افغانستان کے صوبۂ ننگرہار کے صدر مقام جلال آباد میں قائم امریکی فوجی اڈے کے اندر ایک گاڑی داخل ہوتی ہے۔ گاڑی چلانے والے کو کچھ جلدی ہے، اس لیے وہ اسے تیز اڑاتے ہوئے فضائی اڈے کے عین بیچ میں پہنچ جاتا ہے۔ گاڑی چلانے والے کے لب ہلتے ہیں، آنکھیں خوشی کے مارے پلکیں جھپکنا بھول گئی ہیں، اس کا دایاں ہاتھ سٹیئرنگ کے دائیں طرف نصب بٹن تک پہنچتا ہے، بٹن دبتا ہے اور ایک آتش فشاں پھٹ پڑتا ہے۔ یہ بارود سے بھری گاڑی تھی، جسے ایک فدائی حملہ آور چلا رہا تھا، دسیوں امریکی فوجی اس موٹر بم کے حملے میں جہنم واصل ہو چکے ہیں۔
فدائی مجاہد کا نام، ’انجنیئر حاجی عابد علی اشرف‘ ہے، سفید ریش ہیں اور بارود سے بھری گاڑی کو جب اللہ کے دشمنوں پر پھاڑنے جانے لگے ہیں، گاڑی چلانے ہی لگے ہیں تو ساتھیوں کی طرف مڑ کر دیکھتے ہیں اور یہ شعر پڑھتے ہیں:
ہمارا خوں بھی شامل ہے تزئینِ گلستاں میں
ہمیں بھی یاد کر لینا چمن میں جب بہار آئے
یہ چند سطریں انجنیئر حاجی عابد علی اشرف اور ان جیسے سیکڑوں دیگر مجاہدینِ اسلام کے لیے ہدیۂ عقیدت و خراجِ تحسین ہیں جنہوں نے اپنا ’آج‘ میرے اور آپ کے ’کل‘کی خاطر قربان کیا۔ میں اس امتِ مسلمہ کا ایک فرد ہونے کے ناطے اپنے ان تمام شہدا سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہوں کہ ہم نے آپ میں سے کسی کو بھلایا نہیں۔ آج جب آپ کے خون کے صدقے مشرقِ عالَم میں ’امارتِ اسلامیہ‘ قائم ہو رہی ہے اور آج جب آپ کے خون کی بدولت پاکستان، کشمیر، ہندوستان، بنگلہ دیش، برما، یمن، صومالیہ، مالی، الجزائر، چیچنیا، عراق، شام اور نجانے کتنے دیگر مقاماتِ ارض پر یاسمین و گلاب خوشبوئیں اور خوب صورت رنگ پھیلا رہے ہیں تو ہم آپ کو یاد رکھے ہوئے ہیں۔
ہم پر لازم ہے کہ ہم آپ کے ان یتیم نونہالوں کا خیال رکھیں، جنہوں نے میرے اور اس امت کے نونہالوں کی خاطر داغِ یتیمی سہا۔ان اجڑے سہاگوں کی داد گیری ہم پر لازم ہے جنہوں نے اپنی جوانی کی بہاروں کو امت کی خزائیں مٹانے کی خاطر قربان کیا۔ جن ماؤں نے جوان بیٹوں سے لہلہاتے اپنے چمن اجاڑ کر امت کے اجڑے چمن کو رونقیں بخشیں، ان ماؤں کا شکر ادا کرنا اور ان کا سہارا بننا ہم پر لازم ہے۔ جن باپوں نے اپنے بڑھاپے کے سہاروں کو قربان کر کے خود بیساکھیاں تھامیں ، تو ان بزرگوں کو یاد رکھنا اور ان کا دست و بازو بننا اس امت کے دیگر بیٹوں پر لازم ہے۔
ورلڈ ٹریڈ سنٹر و پنٹاگان کو مٹی میں ملا کر طاغوتِ اکبر امریکہ کو خاک چٹانے والے محمد عطا، مروان شحی، ہانی ہنجور، زیاد جراح اور دیگر شہید ہمیں یاد ہیں۔ لندن کے تنویر و صدیق کی تصویریں ہمارے آئینۂ یاد میں موجود ہیں۔ خوست میں سی آئی اے کو تاریخ کا سب سے بڑا نقصان پہنچانے والے ابو دجانہ خراسانی کی بارودی جیکٹ کے بارود کی باس آج بھی فضائے چمن کو معطر کیے ہوئے ہے۔ جدہ میں محمد بن نائف پر آگ برسانے والے ابو الخیر ہمیں یاد ہیں۔ بوسٹن میں صلیبی کافروں کی عید کو غم میں بدلنے والے ’تمرلین‘ اور ’جوہر‘ کو ہم نہیں بھولے۔ سویڈن میں رسولِ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقام لینے والے تیمور عبدالوہاب کی یاد ہمارے حافظے میں ثبت ہے۔ سگانِ چارلی ہیبڈو کے قاتل کواشی برادران ہمیں یاد ہیں۔
باگرام سے لے کر گوانتانامو تک بند ہمارے مشائخ و ساتھیوں میں سے کسی کو ہم نے نہیں بھلایا۔ اڈیالہ سے لے کر سنٹرل جیل کراچی تک قید ہمارے سب ہی ساتھی ہمیں یاد ہیں۔ ساہیوال سے گوجرانوالہ اور اوکاڑہ سے بہاولپور کے بندی خانوں میں جکڑے ’قادمون یا اقصیٰ‘ آئی ایس آئی کے ٹارچر سیلوں کی دیواریں کھرچ کر لکھنے والے ہمارے محترم ومحبوب داعی و مجاہد ساتھیوں کو ہم نہ اس دنیا میں بھلا سکتے ہیں نہ اگلے جہان میں۔ تہاڑ جیل سے ڈھاکہ کی مرکزی جیل تک قید اور ان کے تہ خانوں میں پھانسیوں پر جھول جانے والے ہمارے سب ساتھی ہمیں یاد ہیں۔ کارس ویلز، ٹیکساس سے پل چرخی، کابل تک اور اسلام آباد میں آئی ایس آئی کے سیف ہاؤسوں سے برما کی اجتماعی جیل میں قید ہماری عفیفہ و طاہرہ، پاک باز و پاک دامن مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہماری پہروں میں تھکتی آنکھوں اور رباط میں گرد آلود ہوتے پَیروں کا سبب ہیں۔
اے شہیدو! اس جہاد میں اپنے اعضا قربان کرنے والے ’معذورو‘! اے مجاہدو! اے اسیرو! چمن کے بلبلو! بہار ہو کہ خزاں: ہم تمہیں یاد رکھے ہوئے ہیں!
اللھم تقبل شہداءنا، اللهم فك قيد أسرانا وأسرى المسلمين والمسلمات في كل مكان ودمر الكفار والجبابرة والطواغيت، اللھم آمین یا ربّ العالمین!



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



