ہندوستان، جس کی آبادی کا ایک بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے، جس کی سرزمین اتنی زرخیز ہے کہ اس سے منسلک عوام کو مالی اعتبار سے کسی بھی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے تھی، لیکن اسی ملک میں کسان طبقہ جن مشکلات سے دوچار ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ سن ۱۹۴۷ء سے لے کر اب تک ہندوستانی کسانوں کی خودکشیاں تین لاکھ ( ۳۰۰،۰۰۰) تک پہنچ چکی ہیں، جس کی وجہ قرض، سود، مہنگائی وغیرہ بتائی جاتی ہے۔ گزشتہ تین ماہ سے پنچاب، ہریانہ اور مغربی اترپردیش کے کسانوں اور حکومت کے درمیان تین زرعی قوانین کے خلاف محاذ گرم ہے۔ ہندوستانی کسانوں کا کہنا ہے کہ ان قوانین کو لاگو کرنے کی صورت میں فصلوں کی خریدو فروخت کے لیے منڈیاں ختم ہو جائیں گی جس سے کسانوں کی حالت مزید بد سے بد تر ہو جائے گی اور انہیں ان کی فصلوں کی صحیح قیمتیں ادا نہیں کی جائیں گی، جب کے حکومت اپنے اس موقف پر (کہ زراعت میں ترقی ہوگی اور کسان اپنی من چاہی قیمت پر فصل بیچ سکیں گے) ڈٹی ہوئی ہے۔
حکومت اور کسانوں کے درمیان احتجاج میں اس وقت ٹُوِسٹ آگیا جب ۲۶ جنوری ۲۰۲۱ (یومِ جمہوریہ ہند) کوہندوستانی کسان، سخت سکیورٹی کی پروا کیے بغیر دہلی کے لال قلعے میں گھس گئے اور اپنے مذہبی و سیاسی جھنڈے وہاں لہرا دیے۔کسانوں کی ٹریکٹر ریلی اتنی زبردست تھی کہ لوگ بھارتی ٹینکوں کو بھول گئے اور پورے دن دہلی میں ایک کہرام مچا رہا۔ ایک طرف ہندو فوجیں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتی رہیں تو دوسری طرف کسان بھی پوری مستعدی کے ساتھ میدان میں ڈٹے رہے۔کسان حکومت و اس کی پالیسیوں سے اتنے متنفر ہو چکے ہیں کہ کئی کسانوں نے اپنی فصلوں کو ہی آگ لگا دی، تاکہ وہ فصلوں کی کٹائی کاوقت آنے پرمصروف نہ ہو جائیں اور حکومت کے خلاف احتجاجوں میں پیچھے رہ جائیں۔
بھارتیہ حکومت و کسان دونوں پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں لیکن دونوں کے درمیان کئی ادوار کی ناکام بات چیت بھی ہو چکی ہے، مودی حکومت مسلسل مخالف سیاسی جماعتوں پر الزام لگا رہی ہے اور اپنے سخت گیر رویے پر ڈٹی ہوئی ہے ، حکومت نے ۲۰۲۱ کے بجٹ میں بھی کسانوں کے لیے کوئی خاص رعایت کا اعلان نہیں کیا لیکن دفاعی بجٹ میں اٹھارہ (۱۸) فیصد اضافہ ضرور کیا ہے ۔
ملک کی بگڑتی معیشت، غریب عوام میں بے چینی، کسانوں کے ساتھ اتیہ چار (ظلم)اور ہندوستان کی سب سے بڑی ’اقلیت‘ مسلمانوں کے خلاف مسلسل ظلم و زیادتیاں(جس میں اتر پردیش میں بننے والا لَوْ جہاد کے خلاف قانون تازہ ہے ) ملک کو کھائے جا رہی ہے ، لَوْ جہاد قانون لاگو ہونے کے بعد ایسی خبریں منظرِ عام پر آ رہی ہیں کہ مسلمان لڑکا اور ہندو لڑکی دونوں بالغ ہیں اور اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتے ہیں اور مذہب بدلنا چاہتے ہیں جس کی اجازت خود ہندوستان کا آئین صاف صاف لفظوں میں دیتا ہے ، لیکن بھئی تیرے لیے یہ قانون، یہ آئین کچھ اور ہے اور میرے لیے اس ملک کا قانون و آئین کچھ اور……مسلمانوں کو اپنے مذہب کا پرچار کرنے کے جرم میں، کسی ہندو لڑکی سے شادی کرنے اور ان کو مذہب بدلنے کے جرم میں دس ہزار روپے جرمانہ اور سالوں جیل میں سزا بھگتنی ہوگی۔ سب کا ساتھ، سب کا وکاس کا نعرہ لگانے والے، انسانی شکل میں ایسے بھیڑیے ہیں جن کا سر قلم کرنا مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اس ملک کی عام عوام کے لیے بھی دنیا و آخرت کا فائدہ ہے ۔
ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس کے لوگ انتہائی محنتی ہیں، جس کی سرزمین زرخیز ہے، جس نے پوری دنیا میں اپنا لوہا منوایا ہے، لیکن کب ؟ جب یہاں انصاف قائم تھا، رب کی شریعت نافذ تھی، ظالم کا ہاتھ روکا جاتا تھا اور مظلوموں کی مدد کی جاتی تھی، لیکن جب جب یہاں باطل نظام اور ظالم حکمران آئے ہیں تب تب ملک میں ظلم و زیادتیوں کا بازار گرم ہوا ہے ۔ انسانوں کے ہاتھوں بنایا نظام کبھی بھی پائیدار نہیں ہو سکتا، اور اگر انسان بھی ایسے ہوں جو تعصب میں اندھے ہوں اور اپنے ہی ہم مذہب لوگوں کو اونچ نیچ کی بنا پر برداشت بھی نہ کرتے ہوں، تو بھلا یہ متعصب لوگ عام عوام (خاص کر دوسرے مذہب کے لوگوں)کے ساتھ انصاف کیسے کر سکتے ہیں؟ یہ لوگ ہمیشہ اپنی گدی کو بچانے کی فکر کریں گے، اپنے مفاد کے حوالے سے ہی سوچے گے، لیکن برِصغیر کی سرزمین نے ایک ایسا نظام بھی دیکھا ہے جو نہ کسی انسان ذاتی حیثیت میں نے بنایا اور یہ ہی کسی سیاسی جماعت نے ۔ اس نظام میں سبھی کا خیال رکھا جاتا تھا، چاہے وہ غریب ہو یا امیر، مسلمان ہو یا پھر کسی دوسرے مذہب کو ماننے والا۔ یہ اللہ کا نظام تھا جو یہاں کی ہر چیز پر غالب تھا جس نے عوام کے دل جیتے تھے۔ شرک میں ڈوبی ہندوستانی عوام نے اس سے پہلے کبھی بھی امن کا دور نہیں دیکھا تھا، کیوں کہ جب انسانوں ہی میں سے بعض دیوتا بن جائیں تو پھر یہ ’خدا ‘ اپنی ’مخلوق‘ کے ساتھ ایسا رویہ رکھتے ہیں کہ الامان و الحفیظ!عوام حکمرانوں سے ڈریں گے اور حکمران نفس پرست ہوں گے، اس حوالے سے ایک چھوٹی سی مثال دیکھیے!!!
ستی کی رسم ہندو سماج میں انتہائی وحشت ناک رسم تھی جس کے مطابق شوہر کی وفات کے بعد اس کی بیوی کو اس کے شوہر کی چتا میں زندہ جلایا جاتا تھا ، ہندوستان میں اسلام کی آمد کے بعد مسلم حکمرانوں نے بڑی ہی حکمت سے اس وحشت کو ختم کیا، انھوں نے یہ پابندی لگا دی کہ کوئی بھی ہندو عورت حاکم سے پوچھے بغیر ستی نہیں کی جائے گی، اور جب وہ ستی ہونے والی خاتون حاکم کے پاس آتی تو وہ حاکم اسے سمجھاتا کہ( بی بی تم کیوں اپنی زندگی اپنی ہاتھوں سے ختم کرنا چاہتی ہو؟) اور اگر حاکم کے سمجھانے کے بعد بھی وہ عورت ستی ہونے پر راضی رہتی تو وہ حاکم اسے اپنی بیگمات کے پاس بھیج دیتا کے اسے سمجھائیں ۔ جس کے نتیجے میں ان علاقوں میں جہاں مسلم حاکم تھے ستی ہونے والی عورتوں کی شرح انتہائی کم ہو گئی۔ ہندوستان میں اسلام آنے کے بعد لاکھوں لوگوں نے اس کی دعوت کو دل سے پسند کیا ۔ لیکن آج وقت کا پہیہ پھر سے گھوما ہے اور وہی جابر و ظالم حکمران، عوام کی گردنوں پر سوار ہیں، اور اس دورِ جدید میں انھوں نے ستی کا متبادل ’نیوگ کی رسم‘ سے نکالا ہے ، جس کے مطابق ہندو بیوہ خاتون دوبارہ شادی تو نہیں کر سکتی لیکن جنسی تعلقات کسی غیر مرد سے قائم کر سکتی ہے اور اس سے دس ناجائز بچے بھی پیدا کرنے کی اجازت ہے ، اور اگر کسی ہندو خاتون کا شوہر کام کے سلسلے میں، پڑھنے کے لیے، یا دھرم کی خدمت کے لیے ایک مدت کے لیے گھر نہیں آتا تو اس کی بیوی کو یہ اجازت ہے کہ وہ کسی غیر مرد سے جنسی تعلقات قائم کر سکتی ہے ۔یہ ہیں ہندو دھرم کے ٹھیکے دار جو عوام کو گندگی میں ڈوبورہے ہیں اور ان کی پشت پر ہر وہ طاقت موجود ہے جو ملک کے محافظ بنے پھرتے ہیں۔ بہرکیف!!! انسانوں کو بنانے والا ہی بہتر جانتا ہے کہ انسانوں کے درمیان صلح کیسے کی جائے۔ ہندوستان میں آٹھ سو سال سے زیادہ عرصے تک مسلمانوں کی حکومت رہی ہے اور مسلمانوں نے ہر میدان میں ترقی کی۔ اس ملک کو اللہ کے حکم سے شریعت کا وہ پاک صاف نظام عطا کیا جس سے شرک میں ڈوبی عوامی کی گندگی پاک ہوگئی۔
مسلمانوں کے اسلامی دور کی چند مثالیں یہاں لکھتا چلوں جس کا مقصد اپنی مغلوب امت کو یہ پیغام دینا ہے کہ کیسے مسلمانوں نے اسی ملک میں رہ کر دنیا کی سربراہی کی۔
آج کے دور میں ہر ملک اپنی معیشت کو مضبوط کرنے اور اسے چمکانے میں لگا ہوا ہے لیکن ایک دور تھا جب آپ ہی کے آبا و اجداد ، ملک کے مسلمان حکمرانوں نے ۱۷۰۰ء میں ہندوستان کی جی ڈی پی کو چوبیس (۲۴) فیصد تک پہنچا دیا جو دنیا کی سب سے مضبوط معیشت تھی اس وقت آپ کی اس مضبوط معیشت کامقابلے چین اور یورپ بھی نہیں کر سکے تھے وہ بھی آپ سے پیچھے تھے۔
آپ کو حیرت ہو گی کہ اٹھارہویں صدی عیسوی، تک دنیا کی صنعت کا پچیس (۲۵) فیصد مال ہندوستان میں تیار کیا جا تا تھا۔
دنیا کو کپڑا، روئی اور ریشم وغیرہ دینے والا سب سے بڑا ملک ہندوستان ہی تھا جس میں بنگال سبھا سرِ فہرست ہے جس کے عوض دنیا کے پاس ہندوستان کو دینے کے لیے سوائے سونا ، چاندی کے کچھ نہیں تھا۔
آج ہمارے ملک میں مسلمان غربت کی وجہ سے بے حد پریشان ہیں لیکن ذرا غور کریں کہ اٹھارہویں صدی میں بنگال اور جنوبی ہندوستان کے لوگوں کی آمدن اور معیارِ زندگی (living standard)برطانیہ اور یورپ میں رہنے والے لوگوں سے بہتر تھا۔
فیشن کے لیے برطانیہ کے باشندے پچانوے (۹۵)فیصد کپڑا، ریشم اور روئی ہندوستان سے لیتے تھے۔ زراعت ، صنعت کے شعبوں میں ’مغل انڈیا‘ اتنا آگے پہنچ چکا تھا کہ اشیا کی قیمتیں بہت کم ہو گئی تھیں جس کے نتیجے میں لوگوں کے لیے زندگی گزارنا بے حد آسان ہو گیا تھا(جبکہ آج کے بھارت میں سکولوں میں پڑھتے بچوں کو معلوم ہی نہیں کہ ’مغل‘ کسے کہتے ہیں)، دو وقت کی روٹی ان کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا، مؤرخ لکھتے ہیں کہ لوگ اتنے خوشحال ہو گئے تھے کہ کوئی صدقہ و زکات دینے نکلے تو اسے لینے والا کوئی نہیں ملتا تھا۔
اس ملک میں شریعت نافذ تھی، اسلام حاکم تھا اور مسلمان آزاد تھے۔ ان کی تہذیب و ثقافت ترقی کر رہی تھی، مجال ہے کہ کہیں جاتی، مذہب، امیری ، شہرت کی بنا پر ظلم کیا جائے۔ ملک کا ہر طبقہ خوشحال تھا، جس کی وجہ یہ تھی کہ ملک پر حکومت کرنے والوں کو اللہ کا خوف و ڈر تھا وہ اپنے آپ کو عوام کا خادم سمجھتے تھے اور ان کے لیے امارت ایک بوجھ تھی نہ کہ غرور و تکبر کرنے کی کوئی چیز!
