نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home فتحِ امارتِ اسلامی

خراسان… احادیثِ مبارکہ کی پیشین گوئیاں

by مولانا عماد الدین معروف
in اگست و ستمبر 2021, فتحِ امارتِ اسلامی
0

افغانستان کی زمین پر امارتِ اسلامیہ کے مجاہدین کی فتح اور امارتِ اسلامیہ کا قیام … جہاں افغان قوم کے لیے خوشی کا باعث بنا ہے، وہاں اس نے تمام مسلمانانِ عالم کے دلوں میں بھی مسرت کے جذبات بھر دیے ہیں اور غلبہ اسلام کی نوید سنا دی ہے۔ دنیا کے دیگر خطوں میں جو مسلمان کفار اور ان کے آلہ کاروں کے مظالم کا شکار ہیں، افغانستان کے طالبان کو دیکھ کر ان میں امید کی کرن پیدا ہوئی ہے، اور جو اسلامی تحریکیں اور اہلِ دین مختلف خطوں میں طواغیت کے جبری پنجوں سے تنگ ہیں، وہ بھی افغانستان کی اسلامی امارت کو اپنے لیے مرکز کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ہم ذیل کے مضمون میں یہ جائزہ لینے کی کوشش کریں گے کہ اس خطے کے متعلق خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں کیا پیشین گوئیاں اور خوش خبریاں ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں افغانستان کے نام سے کوئی ملک یا علاقہ نہیں تھا، بلکہ اس زمانے میں اس خطے کو ’خراسان‘ کہا جاتا تھا، جس میں موجودہ افغانستان ہے۔ اس لیے مضمون میں خراسان سے بحث کی گئی ہے۔

حدودِ خراسان

سابقہ زمانوں میں ہمیں جو مختلف خطوں کے نام ملتے ہیں، ان کی حد بندی کرنا ایک مشکل کام ہے۔ وجہ اس کی یہ ہوتی ہے کہ جیسے جیسے زمانہ گزرتا گیا، تہذیبوں اور سلطنتوں میں تغیر آتا رہا اور اسی کے مطابق جغرافیائی حدود میں تبدیلی آتی رہی۔ اس تبدیلی کے زیرِ اثر مشہور خطوں کی حدود بھی مختلف زمانوں میں بدلتی رہیں۔ یہی حال ’خراسان‘ کابھی ہے۔ مسلمانوں کو جس زمانے میں خراسان سے شناسائی ہوئی، اس وقت خراسان فارس کی ’ساسانی سلطنت‘ کا صوبہ تھا۔ اس کی حدود جنوب میں سجستان سے شروع ہوتی تھیں، مغرب کی طرف نیشاپور، مرو شاہجہان اور سرخس وغیرہ تھے، شمال میں کابل، طخارستان سے لے کر ما وراء النھر کے علاقے بھی اس میں شامل تھے، جبکہ مشرق میں اس کی حدود ہند تک پہنچی ہوئی تھیں۔ یہ وہ جغرافیہ ہے جسے امام بلاذری﷫ نے ’فتوح البلدان‘ میں بیان کیا ہے۔ البتہ علامہ یاقوت حموی﷫ کا کہنا ہے کہ ما وراء النھر اور سجستان کو خطہ خراسان میں دخل نہیں، انھیں امام بلاذری﷫ نے خراسان میں اس لیے داخل کردیا کہ یہ تمام علاقے ساسانی سلطنت میں والئ خراسان کے زیرِ کنٹرول تھے۔ اسی طرح علامہ یاقوت حموی﷫ نے طخارستان، کابل، غزنی وغیرہ کو بھی خارج کیا ہے، اور اسے ہند سے ملحق کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ علامہ یاقوت حموی﷫ کی بات جغرافیائی لحاظ سے درست ہو کہ خراسان ایک ولایت ہو، جبکہ سجستان، طخارستان، ماوراء النھر وغیرہ الگ ولایتیں ہوں، لیکن ہمیں تو ’خراسان‘ کی تحدید اس لیے مطلوب ہے کہ ہم جان سکیں کہ احادیثِ مبارکہ میں جب خراسان کا ذکر آئے تو وہاں کون سے خطے مراد ہوں گے۔ اور پھر اس سارے اختلاف میں ہمارے لیے قرینِ مصلحت یہ ہے کہ ہم خراسان کے مرکزی علاقوں سے متعارف ہوجائیں اور موجودہ دور کے جغرافیہ میں انھیں تلاش کرسکیں۔ اس کے لیے اسلامی فتوحات کی تاریخ اور اسلامی مصادر کی طرف رجوع کرنے سے درج ذیل مشہور بنیادی علاقے معلوم ہوتے ہیں:

اول: سجستان جس کا مرکز ’زرنج‘ تھا؛ یہ خطہ آج کے ایران کے صوبہ سیستان اور افغانستان کے صوبے نیمروز اور کچھ ہلمند وفراہ پر مشتمل علاقہ ہے۔ قدیم مصادر میں دریائے ’ہندمند‘ کا لفظ آیا ہے جو موجودہ ہلمند کا قدیم نام معلوم ہوتا ہے۔

