ألحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید الأنبیاء والمرسلین محمد وعلی آلہِ وأصحابہ وذریتہ أجمعین، و بعد!
لقد قال النبي صلى الله عليه وسلم:
’’ الْغَزْوُ غَزْوَانِ فَأَمَّا مَنْ غَزَا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَأَطَاعَ الْإِمَامَ وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ وَيَاسَرَ الشَّرِيكَ وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ فَإِنَّ نَوْمَهُ وَنُبْهَهُ أَجْرٌ كُلُّهُ وَأَمَّا مَنْ غَزَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَسُمْعَةً وَعَصَى الْإِمَامَ وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ فَإِنَّهُ لَا يَرْجِعُ بِالْكَفَافِ .‘‘
یہ رسول اکرم ﷺ کی ایک حدیث مبارکہ ہے ۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ ’الغزو غزوان‘……کہ جنگ دو طرح کی ہے ،کہ جہاد دو طرح کا ہے یا جس طرح شارحین نے لکھا ہے کہ جہادکرنے والے دو طرح کے ہیں ۔تو اس کے بعد یہ حدیث جہاد کرنے والی دو مختلف شخصیتوں یا دو مختلف کرداروں کا نقشہ ہمارے سامنے کھینچتی ہے اور بتاتی ہے کہ جس کے اندر یہ پانچ صفات یا خوبیاں پائی جاتی ہیں، ان پانچ صفات کے ساتھ جو جہاد کر رہاہے اس کا جہاد اللہ کے یہاں مقبول ہے اور اس کے لیے وہ سارے فضائل ہیں جس کا قرآن و حدیث میں وعدہ کیا گیا ہے۔
دوسری طرف تین چار صفات اس کے برعکس بتائی گئی ہیں کہ جس کے اندر وہ پانچوں صفات نہیں ہیں اور اس کی جگہ یہ منفی صفات، اللہ کی ناپسندیدہ صفات پائی جاتی ہیں اگر چہ وہ جہاد میں ہے، اگرچہ وہ جنگ کر رہا ہے اور بظاہر وہ بھی فی سبیل اللہ نظر آتا ہے لیکن اللہ کے ہاں اس کے لیے کچھ بھی نہیں ہے ۔تو یہ دو مختلف قسم کے جہاد کرنے والے ہیں جن کا نقشہ ہمارے سامنے کھینچا گیا۔ ایک بات تو اس حدیث سے یہ سمجھ میں آتی ہے کہ محض میدان جہاد میں پہنچ جانا قبولیت کے لیے کافی نہیں ہے اور محض جنگ کے اندر اتر جانا بھی قبولیت کے لیے کافی نہیں ہے۔ جس طرح محض نماز میں کھڑے ہوجانا اور مسجد پہنچ جانا اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ اللہ کے ہاں یہ نماز قبول بھی ہوگی ، اس کے اندر اور بھی عوامل ہیں جو دیکھے جائیں گے؛ بالخصوص اخلاص نیت اور اسی طرح نمازکی سنت کے مطابق ادائیگی؛ یہ سارا کچھ دیکھا جائے گا اور اس کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا کہ یہ نماز مقبول ہوئی اللہ کے دربار میں یا نہیں ہوئی ۔یہی معاملہ جہاد کا بھی ہے کہ جہاد کی مقبولیت کے لیے بھی شریعت نے کچھ آداب اور شرائط لگادی ہیں، وہ شرائط اگر ہم میں پائی جائیں گی تو اللہ کے ہاں ہمارا جہاد مقبول ہوگا ، اور اگر نہیں پائی جائیں گی تو باوجود اس کے کہ ، نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ ہم اسی جہاد میں ہوں گے لیکن اللہ کے ہاں رد ہو جائیں گے ۔تو یہ صفات دیکھتے ہیں ۔
