نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!

جہادِ کشمیر میں: میرے تجربات و مشاہدات

by عادل احمد لون شہید
in فروری تا اپریل 2021, کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
0

شہید بھائی ’عادل احمد لون‘ ایک عرصے سے قافلۂ شریعت یا شہادت سے منسلک تھے اور آپ کے مضامین گاہے مجلہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ کی زینت بڑھاتے رہے، آپ کا قلمی نام ’عکرمہ شوپیانی‘ تھا۔ ۱۰، اپریل ۲۰۲۱ء کو ہندو بھگوا دہشت گرد فوج کے ساتھ ایک معرکے میں آپ لیلائے شہادت سے ہم کنار ہوئے ۔ اپریل کی ۱۰ تاریخ ہی کو وادیٔ کشمیر میں دو مختلف مقامات پر قافلۂ شریعت یا شہادت سے وابستہ سات مجاہد ساتھی شہید ہوئے (جن میں ایک عکرمہ بھائی ہیں)، دیگر شہدا میں دار العلوم دیو بند کے طالبِ علم، بھائی حافظ مزمل منظور تانترے (جو مجاہدین کی صفوں میں ملّاحافظ محمد مقبول اور حافظ محمد مصطفیٰ عبد الکریم کے ناموں سے جانے جاتے تھے)، امتیاز احمد شاہ، باسط اسماعیل بخشی، زاہد احمد کوکا، یونس احمد کھانڈے اور کاشف بشیر میر رحمۃ اللہ علیہم اجمعین شامل ہیں۔ اللہ پاک ہمارے ان شہید ساتھیوں کے خون کے صدقے ’جہادِ کشمیر‘ کو جِلا بخشے اور ’شریعت یا شہادت‘ کے مشن کو قبولِ عام بخشے، وہ مشن جو ہر صاحبِ ایمان کا مقصد ہے کہ یا تو اللہ کی شریعت ہماری زندگی میں غالب ہو رہے یا ہم اپنی شہادت کے خون سے شجرِ جہاد و اقامتِ دین و شریعت کو سیراب کر کے اس دنیا سے گزر جائیں۔ (ادارہ)


جہاد اسلام کے فرائض میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ کے نام اور نظام کی سربلندی اور غلبے کا ذریعہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عزت کو جہاد کے عمل کے ساتھ مشروط فرما دیا ہے اور جہاد چھوڑنے پر دردناک عذاب اور ذلت کے مسلط کردیے جانے کی وعید سنائی گئی‌‌ ہے۔جہاد ہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کا نظام نافذ ہوتا ہے اور کفروفساد ختم ہو ‌جاتا‌ ہے۔جہاد اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور جہاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے اور دین کی حفاظت کا ذریعہ ہے ۔ یہ یقین اور عقیدہ رکھنا ہم پر فرض ہے ، جو یہ یقین اور عقیدہ نہیں رکھے گا اُس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔کیونکہ علمائے کرام فرماتے ہیں جو آدمی بھی قرآن مجید کی آدھی آیات کا انکار کردے یا ایک حرف کا انکار کردے وہ آدمی مسلمان نہیں رہتا۔تو جو آدمی قرآن مجید کی تقریاًساڑھے چار سو آیات جن میں جہاد کا‌ ذکر ہے ان کا انکار کردے تو وہ کس طرح مسلمان رہ سکتا ہے۔ ‌

اللہ پاک نے اس دین کی حفاظت کے لیے اور دین کو پوری دنیا پر غالب کرنے کے لیے جو فریضہ اور حکم اتارا ہے وہ جہاد ہے۔اب اس جہاد کے سلسلے میں امت مسلمہ پر لازم ہے کہ جہاد کو مانے کہ حقیقتاً جہاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ ایک فریضہ ہے۔اور اس جہاد میں نکل کر اپنی جان اور مال کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں قربان کرنا لازمی ہے۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ مجاہد کا میدان جہاد میں ایک ساعت کا قیام عابد کی ستر سالہ بے ریا عبادت سے افضل ہے۔

