نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home میدانِ کارزار سے……

پاکیزہ لہو

یہ تحریر شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ کی اہلیہ کی ہے جس کا ترجمہ برادر قاری داؤد غوری نے کیا ہے

by امیمہ حسن احمد
in اکتوبر 2020, میدانِ کارزار سے……
0

صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی روحانی اولاد پر بیتنے والے حالات کی کہانی، جو آپ کو آج سے چودہ صدیاں پیش تر لے جائے گی اور سچ یہ ہے کہ یہ کہانیاں عالمِ اسلام میں تاریخ کے ہر ورق پر، ہر دن ملیں گی، بس لکھنے اور پڑھنے والے چاہییں!


سنہ ۱۹۹۶ء ،جب مجاہدین پر ساری دنیا تنگ ہوچکی تھی، ہر در سے اللہ کے یہ سپاہی ٹھکرائے جارہے تھے، ایسے میں ایک زمین کو اللہ نے مجاہدین کے لیے کھول دیا۔افغانستان میں امارت اسلامیہ امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد کی زیرِ قیادت قائم ہوئی۔ امت کے بہت سے جوانوں نے جوق در جوق اس مبارک سرزمین اور اس کی مجاہد قوم کی طرف ہجرت کی۔ایک ایسی قوم کہ جس کے رگ و خون میں جہاد دوڑتا ہے۔ اس قوم نے مجاہدین کو دل و جان سے مرحبا کہا، ان کا بہترین اکرام کیااور مہمان نوازی کا حق ادا کیا۔ ہم نے جو زمانہ، امارت اسلامیہ کے سائے تلے افغانستان میں گزارا،وہ یقیناً ہماری زندگی کا بہترین دور تھا۔

لیکن امریکہ اور اس کے حواریوں کو عرب اور افغان مجاہدین کی ایسی اجتماعیت کب قبول تھی؟ اس سے پہلے بھی جب یہ جمع ہوئے تھے تو اللہ کی مدد و نصرت سے انہوں نے روس کو ذلیل و خوار کر کے افغانستان سے مار بھگایا تھا۔ اب کی بار امارت اسلامیہ کے سائے تلے، مکمل آزادی کے ساتھ، یہ خود کو اور اپنی نسلوں کو یہود ونصاریٰ اور ان کی کٹھ پتلی حکومتوں کے خلاف جنگ کے لیے تیار کر رہے تھے۔ جی ہاں! یہ اسی امریکہ کے خلاف تیار ہورہے تھے جس نے بلادِ اسلامیہ کو ظلم و فساد سے بھر دیا، ان کے وسائل لوٹے، ان کے لوگوں کو بے عزت کیا۔پس امریکہ کو اس وقت تک چین نصیب نہ ہوا جب تک اس نے امارتِ اسلامیۂ راشدہ کو ڈھا نہ دیا۔

پس انہوں نے امارت اسلامیہ پر حملہ کرنے کی خاطر منصوبہ بندی شروع کردی اور گیارہ ستمبر کے واقعات کو دلیل بنا کر امارت اسلامیہ پر صلیبی یلغار کر دی۔ (انہوں نے اس بات کی تشہیر اس حد تک کی) کہ ساری دنیا چیخ اٹھی کہ ’’امریکہ کا حق ہے کہ وہ گیارہ ستمبر کا بدلہ لے‘‘۔ اور لوگ یہ بات بھول گئے یا انہیں بھلا دی گئی کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کا اصل سبب امریکہ کا مسلمانوں پر ظلم و ستم، ہمارے مظلوم فلسطینی بھائیوں پر صبح وشام ظلم کرنے والے اسرائیل کی پشت پناہی اور بلادِ اسلامیہ پر اپنے کٹھ پتلی حکمران مسلط کرنا تھا۔ غرض گیارہ ستمبر کی اصل وجہ امریکہ کا مسلمان ملکوں پر قبضہ اور ان کےعوام کو پیسنے کا شوق تھا۔

جب افغانستان پر ظالمانہ حملہ شروع ہوا تو میں اپنے پہلے شوہر ’’طارق انور سیّد رحمہ اللہ‘‘ کے ساتھ کابل میں رہائش پذیر تھی۔ میرے شوہر، مجھے اور میرے شوہر کی دوسری اہلیہ ’’سیّدہ احمد حلاوہ‘‘ کو علی الصباح ہی کابل سے نکلنا پڑا۔ سیّدہ حلاوہ کے ساتھ ان کے پانچ بچے بھی تھے۔ آپ اس سے پہلے ’’شہید احمد نجار رحمہ اللہ‘‘ کی اہلیہ رہ چکی تھیں۔ ان کی شہادت کے بعد آپ کی شادی (میرے پہلے شوہر )طارق انور رحمہ اللہ سے ہوئی۔ دوسری شادی کے آٹھ مہینے بعد طارق انور بھی شہید ہوگئے۔

اس سفر میں ہمارے ساتھ’’ نصر فہمی نصر ‘‘ اور ان کی اہلیہ ’’ام آیات سعدیہ بیومی‘‘ بھی اپنے بچوں کے ساتھ شامل تھیں۔ اللہ اس شہید خاندان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔ام آیات سعدیہ رحمہا اللہ اس سے پہلے نزیہ نصحی راشد رحمہ اللہ کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک تھیں۔ اُن کی شہادت کے بعد آپؒ کی شادی نصر فہمی نصر رحمہ اللہ سے ہوئی اور پھر آپ دونوں اکٹھے ہی شہید ہوگئے۔

