اس تحریر میں کچھ ایسے واقعات ہیں جو مجھے کبھی نہیں بھولتے ان میں سے کچھ تو میرے ساتھ پیش آئے یعنی میں نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کچھ دوسروں سے سنے۔ یہ واقعات کسی خاص موضوع سے تعلق نہیں رکھتے؛ ان میں مجاہدین کے ایثار، بہادری، تقویٰ وغیرہ کے واقعات ہیں، کچھ انصار کے مہاجر مجاہدین کے ساتھ محبت کے قصے ہیں اور کچھ کافروں کے مظالم کی داستانیں بھی۔ بس ملے جلے واقعات ہیں ، اللہ سے دعا ہے کے وہ اس تحریر کو اپنے حضور قبول فرما لے، آمین۔ (ابرار احمد)
ناصر قریشی شہیدؒ
کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جن سے ملنے کے بعد آپ کو ان سے محبت اور اپنائیت سی ہو جاتی ہے اور یہ محبت محض رضائے الٰہی کی بنیاد پر ہوتی ہے نہ کہ دنیاوی اغراض و مقاصد کےلیے ۔ ایسے ہی افراد میں ایک ہمارے پیارے ناصر قریشی بھائی بھی تھے جنہیں میدانِ جہاد میں درویش اور جانان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ راقم کو درویش بھائی کے ساتھ کچھ عرصہ اکٹھے گزارنے کا موقع ملا۔ شہید درویش بھائی بنوں سے تعلق رکھتے تھے ۔ آپ اشداء علی الکفار اور رحماء بینہم کا عملی نمونہ تھے۔ آپ اخلاص نیت ،تقویٰ، بلند اخلاق ،صبرواستقامت، اور بہادری وشجاعت جیسی اعلیٰ صفات کا مجموعہ تھے ۔
جانان چھوٹے بڑے اسلحہ، مائن کاری وشہری جنگ کے استاد بھی تھے۔ آپ نے افغانستان میں امریکی واتحادی افواج کے خلاف بھی جہاد کیا اور ساتھ ساتھ امریکی مزدور پاکستانی خائن افواج کے خلاف بھی برسر پیکار رہے۔ ذیل میں آپ کی بہادری کا ایک واقعہ لکھا جا رہا ہے جو ان کے ساتھ شریک ساتھی نے راقم کو بتایا وہ کہتے ہیں کہ:
جانان اور میں ایک مرتبہ جنوبی وزیرستان کے علاقے محسود میں پاکستانی فوج کے کیمپ پر مائن کاری کےلیے گئے۔ ضروری سامان کے ہمراہ ہم دونوں اونچے اونچے پہاڑی سلسلے عبور کر کے فوج کے علاقے میں پہنچے۔ یہ رات کے کوئی دس بجے کا وقت ہو گا۔ جانان بھائی مائن لگانے کی جگہ کا انتخاب کرنے لگے۔ چند منٹ بعد جانان نے مجھے مائن کا سامان دینے کا سرگوشی کے انداز میں کہا۔ اب جانان بھائی آہستہ آہستہ زمین کھودنے لگے۔ چونکہ جانان کو اس کام میں مہارت تھی اس لیے سارا کام وہی سرانجام دے رہے تھے۔ اسی دوران میں نے جانان سے دشمن کے متعلق پوچھا کہ وہ کس سمت اور کتنا دور ہے؟ جانان نے انگلی سے اوپر کی طرف اشارہ کیا جب میں نے نظر اٹھا کر اوپر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ مائن لگانے کی جگہ عین پوسٹ کے نیچے ہے اور ہم عین برج کے نیچے ہیں۔’ ہم دشمن کی نظروں میں آسانی سے آسکتے ہیں‘، میں نے گھبراتے ہوے کہا ۔جانان ہلکا سا مسکرائے اور کہا یہ مزدور فوجی ہمیشہ دور دیکھتے ہیں قریب نہیں دیکھتے۔
یہ واقعہ جانان کی بہادری اور دلیری کی ایک مثال ہے۔ جانان بہادر ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی رقیق القلب بھی تھے۔
مجھےایک بار جانان بھائی کے ساتھ افغانستان کے صوبۂ زابل میں رہنے کا موقع ملا۔ یہ رمضان المبارک کا مہینہ تھااور گرمی بھی بہت زیادہ تھی۔ جانان کے ذمے کچھ ایسے کام تھے جن کے پیش نظر ان کو تقریباً ہر روز سفر پہ جانا پڑتا اور وہ بمشکل افطاری کے وقت مرکز پہنچ پاتے۔ بظاہر تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی مگر ان کا چہرہ، خشک ہونٹ اور چال ان کے تھکاوٹ سے چور جسم کی داستان سنا تی تھی۔ افطاری اور نماز مغرب سے فارغ ہونے کے بعد ساتھیوں کی گپ شپ کی محفل جمتی تو جانان کے چہرے پر ترو تازگی نمایاں ہو جاتی۔ اس محفل کی جان ہمیشہ جانان بھائی ہی ہوتے۔ نماز عشاء اور تراویح کے بعد کچھ ساتھی کمرے میں اور کچھ باہر سو جاتے۔ ایک دن مجھے مچھروں کی کثرت کے باعث نیند نہیں آرہی تھی اور میں کمرے میں جا کر لیٹ گیا۔ میں لیٹا ہی تھا کہ مجھے کمرے کے کونے سے ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز آتی محسوس ہوئی۔ غور کرنےپر معلوم ہوا کہ مصلے پر جانان بھائی عجزوانکساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے رازونیاز میں مشغول ہیں۔ دل کی نرمی کی یہ حالت تھی کہ سسکیاں رکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ جانان جو بہت مضبوط جسم کا مالک ہے، انتہائی دلیر اور نڈر ہے، دشمن پہ بہت ہی سخت ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے آگے ایسے زاروقطار رو رہا ہے جیسے کوئی چھوٹا بچہ اپنی ماں کے سامنے رو کر کچھ بتانے کی کوشش کررہا ہو اور اسے کہہ رہا ہو کہ مجھے اپنی آغوش میں لے لو ۔
وہ منظر سوچ کر آج بھی مجھ پہ خاص کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور یہ اتفاق دوبارہ بھی ہوا جس سے پتا چلا کہ یہ جانان کا معمول تھا ۔ یقیناً اسی طرح اور بھی اللہ کے مجاہد بندے ہیں جو اللہ کا قرب حاصل کرنے اور امت محمدیہﷺ کی حالت زار پر اللہ کے آگے روتے اور گڑگڑاتے ہیں اور بلاشبہ اللہ رب العزت کو اپنے بندوں کی یہ حالت بہت محبوب ہے ۔ جب اللہ ان سے محبت کرنے لگتا ہے تو وہ ان کو اپنے پاس جنت الفردوس میں بلا لیتا ہے اور وہاں اللہ کی مہمانی میں یاقوت اور مرجان سے بنے عظیم الشان محلوں میں وہ رہتے ہیں۔ ان کو وہاں وہ کچھ دیا جاتا ہے جس کا دنیا میں ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ کیا ہی کامیاب تجارت ہے جو شہدا نے اپنے رب سے کی ہے۔
اللہ تعالی امت مسلمہ کے نوجوانوں کو جہادوشہادت کا شوق عطا فرمائے جو اصل کہ کامیابی ہے !



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



