شیخ مرحوم کا قول اب مجھے یاد آتا ہے
دل بدل جائیں گے تعلیم بدل جانے سے
دینِ اسلام پر فخر ہی امت مسلمہ کی آدھی سے زیادہ بیماریوں کا علاج ہے۔ گھگیاتے ، شرماتے اپنے دین پر عمل کرنا ، مردِ مومن کی شان نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہےکہ اس نے ہمیں کروڑوں بتوں، دیوی دیوتاؤں کی پرستش سے بچا کر اپنا پاک صاف دین عطا فرمایا اور ہمیں وہ عقیدہ سکھلایا جو بتوں اور جھوٹے خداؤں کا انکار کرتا ہے۔
مگر کیا محض ایک نسل کا مضبوط عقیدہ اور پختہ نظریہ ہماری آئندہ آنے والی مسلمان نسلوں اور کے صحیح العقیدہ مسلمان رہنے کی ضمانت بھی ہے؟ اور کیا ہمارے لیے جیتے جی اس بات کا اطمینان و یقین کرلینا بھی ضروری ہے کہ ہماری نسلوں کے دلوں تک میں اسلام اور مسلمانوں کی محبت اور درست اسلامی عقیدہ راسخ ہو؟
ہندوستان ہندو اکثریت رکھنے والا ملک ہے، جہاں کروڑوں بتوں کو پوجنے والے زندگی کے ہر شعبے میں سرگرم ہیں۔ یہ بتوں اور مورتیوں کے رکھوالے ہیں، یہاں تک کہ یہ ملک بھی ان کے نزدیک ایک بت ہے (بھارت ماتا)! ایسی صورت میں کیا ہندوستان میں بسنے والا ایک مسلمان یہ توقع کر سکتا ہے کہ ہندو اسے اور اس کی اولاد کو اس کے خالص دین پر قائم رہنے دے گا اور اس سلسلے میں اس کا معاون ہوگا؟
انگریزوں کی آمد سے پہلے برصغیر پر مسلمانوں کی حکومت تھی۔ یہاں شریعت نافذ تھی، عدالتیں شریعت کے مطابق فیصلے کرتی تھیں، مسلمانوں کی تہذیب و تمدن، ثقافت و زبان محفوظ تھی اور ساتھ ہی ساتھ اقلیتوں کے حقوق کا بھی انتہائی خیال رکھا جاتا تھا اور ان کی جان و مال و عزت کی حفاظت کی جاتی تھی۔ انگریز کے آنے کے بعد جب اس سنہری دور کا خاتمہ ہواتو مسلمان ذہنیت پر بھی زوال کے اثرات آنے لگے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انگریزوں کے پاؤں بھی برِ صغیر سے اکھڑنے لگے اور وہ اقتدار اپنے وفاداروں کے سپرد کر کے اپنے گھونسلوں میں لوٹ گئے۔پھر ہندوستان میں دیوی دیوتاؤ ں کی تہذیب و ثقافت نے زور مارنا شروع کر دیا، تعلیمی نصاب بدل گئے۔ لا الہ الّا للہ کہنے والے اب نصابی کتابوں میں سانپ، چوہوں اور بندروں کو ’خدا‘ کی شکل میں دیکھنے لگے۔ گھروں اور مدرسوں میں مجاہدین کی بہادری کے قصے پڑھنے، سننے والے مسلمان بچے، اب ہنومان، بھیم، شری رام اور کالی داس کی کتھاؤں سے واقف ہونے لگے، محمد بن قاسم اور طارق بن زیاد کو ہیرو جاننے والوں کے لیے اب ڈراموں، فلموں اور ناٹکوں میں ہندو ڈاکو ہیرو بن گئے اور ہم بے خبر رہے۔ مسلمانوں کے اپنے گھروں میں اپنے اسلاف ، اپنے اکابرین، اپنے مجاہدین کا نام تک لینے میں شرم محسوس کی جانے لگی اور مسلمان کو چاہے نہ چاہے شریعت کی غلامی سے زیادہ بنیے کی غلامی مزہ دینے لگی۔ اسلام کی ترویج و ترقی سے ہندو وطن کی ترقی زیادہ عزیز ہوگئی۔ اردو اور عربی لکھنا، پڑھنا معیوب اور ہندی و انگریزی بولنا زیادہ باعثِ فخر ہو گیا۔