اسی طرح ’’ام فاطمہ عزہ انور نویر‘‘ رحمہااللہ بھی اپنے چار بچوں سمیت ہماری رفیقۂ سفر تھیں۔ آپ رحمہا اللہ شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ کی اہلیہ تھیں۔ جبکہ شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ اُس وقت شیخ اسامہ رحمہ اللہ کے ساتھ تورہ بورہ میں تھے۔

’’عبد اللہ محمد سیّد‘‘ بھی اپنی اہلیہ ’’خدیجہ بنت شیخ ابو اسماعیل احمد بسیونی دویدارؒ‘‘اپنے بیٹے اور دو چھوٹی بیٹیوں سمیت ہمارے ساتھ شریک سفر تھے۔ اللہ اس شہید خاندان پر بھی اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔

ہم کابل سے سیدھا خوست گئے، وہاں ہمارا قیام’’ابو حمزہ جوفی رحمہ اللہ ‘‘کے گھر ہوا۔ ہم نے وہاں تقریباً ایک ہفتہ گزارا۔ اس کے بعد ہم وردگ کی طرف چلے گئے۔ جبکہ ام فاطمہ اور خدیجہ اپنے بچوں سمیت خوست ہی میں رہیں۔ وردگ میں ہم شیخ استاد یاسر رحمہ اللہ کے گھر میں تقریباً دو ماہ تک رہے۔ اس کے بعد ہم ’چرخ ‘ میں ایک بڑے سے گھر میں رہے۔ وہاں میں، سیدہ حلاوہ، ام آیات، ام فاطمہ عزہ انور نویراور سارے بچے پھر سے اکٹھے ہوگئے۔ ہم سب کے شوہر بھی ہمارے ساتھ ہی تھے۔ لیکن شیخ ایمن بدستور تورہ بورہ میں تھے۔

وادیٔ چرخ میں تقریباً دو سے تین ہفتے ہمیں چین سے گزارنے کا موقع نصیب ہوا ۔ لیکن حالات بہت تیزی سے بدل رہے تھے۔ہر دن کی تبدیلی سے کئی کئی اضلاع شمالی اتحاد کے قبضے میں جارہے تھے۔ چرخ، صوبۂ لوگر کا ایک ضلع ہے۔ جب لوگر کا صدر مقام دشمن کے قبضے میں گیاتو میرے شوہر اور دیگر مجاہد ساتھیوں کو خطرہ محسوس ہونے لگا، کیونکہ دشمن ہمارے بہت نزدیک پہنچ چکا تھا۔ چنانچہ ان سب نے قندھار جانے کا سوچا۔ ظہر کے وقت جب ہم نکلنے لگےتو علاقے والوں نے ہمیں بتایا کہ قندھار کے راستے کو دشمن کے ٹینک گھیرے میں لے چکے ہیں اور فضا میں امریکی طیارے گردش کر رہے ہیں۔ جو بھی اس راستے پر جاتا ہےاس پر طیاروں سے بمباری کی جاتی ہے۔

جب ہم گاڑیوں میں بیٹھ گئے تو بہت سے علاقے والے ہمیں قائل کرنے لگے کہ ابھی مت جاؤ، ان شاء اللہ مشکل کی کوئی بات نہیں، ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔

لیکن دشمن کے طیارے بہت شدت سے ہمارے سروں پر منڈلا رہے تھے اور حالات خیر کی کوئی بھی خبر دینے سے عاجز تھے۔ ایسے میں تمام ساتھیوں نے یہی طے کیا کہ ابھی تھوڑی دیر ٹھہر جاتے ہیں، رات میں خوست کی طرف چلے جائیں گے ۔

رات میں ہم نے تھوڑا بہت سامان اٹھا یا اور اپنی گاڑیوں میں آکر بیٹھ گئے۔ پہلے سفر کی روداد میں جن افراد کا تذکرہ میں نے پچھلی سطور میں کیا ہے، اس سفر میں بھی وہی لوگ ہمارے ساتھ تھے۔ جس ویگن میں ہم سوار تھے اسے میرے (سابق) شوہر طارقؒ چلا رہے تھے۔ ہماری گاڑی میں میرے شوہر کی دوسری اہلیہ سیدہ حلاوہ بھی اپنے پانچ بچوں کے ساتھ موجود تھیں۔ دوسری ویگن کو نصر فہمی نصرؒ چلا رہے تھے، ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اور سات بچے تھے اور شیخ ایمن حفظہ اللہ کی اہلیہ اور ان کے چار بچے بھی ان ہی کے ساتھ تھے۔ اسی طرح ایک اور گاڑی کو محمد سیّدؒ چلا رہے تھے اور ان کی اہلیہ خدیجہ بنت ابو اسماعیل اور ان کے بچے بھی ان کے ساتھ تھے۔

