السؤال: قیامت کے دن ہونی والی بازپرس
آج ہم حشر کے دن ہونے والے سوال و جواب یا حساب کے بارے میں کچھ گفتگو کریں گے۔
قیامت کے دن لوگوں سے بازپرس کی جائے گی مگر ہر ایک سے ہونے والی باز پرس کی نوعیت مختلف ہوگی۔ بعض لوگوں سے مفصل پوچھ گچھ کی جائے گی اور بعض سے سرے سے کچھ پوچھا ہی نہ جائے گا۔ وہ کہ جن سے سرے سے کوئی سوال نہ کیا جائے گا دراصل وہ بہترین لوگ ہوں گے جو ایمان، جہاد اور صالحیت کی معراج تک پہنچے ہوں گے، وہ سوال جواب سے مستثنیٰ ٹھہریں گے، ﴿يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ …… بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ اور جنت میں بلا حساب داخل کیے جائیں گے۔انہیں ان کے اعمال نامے ضرور تھمائے جائیں گے مگر ان سے ان کے اعمال نامے میں درج اعمال کے بارے میں کسی قسم کی بازپرس نہ کی جائے گی۔ یہ اس امت کے ستّر ہزار لوگ ہوں گے جو جنت میں بلا حساب داخل ہوں گے۔
جس شخص سے جتنی زیادہ تفتیش کی جائے گی وہ اس کے لیے اتنی ہی مشکل اور خطرناک ثابت ہوگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ(صحیح بخاری)
’’ جس کے حساب میں پوچھ گچھ کی گئی تو اسے عذاب ہوگا ۔‘‘
کیونکہ تفتیش و تحقیق کا مطلب ہے کہ متعلقہ فرد کے اعمال میں کچھ مسئلہ ہے۔
ہرایک سے کیے جانے والے سوالوں کی نوعیت مختلف ہوگی مگر بعض آیات و احادیث کے مطابق جو سوال کیے جائیں گے ان میں سب سے اہم سوال کفر کے بارے میں ہوگا کہ تو کیونکر ایمان نہ لایا؟ کیا چیز تیرے ایمان لانے میں مانع رہی؟ جو کوئی بھی ایمان نہیں لایا ہوگا اس سے یہ سوال کیا جائے گا۔اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَقِيْلَ لَهُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَمِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ هَلْ يَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ يَنْتَصِرُوْنَ ﴾ (سورۃ الشعراء: ۹۲، ۹۳)
’’ اور ان سے کہا جائے گا کہ (اب) وہ کہاں گئے جن کی تم عبادت کیا کرتے تھے اللہ کے سوا؟ کیا وہ تمہارا ساتھ دے سکتے ہیں یا وہ اپنا ہی بچاؤ کرسکتے ہیں ؟ ‘‘
چار سوال
چار بہت اہم سوال ایسے ہیں جو ہر ایک سے پوچھے جائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّی يُسْأَلَ عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ وَعَنْ عِلْمِهِ فِيمَ فَعَلَ وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اکْتَسَبَهُ وَفِيمَ أَنْفَقَهُ وَعَنْ جِسْمِهِ فِيمَ أَبْلَاهُ۔ (جامع ترمذی)
’’ کسی شخص کے قدم بارگاہ الٰہی سےنہ ہٹ سکیں گے یہاں تک کہ اس سے اس کی
- عمر کے بارے میں سوال ہوگا کہ اس نے کس چیز میں اسے صرف کیا،
- اپنے حاصل کردہ علم پر کتنا عمل کیا،
- مال کہاں سے کمایا کہاں خرچ کیا اور
- اپنا جسم کس چیز میں مبتلا کیا ۔‘‘
چار سوال،جن کے جواب دیے بغیر کوئی انسان اللہ رب العزت کے سامنے سے ہٹ نہ سکے گا:
پہلا سوال: اپنے وقت کا کیا کیا؟
پہلا سوال زندگی کے بارے میں ہوگا کہ تم نے اپنی زندگی کو کیسے استعمال کیا؟ جو ماہ و سال تم نے دنیا میں گزارے، ان میں کیا کار ہائے زندگی سرانجام دیے؟ یہ سوال دراصل وقت سے متعلق ہے۔ یہ ہے وقت کی اہمیت کہ اس کے متعلق پہلا سوا ل ہوگا کہ تم نے اپنا وقت کن کاموں میں لگایا۔ پس جب ہم کہتے ہیں کہ وقت مال سے زیادہ قیمتی ہے تو اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یقیناً وقت مال سے بہت زیادہ قیمتی ہے۔ وقت ہی زندگی ہے اور ہر گزرتا لمحہ انسان کی زندگی کا کچھ حصہ اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ پہلا سوال زندگی سے متعلق ہے کہ تم نے کیسے اپنے وقت کو استعمال کیا، دنیا میں جتنا وقت تمہیں ملا تھا اس کا تم نے کیا کیا؟