یہ مادیت پرستی کا دور ہے۔کسی دور میں دین دار کہلائے جانے والوں نے بھی دین داری کو ثانوی چیز سمجھ کر پسِ پشت ڈال دیا ہے اور دنیا کی زندگی و ظاہری ترقی کو اپنے جینے کا اصل مقصد بنا لیا ہے۔ اسکول و کالج ہماری نظروں میں وہ مقام حاصل کر چکے ہیں جو شاید کسی اور ادارے نے حاصل نہ کیا ہوگا۔ ہمارے دلوں میں ان کی ضرورت اور اہمیت اس طرح راسخ ہوچکی ہے کہ ہم اچھے سے اچھے اسکول میں اپنے بچوں کو داخل کروانا بہت بڑی کامیابی سمجھتے ہیں اور ہم اس فکر سے بالکل بے خبر ہیں کہ ان اسکولوں و کالجوں میں ہمارے بچوں کو کیا پڑھایا جا رہا ہے؟ ان کے کچے ذہنوں میں کیا عقیدہ بٹھایا جا رہا ہے؟ ایسا تو نہیں کہ ہمارا بیٹا ڈاکٹر، انجنیئر یا اعلیٰ تعلیم یافتہ تو کہلائے لیکن جب اس سے اسلام کے متعلق پوچھا جائے تو وہ کہے کہ یہ تو ۱۴۰۰ سال پہلے کی فرسودہ باتیں ہیں !
ہمیں ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ کروڑوں خداؤں کی پوجا کرنے والی قوم یا پھر سیکولرازم کا عَلَم بلند کرنے والے کیسے ایک خدا کی بندگی کو برداشت کرسکتے ہیں؟ اور کس طرح وہ سکولوں اور کالجوں میں اللہ رب العزت کی وحدانیت کی تعلیم دیے جانا گوارا کرسکتے ہیں؟ ہندوؤں کی تہذیب تو وہ ہے کہ جو ان کے مندروں میں ننگی مورتیوں سےجھلکتی ہے، جو ان کی تاریخ کی کتابوں کا حصہ ہے! ان کتابوں میں کبھی دیوتا کے لنگ (شرمگاہ) کےحوالے سے وستار (تفصیل) بتائی جاتی ہے تو کبھی باپ( دیوتا) بیٹی( دیوی) کے ناجائز تعلقات کے بارے میں چرچا کیا جاتا ہے۔ ہندوؤں کے مذہبی تہواروں دیوالی، ہولی، رکشا بندھن وغیرہ کا احترام دلوں میں کہانیوں کے ذریعے بٹھایا جاتا ہے، جبکہ سب جانتے ہیں کہ دیوالی کی رات گھرگھر جوئے کی منڈی سجتی ہے اورہولی میں تو بھنگ پی کر طوفانِ بدتمیزی بپا کیا جاتا ہے۔ کروڑوں خدا جو یا تو جانور ہیں یا آدھے جانور اور آدھے انسان، یا ایسے انسان جن کی کرتوتوں سے شرم ہی آجائے۔ ایسے خداؤں کا تذکرہ اور ان کے متعلق کہانیاں جب معصوم بچوں کے کانوں میں گونجیں گی تو بچے کی تربیت پر کیا اثر پڑے گا؟بچوں کا ذہن کچا ہوتا ہے، ہر اس عقیدے اور بات کو وہ بہت جلدی اپنے ننھے سے ذہن میں بٹھا لیتا ہے جو اسے بچپن میں سکھائی جاتی ہے؛ اس صورتِ حال میں آپ تصور کریں کہ آپ کے بچے جب ان ننگی مورتیوں کی تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو بتوں کے احترام اور فحاشی اور عریانی کے سواکیا سیکھیں گے؟ وہ ان تہواروں سے متاثر ہوں گے تو ان کی نگاہ میں اللہ کے دیے پاکیزہ تہواروں ، عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی کیا اہمیت باقی رہ جائے گی؟ پھر جب ان مسلمان بچوں کے لیے ان کے گھروں یا کسی دینی ادارے میں دینی تعلیم اور دین کی درست تعلیمات سے روشناس کروانے کا بھی کوئی انتظام نہ کیا گیا ہو تو کیا یہ اپنی نسلوں کے ساتھ انصاف ہے؟ کیا ہمیں صرف دنیا ہی میں ان کے لیے بہتر مستقبل درکار ہے، ان کی آخرت کی فکر ہمارے ذمے نہیں ہے کیا؟ آپ کا بچہ تو نادان ہے لیکن آپ تو سمجھ دار ہیں۔ اپنے بچوں کی صرف دنیاوی ذمہ داری تو آپ پر نہیں، ان کی آخرت کی فکر کرنا بھی آپ ہی کی ذمہ داری ہے۔