رات کے آٹھ بجے ہم نے سفر شروع کیا ۔یہ نومبر ۲۰۰۱ ء کی راتیں تھیں، موسم ٹھنڈا تھا۔ ہمارا مختصر سا قافلہ انتہائی تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا۔ جا بجا کھڑے طالبان، عوام کو شمالی اتحاد کے مقبوضہ راستوں سے خبردار اور محفوظ راستے کی نشاندہی کر رہے تھے۔ ہمیں ہر پل دھڑکا لگا ہوا تھا۔ سارا راستہ اللہ کا ذکر ہماری زبانوں پر جاری تھا۔ سروں پر سے گزرتے جیٹ طیاروں کی آوازوں سے ہمارے کان پھٹ رہے تھے۔ خیر! اللہ اللہ کرکےجب ہم’ گردیز‘ پہنچے تو سامنے ہمیں طالبان کی بھاری نفری نظر آئی۔ انہوں نے ہم سے کہا کہ ’’ خوست مت جاؤ، خوست کا راستہ بند ہوچکا ہے‘‘۔

رات گزارنے کے لیے ہم گردیز ہی میں واقع شیخ مولوی جلال الدین حقانی رحمہ اللہ کے گھر چلے گئے۔ یہ ایک بہت بڑا گھر تھا؛ دراصل یہ مہمانوں کے ’استقبالیہ گھر یا مہمان خانے‘1مجاہدین بالعموم استقبالیہ گھر کو ’مضافہ‘ کہتے ہیں۔ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ہم سب خاندان اور مجاہد ساتھی دوسری منزل پر ٹھہرے۔ عورتیں، بچیاں اور چھوٹے بچے ایک کمرے میں، جبکہ مرد حضرات اور بڑے بچے ہمارے ساتھ والے کمرے میں چلے گئے۔ ان دونوں کمروں کے درمیان ایک لمبی سی راہداری تھی جس میں غسل خانہ بنا ہوا تھا۔

جیٹ طیاروں کی آوازیں کان پھاڑ رہی تھیں۔ ایسے میں ایک بہن نے خدیجہ بنت ابو اسماعیل سے کہا کہ ’’ اگر تم برا نہ مناؤ تو اپنے شوہر سے جاکر ان طیاروں کی بابت پوچھو‘‘۔ خدیجہ پوچھنے کے لیے چلی گئی ۔ اس کے شوہر نے کہا: ’’ان شاء اللہ، اللہ خیر کرے گا، بس اللہ پر توکل کرو!‘‘۔ اس نے واپس آکر ہم سب کو جب یہ بات بتائی تو ام آیات رحمہا اللہ کہنے لگیں: ’’ عین ممکن ہے کہ اللہ ہمیں شہادت دے دے۔ میں تو جنت میں جاکر اپنے ابو سے ملوں گی‘‘۔ اور ان کی خوشی چھپائے نہ چھپتی تھی۔ پھر کہنے لگیں: ’’اللہ کرے ہم سوتے ہوئے شہید ہو جائیں!‘‘۔ ان کی بیٹی ’آیات‘مجھ سے باتیں کرنے لگی۔ میں نے جب اس کی طرف دیکھا تو وہ مجھے پہلے سے بہت زیادہ خوبصورت معلوم ہوئی۔ میں نے کہا:’’تم بہت خوبصورت ہوگئی ہو‘‘۔ اس نے ہنستے ہوئے مجھ سے کہا: ’’خالتی (اے میری پیاری خالہ)! آپ ہمیشہ مجھے خوبصورت بناتی رہتی ہیں‘‘۔ وہ قرآن حفظ کیا کرتی تھی ۔ اس کی آواز بہت پیاری تھی خصوصاً جب وہ تلاوت کرتی تھی۔ اے اللہ ! ان سب کو اپنی بارگاہ میں قبول کرلے۔

ہم مغرب اور عشاء کی نماز پہلے ہی جمع کر کے پڑھ چکی تھیں لیکن خدیجہ بنت اسماعیل نے ابھی تک نمازنہیں پڑھی تھی۔ خدیجہ نماز کے لیے کھڑی ہوگئی جبکہ اس کے دونوں ننھے منے بچے اس کے پاؤں سے لپٹے ہوئے تھے۔ ہم سونے کے لیے بستر وغیرہ بچھانے لگیں کہ اچانک طیاروں کی گھن گرج غائب ہوگئی۔ ایک لمحے کو خاموشی سی چھاگئی۔پھر ایک دم ہی ہم پر میزائل آکر لگا۔چھت کا سارا ملبہ ہمارے اوپر گرگیا……اور ہم سب دب گئیں۔

یہ لمحہ بہت خوفناک تھا۔ سب سے پہلے ام آیات دم توڑ گئیں اس کے ساتھ ہی آپ کی دو بیٹیاں آیات اور عائشہ بھی شہید ہوگئیں (دراصل عائشہ اور حفصہ دو جڑواں بہنیں تھیں، عائشہ تو شہید ہوگئی البتہ حفصہ بچ گئی)۔ام آیات کا چھوٹا بیٹا محمد ملبے کے نیچے سے مجھے چیخ چیخ کر کہنے لگا: ’’خالتی! مجھے نکالیں…… مجھے نکالیں‘‘۔میں نے اپنے اوپر سے تھوڑا بہت ملبہ ہٹاتے ہوئے کہا: ’’میری جان! میں خود بھی بالکل نہیں ہل سکتی‘‘۔ دوسری جانب سے (شیخ ایمن کی اہلیہ) ام فاطمہ مجھے پکار رہی تھیں: ’’میرے سینے سے یہ چٹان ہٹا دو‘‘۔ میں نے روتے ہوئے انہیں کہا: ’’میں خود بھی نہیں ہل پارہی‘‘۔آہستہ آہستہ ان دونوں کی آوازیں ماند پڑتی گئیں اور ان کی روحیں پرواز کرگئیں۔ اللہ ان کو قبول فرمائے۔