جہاد میں آ نے سے پہلے میں یہ سوچا کرتا تھا کہ جب میں جہاد میں شامل ہو جاؤں گا تو بس میری بندوق ہو گی اور کفار سے جنگ ہو گی۔میں بہت سی چیزوں سے ناواقف تھا جو جہاد میں بہت ضروری ہیں۔جہاد میں ہر قدم پر ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کا دھیان رکھنا بےحد ضروری ہوتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ میں نے الحمد للہ بہت سی ایسی چیزیں سیکھیں اور ان کا تجربہ حاصل کیا۔یہ وہ چیزیں ہیں جو ہرمجاہد کو پیش آ تی ہیں اور جو بھی جہاد میں شامل ہونا چاہتا ہے اس کو گھر سے ہی ان چیزوں کا علم ہونا چاہیے ۔ جہاد میں شمولیت کے بعد میری آنکھیں کھل گئیں۔جو لوگ جہاد سے وابستہ نہیں ہوتے وہ اکثر اس غفلت اور غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ جہاد میں علم کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔مگر یہاں آکر مجھے سمجھ آئی کہ ایک مجاہد کے لیے علم کس قدر ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ جسے علم عطا فرمائیں وہ بے حد خوش نصیب انسان ہے اور علم اس کو کہتے ہیں جس پر عمل کیا جائے۔اور واقعی ہم دیکھتے ہیں کہ جن حضرات کا اپنے علم پر عمل نہیں ہوتا وہ تھوڑے ہی عرصے میں جہاد اور دیگر اعمال صالحہ کے حساب سے خالی ہو جاتے ہیں۔حدیث پاک کا مفہوم یہ ہے کہ ایک عالم اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے۔علم سے انسان حق اور باطل میں تمیز کر سکتا ہے۔جب ایک مجاہد کے پاس علم ہو گا تب ہی وہ حق اور ناحق میں فرق کر پائے گا۔حضرت شیخ عبداللہ عزام شہید رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ’جو مجاہد علم اور تقویٰ کے بغیر ہتھیار اٹھالے وہ لٹیرا بن جاتا ہے‘۔ایک مجاہد کو قدم قدم پر علم کی ضرورت پڑتی ہے ۔جب اس کے پاس شریعت کا علم ہوگا تب ہی وہ زندگی میں پیش آنے والے مسائل کو شریعت کے مطابق حل کر پائے گا۔ یا اگر وہ ایسےمقام پر فائز نہیں ہے کہ اسے مسائل حل کرنے اور فیصلے کرنے کی ضرورت پڑے تو بھی بہر حال اسے زندگی میں پیش آمدہ مسائل کے لیے علمائے کرام سے سوال تو کرنا ہی پڑتا ہو گا ، اور سوال میں آدھا علم پوشیدہ ہے ۔اگر وہ علم کے بغیر کوئی فیصلہ کرتا ہے تو وہ زوال کا سبب بن جاتا ہے۔ بہت سے مجاہد یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم میدانِ کارزار میں ہیں اب ہمیں علم سیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ان کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مجاہد نہیں ہوا کرتے تھے ؟ وہ حضرات میدان جہاد میں بھی علم حاصل کرتے تھے۔بیت المقدس کی فتح کا مسئلہ تھا۔مسلمانوں نے وہاں پر چڑھائی کی۔وہاں کے لوگوں نے کہا کہ آپ اپنے خلیفہ کو ہماری طرف بھیجی، ۔ہمارے پاس ان کی نشانیاں ہیں۔ہم دیکھیں گے کہ اگر وہ نشانیاں موجود ہوئیں تو بغیر کسی لڑائی کے ہم چابیاں ان کی جھولی میں ڈال دیں گے ۔حضرت عمر رضی اللہ عہ کی ظاہری زندگی یہ تھی کہ ان کی قمیض پر چمڑے کے پیوند لگے ہوئے ہیں۔عدل و انصاف اتنا کہ اگر غلام ساتھ ہے تو کچھ فاصلہ خود سواری پر بیٹھے اور وہ پیدل چلتا اور کچھ فاصلہ آپ پیدل چلتے ہیں اور اس کو سواری پر بٹھاتے ہیں اور جب آ خری وقت آیا تو وہ منزل آپ کے پیدل چلنے کی تھی اور غلام کے سواری پر بیٹھنے کی ۔مسلمانوں کا خلیفہ اس حال میں دشمن کے پاس جاتا ہے کہ اس نے اونٹ کی رسی پکڑی ہوئی ہے اور غلام اوپر بیٹھا ہوا ہے ۔کپڑوں میں پیوند لگے ہیں۔اہلِ بیت المقدس کہنے لگے کہ یہ وہی شخصیت ہے جس کی نشانیاں کتابوں میں ہیں۔بیت المقدس کی چابیاں ان کی جھولی میں ڈال دی جاتی ہیں۔