دوم: بُست، ذابلستان اور کابل؛ قدیم بُست افغانستان کے موجودہ صوبہ ہلمند کا مرکز لشکر گاہ ہے… بعض مصادر میں اسے سجستان کے ساتھ جوڑا گیا ہے، البتہ علامہ یاقوت حموی﷫ نے اسے اعمالِ کابل میں شامل کیا ہے، ذابلستان کے نام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ افغانستان کے صوبے زابل اور اس کے گرد ونواح کو شامل ہے، اور قدیم کابل … موجودہ کابل اور اس کے زیریں علاقوں کو شامل ہے۔

سوم: ہرات، نیشاپور، مرو شاہجہان، مرو روذ، سرخس وغیرہ؛ یہ علاقے موجودہ افغانستان کے شمال مغرب اور ترکمانستان کے جنوبی علاقوں پر مشتمل ہے، اس میں اسلامی فتوحات کے دو مشہور مراکز ہرات … موجودہ افغانستان کا صوبہ ہرات… اور مرو شاہجہان… موجودہ ترکمانستان کا شہر ’ماری‘… تھے۔

چہارم: دریائے آمو [نہرِ جیحون] سے نیچے طخارستان علیا اور سفلیٰ… اس میں موجودہ افغانستان کے شمالی علاقے شامل ہیں، جوزجان سے لے کر بدخشان تک، کابل سے اوپر اور تاجکستان سے نیچے۔ خود ’تخار‘ کے نام سے بھی افغانستان میں ایک صوبہ ہے جو اسی جغرافیہ میں موجود ہے۔

اس تمام تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ حال میں اگر خراسان کی تحدید کرنا چاہیں تو اس میں ایران کے مشرقی علاقے، پورا افغانستان اور ترکمانستان کے جنوب مشرقی علاقے شامل ہیں۔ اور اس سے معلوم ہوتا ہےکہ خراسان کا بڑا اور بنیادی حصہ موجودہ ’افغانستان‘ ہے۔

خراسان میں اسلامی فتوحات

اسلامی تاریخ میں خراسان کی فتوحات کے سلسلے میں دو نام مشہور ہیں؛ ایک سیدنا احنف بن قیس﷜ اور دوسرے سیدنا عبد اللہ بن عامر بن کریز﷜۔ سب سے پہلے سیدنا عمرِ فاروق﷜ کے دورِ حکومت میں آپ کے حکم سے سیدنا احنف بن قیس﷜ فارس کے علاقوں اصفہان اور طبس کو فتح کرتےہوئے ہرات تک پہنچے، اور اسے فتح کرکے نیشاپور، مروِ شاہجہان وغیرہ فتح کیا اور اس کے بعد طخارستان تک کے علاقوں کو فتح کرلیا، اور یوں ایران کی ساسانی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ تاہم بعد ازاں ان علاقوں میں پھر بغاوت ہوگئی۔ دوسری مرتبہ سیدنا عثمان﷜ کے دورِ حکومت میں سیدنا عبد اللہ بن عامر بن کریز﷜ خراسان کی طرف متوجہ ہوئے، سجستان کو فتح کرتے ہوئے زرنج، بُست، ذابلستان اور کابل کے علاقوں کو فتح کرلیا، پھر دوسری طرف ہرات سے لے کر طخارستان تک کے علاقے فتح کرتے ہوئے ماوراء النھر تک جاپہنچے۔ اس کے بعد سے یہ علاقے اسلام کے قلعے بن گئے اور آئندہ کی اسلامی فتوحات کے لیے مراکز بن گئے۔ یہاں تک کہ عبد اللہ بن شریک نے خراسان کی تعریف کرتے ہوئے کہا… جیسا کہ علامہ یاقوت حموی﷫ نے ’معجم البلدان‘ میں ذکر کیا…:

خراسان كنانة الله إذا غضب على قوم رماهم بھم.

’’خراسان اللہ تعالیٰ کا تیر ہے، جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر غضب ناک ہوتے ہیں تو اس تیر کو اس پر دے مارتے ہیں‘‘۔

خراسان سے متعلق مروی احادیثِ مبارکہ

خراسان سے متعلق بہت سی روایات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں، جن میں آخر الزمان میں بعض واقعات کی طرف نشاندہی ہے، اور بعض پیشین گوئیاں ہیں۔ ہم کوشش کریں گے کہ ان روایات کو یہاں درج کریں جن کی سند صحیح اور حسن ہے، اور ساتھ ان روایات کو بھی ترک نہیں کریں گے کہ جن کی سند میں معمولی ضعف ہے، شدید ضعف نہیں ہے۔ کیونکہ جمہور محدثین کے قاعدے کے مطابق ایسی روایات تاریخ کے باب میں مقبول ہیں۔

البتہ آگے بڑھنے سے پہلے یہ واضح کرتے چلیں کہ ان احادیث کے بیان کا مقصد تطبیق نہیں، استیناس ہے۔ یعنی ہم ان واقعات کی من وعن حاضر پر یقینی تطبیق نہیں کریں گے، بلکہ انھیں امت کے سامنے مبشرات کے طور پر پیش کریں گے، کہ مستقبل میں اس خطے میں یہ کچھ ہوگا۔ آیا ابھی یہ شروع ہوگیا ہے یا نہیں، اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کوہے۔

پہلی حدیث

سنن ابن ماجہ میں روایت ہے:

عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: “يَقْتَتِلُ عِنْدَ كَنْزِكُمْ ثَلَاثَةٌ، كُلُّهُمْ ابْنُ خَلِيفَةٍ، ثُمَّ لَا يَصِيرُ إِلَى وَاحِدٍ مِنْهُمْ، ثُمَّ تَطْلُعُ الرَّايَاتُ السُّودُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، فَيَقْتُلُونَكُمْ قَتْلًا لَمْ يُقْتَلْهُ قَوْمٌ“. ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا لَا أَحْفَظُهُ، فَقَالَ: “فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَبَايِعُوهُ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ، فَإِنَّهُ خَلِيفَةُ اللَّهِ، الْمَهْدِيُّ“.