جب میزائل لگا تھا تو اس وقت خدیجہ بنت ابو اسماعیل حالت نماز میں تھی۔ دھماکے سے وہ میرے پاؤں پر گرگئی تھی اور پھر ہمارے اوپر چھت گر گئی۔ مجھے ملبے کے اندر سے آپ کی گھٹی گھٹی سانسوں کی آواز آرہی تھی۔ میں نے آپ کے منہ پر پڑی رضائی ہٹانے کی کوشش کی کہ شاید رضائی کی وجہ سے آپ کا سانس گھٹ رہا ہو۔ لیکن میرا بایاں کندھا ملبے نے مضبوطی سے دبایا ہوا تھا اس لیے کچھ فائدہ نہ ہوسکا۔

میرے برابر ہی سیّدہ حلاوہ بھی اپنے دونوں چھوٹے بچوں سمیت چھت کے نیچے دبی ہوئی تھیں۔ ان میں سے تسنیم کی عمر ڈھائی سال تھی جبکہ صلاح تقریباً چار سال کا تھا۔ (صلاح رحمہ اللہ تقریباً تین سال قبل افغان مرتد فوج کے خلاف ایک کارروائی میں شہید ہوا ہے۔ اس کی شہادت کے وقت عمر بیس سال تھی)۔

الحمد للہ ہمیں اللہ نے بالکل بچا یا ہوا تھا ۔ در اصل کمرے میں ایک بڑی سی میز موجود تھی دھماکے سے وہ ترچھی ہو کر ہمارے اوپر گرگئی، اس طرح اللہ نے اس میز کو ملبے کے ایک بڑے حصے سے ہمارے لیے ڈھال بنا دیااور ہم مکمل طور پر ملبے کے نیچے دبنے سے بچ گئیں۔

اچانک مجھے ملبے کے اوپر کسی کے چلنے کی آواز آئی۔ ہمیں بہت حیرت ہوئی۔ ملبے میں ایک چھوٹا سا سوراخ تھا۔ میں نے اس میں سے پکار کر کہا : کون ہے؟تو پتہ چلا کہ کہ وہ تیرہ سالہ ہاجر اور گیارہ سالہ ایمان تھیں۔ یہ دونوں ام آیات کی بیٹیاں تھیں۔ ان کے علاوہ شیخ ایمن کی گیارہ سالہ بیٹی خدیجہ بھی از خود ملبے سے نکلنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔

ہم نے ان کو آواز دی کہ کیا تم ہمارے لیے سوراخ کھول سکتی ہو؟ لیکن وہ یہ کام نہیں کر سکتی تھیں۔

تھوڑی دیر بعد ہمیں مَردوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں جو عربی میں آوازیں دے رہے تھے: ’’کوئی ہے؟…… کوئی سن رہا ہے؟‘‘

جو بچیاں ملبے سے نکل چکی تھیں وہ مردوں کو جواب دینے لگیں۔ لیکن اسی اثنا میں جیٹ طیارے پھر سے آگئے۔مرد جلدی سے پیچھے ہٹ گئے۔ جیٹ کے علاوہ باقی سب آوازیں خاموش ہوگئیں۔ اتنے میں طیارے نے غوطہ کھایا اور ایک اور میزائل داغ ڈالا۔ہماری سہمی ہوئی بچیاں اندھیرے آسمان میں اپنی آنکھوں سے میزائل کی چمک کو آتا دیکھ رہی تھیں۔ دہشت کے مارے انہوں نے اپنے چہرے ایک ٹوٹی پھوٹی دیوار کی طرف کردیے۔ میزائل سیدھا باقی ماندہ چھت پر آکر لگا۔ اس کے گرم گرم شعلے ہمیں اندر داخل ہوتے محسوس ہوئے۔ لیکن اُس میزائل نے وہ کام کیا جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے تھے، اور وہ یہ کہ ملبے کا ایک بڑا حصہ ہم پر سے ہٹ گیا اور ہم تھوڑی بہت حرکت کرنے کے قابل ہوگئے……اب میں اپنا پہلو بدل سکتی تھی۔

میزائل کی دھمک نے باہر نکلی ہوئی بچیوں کو پورے زور سے دیوار پر دے مارا ۔ لیکن الحمد للہ کسی کو کوئی زخم نہ آیا۔ اس دوسرے میزائل کی وجہ سے شیخ ایمن کی بیٹی نبیلہ کے اوپر سے ملبہ ہٹ گیا اور وہ باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔ طالبان پھر سے آگئے اور وہ باہر نکلی ہوئی بچیوں کو کسی محفوظ جگہ پر لے گئے۔ پھر ہم پر سے ملبہ اٹھانے لگے۔ سب سے پہلے انہوں نے حفصہ بنت نصر فہمی کو نکالا۔ اس کو فوراً ہلالِ احمروالوں کی طرف لے گئے۔ پھر محمد بن نصر فہمی (چار سالہ)کو نکالا اور اس کو بھی لے کر وہ ہسپتال کی طرف بھاگے۔ لیکن محمد کو بہت گہرے زخم لگے تھے۔ وہ چند گھنٹوں بعد ہی شہید ہوگیا۔