حدیث میں آتا ہے کہ’الغزو غزوان‘……کہ جنگ دو طرح کی ہے، جہاد کرنے والے دو طرح کے ہیں۔ فَأَمَّا مَنْ غَزَا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ تعالیٰ تو ایک وہ جہاد کرنے والا ہے جو اللہ کے ہاں مقبول ہوتا ہے کہ جس کی پہلی صفت یہ ہے کہ ’’ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ تعالیٰ‘‘……کہ وہ بس اللہ اور اللہ ہی کے لیے جہاد کرتا ہے کہ اس کی نیت خالص ہوتی ہے اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کےلیے ۔تو یہ پہلی شرط ہے جو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب تک اخلاص نہیں ہوگا نیتوں میں تو اللہ کے ہاں جہاد قبول نہیں ہوگا اور ایک اور جگہ مسلم کی ایک حدیث میں یہ بات آتی ہے کہ جو شخص بھی اللہ کے رستے میں زخمی ہوتا ہے ……فی سبیل اللہ تعالیٰ ……اللہ کے رستے میں زخمی ہوتا ہے، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ ……اور اللہ ہی بہتر جانتے ہیں کہ اللہ کے رستے میں کون زخمی ہوا؛ چھوٹی سی بات ہے، حدیث آگے جاری رہتی ہے لیکن اس ایک ٹکڑے نے بات واضح کردی کہ یہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ واقعتاً اخلاص کے ساتھ کون اترا تھا، اللہ کے ہاں فی سبیل اللہ کون تھا، اللہ کے ہاں کون قبول ہوا تھا ،تو اللہ ہی بہتر جانتےہیں؛ یعنی معاملہ سیدھا ……مجاہد کامعاملہ براہ راست اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے ساتھ ہے، نہ امیر کے ساتھ ہے نہ کسی اور کے ساتھ ہے، ساری دنیا اس سے راضی ہوجائے لیکن اگر اللہ کے ہاں عمل رد ہو جائے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا اس کو۔ اللہ جانتے ہیں کہ کون اللہ کے رستے میں زخمی ہو رہا ہے،کون اللہ کے رستے میں جان دے رہا ہے۔ اللہ جانتے ہیں کہ اتنے مقتولین میں سے شہید اللہ کے ہاں کون ہے ؟ اللہ جانتے ہیں کہ اتنے خرچ کرنے والوں میں سے کس کا خرچ کرنا قبول ہوا؟ اتنی تھکن برداشت کرنے والوں میں سے کس کی تھکن اللہ کے ہاں قبول ہوئی؟ یہ اللہ بہتر جانتے ہیں ۔تو جو اللہ ہی کے رستے ہی میں زخمی ہوتاہے پھر حدیث پوری ہوتی ہے کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں حاضر ہوگا کہ اس کا زخم جو ہے وہ ابل رہا ہوگا۔ صرف تھوڑا تھوڑا قطرہ قطرہ خون نہیں بہہ رہا ہوگا بلکہ یوں جیسے بالکل تازہ زخم لگتا ہے اس طرح اس سے خون ابل رہا ہوگا ……اور اس کا رنگ اسی طرح ہوگا جیسے خون کا رنگ ہوتا ہے لیکن خوشبو ویسی ہوگی جیسے مشک کی ہوتی ہے ۔اگر اخلاص نیت موجود ہو تو اللہ کے ہاں وہ زخم قبول ہے اگر اخلاص نیت نہ ہو تو وہ رد ہے ۔
اسی طرح ایک مشہور حدیث ہے جس کے اندر یہ بات آتی ہے کہ وہ تین افراد جو جہنم میں ڈالے نہیں جائیں گے، بلکہ حدیث کہتی ہے کہ وہ تین افراد جن کے اوپر جہنم کی آگ گرم کی جائے گی، جو ایندھن بنیں گے تو جہنم کی آگ گرم ہوگی، وہ سب سے پہلے تین افراد جو جہنم کا ایندھن بنیں گے قیامت کے دن، ان میں سے تین عظیم الشان اعمال والے لوگ ہوں گے؛ ایک شہید ہوگا ،ایک سخی ہوگا اور ایک عالم ہوگا ۔اور اللہ ہر ایک سے باری باری پوچھیں گے کہ تو نے خرچ کس کے لیے کیا ،جہاد کس کے لیے کیا ،اور قتل کس کے رستے میں ہوا اور تو نے علم کس کے لیے حاصل کیا اور وہ تینوں یہی کہیں گے کہ اے اللہ تیرے رستے میں۔ اس لیے کہ ظاہراً دنیا والوں نے ان کو یہی کہا، دنیا والوں نے یہی ان کی حقیقت سمجھی لیکن اللہ تعالیٰ اس کو رد کر دیں گے اور نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ من ذالک ان کو منہ کے بل گھسیٹ کر پھر جہنم میں ڈالا جائے گا۔ تو یہ حدیث حضرت ابو ہریرہؓ جب سناتے ہیں تو ایک دفعہ سنانا شروع کی تو بے ہوش ہوجاتے ہیں دوسری دفعہ سنانا شروع کی پھر بے ہوش ہو گئے تیسری دفعہ سنانا شروع کی اور اپنے اوپر مشکل سے ضبط رکھتے ہوئے روتے ہوئے یہ پوری حدیث سنائی، اس لیے کہ جب اتنے بڑے اعمال بھی نیت کے کسی کھوٹ کی وجہ سے رد ہو جاتے ہیں تو پھر اور کون سی چیز ہے جو باقی بچتی ہے؟ اس سے بڑا کون سا عمل کوئی لا سکتا ہے؟ شہادت سے بڑا کون سا عمل ہے جو کوئی لا سکتا ہے ؟ اپنا مال اللہ کے رستے میں نکال دینے سے بڑی کیا چیز ہے جو کوئی لا سکتاہے ؟ عالم ہونے سے بڑا اور کون سا مقام ہے جو کوئی لا سکتا ہے؟ لیکن اگر یہ بھی قبول نہیں اخلاص نیت کی کسی کمی کی وجہ سے تو اور کیا قبول ہوگا؟ تو یہ مسئلہ اتنا خطرناک ہے! تو پہلی بات کہ ہر بھائی اپنے اپنے دل میں جھانک کر دیکھے کہ، میں بھی اور آپ بھی کہ ہم کس لیے یہاں پر بیٹھے ہیں؟ اپنے آپ سے یہ سوال ہر کچھ عرصے بعد کرنے کی اور قدم قدم پر کرنے کی ضرورت ہے کہ اولاً میں یہاں آیا کیوں ہوں؟ اللہ کرے کہ ہم سب کی نیتیں یہاں آتے ہوئے واقعتاً اللہ کے لیے خالص ہوں اس لیے کہ حدیث میں آتا ہے کہ انما الاعمال بالنیات ……اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ……ہر بندے کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی……تو جس کی ہجرت واقعتاً اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے ……تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے ہاں قبول بھی ہوگی ……لیکن جس کی ہجرت دنیا کی طرف تھی، دنیا پانے کی خاطر تھی ……یا کسی عورت کی طرف تھی، اس سے شادی کرنے کے لیے وہ ہجرت کر کے آیا تھا ……تو اس کی ہجرت اسی کے لیے تھی جس کے لیے وہ آیا تھا ……مطلب اس کو دنیا مل جائے گی، جو عورت کے پیچھے گیا اس کو عورت مل جائے گی لیکن اس کو اللہ نہیں ملے گا۔
اعمال کی قبولیت جس پہلی چیزپرکھڑی ہے وہ یہ بات ہے کہ ہماری ہجرت کس کے لیے ہے؟ ہمارا جہاد کس کے لیے ہے؟ ہم نکلے کس کے لیے ہیں؟ اگر اس میں کوئی کھوٹ رہ بھی گیا تھا تو اب تجدید نیت ہو سکتی ہے۔ اس نیت کو بہتربنایا جاسکتا ہے اس کو تازہ کیا جا سکتا ہے ۔دوسرا ہر لمحہ ہر کام کرتے ہوئے نیت تازہ رکھنا، نیت تازہ رکھنے کی کوشش کرنا اور اس کا اہتمام کرنا کہ ہماری ہر تھکن، ہر کام، ہر بھاگ دوڑ، سب کچھ اللہ ہی کے لیے ہو ۔شیخ ابو خباب المصری ؒ جب ہمیں بارود کا دورہ کر وا رہے تھے تو ایک کتاب تھی کسی عالم کی اس میں سے وہ کچھ اقتباسات پڑھ کے سناتے تھے، دل کے امراض کے حوالے سے شریعت نے جو علاج دیے ہیں اس کے اوپر کچھ گفتگو تھی۔ اس میں ایک بات یہ تھی کہ دل کی صحت کی علامت کہ دل کسی کامریض نہیں ہے، اس کو مرض نہیں لاحق ہے اس میں سے ایک علامت یہ ہے کہ ……کوئی فرد جتنا اہتمام اس بات کا کرتا ہے کہ زیادہ عمل کر ے اس سے زیادہ اہتمام اس بات کا کرتا ہو کہ جو عمل کر رہا ہے اس میں نیت درست ہو…… تو یہ دل کے درست ہونے کی علامت ہے ۔