یہ عزتیں کیسے مل رہی ہیں؟ صرف قوتِ ایمانی کے سبب جو انسان کو علم ،عمل اور اخلاص کی وجہ سے نصیب ہوئی ہیں ۔اس لیے ایک مجاہد کو چاہیے کہ ہر وقت شریعت کا خیال رکھے ۔یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب اس کے پاس علم ہو گا۔یہ علم اور پھر اس علم پر عمل ہی کی برکت ہے جس نے ملا محمد عمر مجاہد کو وقت کا امیر المومنین بنا دیا۔اور اسامہ بن لادن کو امتِ مسلمہ کے ہر عام و خاص اور مجاہد و غیر مجاہد کے لیے شیخ اسامہ بنا دیا۔ آ ج ضرورت ہے اس بات کی کہ جہاں جہاں جو بھی مجاہدین ہوں وہ علم کے چراغ کو حاصل کریں اور روشن رکھیں تاکہ جہاں جہاں جہالت کا اندھیرا آ چُکا ہے یہ روشنی میں تبدیل ہو جائے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دین کی محنت اور دین ہم تک پہنچایا، اس دین کی حفاظت کرنے والی جماعت میں شامل ہو جائیں۔جب آ پ علم حاصل کریں گے اور پھر اس پر عمل کریں گے اور اس عمل کو پھیلائیں گے تو آ پ اس دین کی حفاظت کرنے والوں کے گروہ میں اور جماعت میں شامل ہو جائیں گے۔

