بنگلہ دیش اور ہندوستان میں جو بھی تعلق ہو ،سیاسی، اقتصادی، یا پھر عسکری ، اسے سمجھنے کے لیے تاریخ پر نظر ڈالنی پڑے گی، کیونکہ تقریباً تمام بڑے بڑے واقعات کا تعلق گزری ہوئی تاریخ سے ہے۔ اسی لیے میں بحث کاآغاز تاریخ کے دو حوالوں سے کروں گا۔
نمبر ایک
قدیم ہندوستانی شہنشاہ، چندرگپتا مورزیہ کا لیڈر ومت کوٹلیہ جس کو چانکیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کی ایک تعلیم ہے:
’’اقتدار حاصل کرنےکی خواہش اور دوسرا ملک فتح کرنے کا شوق کبھی دل سے مت نکالو! سرحد میں موجود تمام بادشاہوں کو دشمن ٹھہرانا!‘‘
ہزاروں سال کے بعد آج بھی بھارت اس اصول پر کام کر رہاہے۔ آج بھی ہندوستان کا جاسوسی ادارہ ’را‘ اسی اصول پر عمل پیراہے۔
نمبر دو
’’بھارت ضروراپنا تسلط پھیلائے گا۔ بحر ہند کے علاقہ میں بھارت ہی مرکز ہوگا سیاسی اور معاشی افعال کا۔ چھوٹی ریاستیں تباہ وبرباد ہوں گی۔ یہ سب یقیناً خود مختار علاقےہوں گے لیکن سیاسی طور پر آزاد نہیں رہیں گے۔‘‘
یہ آزاد ہندوستان کے اساسی بانی قائد پنڈت جواہر لال نہرو کا ’’سب سے مشہور ہندوستانی نظریہ‘‘ ہے جس کو آج ’نہرو نظریہ ‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اصل میں اس نظریے کی بنیاد بھی ’متحدہ ہندوستان‘ (ہندو ہندوستان)کے نظریہ پر قائم ہے۔ ایک ایک کرکے کشمیر، حیدرآباد، سکھم ، نیپال، سری لنکا ، تامل ناڈو اور پھر ء ۱۹۷۱ کی جنگ اور اس کے بعد سے بنگلہ دیش میں نا گوارمداخلت، اس سب سے انڈیا کا یہ نظریہ ظاہر ہوتا ہے ۔
فی الوقت ہماری بحث محض فوجی اثر تک محدود رہے گی ۔ اگر چہ بسا اوقات عسکری پالیسی اور سیاسی پالیسی ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتی ہیں۔
۷۱ ء میں بنگلہ دیش کے آزاد ہونے سے پہلے ہی بھارت نےبنگلہ دیش کو سات نکاتی معاہدے کا پابند کیا تھا، جن میں سے ایک آج ہماری بحث کاموضوع ہے، اور وہ یہ ہےکہ : ’بنگلہ دیش کی کوئی ذاتی فوج نہیں ہوگی ‘۔
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت نے بنگلہ دیش کے قیام یا آزادی کی حمایت کیوں کی ؟ اور وہی بھارت اس ملک کی فوج کے بارے میں اتنا پریشان کیوں ہے؟ خلاصہ یہ ہے کہ بھارت نےکبھی بھی یہ نہیں چاہا کہ بنگلہ دیش کی ایک ذاتی تربیت یافتہ فوج ہو۔ شروع سے لے کر آج تک یہی بھارت کا موقف رہا ہے۔
اس تاریخی حقیقت کو جاننے کے بعد اب ہم بعض حقائق پر نظر ڈالتے ہیں ۔
۱) دیش آزاد ہونے سے پہلے ہی اس کے خلاف کھڑے ہونا