اس کے بعد طالبان ملبے کے بڑے بڑے پتھر توڑ کر ہمیں نکالنے کی کوششیں کرنے لگے۔ اللہ کا ذکر ان کی زبانوں پر جاری تھا، ہمیں بھی وہ ذکر کرنے کی تلقین کر رہے تھے۔ انہوں نے ہم سے کہا کہ اس ذکر کا کثرت سے ورد کرتی رہو: لا إله إلا الله الحليم الكريم، لا إله إلا الله العظيم الحليم، لا إله إلا الله رب السموات ورب الأرض رب العرش الكريم۔

بالآخر انہوں نے ملبے میں چھوٹا سا سوراخ کر لیا جس میں سے وہ سیّدہ حلاوہ کے بچوں صلاح اور تسنیم کو نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ ان دونوں کو بھی فوراً ہلالِ احمر کے ہسپتال بھجوایا گیا۔ پھر دوبارہ سے وہ سوراخ بڑا کرنے کی کوشش میں جت گئے۔ تھوڑی دیر بعد سیدہ حلاوہ بھی باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئیں، لیکن میرے جسم کا تھوڑا سا حصہ تاحال ملبے میں دھنسا ہوا تھا۔ شیخ خلیل حقانی نے میری طرف ہاتھ بڑھا کر کہا: ’’ میری بہن اپنا ہاتھ دیں‘‘۔ مجھے تھوڑا ترددسا ہوا، اسی وقت فضا میں پھر سے طیارے آگئے ۔ میں نے سمجھا کہ شاید یہ پھر سے بمباری کریں گےاس لیے میں نے باہر نکلنے کی کوشش ترک کر دی اور پیچھے ہوگئی، کہ شاید میں بھی انہی شہدا کے ساتھ شہید ہوجاؤں! ایسے میں شیخ خلیل حقانی نے چیخ کر کہا: ’’ میری بہن! جلدی کریں طیارے گھوم رہے ہیں‘‘۔پس میں نے ان کو ہاتھ دے دیا۔ انہوں نے انتہائی سرعت اور قوت سے کھینچ کر مجھے ملبے سے باہر نکال دیا۔ میں جب باہر نکلی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ میری محبوب اور پیاری بہن سیّدہ حلاوہ ادھر ہی کھڑی میرے نکلنے کا انتظار کر رہی تھیں۔ اللہ جزائے خیر دے طالبان کو انہوں نے فوراً ایک بڑی سی گاڑی میں ہمیں بٹھایا اور ہمیں کہا کہ گھبرانے کی بات نہیں ہے ان شاء اللہ ہم آپ کو محفوظ جگہ پر لے کر جائیں گے۔

سارا راستہ ہم ان سے پوچھتے رہے کہ ہمارے جو بچے بچ گئے تھے وہ کہاں ہیں؟ ہماری بیٹیاں کہاں ہیں؟ وہ ہمیں سیدھا ہلالِ احمر کے ہسپتال لے کرگئے۔وہاں سیّدہ حلاوہ کے بچوں، صلاح اور تسنیم کی مرہم پٹی کی جارہی تھی۔ ان کے ساتھ ہی نصر فہمیؒ کی بیٹی حفصہ بھی تھی۔ سیّدہ حلاوہ نے روتے ہوئے اپنے دونوں بچوں کو اپنی آغوش میں بھینچ لیا ۔ میں نے بھی روتے ہوئے حفصہ کو اپنی بانہوں میں لے لیا۔ ساتھ کھڑے ڈاکٹر نے پوچھا کہ کیا یہ تمہاری بچی ہے؟ میں نے (فرطِ محبت سے) کہا : جی!

پھر ہم وہاں سے فوراً دیگر بچیوں کی طرف گئے۔ ہم ان کے حوالےسے بہت پریشان تھے ۔ رات کےتقریباً دو بج رہے تھے۔طالبان نے ہمیں ایک بڑی سی ویگن میں بٹھایا۔ ہم گاڑی میں بیٹھے بچیوں کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ ہر گھر پر گاڑی روک کر بچیوں کا پتہ کرتے لیکن وہ سب انکار کردیتے۔ یہ دیکھ کر ہمارا غم بڑھتا جاتا اور ہم مزید سے مزید روتی جاتیں۔ان کی تلاش میں ہم نے ایک طویل راستہ طے کر لیا تھا۔ بالآخر کچھ لوگوں سے ہمیں اس گھر کا پتہ چل گیا، جس گھر میں بمباری کے بعدمقامی لوگ بچیوں کو لے گئے تھے۔ہماری گاڑی اس گھر پر جاکررُکی، ان لوگوں نے کہا کہ اندر آجائیے آپ کی بچیاں یہیں پر ہیں۔ ہم دونوں نہایت پریشان حال تھیں۔ باہر سے ہی پکارے جارہی تھیں: ہاجر ! ایمان ! نبیلہ! خدیجہ!