مفکرِ اسلام مولانا سیّد ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ کے الفاظ میں کچھ تصرف کے ساتھ عرض ہے کہ ’’آج ملک خود کشی کے لیے قسم کھا چکا ہے، وہ آگ کی خندق میں گرنے کے لیے تیارہے، وہ بداخلاقی اور انسانیت کُشی کی دلدل میں ڈوب رہا ہے۔اہلِ ایمان! آپ ہی ہیں جو ہندوستان ہی کو کیا پورے ایشیا کو بچا سکتے ہیں، آپ اللہ اور رسولؐ کی بات کہیے، آپ کو کوئی ضرورت نہیں کہ آپ نیلام کی منڈی میں اتر آئیں اور آپ اپنی ہی سودا کرنے لگیں کہ ہماری بولی لگ جائے۔ آپ متاعِ نایاب ہیں اللہ کے سوا آپ کی خریداری کا کوئی حوصلہ نہیں کرسکتا اس لیے میں ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں۔ کاش میں آپ کے دلوں اور دماغوں پر چوٹ لگا سکتا۔ میں صرف آپ سے کہتا ہوں کہ اس ملک کو صرف تنہا آپ بچا سکتے ہیں۔ اس لیے کہ آپ کے پاس عقیدۂ توحیداور انسانی اصول و مساوات ہے آپ کے پاس اجتماعی عدل کا مکمل نظام موجود ہے آپ ہی ہیں جو ہر چیز سے بالاتر ہیں۔ آپ ہی ہیں جن کے پاس ایمان بالآخرۃ ہے۔ اور جو ’العاقبۃ للمتقین‘ پر یقین رکھتے ہیں۔ آپ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی نظر طاقت اور قوت پہ رہا کرتی ہے۔ اور نہ آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے۔ جو انتخابات میں کامیابی اور پارلیمنٹ تک پہنچ جانے ہی کو سب سے بڑی معراج سمجھتے ہیں۔ ‘‘
دین ِ اسلام ساری کائنات کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے کیونکہ انسان اپنے مفادات کے لیے حد درجہ گر سکتا ہے اور اپنی بادشاہی کے لیے لاکھوں، کروڑوں انسانوں کو غلاظت کی دلدل میں دھکیل کر ان کو اپنا غلام بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر و احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنا دین عطا فرمایا اب اس دین کی دعوت دینا اور اس کے نفاذ کے لیے کوشش کرنا ہمارے لیے ضروری ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ذمہ داری ہمارے ہی کاندھوں پر ڈالی ہے ۔ جہاد ، ہر باطل نظام کی ضد ہے اور دین کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دفع کرنا، جہاد کے ذریعے ہی کیا جا سکتاہے۔ اس بات کو ہم جتنی جلدی سمجھ جائیں اتنا ہی ہمارے اور ہمارے دین کے لیے بہتر ہے ورنہ کفار کے حربے ہمیں اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہیں ۔ دینِ حق کی دعوت اس وقت زیادہ مؤثر ہوگی جب ہمارے ہاتھوں میں اقتدار ہوگا جب دین کو نافذ کرنے کے لیے ہمیں کسی کی منت و سماجت نہیں کرنی پڑے گی، جب ہم دین میں داخل ہونے والوں کا دفاع کر سکیں گے۔
آج ہندوستان میں یہ صورتِ حال ہے کہ ہندو اپنی مرضی سے اسلام بھی قبول نہیں کر سکتے ، ان کے خلاف قانون سازی کی جارہی ہے ، ان کو ڈرایا ، دھمکایا جا رہا ہے اور مسلمانوں کی تو یہ صورتِ حال ہے کہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہیں ، بھئی ہماری تو جان چھوڑو! جو تم کہو گے ہم وہ کریں گے!!!
آج ہندوستان میں ظالموں کا ایک ٹولہ سرگرم ہے جس نے سالوں کی تیاری کے بعد سر اٹھایا ہے اور اب وہ اپنی حکومت ، اپنی سربلندی چاہتا ہے جس کے قبضے میں طاقت ہے اور جسے روکنے کے لیے، جس کے ظلم سے نجات کے لیے اللہ تعالی نے ہم پر جہاد فرض کیا ہے ، یہ بات ہم جتنی جلدی سمجھ جائیں اتنا ہمارے اور اس دھرتی پر بسنے والی دوسری اقوام کے لیے مفید ہے تا کہ اس دھرتی پر انصاف قائم کیا جا سکے، حق دار کو اس کا حق ملے ، انسانوں کے درمیان جاتی کے نام پر بھید بھاؤنہ ہو ۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس ملک میں اسلام کی بہاریں لانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) تاکہ اس ملک کا ہر بے بس انسان ، امیر یا غریب ، عام و خاص چین و سکون کا سانس لے سکے اوراپنے مالک کا حق عطا کر سکے!
اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے







![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



