یہ عِلم، یہ حِکمت، یہ تدبُّر، یہ حکومت
یہ عِلم، یہ حِکمت، یہ تدبُّر، یہ حکومت
پیتے ہیں لہُو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات
بے کاری و عُریانی و مے خواری و اِفلاس
کیا کم ہیں فرنگی مَدنِیّت کے فتوحات
وہ قوم کہ فیضانِ سماوی سے ہو محروم
حد اُس کے کمالات کی ہے برق و بخارات
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروّت کو کُچل دیتے ہیں آلات
جمہوریت کی بودی بنیادی قدروں میں سے ایک ’مساوات‘ ہے، یعنی تمام انسان بلا امتیاز برابر ہیں۔ لیکن اسی جمہوریت کے مظاہر اور رويے ہر ہر آن اس دعوائے ’مساوات‘ کو کچلتے ہیں۔ آج کی اسلامی جمہوریتیں ہوں یا ’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ‘ہر جگہ نام مساوات كا لینے والے کہیں وڈیرے و جاگیر دار، سیاست دان و جرنیل ہیں تو کہیں برہمن ۔ یہ ’ایک فیصد سے بھی کم‘ انسانی کھوپڑیوں پر اپنے محلات تعمیر کرتے ہیں، غریب کے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس نچوڑ کر اپنے فارم ہاؤسوں کو ہرا بھرا، محلات کے قمقموں کو روشن اور سوئمنگ پُولوں کو لبا لب بھرا رکھتے ہیں۔
مغرب سے درآمد کردہ ’تہذیب‘ نے لوگوں کو بے روزگار بنایا ہے، اس ’جمہوریت‘ و ’مساوات‘ نے فحاشی و عریانی کو فروغ دیا ہے، عورت مارچوں کا چرچا کرکے دنیا بھر میں عورتوں کو جنسِ بازار بنایا اور خاندانوں کو توڑا ہے، شراب نوشی و بدکاری کا چلن عام کیا ہے۔ غریب اس نظام میں غریب تر ہوتا جا رہا ہے اور یہی نظام جسے ’متوسط‘ طبقہ کہتا ہے، اس کی چادر سمٹتی جا رہی ہے۔
حق یہ ہے کہ برکتیں اور رحمتیں خدائے برحق کی اطاعت کے ساتھ مشروط ہیں۔ جہاں خدائے بر حق کی اطاعت ہو، جہاں اس کی شریعت کا نفاذ ہو، جہاں اس کا کلمہ سربلند ہو تو پھر درویشی میں سلطانی اور فقیری میں پادشاہی ہوا کرتی ہے۔ جہاں رشتہ خالق سے توڑ کر محض مخلوق سے ہو، پھر وہ مشرقی ہو یا مغربی، انگریزی ہو یا چنگیزی، وہ ریاست اسلامی جمہوریہ کہلائے یا عوامی جمہوریہ، بربادی اس کا مقدر ہے۔ اس ’تہذیب‘ کی ابتدا بھاپ کا انجن تھا تو انتہا شاید برق رفتار انجن ہوں گے۔ لیکن نہ تو یہ کبھی اس بھاپ کی حقیقت کو جان سکیں گے، نہ برق کے اس جوہر کو جو بجلی کو بجلی بناتا ہے۔ ہر شے کا جوہر، ہر شے کی حقیقت و اصلیت اللہ کا حکم ہے اور ہدایتِ آسمانی سے محرومی خسارہ ہی خسارہ ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے ’حساب مشینیں‘ عام کیلکولیٹر سے کوانٹم کمپیوٹر تک تو ایجاد کر لی ہیں لیکن وہ اپنے حسابات و ریاضیات سے نہ خدا کو پہچان سکے ہیں اور نہ ہی برکت و رحمت کے ’عنصر‘ کو جان سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجیٔ جدید نے سہولتوں اور آسائشوں کا انتظام تو خوب کیا ہے۔ ’سنیپ چیٹ‘ سے ’فیس ٹائم‘و ’سکائپ‘ تک سیکڑوں میلوں کا فاصلہ ’ملی سیکنڈز‘ میں طے ہو جاتا ہے۔ ’فوڈ پانڈا‘ نے دنیا کے کروڑ ہا ذائقے اور ’اُوبر‘ و ’کریم‘ نے ظاہری فاصلے سستے داموں چند ’ایپس‘ میں سمیٹ دیے ہیں۔’او ایل ایکس‘ نے ’سب بِکتا ہے‘ کا نعرہ لگا کر دنیا کی ہر شے تک ارزاں رسائی فراہم کر دی ہے۔ دنیا ’نائن ڈی‘ کا سوچ رہی ہے، ’ہولوگرام‘ ٹیکنالوجی کا ظہور ہے لیکن اس سب کی بنیادی قیمت جدید اصطلاح میں ’پرائیویسی‘ کا ختم ہو جانا ہے۔ اب دجال (Big Brother)کی اَن دیکھی آنکھ نے معاشرہ ہی کیا خواب گاہ تک ’پولیس سٹیٹ‘ کا اثر پہنچا دیا ہے۔ اب اس بے ہنگام ٹیکنالوجی نے نہ چادر کا وجود رہنے دیا ہے نہ چار دیواری کی اوٹ۔ رشتے اور جذبات مشینی حکومت کی نذر ہو گئے ہیں۔ بھائیوں اور یاروں کا راز اور میاں بیوی کی بات کا پردہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔
لیکن اس نظام کے باغیوں کی برتری بہر کیف ثابت ہے کہ مقاصدِ فطرت کے نگہ بانوں کے صحراؤں اور کوہستانوں میں ایسی کسی ’مہلک‘ شے کا وجود نہیں۔ یہ صحرائی و کوہستانی اپنی ہی نہیں بلکہ سارے عالَم کی زندگیوں کو ’حیاتِ طیبہ‘ بنانے کے لیے جتے ہوئے ہیں۔ ان کا مقصد سہولتوں کا فنا نہیں، بلکہ سہل انداز سے زندگیوں کو گزارنے کا ڈھب اور معرفتِ الٰہی عام کرنا ہے!



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