قیامت کے دن ایسے لوگ آئیں گے جن کے ساتھ پہاڑ جیسے اعمال ہوں گے۔ اللہ فرماتے ہیں کہ وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنثُورًا1……ہم ان کے اعمال کی طرف بڑھیں گے اور اس کو خس و خاشاک کی طرح دھول بنا کے اڑا دیں گے۔ کچھ نہیں ہوگا کچھ بھی باقی نہیں بچے گا ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا ۔سورۂ نور میں اس طرح آتا ہے کہ أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً……ان کے اعمال ایسے ہوں گے جیسے صحرا میں کسی کو سراب نظر آتا ہے، دور سے ان کو یوں لگ رہا ہوگا کہ جیسے بہت پانی ہے، بہت اعمال ہیں ان کے، لیکن جب قریب آتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ کچھ بھی نہیں ہے کہ وہاں پر پہنچیں گے تو کیا پائیں گے؟ اللہ کو وہاں پر موجود پائیں گے ۔فَوَفَّاهُ حِسَابَهُ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ……اور پھر اللہ تعالیٰ اس کو پورا پورا حساب دیں گے، اور اللہ جلد حساب لینے والے ہیں ۔
تو معاملہ براہ راست اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ بڑے بڑے اعمال ہوں لیکن نیتوں میں کھوٹ ہو تو سب ضائع ہیں اور اس کے برعکس نیتیں خالص ہوں تو ہو سکتا ہے ایک شخص اپنے بستر پرجان دے رہا ہو، گھر میں بیٹھا ہو یہاں پہنچا بھی نہ ہو وہ اپنی نیت کی وجہ سے ہم سے اونچے درجے اللہ کے ہاں پا جائے۔ اس سے مقصد یہ نہیں ہے کہ جہاد کے لیے انسان نہ نکلے، شریعت معاف ہوگئی ۔ یہ اس لیے کہ حدیث میں آتا ہے کہ کتنے لوگ ایسے ہیں کہ جو صرف اپنے صدق نیت کی وجہ سے کہ جس نے صدق نیت سے اللہ سے شہادت مانگی ، اللہ اس کو شہدا تک، اس کی منزلوں تک پہنچائیں گے حالانکہ وہ عملاً شہید نہیں ہوا لیکن اللہ تعالیٰ اس کو بھی ثواب میں وہاں تک پہنچا دیں گے ۔ تو ایک بندہ جو واقعتاً یعنی اس سے مراد وہ شخص نہیں کہ جس کے پاس کوئی عذر نہیں اور وہ بیٹھا ہوا ہے، اس سے مراد وہ شخص ہے کے جس کے پاس کوئی عذر ہے کوئی بوڑھی خاتون ہے، وہ اپنی جان پیش کرنا چاہتی ہے، کوئی بوڑھا مرد ہے جو اپنے آپ کو پیش کرنا چاہتا ہے نہیں کر پاتا، شرعی طور پروہ عند اللہ معذور ہے۔ شریعت میں جن چیزوں کو عذر قرار دیا گیا ہے ان چیزوں میں سے کوئی عذر اس کے پاس موجود ہے، تو جو شرعی عذر سے وہاں رکے ہوئے ہیں اور ان کی تڑپ ہماری تڑپ سے زیادہ سچی ہے ان کا اللہ کے ساتھ جو سچائی و صدق کا معاملہ ہے وہ ہم سے بہتر ہے، تو ہو سکتا ہے وہ ہم سے اونچے درجے پا رہے ہوں حالانکہ وہ گھر پربیٹھے ہیں۔ جیسے غزوۂ تبوک کے موقع پرہوا کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تم کچھ ایسے لوگوں کو مدینہ چھوڑ آئے ہوکہ جو داوی تم نے طے کی اور جتنی مسافت بھی تم نے پار کی وہ سب میں تمہارے ساتھ تھے حالانکہ وہ مدینہ میں ہیں لیکن وہ سب تمہارے ساتھ تھے ۔ یہ کون لوگ ہیں؟ وہ جن کو شرعی عذر نے روک دیا تھا! تو جو شرعی عذر سے رکے اور نیتیں خالص تھیں ہو سکتا ہے وہ بڑے بڑے اعمال کرنے والوں سے بھی آگے نکل جائیں اخلاص نیت کی بدولت ۔
تو پیارے بھائیو اس بات کا ایک مجاہد کو اہتمام کرنے کی ضرورت ہےاگر وہ عند اللہ مقبولیت چاہتا ہے، اگر وہ یہ چاہتاہے کہ اس کا جہاد اللہ کے ہاں مقبول ہو کہ وہ ہر قدم پریہ دیکھے کہ میں امیر کی خاطر تو یہ کام نہیں کرر ہا؟ اور اس میدان کے اندر ہوتا یہی ہے کہ انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ ایسا کوئی کام نہ کرے کہ جس سے امراء ناراض ہوں اور ایسا کوئی کام کرے کہ جس سے امراء خوش ہوتے ہوں۔ تو اگر تو یہ نیت اس لیے ہے کہ ان کا حکم ماننا اللہ کا حکم ہے اور اس لیے میں اس کو پورا کررہا ہوں تو یہ ایک بات ہے ، لیکن اگر اس میں کبھی کبھی وہ خود مقصود بن جائے، ان کی رضا اور ان کی عدم رضا خود مقصود بننا شروع ہو جائے تو عملاً ہم نے اللہ کے ساتھ ان کو شریک کیا۔ تو یہ نیت خالص رکھنا کہ میں امراء کے لیے نہیں کررہا اللہ کے لیے کر رہاہوں، میں ساتھیوں کے لیے نہیں کر رہا اللہ کے لیے کر رہا ہوں، میں کسی خاص فر د کے لیے، جس سے مجھے محبت ہے اس کی وجہ سے میں جہاد میں نہیں آیا، میں خاص اللہ کے لیے جہاد میں آیا ہوں، سب شہید ہو جائیں گے تو بھی میں جہاد جاری رکھوں گا،فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللّهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ2……اکیلے اللہ کے رستے میں جنگ کرو تم پراپنی جان کے سوا کسی کی ذمہ داری نہیں…… میں اکیلے ہی لڑوں گا مجھے کسی کے اور کے رہنے نہ رہنے، باقی رہنے، شہید ہوجانے یا پھر جانے سے، جہاد سے بیٹھ جانے سے، اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تو یہ نیت کا جائزہ ہر چھوٹے چھوٹے کام جو بھائی کرتے ہیں ناں، آپ یہاں پیاز کاٹ رہے ہیں، کھانا پکا رہے ہیں ، پانی بھر کے لا رہے ہیں، گاڑی چلا رہے ہیں، پہاڑ چڑھ رہے ہیں، یہ جتنی تھکن ہے ……کتنی حماقت ہوگی کہ یہ ساری تھکن اللہ کے لیے نہ ہو؟!
مثال دیتا ہوں کہ ہم آج جو یہ دو گھنٹے پار کر کے آئے ہیں، اب ہوسکتا ہے کہ ایک سفر میں ہم تین بندے شریک ہیں اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اللہ کے ہاں کس کی تھکن قبول ہوئی اور کون وہ ہے جو بس ایسے ہی تھکا ہے، ملا اس کو کچھ بھی نہیں،یہ اللہ بہتر جانتے ہیں؛ تو یہ نیت کی بنیاد پرہے کہ میں نے نیت کی تجدید کی کہ نہیں کی ؟ میں نے اللہ کو حاضر ناظر جان کے اللہ کی طرف اپنے اس پورے عمل کو اللہ کے لیے خالص کیا کہ نہیں کیا؟ تو وہ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلاً ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔ تبتل کہتے ہیں…… سورۂ مزمل میں آتا ہے، عربی میں استعمال ہوتا ہے کہ جو تعلق ایک بیوی کا شوہر کے ساتھ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو کلیتاً اس کی ملکیت سمجھتی ہے اور اس کے لیے دنیا میں شوہر کی ذات محور ہوتی ہے، اس کی کل زندگی کا سب کچھ وہی ہوتا ہے، اس کا شوہر اس کا سب سرمایہ ہوتا ہے اور اس سے زیادہ عزیز چیز اس کے نزدیک اور کوئی نہیں ہوتی؛ مرد کا معاملہ مختلف ہے، لیکن بیوی کا جو تعلق ہوتا ہے وہ بالکل مختلف ہے۔
شادی کے بعد اس کی پوری زندگی اسی کے گرد گھومتی ہے تو جو بیوی کا تعلق ہوتا ہے اس کو تبتل کہا جاتا ہے ۔وہ بیوی جو ہے وہ اپنے آپ کو خالص کر لیتی ہے نکاح میں داخل ہونے کے بعد شوہر کے لیے ۔اللہ تعالیٰ نے کہا کہ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلاً ……اللہ کے لیے تبتل اختیا رکرو ایسے اللہ کے ہوجاؤ کہ بس اللہ ہی کے ہو جاؤ۔اور تمہارا انگ انگ رخ رخ اللہ کی طرف ہو اللہ کے سوا کسی اور کی طرف نہ ہو ۔تو پیارے بھائی! یہ پہلی چیز ہے ۔اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو اپنی نیتیں خالص کرنے کی توفیق دے اور اللہ تعالیٰ اس گفتگو کرنے اور اس گفتگو سننے کو بھی اپنے لیے خالص کرنے کی توفیق دے ، آمین۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
1 سورۃ الفرقان: ۲۳
2 سورۃ النساء: ۸۴



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