دوسرا سوال: اپنے علم کو کیسے استعمال کیا؟
جو علم تم نے حاصل کیا، کیا اس پر عمل بھی کیا؟ آیا تمہارا مقصد محض علم حاصل کرنا تھا (عمل کرنا نہ تھا) یا پھر اس کے ذریعے لوگوں پر اپنی دھاک بٹھانا مقصود تھا؟ پس علم، اگر اسے استعمال نہ کیا جائے تو ہمارے خلاف حجت ہے اور حاصل شدہ علم پر عمل نہ کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ درج ذیل آیت مومنین کے بارے میں ہے:
﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ﴾ (سورۃ الصف: ۱، ۲)
’’ اے ایمان والو! ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟ اللہ کے نزدیک یہ بات بہت ناراضگی کی ہے کہ ایسی بات کہو جو کرو نہیں۔‘‘
پس ہمارے لیے اس علم پر عمل لازم ہے جس کی ہم تبلیغ کرتے ہیں۔
تیسرا سوال: مال کہاں سے کمایا اور کیسے خرچ کیا؟
تیسرا سوال مال سے متعلق ہے اور درحقیقت یہ ایک نہیں بلکہ دو سوال ہیں۔ کیسے اسے حاصل کیا اور کیسے اسے خرچ کیا؟ ایک ایک روپیہ جو آپ کماتے ہیں، اس کے بارے میں آپ سے سوال ہوگا کہ یہ کہاں سے آیا؟ کیسے کمایا؟ کیسے حاصل کیا؟ اور اسی طرح ایک ایک روپیہ جو آپ خرچ کرتے ہیں اس کے بارے میں بھی سوال ہوگا کہ اسے فلاں جگہ کیوں استعمال کیا؟ پس غربت و محرومی کی حالت میں پوری زندگی گزارنا قیامت کے دن حرام کمائی کے ایک ایک روپے کا حساب دینے سے کہیں بہتر ہے۔ حرام کمائی کی آمدن اور خرچ کا حساب دینے کی تکلیف دنیا میں ساٹھ ستّر سال غربت اور مفلسی میں گزار دینے سے کہیں زیادہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ(صحیح بخاری)
’’ جس کے حساب میں پوچھ گچھ کی گئی تو اسے عذاب ہوگا ۔‘‘
لہٰذا سوال جواب کے کٹہرے میں کھڑے ہونے کا مطلب ہے عذاب اور حرام مال کے چند روپے ہرگز اس قابل نہیں کہ انسان ان کی خاطر قیامت کے دن حساب کی شدت اور عذاب برداشت کرے۔
پس حصولِ رزق کے معاملے میں اللہ سے ڈریں کہ اس کے حصول کے ذرائع اور خرچ کی مدات حلال اور جائز ہوں۔ مال کے معاملے میں قیامت کے دن دو سوال کیے جائیں گے۔ اور یہی وجہ ہے کہ مفلسین اغنیاء سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ اعمال کے معاملے میں ہوسکتا ہے کہ ایک غنی شخص مفلس سے بہتر ہو، مگر ہم یہاں جنت میں داخلے کے وقت کی بات کررہے ہیں کہ کون جنت میں پہلے داخل ہوپائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فقرامہاجرین، اغنیا سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل کیے جائیں گے۔ کیوں؟ حدیث میں آتا ہے کہ جب وہ اس قدر جلدی جنت کے دروازوں پر پہنچ جائیں گے تو فرشتے ان سے دریافت کریں گے کہ تم اتنی جلدی یہاں کیونکر پہنچ گئے؟ تو وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس (مال میں سے) تھا ہی کیا کہ جس کا ہم حساب دیتے اور ہم نے اللہ کے رستے میں اپنی تلواریں بے نیام رکھیں۔ ہم نے تو اپنی زندگی جہاد میں گزاری، ہمارے پاس کوئی مال تو ہے نہیں جس کے بارے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سے سوال کریں۔ پس مال کے بارے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ قیامت کے دن سوال کریں گے۔ اور پھر جیسا کہ ہم نے کہا کہ بہت سے اغنیاء مقام و مرتبے کے اعتبار سے مفلسین سے بہت بہتر بھی ہوں گے مثلاً حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ، مگر مال بہرحال خطرناک چیز ہے، یہ انسان کے لیے جنت کے دروازے بھی کھلوا سکتا ہے، انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعے، اور یہ ہی دوسری انتہا یعنی جہنم کے نچلے ترین درجوں میں پہنچانے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ پس ہمیں محض مال حاصل کرنے کی ہی طمع نہیں رکھنی چاہیے بلکہ مال کے حصول و خرچ کے ذرائع کو خصوصی توجہ بھی دینی چاہیے کیونکہ یہی مال انسان کو صالحیت کی معراج پر بھی پہنچا سکتا ہے اور بدی کے گڑھوں میں بھی گرا سکتا ہے۔