سیدنا ثوبان﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے خزانے کے پیچھے تین لوگ آپس میں قتال کریں گے، تینوں خلیفہ کے بیٹے ہوں گے، یہاں تک کہ وہ کسی ایک کو بھی نہیں ملے گا، پھر مشرق کی طرف سے کالے جھنڈے ابھریں گے اور وہ تمہیں قتل کریں گے، ایسا قتل کہ کسی دوسری قوم کا نہ کیا گیا ہوگا‘‘۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چیزوں کا ذکر فرمایا جو مجھے یاد نہیں رہیں، پھر فرمایا: پس جب تم ان کالے جھنڈے والوں کو دیکھو تو ان کی بیعت کرلینا، چاہے اس کے لیے تمہیں برف پر پنجوں کے بل چل کر جانا پڑے، کہ وہ تو اللہ کے خلیفہ مہدی ہوں گے‘‘۔

اس حدیث میں لفظ ’مشرق‘ استعمال ہوا ہے، جبکہ مسند احمد اور مستدرک حاکم کی روایت میں صراحت سے اس کی جگہ ’خراسان‘ کا لفظ وارد ہوا ہے۔ چونکہ خراسان جزیرۃ العرب کی مشرق میں ہے، اسی لیے بعید نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق بھی فرمایا ہو:

إذا رأيتم الرايات السود خرجت من قبل خراسان فأتوها و لو حبوا فإن فيها خليفة الله المهدي.

’’جب تم دیکھو کہ خراسان سے کالے جھنڈے ابھرے ہیں، تو ان کی طرف لپکو، چاہے پنجوں کے بل چل کر، کیونکہ انھی میں اللہ کے خلیفہ مہدی ہوں گے‘‘۔

سندِ حدیث پر کلام

حدیث میں بیان کردہ فوائد پر گفتگو سے پہلے حدیث کی اسناد کےحوالے سے جانتے چلیے کہ یہ حدیث دو طرق سے مروی ہے۔ اس حدیث پر بعض علمائے حدیث نے دو علتوں کی وجہ سے کلام کیا ہے: پہلی علت یہ ہے کہ مستدرک حاکم اور مسند احمد کی روایت میں راوی علی بن زید بن جدعان ہیں جو ضعیف ہیں، تاہم یہ علت اس وقت قابلِ توجہ نہیں رہتی، جب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ منفرد نہیں ہیں، بلکہ دوسرے طریق میں ان کی متابعت ثقہ راویوں سفیان عن خالد الحذاء اور عبد العزیز عن خالد الحذاء نے کی ہے۔ لہٰذا اس علت کی وجہ سے مجموعی حدیث پر ضعف کا حکم عائد نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری علت جو علماء نے بیان کی ہے، وہ یہ ہے کہ اس حدیث کے ایک راوی ابو قلابہ ہیں جومدلس ہیں، اور یہاں ان سے سماع کی صراحت نہیں منقول، بلکہ عنعنہ ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ مدلسین کے پہلے طبقے میں سے ہیں جس میں یحیی بن سعید انصاری جیسے کبار محدثین بھی ہیں، جن کے بارے میں محدثین کا مذہب ہے کہ ان کا عنعنہ قابلِ قبول ہے، کیونکہ ان کی تدلیس نادر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی حفاظِ حدیث نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے، جیسا کہ علامہ بوصیری﷫ نے مصباح الزجاجۃ میں، امام بزار﷫ نے اپنی مسند میں اور امام ابن کثیر﷫ نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے۔ بعض علماء نے اس حدیث کو قبول نہ کرنے کی ایک علت یہ ذکر کی ہے کہ اس میں امام مہدی علیہ الرضوان کے لیے خلیفۃ اللہ کا لفظ آیا ہے، جبکہ اس کا اطلاق کسی مخصوص آدمی کے لیے درست نہیں، جیسا کہ شیخ البانی﷫ وغیرہ نے لکھا ہے۔ تاہم علمائے امت کے یہاں یہ مسئلہ معروف ہے کہ کسی امیر کے لیے خلیفۃ اللہ کا اطلاق آیا جائز ہے یا نہیں؟ اور اس میں دونوں اقوال موجود ہیں، جو اطلاق کی اجازت دیتے بھی ہیں تو ان کا نظریہ یہ نہیں ہے کہ خدانخواستہ وہ براہ راست اللہ کی نیابت کر رہا ہے۔ اس لیے یہ روافض کے نظریے کی حمایت نہیں ہے۔ اس بنا پر حدیث کو رد نہیں کیا جاسکتا۔