آزاد ملک کی خود مختاری کو بر قرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی ذاتی فوج موجود ہو۔ لیکن بنگلہ دیش آزاد ہونے سے پہلے ہی بھارت نے بنگلہ دیش کو پچیس (۲۵)سال کی مدتِ غلامی کے معاہدہ پر مجبور کیا۔ جس کی ایک شرط یہ تھی کہ بنگلہ دیش کی کوئی ذاتی فوجی نہیں ہو گی۔ پیرا ملٹری (نیم فوجی) قوت رہ سکتی ہے۔ مگر اس میں بھی شرط یہ ہے کہ اس پیرا ملٹری قوت کا ایک حصّہ اگر بنگالی افسران ہوں گے توایک حصّہ مکتی باہنی میں سے بھارت کے پسند کردہ لیڈر، اور ایک حصّہ براہِ راست خود ہندوستانی فوج کے افسران پر مشتمل ہو گا! لہٰذا تاریخ میں لکھی یہ سطر ہمارے لیے بنگلہ دیش کی فوجی تاریخ سمجھنے کے لیے کافی ہے۔
۲) قومی دفاعی پالیسی
ہر آزاد ملک کے لیے ایک قومی دفاعی پالیسی بنائی جاتی ہے۔ لیکن بنگلہ دیش کی کبھی بھی ایک مکمل دفاعی پالیسی نہیں تھی۔ کہا جا سکتا ہے کہ ایسا ہونے نہیں دیا گیا۔ سال ۲۰۱۸ء میں ایک دفاعی پالیسی (کا ڈرافٹ) تیار کیا گیا۔ جس کے بارے میں قومی دفاعی پالیسی بنانےوالے لیڈر ڈپٹی جنرل حسین سہروردی نے آگاہ کیا کہ:
’’بھارت ہمیشہ چاہتا تھا کہ بنگلہ دیش اس کی مرضی کے مطابق دفاعی پالیسی بنائے اوروہ اس کے لیے دباؤ ڈالتاتھا۔‘‘
منقول ہےکہ ایک عرصے تک بنگلہ دیشی فوج کی سالانہ فوجی مشقوں (war games)میں تصوراتی دشمن کے طورپر دشمن بنگلہ دیش–ہندوستان سرحد کے پار دکھایا جاتا تھا۔ جنگ کا کھیل فوجی اہلکاروں کی تربیت کا ایک لازمی جز ہے۔ اس میں ان کو جنگی نظریہ اور حکمتِ عملی سکھائی جاتی ہے۔ جنگ کے کھیل میں دشمن کا نام ظاہر نہیں کیا جاتا ۔ لیکن بین الاقوامی سرحد کا مقام اور فوج کی تعداد (فورس لیبل) کے اعتبار سے ہی طے ہوتا ہے کہ مخالف کون ہے۔ ایک طرف سمندر اور باقی تین اطراف میں بھارت ۔ اس معاملے کو لے کر بہت عرصے سے بھارت اعتراض کرتا آرہاہے کہ بنگلہ دیش کے فوجی نظریے کے مطابق بھارت کو تصوراتی دشمن نہ دکھایا جائے۔
۲۰۱۲ء میں بھارت کے مسلسل اعتراض پر اس نظریے میں تبدیلی لائی گئی اور سال ۲۰۱۴ء کے وار گیم میں بھارت کے ساتھ بنگلہ دیش کی بین الاقوامی سر حد کو دشمن کے طورپر نہیں دکھایا گیا1۔
۳)ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں ہندوستانی آرمی چیف کی شرکت
سنہ ۲۰۱۵ء میں جنرل دلبیر سنگھ پروڈھان اور سنہ ۲۰۱۷ء میں اس وقت کے ہندوستانی آرمی چیف جنرل وجئے کمار سنگھ نے مہمان کی حیثیت سے بنگلہ دیش ملٹری اکیڈمی میں کیڈٹوں کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کا معائنہ کیا اور سلامی لی۔
بی ایم اے (BMA: Bangladesh Military Academy)کا اس موقع پر عام طور پر بنگلہ دیش کا وزیر اعظم، صدر، یا بنگلہ دیش فوج، بحریہ یا فضائیہ کا چیف سلامی لیتا ہے۔ اس موقع پر مہمان کی حیثیت سے شریک ہونے کے لیے آج تک کسی اور غیر ملکی کو سلامی لینے کا موقع نہیں دیا گیا۔ کسی اور ملک کے کسی غیر مسلم فوجی لیڈر کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
۴)بھارت بنگلہ دیش دفاعی معاہدہ
