إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللّہِ أَتْقَاکُمْ
’’درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو۔ ‘‘(القرآن)
انصار کی بستی ‘وزیرستان میں شیخ مصطفیٰ ابوالیزید رحمہ اللہ اور عثمان الکینی رحمہ اللہ ایک اور مہاجر بھائی کے ساتھ عازمِ سفر تھے……یہ تینوں وانا میں شیخ عبدالرحمن کینیڈی رحمہ اللہ کے گھر جارہے تھے، ظہر کے قریب منزل پر پہنچے تو شیخ کینیڈی رحمہ اللہ نے ان کا استقبال کیا اور گھر سے منسلک حجرے میں ان کے قیام کا بندوبست کیا،شیخ مصطفیٰ رحمہ اللہ نے شیخ کینیڈی سے کچھ معاملات پر مشورہ کرنا تھا، دونوں بزرگوں نے باہمی مشورہ کیا،اس کے بعد مہمانوں کے لیے دستر خوان پر کھانا چُن دیا گیا……کھانے کے دوران گفتگو کا موضوع خانگی امور اور گھریلو معاملات کی جانب مڑگیا……شیخ مصطفیٰ رحمہ اللہ نے عثمان الکینی رحمہ اللہ کے گھٹنے پر ہاتھ مارا اور ازراہ تفنن کہا کہ ’’انہیں کیا معلوم ان معاملات کا،ان کی تو شادی ہی نہیں ہوئی‘‘……
یہ سن کر شیخ کینیڈی رحمہ اللہ نے حیرت واستعجاب سے دریافت کیا ’’شادی نہیں ہوئی؟؟؟ وہ کیوں؟؟؟‘‘……(عثمان الکینی رحمہ اللہ افریقی النسل تھے اور اپنے ہم قوموں کی طرح سیاہ رنگت ،بھاری نقوش اورلمبے قدکے حامل تھے) …… شیخ مصطفیٰ رحمہ اللہ گویا ہوئے ’’اس کی شکل وصورت کی وجہ سے یہاں رشتہ طے نہیں ہو رہا!‘‘ ۔
یہ سننا تھا کہ شیخ کینیڈی فوراً بولے کہ ’’لوگ اس کی ظاہری صورت ہی کو دیکھتے ہیں جب کہ اس کے باطن کو نظرانداز کردیتے ہیں‘‘۔
دفعتاًاُنہوں نے اپنی صاحب زادی کا رشتہ پیش کیااور مہمانوں سے اجازت لے کر گھر کے اندر گئے ،کچھ دیر میں واپس آئے تو اُن کی صاحب زادی بھی ہمراہ تھیں(جن مجاہدین کے اہل خانہ نے اُن کی صاحب زادی کو دیکھا اُن کے بقول اُس خاتون کو اللہ پاک نے بے مثال حسن صورت اور حسن سیرت سے نوازا تھا)…… شیخ کینیڈی فرمانے لگے ’’یہ میری بیٹی ہے اور میں اسے عثمان کے نکاح میں دیتا ہوں‘‘…… یہ کہہ کروہیں پر مغرب سے پہلے مختصر سی تقریب نکاح کا اہتمام کیا اور صاحب زادی کو عثمان الکینی کے ساتھ بھیج دیا……
یوں تین لوگوں پر مشتمل یہ ’’باراتی قافلہ‘‘ دلہن کولے کرواپس روانہ ہوا……
یہ ہیں وہ سچے اور کھرے لوگ جنہوں نے اسلام اور دین کو ہی اپنا سب کچھ بنایا اور اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بنائے اوربتائے ہوئے معیار کو ہی معیارِ اصلی مطلوبِ حقیقی جانا……رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انصار مدینہ کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھنے والی صحابیہ کو سیدنا جلبیب رضی اللہ عنہ (جو کہ دنیاوی حیثیت و مرتبہ میں اُن سے کہیں کم تھے)کے نکاح میں دیا……
یہ چودہ صدی پرانے قصے کہانیاں نہیں ہیں بلکہ جو لوگ آج اپنا سب کچھ دین پر وارنے کے لیے ہجرت و جہاد کی راہوں پر نکلے ہیں وہ اپنی ہرقسم کی متاعِ عزیز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے پرلٹانے اوراللہ تعالیٰ کی رضا پانے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں!
اللّٰھم اجعلنا منھم فی الدنیا والآخرۃ



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