اچانک ہمیں بچیوں کی آواز یں سنائی دیں۔ وہ دوڑتی ہوئی ہمارے پاس آئیں اور کہنے لگیں : ’’أین أمي؟ أین أبي؟ أین إخواننا؟ (میری امی کہاں ہیں؟میرے ابو کہاں ہیں؟ ہمارے بھائی کہاں ہیں؟)

ہم نے کہا :’’ پریشان مت ہو ان شاء اللہ وہ آتے ہی ہوں گے‘‘۔

ہم پوری رات اسی انتظار میں رہیں کہ شاید اللہ نے باقیوں کا بچا لیا ہو۔ مجھے اس بات کی قوی امید تھی کہ مردوں یا بڑے بچوں میں سے کوئی نہ کوئی تو ضروربچا ہوگا۔ اس آس سے میرے دل کو کچھ ڈھارس سی بندھی ہوئی تھی، لیکن وہ سب کے سب اللہ کی راہ میں قربان ہوچکے تھے …… شہید ہوچکے تھے…… اپنے رب کے پاس ایک عظیم منزل پاچکے تھے۔ نحسبھم کذالک واللہ حسیبھم۔

جیسے ہی صبح ہوئی تو دیگر عرب مجاہدین بھی اطلاع پا کر پہنچ گئے۔ انہوں نے ہم سے کہا کہ چلیں ہمیں اس جگہ سے نکلنا چاہیے۔ ہماری حالت انتہائی قابلِ رحم تھی، پاؤں چپلوں سے خالی اور ہمارے کپڑے بارود، خون اور بچوں کے پیشاب سے لتھڑے ہوئے تھے!

ہمارے ساتھ شیخ ایمن کی چھوٹی بیٹی عائشہ بھی تھی، اس کو بھی ملبے سے نکالا گیا تھا۔ اس کی دونوں ٹانگیں بری طرح زخمی ہوچکی تھیں…ایک تو ٹوٹ چکی تھی جبکہ دوسری ٹانگ زخمی تھی۔ اُس کو ہسپتال بھی لے جایا گیا تھااور اس کی ٹانگ باندھ دی گئی تھی۔ اس کو لے کر ہم خوست کی طرف چل پڑے۔ راستے میں ایک جگہ ہمیں بہت سی گاڑیاں کھڑی نظر آئیں۔ ہم نے رک کر پوچھا کہ کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ راستہ بند ہے، آگے نہیں جایا جاسکتا۔ مجاہد ساتھیوں نے راستے میں ہی واقع ایک گھر پر ہمیں اتارا۔اُدھر کھڑی گاڑیوں میں کچھ اور عرب خاندان بھی تھے (جب ہم اتریں تو انہوں نے ہمیں پہچان لیا لیکن) ہماری حالت دیکھ کر وہ پوچھنے لگے: تم لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ انہیں گزشتہ رات پیش آئے واقعے کی کچھ خبر نہ تھی۔ جب ہم نے اپنی داستان انہیں سنائی تو انہیں شدید دھچکا لگا اور وہ سکتے میں آگئے۔

عائشہ بنتِ شیخ ایمن کے لیے انہوں نے فوراً دوا کا بندوبست کیا لیکن ہمیں محسوس ہوا کہ اس بے چاری کا سر کچھ پھول سا گیا ہے، ہم کھٹک گئیں۔ وہ معصوم بچی بے ہوشی کے عالم میں، امی! امی! پکاررہی تھی۔ اس کی دونوں بہنیں اس کی خدمت کے لیے اس کے سرہانے ہی کھڑی رہیں۔ رات میں اچانک وہ اٹھی اور رونا شروع کردیا۔ میں اور اس کی بڑی بہن نبیلہ دونوں بھاگ کر اس کے پاس پہنچیں۔ اسے خون بھری الٹیاں آرہی تھیں۔ہمیں بہت پریشانی لاحق ہوئی۔

صبح رمضان المبارک کا پہلاروزہ تھا۔ صبح ہوئی تو ہم نے ساتھیوں سے کہا کہ عائشہ کی حالت انتہائی نازک ہے۔ انہوں نے کہا بس ہم تھوڑی دیر میں ہی اس کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا بندوبست کرتے ہیں۔ لیکن جس گھر میں ہم ٹھہرے تھے، اُن لوگوں نے ہم سب کو گھر سے باہرنکال دیا…… اس خوف سے کہ کہیں ہماری وجہ سے ان کے گھر پر بھی بمباری نہ ہو جائے!

سارا دن ہم اُس پہاڑی راستے کی سڑک کے کنارے ہی بیٹھی رہیں۔ کچھ دور ہمیں ایک اکیلا کمرہ نظر آیا۔ ہم نے عائشہ کو اُدھر جا کر لِٹا دیا لیکن اُسی گھر کی عورت وہاں بھی چیختی چلاتی پہنچ گئی کہ ’’یہ کمرہ ہمارا ہے !نکل جاؤ یہاں سے! ‘‘

ہم نے اس سے کہا کہ ہم صرف چھوٹے بچوں کو یہاں بٹھا رہی ہیں۔ بالآخر اس نے انتہائی بد دلی سے ہمیں اجازت دے دی۔

جب ظہر کا وقت ہوا تو ہم پہاڑ پر پانی تلاش کرنے لگے، دور ہمیں ایک ہینڈ پمپ نظر آیا۔ اس سے ہم نے وضو کر کے ظہر اور عصر جمع کر کے پڑھی۔ عصر کے وقت ساتھی گاڑیاں لے کر ہمیں دوسری جگہ لے جانے کے لیے پہنچ گئے۔ انہوں نے ہم سے کہا کہ تیار ہوجائیےسفر طویل ہے۔ ہم دوبارہ سے وضو کرنے کے لیے پہاڑ سے نیچے اتریں۔ جب ہم واپس آئیں تو ساتھیوں نے ہم سے کہا کہ جلدی سے گاڑیوں میں بیٹھ جائیے۔ ہم نے کہا کہ عائشہ اوپر کمرے میں زخمی حالت میں پڑی ہے ہم اس کو لے کر آتی ہیں۔ تو ایک ساتھی نے کہا کہ میں اسے لے آتا ہوں۔ آپ لوگ میری اہلیہ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھیں۔

ہم گاڑیوں میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگیں، لیکن ساتھی کو گئے بہت دیر ہوگئی۔ اچانک ہمیں وہ واپس آتا دکھائی دیا……لیکن اس کے ساتھ عائشہ نہ تھی!