حدیث کے فوائد

۱۔ حدیث میں مذکور ہے کہ تمہارے خزانے کے پیچھے تمہارے تین لوگ آپس میں لڑیں گے۔ یہاں خزانے سے مراد حکومت ہے، جیسا کہ علامہ ابو الحسن سندھی﷫ نے سنن ابن ماجہ کے حاشیہ میں لکھا ہے، اور امام ابن کثیر﷫ نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ یہاں خزانے سے مراد کعبہ کا خزانہ ہے۔ دونوں باتوں کو جمع کرکے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں مراد جزیرۂ عرب میں شہزادوں کا آپس میں حکومت اور حکومتی خزانے کے لیے قتال کرنا ہے، اور ان کا آپس میں متفق نہ ہونا ہے، جس کے سبب خراسان کے کالے جھنڈے والے ان سے حکومت چھین لیں گے۔ ایک دوسری حدیث بھی مروی ہے، جو مذکورہ بالا حدیث کی تائید بھی ہے اور اس پر اضافہ بھی ہے۔ اسے بھی امام ابن ماجہ﷫ اور امام حاکم﷫ نے ذکر کیا ہے:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – إِذْ أَقْبَلَ فِتْيَةٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَلَمَّا رَآهُمْ النَّبِيُّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – اغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ وَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا نَزَالُ نَرَى فِي وَجْهِكَ شَيْئًا نَكْرَهُهُ، فَقَالَ: “إِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ اخْتَارَ اللَّهُ لَنَا الْآخِرَةَ عَلَى الدُّنْيَا، وَإِنَّ أَهْلَ بَيْتِي سَيَلْقَوْنَ بَعْدِي بَلَاءً وَتَشْرِيدًا وَتَطْرِيدًا، حَتَّى يَأْتِيَ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَعَهُمْ رَايَاتٌ سُودٌ، فَيَسْأَلُونَ الْخَيْرَ فَلَا يُعْطَوْنَهُ، فَيُقَاتِلُونَ فَيُنْصَرُونَ، فَيُعْطَوْنَ مَا سَأَلُوا، فَلَا يَقْبَلُونَهُ حَتَّى يَدْفَعُوهَا إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فَيَمْلَؤُهَا قِسْطًا، كَمَا مَلَؤوهَا جَوْرًا، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ، فَلْيَأْتِهِمْ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ“.

سیدنا عبد اللہ بن مسعود﷜ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ اتنے میں بنی ہاشم کے لڑکے سامنے آگئے، انھیں دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آبدیدہ ہوگئے اور چہرے کا رنگ بدل گیا۔ سیدنا عبد اللہ﷜ نے فرمایا کہ میں نے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ ہم آپ کے چہرے پر کچھ ایسا دیکھ رہے ہیں جو ہمیں ناگوار ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہم اہلِ بیت کے لیے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے مقابلے میں آخرت کو اختیار کیا ہے۔ میرے اہل ِ بیت میرے بعد شدید آزمائشوں اور دربدریوں میں مبتلا ہوں گے، یہاں تک کہ مشرق کی طرف سے کالے جھنڈے والے آئیں گے، اور وہ خیر (امارت) مانگیں گے مگر لوگ نہیں دیں گے، پس وہ قتال کریں گے اور کامیاب ہوں گے، پھر وہ چیز (یعنی امارت) دینے کی کوشش کریں گے جو انھوں نے مانگی تھی، مگر یہ اسے لینے سے انکار کر دیں گے، یہاں تک کہ وہ اسے میرے اہلِ بیت میں سے ایک فرد کو دے دیں گے، جو عدل وانصاف سے اسے بھر دے گا، جس طرح پہلے والوں نے ظلم وجور سے بھر دیا تھا۔ پس جو کوئی اس شخص کے زمانے کو پالے تو اس کی طرف ضرور لپکے، چاہے برف پر پنجوں کے بل چل کر ہی کیوں نہ جانا پڑے‘‘۔

اس حدیث کی سند میں ایک راوی یزید بن ابی زیاد شیعہ ہے اور ضعیف ہے، اور امام احمد﷫ اور امام وکیع﷫ نے اس کی یہ حدیث قبول نہیں کی ہے۔ گو اس کی متابعت امام حاکم﷫ کے یہاں ثقہ راوی عمرو بن القیس عن الحکم نے کی ہے، جیسا کہ علامہ بوصیری﷫ اور حافظ ہیثمی﷫ نے ذکر کیا ہے۔ تاہم اس سند میں بھی دیگر ضعیف راوی ہیں، اور مجموعی اعتبار سے یہ ضعیف ہے، لیکن اتنی نہیں کہ تاریخ میں قابلِ قبول نہ ہو، بالخصوص جبکہ اس کے مضمون کی تائید مذکورہ بالا حدیث سے ہورہی ہے۔

جزیرۃ العرب میں امامت کے معاملے میں اختلاف کا ذکر سنن ترمذی و سنن ابو داود کی اس صحیح حدیث میں بھی ہے جس میں امام مہدی علیہ الرضوان کی بیعت کا ذکر ہے۔

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ، فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ هَارِبًا إِلَى مَكَّةَ، فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِهٌ، فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ.