سنہ ۲۰۱۷ء میں بنگلہ دیش نے چین سے دو (۲) جنگی آبدوزیں خریدیں۔ لیکن بھارت کو یہ پسند نہیں آیا۔ اس نے خریداری کے اس عمل کو متاثر کرنے کی کوشش بھی کی۔ اسی لیے بھارت نے بنگلہ دیش سے دفاعی معاہدہ کیا۔ قدرتی طورپر اس بارے میں کسی کو بھی زیادہ معلومات نہیں ۔ مگر ہندوستانی رپوٹر اور تجزیہ کار صابر بھومک کےنزدیک :
عسکری اعتبار سے زیادہ قربت اور ٹریننگ وغیرہ کے بارے میں دونوں ملکوں کی قومی افواج کا رابطہ پہلا نقطہ ہے۔ دوسری بات، بھارت کی خواہش ہے کہ بھارت سے ہی زیادہ تر مختلف النوع اسلحہ خریداجائے۔ فی الحال بنگلہ دیش اکثر اسلحہ چین سے خرید تا ہے۔ بھارت یہاں چین کی جگہ لینا چاہتا ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیوں کی صورت میں مستقبل میں اگر ضرورت پڑے تو بھارت و بنگلہ دیش مل کر آپریشن کریں۔ ‘‘
تجزیہ کار کے نزدیک، یہ ’ایک ساتھ مل کر آپریشن‘ کا مسئلہ واضح نہیں ہے کہ، کس بارے میں اور کس حال میں اس کی اجازت دی جائے، کہاں تک اجازت رہے اور یہ آپریشن کس کے ماتحت رہے گا، اس سب میں کچھ بھی واضح نہیں ہے۔ منقول ہے کہ، بنگلہ دیش کے اندر گھس کر فوجی آپریشن کرنا، ریلیف کے نام پر اہم اہم جگہوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے نگرانی کرنا یہ سب کچھ بھی بھارت کا نیا کام نہیں ہے! بھارت کے ماضی پر نظر رکھنے والے ’کیادارا ‘ کے مطابق ’ایک ساتھ مل کر آپریشن‘ کی بات بہت ہی مشکوک ہے‘۔2
ہائی کمیشن کی معرفت یہ بھی خبر ہے کہ بھارت دفاعی فنڈ میں جو پچاس (۵۰) کروڑ ڈالر قرض دےرہاہے اس کو پورے کا پورا بھارت سے در آمدات کی مد میں خرچ کرنا ہو گا، تو ایسا نہیں ہے بلکہ معاہدے کے مطابق بنگلہ دیش کو اجازت ہے کہ اس فنڈ کے ایک حصے (۳۵ فیصد) سے کسی بھی تیسرے ملک سے اسلحہ خرید ا جا سکتا ہے ، لیکن اس بارے میں بنگلہ دیش کو بھارت سے اجازت لینی پڑے گی۔ یعنی بنگلہ دیش کہاں سے کون سا اسلحہ خریدےگا، کتنا خریدے گا سب کچھ بھارت کو پیشگی معلوم ہونا چاہیے! 3
۵) بی ڈی آر قتل کا مقدمہ
سنہ ۲۰۰۱ء میں بھارت نے بنگلہ دیش کے اندر پڈوا اور روماری کے علاقوں میں میں جارحانہ آپریشن کی قیادت کی ۔ اس آپریشن میں ہندوستانی فوج کا بہت زیادہ نقصان ہوا۔ مذکور ہے کہ ہندوستانی بی ایس ایف (بارڈر سکیورٹی فورس)بنگلہ دیش کے بارڈر گارڈز کی طرح تربیت یافتہ نہیں ہے۔ کیونکہ بنگلہ دیش کی بارڈر گارڈ (جی بی جی یعنی بارڈر گارڈز بنگلہ دیش سابقہ بنگلہ دیش رائفلز) کی قیادت فوج کے پاس ہوتی ہے اور ان سب کی تربیت فوج جیسی ہے۔ ۲۰۰۱ء کے اس واقعے کا انتقام لینے کے لیے عوامی لیگ کی سرکار کے ساتھ مل کر بھارت نے سال ۲۰۰۹ء میں بی ڈی آر (بنگلہ دیش رائفلز) ہیڈ کوارٹرز میں ستاون (۵۷)فوجی افسروں کو مار ڈالا!