چوتھا سوال: اپنے جسم کو کن کاموں میں گھلایا؟
چار میں سے آخری سوال انسان کے جسم سے متعلق ہے۔ اللہ نے انسان کو قوت بخشی، یہ قوت و طاقت انسان کی اپنی فراہم کی ہوئی نہیں بلکہ اللہ رب العزت نے اسے قوت و توانائی عطا فرمائی۔ تم نے اس امانت کو کیسے استعمال کیا؟ آیا تمام تر طاقت و توانائی کے باوجود تم نے اسے یونہی ضائع کیا یا تم نے اس جسم و جان کو اللہ رب العزت کے رستے میں گھلایا اور اس سے بقدر استطاعت بھرپور کام لیا جیسا کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے لیا؟ یہ اللہ رب العزت کی نعمت ہے لہٰذا ہم سے سوال کیا جائے گا کہ ہم نے اس نعمت سے کیسے استفادہ کیا۔
یہ تو وہ چار سوال ہیں جو ہر ذی روح سے کیے جائیں گے۔ پھر چند مزید سوال بھی ہیں کہ جن کا ذکر قرآن و حدیث میں آیا ہے:
دنیاوی نعمتوں بارے سوال
اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
﴿ثُمَّ لَتُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ﴾(سورۃ التکاثر: ۸)
’’ پھر اس روز تم سے (ہر) نعمت کی پوچھ ہوگی۔‘‘
دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو نعمت بھی عطا کی ہے اس کے بارے میں قیامت کے دن سوال کیا جائے گا کہ تم نے اس سے کیسے فائدہ اٹھایا؟ کیا تم شکرگزار بندے بنے؟ مجاہدؒ نے فرمایا کہ انسان سے ہر اس نعمت و آسائش کا، خوشی کے ہر لمحے کا، ہر راحت و لذت کی نعمت کا سوال کیا جائے گا جو اسے اس دنیا میں عطا کی گئی۔ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ دنیاوی راحتوں اور نعمتوں کا ایک حصہ انسان کے جسم کا صحت مند ہونا ہے، پس انسان سے اس کی صحت کی نعمت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اور پھر حدیث میں جن دو نعمتوں کا ذکر آتا ہے وہ بھی ہیں:
نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا کَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ (صحیح بخاری)
’’ دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے: صحت اور فراغت ۔‘‘
یہ ایسی دو نعمتیں ہیں کہ ہمیں انہیں اللہ رب العزت کی خاطر استعمال کرنا چاہیے ورنہ قیامت کے دن یہ انسان کے خلاف حجت بن جائیں گی۔
عہد و معاہدوں سے متعلق سوال
سب سے اہم عہد، ایمان کا عہد ہے، اللہ اور بندے کے مابین عہد۔ اللہ اور اس کے بندے کے مابین معاہدہ۔ انسان خواہ اس کا ادراک رکھے یا نہ رکھے، حقیقت یہ ہے کہ انسان نے اپنے رب سے معاہدہ کررکھا ہے۔ جب کوئی یہ کہتا ہے کہ میں مسلم ہوں تو حقیقت میں یہ اس معاہدے کا اقرار ہے جو اس نے اللہ رب العزت کے ساتھ کیا ہے۔جب کوئی کہتا ہے کہ وہ مومن ہے تو اس کا مطلب خالی خولی ایک لفظ نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اللہ رب العزت کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، ایک عہد باندھا ہے۔ جب ایک انسان یہ کہتا ہے کہ میں مسلم ہوں یا میں مومن ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کسی معاہدے اور اس میں درج اصول و ضوابط کا پابند ہے، ان اعمال کو کرنا اس پر لازم ہے جو اللہ رب العزت نے اس پر لازم کیے ہیں اور ان امور سے اجتناب اس پر لازم ہے جن سے دور رہنے کا اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے۔ اور ہم سے اس کا سوال کیا جائے گا کیونکہ ہم اپنے اختیار سے اس معاہدے میں داخل ہوئے ہیں۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
﴿ ۠وَاَوْفُوْا بِالْعَهْدِ ۚاِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْــــُٔـوْلًا ﴾ (سورۃ بنی اسرائیل: ۳۴)
’’ اور عہد کی پابندی رکھو ،بےشک (قیامت کے دن)عہد کی باز پرس ہوگی ۔‘‘
سماعت، بصارت اور سوچ و فکر سے متعلق سوال