دوسری چیز جو میں نے جہاد فی سبیل اللہ میں سیکھی ہے وہ یہ ہے کہ جب انسان کو مصائب اور آزمائشیں پیش آتی ہیں تو اس وقت صبر کتنی ضروری چیز ہے۔مجاہدین کو قدم قدم پر آزمائشیں پیش آ تی ہیں۔جب وہ ان آزمائشوں پر صبر کرتا ہے ،تو وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں میں شامل ہو جاتا ہے۔انسانی زندگی کے حالات بدلتے رہتے ہیں۔کبھی خوشی کی گھڑیاں ہوتی ہیں اور کبھی غم کی کیفیات ہوتی ہیں۔شیطان ان دونوں حالات میں بندے کو ورغلانے کی کوشش کرتا ہے۔خوشی کے حالات ہوں تو غفلت میں ڈال دیتا ہے اور غم کے حالات ہوں تو ناامید بنا دیتا ہے۔غفلت مین پڑنے والا بھی راستے سے ہٹ گیا اور ناامید ہونے والا بھی راستے سے ہٹ گیا۔انسان خوشی کے حالات میں ہو تو شکر ادا کرے۔اور غم اور پریشانی میں ہو تو صبر کرے۔ اللہ تعالیٰ کو صبر کرنے والوں سے محبت ہے۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ان اللہ مع الصابرین، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔اللہ کی محبت انہیں نصیب ہو رہی ہیں۔جس کے ساتھ پروردگار ہوتا ہے پھر کوئی بندہ اس کا بال بیکا نہیں کر سکتا ۔اللہ پاک صبر کرنے والوں کے گناہ معاف فرمادیتے ہیں اور ان کو بڑا اجر عطا فرمادیتے ہیں۔جب بندے پر کوئی بلا یا مصیبت آ تی ہے تو وہ اس پر خوش ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہے۔کیونکہ حدیث پاک میں آ تا ہے کہ خوشیاں اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ باندھ کے روزانہ کھڑی ہوتی ہیں کہ اے ہمارے رب ہمارے لیے کیا فیصلہ ہے۔اللہ پاک فرماتے ہیں کہ فلاں فلاں ظالمین اور مخالفین کے پاس چلی جاؤ۔خوشیوں کو ان کے پاس بھیج دیتے ہیں۔اس کے بعد فاقے، غم، پریشانی وغیرہ رہ جاتے ہیں۔اللہ پاک فرماتے ہیں کہ اچھا تم میرے پیاروں کے پاس چلے جاؤ۔ حدیث پاک میں آیا ہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہو اس پر پریشانیاں اس طرح آئیں گی جیسے پانی ڈھلوان کی طرف تیزی سے چلتا ہے ۔جہاد میں پریشانیاں تو آ تی ہیں مگر یہ تھوڑی سی پریشانیاں ہیں۔جب کہ آ گے جا کر ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی میں اس کا اجر وثواب ملے گا۔مجاہدوں کو جہاد میں طرح طرح کی پریشانی پیش آتی ہیں۔ کبھی اسلحے کی کمی کی وجہ سے ،کبھی جگہ نہ ملنے کی وجہ سے، کبھی افراد کی کمی کے کی وجہ سے یا کچھ اور۔پھر جب یہ صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایسے راستے کھول دیتے ہیں کہ بندہ سوچ بھی نہیں سکتا۔بہت سی آزمائشیں انسانوں پر نازل ہوتی ہیں جن سے وہ تنگ دل ہو جاتا ہے۔ مگر جب بھی وہ ان آزمائشوں میں صبر کرتا ہے تو انسان وہ آسانی دیکھتا ہے جو اس کے گمان میں بھی نہیں ہوتی ہے۔اس کا میں نے خود تجربہ کیا ہے ۔کیونکہ اس کا گواہ قرآن ہے کہ مشکل کے بعد آ سانی ہے ۔ اللہ پاک سورۂ انفال میں فرماتے ہیں کہ تم بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو کافروں پر غالب رہیں گے۔اور اگر سو ایسے ہوں گے تو ایک ہزار پر غالب رہے گے۔شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ مجھے بیس بندے ایسے چاہییں جو صبر کرنے والے ہوں اور جن کا حوصلہ پہاڑوں سے ٹکرانے والا ہو ،پھر میں سارے کفر سے بھڑ جاؤں گا۔اس لیے جب بھی کسی انسان کو کوئی مصائب پیش آئیں تو اس وقت ان مصائب میں بھاگنا نہیں ہے بلکہ صبر کرنا ہوتا ہے۔

آخری چیز جو میں نے جہاد فی سبیل اللہ میں سیکھی ہے وہ یہ ہے کہ ہر کسی انسان کو اللہ تعالیٰ پر ہی توکل اور اعتماد رکھنا چاہیے۔یہ عبادت کی قسموں میں سے ایک قسم ہے۔لہٰذا یہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہونا چاہیے۔اگر کبھی بھی کسی شخص یا مجاہد کو سختی پیش آ تی ہے یا کسی اور مصائب سے گزرنا پڑتا ہے ۔تو اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ پر ہی توکل کرے۔کیونکہ کسی اور پر اعتماد کرنا ناجائز ہے۔اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ہی توکل کرے۔حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا ہی پورا ایمان ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مومن کے اوصاف ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وعلیٰ ربھم یتوکلون، اور یہ لوگ یعنی ایمان والے اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل اور اعتماد ایمان کے لیے لازم ہے۔اس لیے ہر شخص کو اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔نہ اس کے سوا کسی سے وہ امید رکھیں ۔اور نہ ان کے سوا کوئی اس کا مقصود ہو۔نہ اس کے سوا کسی سے وہ مرادیں مانگیں ۔نہ کسی اور کی طرف جھکیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کامل قدرت والے ہیں۔وہ اکیلا بادشاہ ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا ۔اگر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے اوصاف بیان کیے ہیں کہ وہ توکل اور اعتماد صرف اللہ تعالیٰ پر کرتے ہیں۔تو میرے دوستو اور عزیز مجاہدین ساتھیو پھر ہم کسی ملک یا کسی شخص پر کیوں اعتماد رکھتے ہیں۔پھر ہم کیوں کہتے ہیں کہ اگر وہ ہماری مدد کے لیے نہیں آئیں گےتو کچھ نہیں ہو گا۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا رب بھی وہی ہے ہمارا رب بھی وہی ہے۔ان حضرات نے اللہ تعالیٰ پر توکل اور اعتماد کیا اور کم طاقت کے بنا پر پوری دنیا کو روشن کر دیا۔یہی ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم ہر وقت اللہ تعالیٰ پر توکل کریں اور اعتماد بھی اسی پر رکھیں۔اگر چہ ہمارے پاس کتنا ہی طاقت کیوں نہ ہو ۔کتنی ہی ٹیکنالوجی کیوں نہ ہو ۔اس کے بعد بھی ہمیں اللہ تعالیٰ پر توکل اور اعتماد رکھنا چاہیے۔

اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی توکل اور اعتماد کی تعلیم پوری قوت کے ساتھ پیش فرمائی ہے، جب ہجرت کا سفر ہوا تو آپ غار ثور میں تشریف لے گئے تا کہ کفار قریش کے تعاقب سے بچ جائیں اور آپ کے ساتھ آپ کے رفیق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی تھے ، حضرت صدیق نے محسوس فرمایا کہ کفار آپ کا تعاقب کرتے ہوئے غار کے قریب پہنچ چکے ہیں، توعرض کیا کہ میں مشرکین کے قدم دیکھ رہا ہوں، اے اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کوئی نیچے جھک کر دیکھ لے توہم پکڑلیے جائیں گے، اس پر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیق اکبر کو توکل اور اعتماد کی تعلیم دی ، اس کو قرآن کریم نے ان الفاظ سے ظاہر کیا ہے: لا تحزن ان اللہ معنا، اے ابوبکر !تم غم نہ کرو ،بے شک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے ۔

آخر میں تمام مجاہدین ساتھیوں سے میری یہی گزارش ہے کہ اگرچہ آپ کےپاس اسباب کم ہی کیوں نہ ہو۔پھر بھی توکل اور اعتماد اللہ تعالیٰ پر رکھیں۔اسباب سے نظر ہٹا کر خالق پر رکھ دیجے۔یہی کلمہ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا ہے۔اور یہ کلمہ ہم سے یہی چاہتا ہے کہ کسی سے کچھ نہیں ہوتا سوائے اللہ کے۔اور جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔

٭٭٭٭٭

Previous Post

ہندو: بد ترین حاکم و بہترین محکوم

Next Post

بنگلہ دیشی فوج میں ہندوستانی اثر و رسوخ

Related Posts

کشمیر اور بھارت میں بے دخلی کو معمول بنانے کا عمل
کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!

کشمیر اور بھارت میں بے دخلی کو معمول بنانے کا عمل

15 فروری 2026
وقت قریب آ رہا ہے!
کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!

وقت قریب آ رہا ہے!

4 نومبر 2025
تری رہبری کا سوال ہے!
کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!

تری رہبری کا سوال ہے!

13 اگست 2025
کشمیر کا شاندار اسلامی ورثہ: خطرات و حل
کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!

کشمیر کا شاندار اسلامی ورثہ: خطرات و حل

13 جولائی 2025
دخترانِ کشمیر کے نام
کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!

دخترانِ کشمیر کے نام

7 جون 2025
اسلام مخالف بھارتی حربے اور کشمیری مسلمانوں کی ذمہ داری
کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!

اسلام مخالف بھارتی حربے اور کشمیری مسلمانوں کی ذمہ داری

27 مئی 2025
Next Post

بنگلہ دیشی فوج میں ہندوستانی اثر و رسوخ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

by ادارہ
15 فروری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version