ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوں۔اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو جمع کرکے یہ فرمایا:اے عبد مناف کی اولاد! میرا اور تمہارا حال اس شخص کی مانند ہے جس نے دشمن کے لشکر کو دیکھا پس وہ اپنی قوم کو دشمن کے قتل وغارت سے بچانے کے لیے ایک پہاڑ پر چڑھا تاکہ قوم کو آواز دے کرآگاہ کرے لیکن پھر اس خوف سے کہ کہیں دشمن اس سے پہلے نہ پہنچ جائے اس نے پہاڑی پر سے یہ چلّانا شروع کیا یا صباحاہ یعنی دشمن کی غارت گری سے بچو۔

185۔وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ دَعَا النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُرَیْشًا فَاجْتَمَعُوْا فَعَمَّ وَخَصَّ فَقَالَ یَابَنِیْ کَعْبِ ابْنِ لُؤَیٍّ! اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِ یَابَنِیْ مُرَّۃَ ابْنِ کَعْبٍ! اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِ یَابَنِیْ عَبْدِ شَمْسٍ! انْقِذُوْااَنْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِ یَابَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ! اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِ یَابَنِیْ ھَاشِمٍ! اَنْقِذُوْا اَ نْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِ یَابَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِ یَافَاطِمَۃُ! اَنْقِذِیْ نَفْسَکِ مِنَ النَّارِ فَاِنِّیْ لَا اَمْلِکُ لَکُمْ مِّنَ اللہِ شَیْئًا غَیْرَ اَنَّ لَکُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّھَا بِبَلَالِھَا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ۔ وَفِی الْمُتَّفَقِ عَلَیْہِ قَالَ یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! اِشْتَرُوْا اَنْفُسَکُمْ لَا اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِّنَ اللہِ شَیْئًا وَّیَابَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ! لَا اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِّنَ اللہِ شَیْئًا یَا عَبَّاسُ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! لَا اُغْنِیْ عَنْکَ مِنَ اللہِ شَیْئًا وَّیَاصَفِیَّۃُ عَمَّۃُ رَسُوْلِ اللہِ! لَا اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللہِ شَیْئًا وَّیَافَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ! سَلِیْنِیْ مَاشِئْتِ مِنْ مَّالِیْ لَا اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللہِ شَیْئًا

ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ڈرائیے اپنے کنبہ کے لوگوں کو جو بہت قریب کے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو بلایا۔ جب وہ جمع ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب میں تعمیم کی اور تخصیص بھی ( یعنی ان کےجد بعید کا نام لے کربھی مخاطب کیا تا کہ سب کو عام شامل ہوجائے اور ان کے جد قریب کا نام لے کر بھی مخاطب کیا تاکہ بعض کے ساتھ مخصوص ہوجائےچناں چہ آپ نے فرمایا:اے کعب بن لوی کی اولاد ! اپنی جانوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ ۔ اے مرہ بن کعب کی اولاد ! اپنی جانوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔ اے عبد شمس کی اولاد! اپنی جانوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔ اے عبد مناف کی اولاد ! اپنی جانوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔ اے ہاشم کی اولاد ! اپنی جانوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔ اے عبد المطلب کی اولاد! اپنی جانوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ ۔ اے فاطمہ! اپنی جان کو آگ سے بچا، اس لیے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں۔ ( یعنی میں کسی کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہیں بچاسکتا ) البتہ مجھ پرتمہارا قرابت کا حق ہے جس کو میں قرابت کی تری سے تر کرتا ہوں اوربخاری ومسلم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ نے فرمایا: اے قریش کی جماعت ! اپنی جانوں کو خرید لو ( یعنی ایمان لا کر اور اطاعت وفرماں برداری کرکے دوزخ کی آگ سے اپنے آپ کو بچالو میں تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب میں سے کچھ بھی دور نہیں کرسکتا۔ اور اے عبد مناف کی اولاد ! میں تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دفع نہیں کرسکتا ۔ اے عباس بن عبد المطلب ! میں تم کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہیں بچاسکتا۔ اور اے رسول اللہ کی پھوپھی صفیہ !میں تم کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہیں بچاسکتا۔ اور اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ ! میرے مال میں سے جو کچھ تو چاہے مانگ لے لیکن میں تجھ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔

تشریح: اس حدیث سے اُمت کو یہ سبق ملتا ہے کہ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور آپ کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو محنت کی طرف متوجہ کیا گیا تو آج کس احمق ونادان کا منہ ہے کہ پیروں یا اولیا کی سفارش پر یا خود سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے بھروسے پر یا حق تعالیٰ شانہٗ کی رحمت کے بھروسے پر گناہوں اور سرکشی پر جری اور گستاخ ہو اور نیک اعمال سے بے پروا ہو ۔ خود سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جو حق تعالیٰ شانہٗ کے لاڈلے اور محبوب رسول ہیں اور ایسے محبوب ہیں جو آپ کے نقش قدم کی اتباع کرے وہ بھی اللہ تعالیٰ کا محبوب ہوجاوے کس قدر عبادت فرماتے تھے کہ طولِ قیام سے پاؤں مبارک میں ورم آجاتا تھا، تعجب ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی شانِ رحمت پر بھروسے کا پُرفریب دعویٰ کرکے نیک اعمال سے کاہل اور گناہوں میں چست وچالاک بنے ہیں یہی لوگ حق تعالیٰ کی دوسری صفت رزاقیت پر بھروسہ کرکے گھر میں نہیں بیٹھتے بلکہ روزی کے لیے مارے مارے سرگرداں وپریشاں دربدر چکر کاٹتے ہیں اور کس کس خاکِ آستاں کو بوسہ دیتے ہیں اور آخرت کے معاملے میں اپنی غفلت اور کاہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے توکل کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ کیسا توکل ہے کہ ایک صفت پر توکل ہو اور دوسری صفت پر توکل نہ ہو! یہ توکل تو اپنے مطلب کا توکل ہُوا

مصطفےٰ فرمودہ باوازِ بلند
بر توکل زانوئے اشتر بہ بند

حضرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ کو رسی سے باندھ دو پھر توکل اللہ تعالیٰ پر کرو، رسی پر توکل نہ کرو۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تدبیر کو چھوڑنا توکل نہیں بلکہ تدبیر کر کے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا اور تدبیر پر بھروسہ نہ کرنے کا نام اصل توکل اور صحیح توکل ہے۔ پس آخرت کے لیے بھی اعمالِ صالحہ اختیار کرے اور گناہوں سے بچنے کی تکالیف کو برداشت کرے اور پھر مغفرت کے لیے اپنے ان اعمال پربھروسہ نہ کرے بلکہ حق تعالیٰ کی رحمت پر بھروسہ کرے۔حق تعالیٰ شانہ ٗ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے اُولٰٓئِکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللہِ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے اُمیدوار ہیں۔ اس کلامِ ربانی سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اور اعمالِ صالحہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اُمید پیدا ہوتی ہے اور نافرمانی پر اصرار اور توبہ نہ کرنے سے اُمید اورنورِ ایمان میں کمزوری پیدا ہوتی ہے۔

186۔وَعَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اِنَّ اَوَّلَ مَا یُکْفَأُ قَالَ زَیْدُ ابْنُ یَحْیَی الرَّاوِیْ یَعْنِی الْاِسْلَامَ کَمَا یُکْفَأُ الْاِنَاءُ یَعْنِی الْخَمْرَ قِیْلَ فَکَیْفَ یَارَسُوْلَ اللہِ! وَقَدْ بَیَّنَ اللہُ فِیْھَا مَا بَیَّنَ؟ قَالَ یُسَمُّوْنَھَا بِغَیْرِ اسْمِھَا فَیَسْتَحِلُّوْنَھَا۔ رَوَاہُ الدَّارَمِیُّ

ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے سب سے پہلے اسلام میں جس چیز کو الٹایا جاوے گا، جس طرح بھرے برتن کو الٹ دیا جاتا ہے وہ شراب ہوگی ۔ پوچھا گیا:یا رسول اللہ!یہ کیوں کر ہوگا حالاں کہ شراب کی حرمت اللہ تعالیٰ نے خوب واضح کرکے بیان فرمادی ہے؟ فرمایا: اس طرح ہوگا کہ شراب کا دوسرا نام رکھ لیں گے اور اس طرح اس کو حلال قرار دیں گے۔

تشریح: جیسا کہ آج کل شراب کا نام جامِ صحت رکھا ہوا ہے۔ اُمتِ مسلمہ کو حق تعالیٰ شانہٗ اپنی رحمت سے ہدایت فرمائیں،آمین۔

تـــــــــــمّــــــــــــــــــــــــت بالخــــــيــــــــــــــــــــــــــر

وآخر دعوانا ان الحمد لله ربّ العالمين!

Previous Post

امیر المومنین شیخ ہبۃ اللہ اخوندزادہ نصرہ اللہ کی ہدایات…… مجاہدین کے نام | اکتوبر ۲۰۲۰

Next Post

بس شریعت! شریعت! پکارو بھی اب

Related Posts

تزکیہ و احسان

اللہ سے حسنِ ظن | چوتھی قسط

25 مئی 2026
تزکیہ و احسان

اللہ سے حسنِ ظن | تیسری قسط

1 مئی 2026
تزکیہ و احسان

اللہ سے حسنِ ظن | دوسری قسط

8 مارچ 2026
تزکیہ و احسان

اللہ سے حسنِ ظن | پہلی قسط

15 فروری 2026
اصلاحِ معاشرہ | چھٹی قسط
تزکیہ و احسان

اصلاحِ معاشرہ | گیارہویں اور آخری قسط

20 جنوری 2026
اصلاحِ معاشرہ | چھٹی قسط
تزکیہ و احسان

اصلاحِ معاشرہ | دسویں قسط

26 اکتوبر 2025
Next Post

بس شریعت! شریعت! پکارو بھی اب

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مئی 2026ء
مئی 2026ء

مئی 2026ء

by ادارہ
25 مئی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version