یہ تین نعمتیں بالخصوص اہم ہیں کیونکہ سماعت و بصارت ہی کے ذریعے دل و ذہن میں معلومات داخل ہوسکتی ہیں۔اور اگر آپ اپنے دل و ذہن کو اپنے جسم کے اعمال کا مرکز تصور کریں تو سوچیں کہ اس مرکز تک معلومات کی رسائی کے ذرائع کون کون سے ہیں؟ دل و ذہن آنکھوں اور کانوں ہی کے ذریعے سب کچھ حاصل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت ان تین نعمتوں کے متعلق بالخصوص سوال کریں گے۔سماعت و بصارت ہی کے ذریعے تمام تر علم اور معلومات دل و ذہن تک پہنچتی ہیں اور پھر وہ ان پر عمل کرتے ہیں۔
پس سوال ہوگا کہ تم نے اپنی آنکھوں کو اپنی بصارت کو کیسے اور کہاں استعمال کیا؟ کیا اس کے ذریعے قرآن کی تلاوت کی یا تم نے اس کے ذریعے وہ دیکھا جس سے تمہیں روکا گیا تھا؟ کانوں کے ذریعے اللہ کا ذکرسنا یا وہ سنا کہ جو ممنوع تھا؟
دل و ذہن کی قوتوں اور صلاحیتوں کو اللہ کے رستے میں کھپایا یا اس کی تمام تر توانائیاں اپنی دنیا بنانے میں لگائیں اور آخرت کو نظر انداز کردیا؟ یہ ہمارا دل و ذہن ہی ہے جس کے اختیار میں ہمارے جسم کی باگ ڈور ہے، ہمارا جسم وہی کرتا ہے جس کے کرنے کا حکم اسے ہمارا دل و ذہن دیتے ہیں اور پھر انہی اعمال کی بازپرس ہم سے ہوگی۔پس ہمیں ان تینوں نعمتوں کو اللہ کے شکر کے ذیل میں استعمال کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے:
﴿ وَّجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ﴾ (سورۃ النحل: ۷۸)
’’ اور تمہارے لیے سماعت اور بینائی اور دل پیدا کیے تاکہ تم شکر گزار بنو۔‘‘
ہم اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں شاکرین میں شامل فرمائے۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْــــُٔــوْلًا﴾ (سورۃ بنی اسرائیل: ۳۶)
’’ بےشک کان اور آنکھ اور دل ان کی پوچھ ہر شخص سے ہوگی ۔‘‘
نماز کا سوال
اہل ایمان سے سب سے پہلا سوال نماز سے متعلق کیا جائے گا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ فَإِنْ وُجِدَتْ تَامَّةً کُتِبَتْ تَامَّةً وَإِنْ کَانَ انْتُقِصَ مِنْهَا شَيْئٌ قَالَ انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ لَهُ مِنْ تَطَوُّعٍ يُکَمِّلُ لَهُ مَا ضَيَّعَ مِنْ فَرِيضَةٍ مِنْ تَطَوُّعِهِ ثُمَّ سَائِرُ الْأَعْمَالِ تَجْرِي عَلَی حَسَبِ ذَلِکَ (نسائی)
’’ قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے اس کی نماز کے بارے میں بازپرس ہوگی ، اگر وہ پوری ملی تو پوری لکھ دی جائے گی، اور اگر اس میں کچھ کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ کہیں گے : دیکھو تم اس کے پاس کوئی نفل پا رہے ہو کہ جس کے ذریعے جو فرائض اس نے ضائع کیے ہیں انہیں پورا کیا جاسکے؟ پھر باقی تمام اعمال بھی اسی کے مطابق جاری ہوں گے ۔‘‘
پس سنتیں اور نوافل اس لیے اہم ہیں کہ فرائض میں جو کمی کوتاہی انسان سے ہوئی ہوگی وہ سنن و نوافل سے پوری کی جائے گی۔ روزانہ پانچ نمازیں واجب ہیں اور ان کا مکمل ہونا ضروری ہےالبتہ ان میں ہماری کوتاہی کی وجہ سے جو کمی بیشی ہوجائے اسے سنن و نوافل کے ذریعے پورا کیا جائے گا۔ پس نوافل اور سنن ہماری واجب نمازوں کی کمی کوتاہی کو رفو کرنے اور ان میں پیوند لگا کر انہیں مکمل کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی معاملہ تمام دیگر اعمال کا بھی ہوگا۔ مثلاً روزوں کا معاملہ ہے، اللہ رب العزت فرض روزوں کے متعلق دریافت فرمائیں گے کہ آیا وہ مکمل ہیں یانہیں؟ اگر مکمل نہیں ہیں تو دیکھو کیا اس کے اعمال میں کوئی نفلی روزے ہیں؟ اگر ہیں تو ان کے ذریعے فرض روزوں کی کمی پوری کی جائے، یوں اعمال کی کمی بیشی پوری کی جائے گی۔
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وعلی صحبہ وسلم
٭٭٭٭٭