مذکور ہے کہ، اس وقت ہندوستانی جارح فوج کو روکنے والے بی جی بی کمانڈر میجر جنرل فضل الرحمٰن کو بھارت کے دباؤ پر ایک حکومت نے اپنی پوسٹ سے برخاست کیا اور ایک سرکار نے بعد میں نوکری سے ہی فارغ کر دیا۔
۶)بی جی بی کو ٹریننگ دے گی بی ایس ایف
’’بارڈر مینجمنٹ کے معاملے میں بنگلہ دیش بارڈر گارڈ فورس (بی جی بی) کو ہنددستانی بارڈر گارڈ فورس بی ایس ایف ٹریننگ دے گی۔‘‘
سنہ ۲۰۱۴ء میں بھارت کے اندر اختتام پذیر ہونے والی دونوں ملکوں کی بارڈر گارڈز کے اعلیٰ عہدیداروں کی کانفرنس میں یہ طے ہوا۔
دارالحکومت میں اپنے آفس میں ہر منگل کو ہونے والی پریس کانفرنس میں بی جی بی کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل عزیز احمد نے کہا کہ
’’بی ایس ایف نے بی جی بی کو بارڈر مینجمنٹ کے معاملے میں ٹریننگ دینے کی درخواست کی تھی جسے بی جی بی نے قبول کر لیا ہے۔‘‘ 4
۷) بنگلہ دیش کی کمانڈو فورس کا تربیتی نصاب بھارت نے چوری کروایا
بنگلہ دیش فوج کی پیرا کمانڈو فورس کے لیفٹیننٹ کرنل مستفیض الرحمٰن نے بتایا کہ ادوس چکما نامی ایک جونیئر آفیسر بھارت کے ورغلانے پر بنگلہ دیش کی کمانڈو فورس کی تربیتی دستاویز چوری کرکے بھارت چلا گیا۔ بھارتی فوج نے اسے مشیر بنانے کا لالچ دے کر اس سے یہ کام کرا یا۔
۸)مونگلا پورٹ میں ہندوستانی بحری فوج
رپورٹر، لکھاری، کالم نگار، تجزیہ کار اور بنگلہ دیشی فوجی کے پہلے بیچ کے افسر کیپٹن لیفٹیننٹ شہید خان نے بتایا کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کے دوران مونگلا پورٹ میں دو بحری جنگی جہازوں نے پڑاؤ کیا ۔ کسی ملک کے جنگی جہاز اس طرح کسی اور ملک میں کبھی بھی اجازت نامے کے بغیر داخل نہیں ہو سکتے۔ اس طرح کسی اجازت نامے کے بنا دو ہندوستانی جنگی جہازوں کے بنگلہ دیش کے اندر قیام کے بارے میں کیپٹن لیفٹیننٹ شہید خان نے بتایا:
’’اصل میں اسی طرح وہ (یعنی بھارت)بنگلہ دیش میں خاص طور پر اس کے بحری راستے، تزویراتی نکات(strategic points)، فائدہ مند مقامات، جیٹی؍گھاٹ اور تعیناتیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ کسی آزاد ملک کی فوجی خفیہ معلومات ہیں جو آج بھارت کے ہاتھ میں جا رہی ہیں۔‘‘
خلاصہ
یہاں پر صرف چند قابل ذکر واقعات کا تذکرہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کی جارحیت اور فوج کے اندر انتشار پیدا کرنے کے بارے میں بھارت کے بہت سارے واقعات درپردہ ہیں۔ اصل میں بھارت کی خاص ایجنٹ حسینہ واجد کی مدد سے فی الحال بنگلہ دیش میں بھارت کی جارحیت نئے طورپر ایک بہت ہی خطرناک انداز سے داخل ہوئی ہے۔ ملک کی معاشرت، میڈیا اور حکومت پر پہلے سے ہی سو فیصد ہندوستانی قبضہ قائم ہے۔ ساتھ ساتھ مختلف فوجی جرنیلوں اور دیگر اعلیٰ افسروں کو عورت، مال و دولت، اور عہدے کے لالچ دے کر پہلے ہی خرید لیا گیا ہے۔ خود بنگلہ دیش کا آرمی چیف بھارت کا ایک خاص ایجنٹ ہے۔ لیکن بھارت کو اندیشہ ہے کہ متوسط درجے کے افسران اور عام فوجی بھی باقاعدہ بھارتی تسلط کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرسکتے ہیں۔ ۱۹۷۵ء میں ان لوگوں نے ہی ہندوستان کے ایک خاص غلام مجیب کو مار ڈالا تھا۔
اسی لیے بھارت مختلف طریقوں سے حکومت کی طرح بنگلہ دیشی فوجی کو بھی پوری طرح اپنے قبضے میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
٭٭٭٭٭
1 بحوالہ: https://www.newindianexpress.com/nation/2014/feb/10/India-not-Enemy-in-Bangla-Wargames-574094.html
3بحوالہ: https://www.prothomalo.com/bangladesh/%E0%A6%AC%E0%A6%BE%E0%A6%82%E0%A6%B2%E0%A6%BE%E0%A6%A6%E0%A7%87%E0%A6%B6%E2%80%93%E0%A6%AD%E0%A6%BE%E0%A6%B0%E0%A6%A4%E0%A6%AA%E0%A7%8D%E0%A6%B0%E0%A6%A4%E0%A6%BF%E0%A6%B0%E0%A6%95%E0%A7%8D%E0%A6%B7%E0%A6%BE%E0%A6%B8%E0%A6%B9%E0%A6%AF%E0%A7%8B%E0%A6%97%E0%A6%BF%E0%A6%A4%E0%A6%BE%E0%A6%9A%E0%A7%81%E0%A6%95%E0%A7%8D%E0%A6%A4%E0%A6%BF%E0%A6%B8%E0%A7%8D%E0%A6%AC%E0%A6%BE%E0%A6%95%E0%A7%8D%E0%A6%B7%E0%A6%B0





![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