ہم نے حیرت سے اس کی اہلیہ سے کہا: دیکھو!بچی زخمی ہے، اور ہمارا اُس کےساتھ ہونا ضروری ہے، کہاں ہے وہ؟‘‘

ساتھی نے آتے ساتھ ہی ہمیں تسلیاں دینا شروع کردیں:’’ آپ لوگ اہلِ صبر ہیں، عائشہ چھوٹی سی ہے اور اسے انتہائی خطرناک زخم لگے تھے۔ اللہ نے کرم کیا کہ وہ اپنی ماں سے جا ملی ہے۔ پس اب وہ آرام سے ہوگی۔ یہ اس کی خوش بختی ہے کہ آج جمعہ ہےاور رمضان المبارک کا پہلا روزہ ہے‘‘۔

بس ہمارے غموں سے بھرے دل پھٹ پڑے، ہم پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع ہوگئیں۔ وہ ساتھی ہمیں اللہ کی یاد دلاتا رہا، اس کی اہلیہ بھی روئے جارہی تھی۔

مغرب کی اذانیں راستے میں ہی ہوئیں۔ ہم نے کھجور اور پانی سے روزہ افطار کیا، اور سفر جاری رکھا یہاں تک کہ ہماری منزل ہمیں دکھائی دینے لگی۔ دراصل وہ پہاڑ کی چوٹی پرمٹی کا بنا ایک گھر تھا۔ ہم نے گاڑیاں پہاڑ کے نیچے ہی کھڑی کیں۔ پھر پیدل پہاڑ پر چڑھنا شروع کردیا۔ یہ چڑھائی بہت پُر مشقت تھی، اس میں بھی ہمیں اچھا خاصا وقت لگا۔ جب ہم گھر پہنچے تو ہمارا استقبال ایک ایسےوسیع و عریض کمرے میں کیا گیاجہاں قالین بچھا ہوا تھا، بخاری2افغانستان اور قبائل میں عموماً کمرہ گرم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی انگیٹھی کو ’بخاری‘ کہتے ہیں۔ جل رہی تھی اورکمرہ گرم تھا۔ انہوں نے فوراً ہمیں کھانا پیش کیا اور ہمارا بہترین اکرام کیا۔

صاحبِ بیت کہنے لگے کہ ’’میں، میرے اہلِ خانہ، میرا گھر اور جو کچھ بھی میری ملکیت میں ہے، وہ سب تم لوگوں پر قربان ہو‘‘۔

میرا شہید بھائی اسامہ رحمہ اللہ گیارہ ستمبر کے کچھ دنوں بعد ہی برطانیہ سے قندھار پہنچا تھا۔ میں ابھی تک اس سے نہیں مل پائی تھی۔ جب اسے اس حادثے کی اطلاع ملی تو وہ اسی گھر میں مجھ سے ملنے آیا، اور میرے ساتھ تین دن تک رہا۔

ساتھیوں کے درمیان یہی طے پایا کہ تمام عورتوں اور بچوں کو پاکستان بھجوا دیتے ہیں۔چنانچہ ہم پاکستان چلی گئیں۔ یہ بھی ایک لمبا اور کٹھن سفر تھا۔ ہمارے ساتھ اس سفر میں پاکستانی مجاہدین تھے۔ انہی میں سے ایک کے گھر میں ہم رہیں۔ لیکن پاکستان کے حالات انتہائی خطرناک تھے۔ ایک ایک کر کے ان کے اکثر ساتھی گرفتار ہوگئے۔ ان ساتھیوں کو ہماری فکر لاحق ہوئی، پس وہ ہمیں صحرا میں تنکوں سے بنی ایک جھونپڑی میں لے آئے۔ہم اس جھونپڑی میں ایک عرصے تک رہیں۔ وہاں ہم نے زندگی کا صحیح سروائیول (Survival) سیکھا۔

پھر اللہ نے اپنا کر م کیا اور عرب مجاہدین کو ہمیں وہاں سے نکالنے کے لیے بھیج دیا۔ پھر ہم ایران چلی گئیں۔وہاں میں دوبارہ اپنے بھائی اسامہ رحمہ اللہ سے ملی۔ اس کے کچھ عرصے بعد ہم ایران میں گرفتار ہوگئیں۔ ڈھائی سال بعد ہم قید سے فرار ہو کر وزیرستان پہنچے۔

یہ قصہ طویل ہے اور ابھی باقی ہے، لیکن میں اسے طول دے کر قارئین کو بور نہیں کرنا چاہتی۔ دراصل مجاہدین کی زندگیاں انہی قصّوں اور مصیبتوں سے بھری ہوئی ہیں۔ یہ مشکلات اور مصیبتیں مجاہدین پر آتی ہی رہتی ہیں،یہاں تک کہ اللہ انہیں فتح دے دے یا وہ شہادت پاجائیں۔ میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ ہمیں ثابت قدم رکھے ،ہمیں شہادت دے،ہمیں قبول کرلے اس حال میں کہ وہ ہم سے راضی ہو، اور وہ رب ہمیں اور ہماری تمام مسلمان بہنوں کو قید سے بچائے۔