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ﷞ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’خلیفہ کی موت کے وقت اختلاف ہوگا، تو مدینہ والوں میں سے ایک شخص مکہ کی طرف بھاگ نکلے گا، تو مکہ والوں میں سے بعض لوگ اس کے پاس آئیں گے اور زبردستی اسے نکال کر اس کی بیعت کریں گے، جبکہ اسے ناگوار ہوگا، وہ لوگ اس کی بیعت رکنِ یمانی اور مقامِ ابراہیم کے درمیان کریں گے‘‘۔

مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے، جس کی سند میں ایک راوی العلاء بن بشیر مجہول ہے:

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُبَشِّرُكُمْ بِالْمَهْدِيِّ يُبْعَثُ فِي أُمَّتِي عَلَى اخْتِلَافٍ مِنْ النَّاسِ.

سیدنا ابو سعید خدری﷜ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں تم لوگوں کو مہدی کی بشارت دیتا ہوں جو اس وقت آئیں گے جب امت میں اختلاف ہوگا‘‘۔

ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ اس وقت امت میں اختلاف ہوگا۔ جزیرۃ العرب کا اختلاف تو معلوم ہوچکا، باقی عرب دنیا میں اس وقت سفیانی تباہی مچا رہا ہوگا، جس کا ذکر احادیثِ مبارکہ میں آیا ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يخرج رجل يقال له السفياني في عمق دمشق و عامة من يتبعه من كلب فيقتل حتى يبقر بطون النساء و يقتل الصبيان فتجمع لهم قيس فيقتلها حتى لا يمنع ذنب تلعة و يخرج رجل من أهل بيتي في الحرة فيبلغ السفياني فيبعث إليه جندا من جنده فيهزمهم فيسير إليه السفياني بمن معه حتى إذا صار ببيداء من الأرض خسف بهم فلا ينجو منهم إلا المخبر عنهم.

سیدنا ابو ہریرہ﷜ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی دمشق سے نکلے گا جسے ’سفیانی‘ کہاجاتا ہوگا، عام طور پر اس کے ماننے والوں میں بنو کلب کے لوگ ہوں گے، وہ انسانوں کو قتل کرے گا یہاں تک کہ عورتوں کے پیٹ چیر دے گا، اور بچوں کو کاٹ ڈالے گا، ان کے مقابلے میں بنو قیس جمع ہوں گے مگر وہ انھیں قتل کر دے گا، او ر یہاں تک کہ کوئی کسر باقی نہ چھوڑے گا۔ دریں اثناء (نواحِ مدینہ)حرہ کے مقام پر میرے اہلِ بیت میں سے ایک شخص نکلے گا۔ اس کی خبر جب سفیانی کوہوگی تو وہ اس کے خلاف ایک لشکر بھیجے گا، جسے وہ شکست دے دیں گے۔ پھر سفیانی خود اپنے ماننے والوں کو لے کر مقابلے کے لیے نکلے گا۔ جب وہ مقامِ بیداء پر پہنچے گا تو ان سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، اور پورے لشکرمیں سے کوئی نہیں بچے گا، سوائے اطلاع دینے والےایک شخص کے‘‘۔

اس حدیث کو امام حاکم﷫ نے شیخین کی شرط پر صحیح کہاہے، اور امام ذہبی﷫ نے اس کی موافقت کی ہے۔ شیخ البانی﷫ نے اس پر دو اعتراض کیے ہیں،ایک یہ کہ محمد بن اسماعیل بن أبي سمینۃ صرف امام بخاری﷫ کا راوی ہے، امام مسلم﷫ کا راوی نہیں ہے، جبکہ ولید بن مسلم تدلیسِ تسویہ میں متہم ہے، اور اس سند میں اس کے شیخ اوزاعی سے معنعن روایت ہے۔ پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ چلو شرطِ بخاری پر تو حدیث ہے،ضعیف نہیں ہے۔ جبکہ دوسرے کا جواب یہ ہے کہ اکثر ائمہ حدیث کے یہاں ولید بن مسلم پر تدلیس کا الزام تو ہے، تدلیسِ تسویہ کا الزام مقبول نہیں۔ لہٰذا جب وہ سماع کا اظہار کردے تو وہ حدیث مقبول ہے،جیسا کہ اس حدیث میں ہے۔ یہی اس کےبارے میں امام ذہبی﷫ کا قول ہے، اور اسی وجہ سے انھوں نے اس حدیث کی صحت میں امام حاکم﷫ کی موافقت کی ہے۔

اس حدیث میں ذکر ہے کہ سفیانی اس وقت دمشق میں خون خرابہ کر رہا ہوگا، بلکہ دیگر آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مصر پر بھی قابض ہوجائے گا اور ظلم وستم ڈھا رہا ہوگا۔ یہاں تک کہ امام نعیم بن حماد﷫ کی کتابِ فتن میں سیدنا علی﷜ سے مروی ایک موقوف اثر میں ہے کہ وہ اہلِ خراسان سے بھی جنگ کرنے نکلے گا، لیکن اہلِ خراسان اسے شکست دے دیں گے، اور اس کے بعد امام مہدی علیہ الرضوان کی تلاش میں لوگ نکلیں گے۔