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے!!! اسکولوں میں وطن کی محبت، اس کا احترام ایسے ذہنوں میں ڈالا جاتا ہے کہ مانو نعوذباللہ یہی ملک دارالاسلام ہے اور اسی کی حفاظت ہمارے ایمان کی حفاظت ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ ہندوستان اسلامی ملک، نہ ہی اس کا قانون شریعت کے مطابق ، نہ یہاں کے ادارے ، حکمران ، تعلیمی نظام اسلامی تو پھر کفر اور دارِکفر کا اس قدر احترام کیوں؟ وطن کے لئے جان دینا جہالت ہے اور پھر اس جہالت کا مرتکب بھی ہو ہندواور اس پر طرفہ تماشا یہ کہ اس کے نام کے آگے لکھا جائے شہید اور اس کے احترام میں ہاتھ باندھ کر خاموش دو منٹ کے لئے کھڑا ہوا جائے……!!! آخر ہم اپنے بچوں کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟ انہیں کیا سکھانا چاہتے ہیں!!! یہ کہنا کہ ہم اس ملک میں رہتے ہیں اور اس ملک کا ہم پر حق ہے، ہمیں اس سے محبت اس کے ساتھ وفاداری ہمیں کرنی چاہیے…… تو میرے عزیزو ! یہ ملک تو کیا،سارے ممالک ہی میرے رب کے ہیں۔ اس دھرتی کا حق تو اس وقت ادا ہوگا جب اس پر اللہ کا عطا کردہ نظام نافذ کیا جائے گا۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں اپنی نسلوں کے ایمان کے تحفظ کے سلسلے میں کیا مثال دیتا ہے۔ اللہ رب العزت ہمارے سامنے اپنے نبی حضرت یعقوب علیہ اسلام کا اسوہ بیان فرماتے ہیں:
اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِيْ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبَاۗىِٕكَ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ اِلٰــهًا وَّاحِدًا وَّنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ(سورۃ البقرۃ: ۱۳۳)
مولانا ابوالحسن علی ندویؒ اپنے ایک بیان میں اسی آیت کے تحت بات کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’……مسلمانوں میں بھی بہت سی پشتیں اور خاندان ہیں جن پر مسلم معاشرہ فخر کرتا ہے اور لوگ ان کی وجہ سے عزت کرتے ہیں۔ لیکن اصل نسبت صحیح عقیدہ ، اللہ سے صحیح رشتہ غلامی و عبودیت ہے اور اس کا صحیح طریقہ تعلیم ہے۔ یہی وہ نسبت ہے جس کا یعقوب علیہ السلام دنیا سے کوچ کرتے وقت اطمینان حاصل کرنا چاہتے تھے، انھوں نے اپنے سب فرزندوں، پوتوں، نواسوں کو جمع کرکےدریافت فرمایا کہ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِيْ میرے بعد تم کس کی عبادت کروگے؟ یہ بات انھوں نے کس سے کہی تھی ان سے کہی تھی، جو نبی زادے تھے، نبی کے پوتے تھے، …… پیغمبروں کے اس خاندان کا سرپرست اپنے بچوں کو جمع کرتا ہے، بیٹوں، پوتوں کو جمع کرتا ہے،پیارے بیٹو، پوتو، نواسو! اب میں تم سے رخصت ہونے والا ہوں، لیکن میری پیٹھ قبر سے نہیں لگے کہ جب تک یہ اطمینان نہ ہو جائے کہ تم خدائے واحد ہی کی عبادت کروگے؟ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروگے۔