آخر میں مَیں اپنی مسلمان، مجاہد، مہاجر اور مرابط بہنوں کو یہ مختصر سا پیغام دینا چاہوں گی:

اللہ کے لیے صبر اور صبر…… ثابت قدمی اور ثابت قدمی! ہمیں جاننا چاہیے کہ فتح صبر کے ساتھ ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:

’’من يتصبر يصبره الله ومن يستغن يغنه الله ومن يستعفف يعفه الله وما أجد لكم رزقا أوسع من الصبر.‘‘ (مسندِ احمد)

’’جو کوئی (کسی کٹھن موقع پر اپنی طبیعت کو مضبوط کر کے) صبر کرنا چاہتا ہے تو اللہ اس کو صبر کی توفیق دے دیتا ہے۔ اور جو کوئی( بندوں کے سامنے )اپنی محتاجی ظاہر کرنے سے بچنا چاہتا ہے تو اللہ اس کو (بندوں سے)بے نیاز کر دیتا ہے۔ اور جو کوئی عفیف بننا چاہتا ہے (یعنی دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے اپنے آپ کو بچاتا ہے) تو اللہ اس کو سوال کی ذلت سے بچاتا ہےاور کسی بندے کو بھی صبر سے زیادہ وسیع کوئی نعمت عطا نہیں ہوئی۔‘‘ (ترجمہ از معارف الحدیث)

پس میری پیاری بہنو! اللہ کی راہ میں آنے والی مشکلات پر صبر کرنا ہمیں اپنے رب کی جنتوں میں لے جائے گا(ان شاء اللہ ) اور اللہ عزّوجل اور اس کے حبیبِ مصطفیﷺ سے جا ملوائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’حفت الجنة بالمكاره، وحفت النار بالشهوات.‘‘ (مسندِ احمد)

’’جنت سختیوں اور مشقتوں سے گھری ہوئی ہے، اور دوزخ شہوات و لذات سے گھیر دی گئی ہے۔‘‘(ترجمہ از معارف الحدیث)

اور جیسا کہ ہمارا رب فرماتا ہے:

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ وَالأنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ؀ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُواْ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ؀ أُولَـئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَـئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ؀(سورۃ البقرۃ: ۱۵۵-۱۵)

’’اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے اور (کبھی) بھوک سے (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوش خبری سنا دو۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے خصوصی عنایتیں اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہیں جو ہدایت پر ہیں۔‘‘ (ترجمہ از آسان ترجمۂ قرآن)

پس جو بھی اللہ کے راستے میں آزمایا جائے اور پھر اس پر صبر کرے اس کے لیے رحمت اور ہدایت کے راستے پر ہونے کی بشارت ہے۔ ہمیں جاننا چاہیے کہ یہ جنگ ایک طویل جنگ ہے، ایمان اور کفر کی جنگ ہے، معرکۂ حق و باطل برپا ہے۔

ہمیں اپنے بچوں کے قلوب و اذہان میں یہ بات راسخ کرنی ہے کہ مشرق سے لے کر مغرب تک دشمنانِ اسلام، ہمارے لیے شر کے علاوہ کچھ نہیں چاہتےاور وہ یہی چاہتے ہیں کہ ہم اپنا دین چھوڑ کر ان کی پیروی کرنے لگ جائیں۔ جب تک ہم اپنے دین سے چمٹے رہیں گے یہ ہمارا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ پس ہمیں اپنے بچوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھانی ہےاور ان کے دلوں میں امریکیوں اور اُن کافر و فاجر حکمرانوں سےنفرت کوٹ کوٹ کر بھرنی ہے جو اللہ کی شریعت کے بجائے اپنی خواہش اور خود ساختہ قوانین سے فیصلے کرتے ہیں، مسلمانوں پر ظلم و ستم کرتے ہیں اور ان کے وسائل لوٹتے ہیں۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

وأصلي وأسلم على سيدنا محمد وآله وصحبه أجمعين

٭٭٭٭٭


 

  • 1
    مجاہدین بالعموم استقبالیہ گھر کو ’مضافہ‘ کہتے ہیں۔
  • 2
    افغانستان اور قبائل میں عموماً کمرہ گرم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی انگیٹھی کو ’بخاری‘ کہتے ہیں۔
Previous Post

کچھ یادیں | اکتوبر 2020

Next Post

دل بدل جائیں گے تعلیم بدل جانے سے

Related Posts

چند یادیں | اگست 2023
میدانِ کارزار سے……

چند یادیں | اگست 2023

31 اگست 2023
کاش کوئی یہ میرے ماں باپ کو پہنچا دے!
میدانِ کارزار سے……

کاش کوئی یہ میرے ماں باپ کو پہنچا دے!

31 اگست 2023
میدانِ کارزار سے……

ہمیں رکنا نہیں آتا……

9 فروری 2023
میدانِ کارزار سے……

تیغوں کے سائے میں ’یہ‘ پل کر جواں ہوئے ہیں…… | دوسرا حصہ

31 دسمبر 2022
میدانِ کارزار سے……

ماما کور تہ به کلہ رازې؟

26 نومبر 2022
میدانِ کارزار سے……

چند یادیں | مئی تا جولائی 2022

31 جولائی 2022
Next Post

دل بدل جائیں گے تعلیم بدل جانے سے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مئی 2026ء
مئی 2026ء

مئی 2026ء

by ادارہ
25 مئی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version