يَلْتَقِي السُّفْيَانِيُّ وَالرَّايَاتُ السُّودُ، فِيهِمْ شَابٌّ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فِي كَفِّهِ الْيُسْرَى خَالٌ، وَعَلَى مُقَدِّمَتِهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ يُقَالُ لَهُ شُعَيْبُ بْنُ صَالِحٍ بِبَابِ إِصْطَخْرَ، فَتَكُونُ بَيْنَهُمْ مَلْحَمَةٌ عَظِيمَةٌ، فَتَظْهَرُ الرَّايَاتُ السُّودُ، وَتَهْرُبُ خَيْلُ السُّفْيَانِيِّ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يَتَمَنَّى النَّاسُ الْمَهْدِيَّ وَيَطْلُبُونَهُ.

’’سفیانی اور (خراسان کے) کالے جھنڈے والوں کا مقابلہ ہوگا، اس دوسرے لشکر میں بنی ہاشم کا ایک نوجوان ہوگا جس کے بائیں ہاتھ پر سیاہ دھبہ ہوگا، اور اس لشکر کے ہراول پر بنی تمیم کا ایک شخص شعیب بن صالح امیر ہوگا۔ ان دونوں گروہوں کے درمیان بابِ اصطخر پر بڑی جنگ ہوگی، یہاں تک کہ کالے جھنڈے والے جیت جائیں گے اور سفیانی کا گھوڑا بھاگ جائے گا۔ اس موقع پر لوگ امام مہدی کی تمنی کریں گے اور ان کی تلاش میں نکلیں گے‘‘۔

یہ اثر موقوف بھی ہے، اور اس کی سند ضعیف ہے، دو وجہ سے؛ ایک اس میں ولید بن مسلم مدلس راوی کا عنعنہ ہے، دوسرا اس میں قاضی ابن لھیعۃ ضعیف، مختلف فیہ راوی ہیں۔ لیکن یہ دونوں وجوہ شدید ضعف پر دلالت نہیں کرتیں۔ ہمیں اس اثر سے صرف یہ بتلانا مقصود تھا کہ سفیانی کے لشکر کی خراسان کے کالے جھنڈے والے لشکر سے بھی جنگ ہوگی، اور خراسان والے اس میں بھی فتحیاب ہوں گے۔

تو مذکورہ بالا پہلی حدیث کے فوائد میں سے پہلا فائدہ یہ ہے کہ امام مہدی علیہ الرضوان کی بعثت سے قبل امتِ مسلمہ زبوں حالی کا شکار ہوگی، شدید اختلاف ہوگا،حجاز وغیرہ میں بھی کوئی مسلمانوں کی طاقت نہ ہوگی، جبکہ دیگر خطوں … شام ومصر … میں سفیانی کے مظالم ہوں گے، ایسے میں خراسان واحد جگہ ہوگی جہاںمنعۃ المسلمین ہوگی، مسلمان ایک مضبوط طاقت کی شکل میں ہوں گے۔

۲۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ حدیث میں فرمایا گیا: [فَيَقْتُلُونَكُمْ قَتْلًا] یعنی وہ حجاز کے ناخلف حکمرانوں کے خلاف قتال کریں گے۔ ظاہر ہے کہ ایسے حکمران مسلمانوں کی قوت کا سبب بننے کی بجائے مسلمانوں کی تنزلی کا سبب ہوں گے، جسکی وجہ سے مجبور ہو کر اہلِ خراسان ان سے حکومت چھینیں گے۔ اسی طرح یہ سفیانی کے لشکر کے خلاف بھی قتال کریں گے، اور اسے شکست دیں گے۔ یعنی خراسان کا لشکر محض اپنے آپ کو خراسان تک محدود نہیں رکھے گا، بلکہ اپنی اسلامی قوت کا فائدہ اٹھا کر امت میں منتشر مقابل گروہوں کو ختم کرے گا۔ یہی بات انھیں پوری امت کی سطح پر ممیز کر دے گی۔ ان کی جنگ دوسروں کے برخلاف جاہ وحشم کی جنگ نہ ہوگی، بلکہ اسلام کی جنگ ہوگی۔ ایک حدیث میں مروی ہے:

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَتَكُونُ بَعْدِي بُعُوثٌ كَثِيرَةٌ فَكُونُوا فِي بَعْثِ خُرَاسَانَ.

سیدنا بریدہ﷜ سے مروی ہے کہ آپ﷜ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ’’میرے بعد بہت سے لشکر جنگ کے لیے نکلیں گے، تم لوگ ان میں سے خراسان کے لشکر میں شامل ہونا‘‘۔