اللہ اکبر! یہ وہ وقت ہے کہ آدمی سب کچھ بھول جاتا ہے…… لیکن اللہ کے اس مومن بندے کو فکر صرف یہ ہے کہ کیا میری اولاد اس دولت کو اپنی سینے سے لگائے رکھے گی جس پر خدا کی ہر مدد، خدا کی ہر رحمت خدا کے ہر بہتر فیصلے اور خدا کی نصرت، فرد و امت کی نجات اور انسانیت کے مستقبل کا دارومدار ہے؟ بس تم یہ بتا دو کہ میری آنکھ بند ہونے کے بعد بندگی کس کی کروگے؟
یہ ہے مسلمانوں کے ذہنوں کو ڈھالنے والا سانچہ، ایمان کی قیمت پہچاننے کا امتحان و معیار، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس واقعہ کا ذکر کرکے اس کو قیامت تک کے لئے محفوط کر دیا کہ ہر نسل کا مسلمان بلکہ ہر نسل کا انسان پڑھے اور اس سے سبق لے، … یہاں پر ہمیں بتایا کہ اس طرح مسلمان کے ذہن کو کام کرنا چاہیے۔
یہ سب سے بڑا اطمینان ہے، اس کے بغیر میں سمجھتا ہوں کہ مسلمان مسلمان نہیں رہ سکتا، جب تک وہ کسی نہ کسی درجہ میں یہ اطمینان نہ کر لے کہ میری نسل اسلام کے صحیح راستہ پر رہے گی، صحیح عقیدہ پر قائم رہے گی، خواہ اس کو اس کے لئے کتنی قربانیاں دینی پڑیں۔‘‘1
اے میرے ساتھیو!
آپ بے حد چوکنا رہیے! اگر آپ اپنے لختِ جگر کو ڈاکٹر، انجنیئر، تاجر بنا نا چاہتے ہیں یا پھر مروجہ اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے ہیں تو آپ کے لیے یہ ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس کی آخرت کی فکر کیجیے! یوں اس کی دنیا خود بخود سدھر جائے گی۔ اپنے اور اپنے بچوں کے عقیدے کو درست کیجیے اور ان کے ذہن پر اثر انداز ہونے والے حادثات، واقعات سے اپنے بچے کو بچائیے ، اپنے زیرِ اثر لوگوں کو زندگی کو مقصد، رب کی عبادت سکھائیے، اس کے دل و دماغ سے یہ نکال دیجیے کہ اس کی زندگی کا مقصد ملک کی خدمت ہے۔
اسے یہ سکھائیے کہ ہماری زندگی کا مقصد اپنے رب پر پورا یقین رکھنا اور اس کے دین کو نافذ کرنا ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ جہاد فی سبیل اللہ میں ڈاکٹر بھی حصہ لیتے ہیں ، انجینیر بھی اپنا خون دیتے ہیں اور جدید دور کے دیگر تعلیم یافتہ افراد بھی اس دین کی نصرت کرتے ہیں۔
اے ہندوستان میں بسنے والے میرے بھائیوں! آپ بھی اپنے بچوں کو دین کی خدمت اور اللہ پر جان قربان کرنے والا بنائیے ، اپنے گھروں میں ایساماحول بنائیے کہ آپ کا یہ لختِ جگر مجاہدین سے، اسلام کے ہیروں سے محبت کرنے لگے، اسے اپنے رب اور اس کے رسول پر جان نچھاور کرنا والا بنا دیجیے،اسے بتوں سے نفرت، وطن پرستی سے بغض اور دشمن سے عداوت سکھائیے۔ اس کی نس نس میں دینی جذبہ و غیرت بھر دیجیے پھر آپ دیکھیے کہ آپ کا یہ نو نہال کیسے اپنے دین کا نام روشن اور اپنے مظلوم مسلمانوں کی مدد کر تا ہے ۔اللہ پاک ہم سب کو صحیح فہم عطا فرمائیں، آمین!
٭٭٭٭٭
1 ’’آئندہ نسلوں اور پسماندگان کے صحیح العقیدہ مسلمان رہنے کی ضمانت اور جیتے جی اس کا اطمینان و یقین ضروری ہے‘‘ از مولانا ابو الحسن ندوی ؒ







![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