یہ حدیث مسند احمد میں مروی ہے، جس پر امام ابن جوزی﷫ نے موضوع ہونے کا حکم عائد کیا، تاہم اس حکم کی مخالفت حافظ عراقی﷫ اور حافظ ابن حجر﷫… دونوں نے کی ہے، یہاں تک کہ حافظ ابن حجر﷫ نے ’القول المسدد‘ میں اس حدیث کو ’حسن‘ قرار دیا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ موضوع کا حکم تو کسی طور اس پر عائد نہیں ہوتا۔ دراصل اس حدیث کے دو طرق ہیں، ایک میں ضعیف راوی اوس بن عبد اللہ ہیں، جبکہ وہ اکیلے نہیں ہیں، بلکہ دوسرے طریق میں ان کی متابعت حسام بن مصک نے کی ہے، تاہم وہ بھی ضعیف ہیں۔ چونکہ دونوں زیادہ ضعیف نہیں ہیں، اس لیے دو ضعیف طرق کو جمع کرکے حافظ ابن حجر﷫ نے اسے حسن کہہ دیا ہے۔ اگر حسن نہ بھی کہا جائے، تو ضعف خفیف ہے، جو خراسان کے لشکر کی افضلیت کے ثبوت کو کافی ہے۔

۳۔ تیسرا اور اہم فائدہ… جو آئندہ کی حدیث میں بھی بیان ہوگا کہ [فإن فيها خليفة الله المهدي] یعنی خراسان کے اس کالے جھنڈے والے لشکر میں امام مہدی علیہ الرضوان ہوں گے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ آیا واقعی اس وقت امام مہدی علیہ الرضوان اس لشکر میں ہوں گے، تو پھر اس صحیح حدیث کا کیا مطلب ہے کہ جس میں امام مہدی علیہ الرضوان کے بارے ذکر ہے کہ وہ مدینہ سے مکہ فرار ہوجائیں گے، اور لوگ انھیں وہاں پہچان کر ان سے رکنِ یمانی اور مقامِ ابراہیم کے درمیان بیعت کریں گے؟ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں؛ ایک تو یہی ظاہرِ حدیث والا کہ امام مہدی علیہ الرضوان خراسان کے اس لشکر میں شریکِ جہاد ہوں گے، یہاں تک کہ جب وہ لشکر حجاز کو فتح کرلے گا تو وہاں اس کے بعد وہ کیفیت پیش آئے گی جو صحیح حدیث میں مروی ہے۔ امام ابن کثیر﷫ نے اپنی تاریخ میں اسے اپنایا ہے۔ دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ یہ الفاظ اپنے ظاہر پر نہیں ہیں کہ خراسان والے لشکر میں امام مہدی علیہ الرضوان خراسان سے ہی گئے ہوں گے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خراسان کا لشکر حجاز کی فتح کے بعد امارت خود اپنے ہاتھ میں نہیں لے گا، بلکہ جب مکہ میں امام مہدی علیہ الرضوان کی بیعت ہوگی تو ان کے سامنے اپنے آپ کو پیش کردے گا، اور امام مہدی علیہ الرضوان کو امیر بنالے گا۔ اس پر فرمایا جارہا ہے کہ ان میں امام مہدی ہوں گے، اور بیعت کا جو فرمایا جا رہا ہے،وہ امام مہدی کی بیعت کا فرمایا جا رہا ہے، نہ کہ کالے جھنڈے والے خراسانی لشکر کی۔ البتہ دوسرے احتمال میں یہ بات تشنہ ہے کہ لوگ اس شخص کو کیسے پہچانیں گے جبکہ وہ لوگوں میں پہلے سے معروف نہ ہو، نہ اس کی دین کے لیے پہلے سے کوئی خدمت ہو۔ اس لیے اگر وہ خراسانی لشکر میں پہلے سے شریکِ جہاد ہوں تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ اگرچہ لوگوں میں ان کی شہرت امارت کی نہ ہو، مگر ایک مقبول قائد اور معتبر مسلمان کی ہو، کیونکہ حدیث کے الفاظ [فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ هَارِبًا إِلَى مَكَّةَ]سےمعلوم ہوتا ہے کہ وہ امارت کے ملنے کے ڈر سے بھاگیں گے، گویا مسلمانوں کی نظر میں وہ مستحقِ امارت ضرور ہوں گے۔ لیکن یہ بات بھی ضروری نہیں، بلکہ ممکن ہے کہ حجاز میں رہتے ہوئے ہی وہ یہ مقام رکھتے ہوں، واللہ أعلم بالحقیقۃ!

دوسری حدیث

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنَ جَزْءٍ الزَّبِيدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: “يَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ الْمَشْرِقِ، فَيُوَطِّئُونَ لِلْمَهْدِيِّ” يَعْنِي سُلْطَانَهُ.

سیدنا عبد اللہ بن حارث﷜ سے مروی ہے، آپ﷜ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مشرق (خراسان) سے کچھ لوگ نکلیں گے، جو امام مہدی کے لیے اپنی حکومت چھوڑ دیں گے‘‘۔

سندِ حدیث پر کلام

اس حدیث کو امام ابن ماجہ﷫ نے سنن میں، امام بزار﷫ نے اپنی مسند میں اور امام طبرانی﷫ نے اوسط میں روایت کیا ہے، اور اس کی سند ضعیف ہے، کیونکہ اس کی سند میں دو مختلف فیہ راوی ہیں؛ عمرو بن جابر حضرمی اور قاضی ابن لھیعۃ، تاہم یہ دونوں متہم یا متروک نہیں ہیں۔

حدیث کے فوائد

اس حدیث سے بنیادی فائدہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں جب پوری امت کی سطح پر مسلمانوں کے پاس حقیقی اسلامی قوت سوائے خراسان کے کوئی نہ ہوگی،یہ اہلِ خراسان اپنی قوت امام مہدی علیہ الرضوان کے سپرد کر دیں گے اور ان کے حق میں دستبردار ہوجائیں گے۔ یہ مضمون اس حدیث میں صراحت سے موجود ہے، اسی طرح سنن ابن ماجہ میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود﷜ کی حدیث میں بھی ہے [حَتَّى يَدْفَعُوهَا إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي]۔ یہی وہ معنی ہے جس میں فرمایا جارہا ہے کہ کالے جھنڈے والوں کی طرف لپکنا، کیونکہ وہی امام مہدی علیہ الرضوان کا لشکر ہوں گے اور ان کی قوت ہوں گے۔ یعنی وہ نہ صرف امت میں انتشار پھیلانے والی باقی قوتوں کو ختم کریں گے، پھر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی بجائے اپنی قوت کے بل بوتے پر مسلمانوں میں سے سب سے موزوں شخص امام مہدی علیہ الرضوان کی خلافت کا انعقاد کروائیں گے۔

تیسری حدیث

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَخْرُجُ مِنْ خُرَاسَانَ رَايَاتٌ سُودٌ لَا يَرُدُّهَا شَيْءٌ حَتَّى تُنْصَبَ بِإِيلِيَاءَ.

سیدنا ابو ہریرہ﷜ سے مروی ہے، آپ﷜ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’خراسان سے کالےجھنڈے نکلیں گے، جنھیں کوئی چیز نہیں روک سکے گی،یہاں تک کہ وہ بیت المقدس میں جاکر نصب ہوں گے‘‘۔

سندِ حدیث پر کلام

یہ حدیث امام ترمذی﷫، امام احمد﷫ اور امام طبرانی﷫ نے روایت کی ہے۔ البتہ اس کی سند میں رشدین بن سعد ضعیف راوی ہیں، تاہم امام احمد﷫ کا ان کے بارے میں قول ہے کہ [لا بأس به في أحاديث الرقائق]، رقائق اور تاریخ ایک ہی باب سے ہے، اس لیے رشدین کے ضعف کے باوجود اس کی حدیث تاریخ میں قابلِ اعتبار ہے۔ شاید اسی وجہ سے امام ترمذی﷫ نے اس حدیث کو غریب حسن کہا ہے۔

فوائدِ حدیث

اس حدیث میں دو باتیں مذکور ہیں:

۱۔ خراسان کے کالے جھنڈے والے جب نکلیں گے تو وہ ہی مظفر وکامران رہیں گے، ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی توفیق ہوگی، اور ان کا مدِ مقابل ہی خائب وخاسر ہوگا۔

۲۔ پھر یہ لشکر آگے بڑھتا رہے گا، یہاں تک کہ یہ لشکر بیت المقدس تک پہنچے گا، اور اسے فتح کرکے اس پر کالے جھنڈے گاڑھ دے گا۔ یہ واقعہ حجاز کی فتح اور پھر امام مہدی علیہ الرضوان کے ہاتھ پر بیعت کے بعد رونما ہوگا۔ یعنی خراسان سے جو کالے جھنڈے والا لشکر نکلے گا، وہ پہلے حجاز کو فتح کرے گا، اور وہاں اپنی حکومت کا اعلان کرنے کے بجائے امام مہدی علیہ الرضوان کے ہاتھ پر بیعت کرلے گا اور امام مہدی علیہ الرضوان کو اپنا امیر بنالے گا، پھر جب امام مہدی علیہ الرضوان کی شام کی طرف رومیوں سے جنگ شروع ہوگی، تو یہ لشکر ان کے ہمراہ ہوگا، اور حدیث کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ یہ لشکرِ مہدی کا سوادِ اعظم ہوگا… یہاں تک کہ دجال کے خلاف جنگ میں بھی شریک ہوگا، جس کی شکست کے بعد بیت المقدس پر اسلامی پھریرہ لہرائے گا۔ یعنی خراسان کے مسلمانوں کا اس زمانے میں رومیوں اور دجال کے خلاف بڑی جنگوں میں بنیادی کردار ہوگا، اور اس وقت وہی مسلمانوں کی بنیادی قوت ہوں گے۔ سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم!

مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں ہمیں یقین ہے کہ یہ فضیلتیں اہلِ خراسان کے حق میں ثابت ہیں، اس سے انھیں کوئی محروم نہیں کرسکتا، اور یقیناً اس میں بڑا حصہ افغانستان میں بسنے والے مسلمانوں کو حاصل ہوگا۔وما ذلك علی اللہ بعزیز، وھو القاھر فوق عبادہ!

کالے جھنڈے یا سفید جھنڈے

یہاں کسی قاری کے ذہن میں سفید اور کالے جھنڈے کے موازنہ کا خیال آسکتا ہے، تو اسی حوالے سے گزارش کرتے ہیں کہ اس موضوع کو علمائے امت نے موضوعِ بحث بنایا ہے۔ امامِ اعظم امام ابو حنیفہ﷫ کے شاگرد اور مدونِ مذہبِ حنفی امام محمد بن حسن الشیبانی﷫ نے اپنی کتاب السیر الکبیر میں ایک باب قائم کیا ہے [باب الرایات والألویۃ]، اور اس کے تحت اس موضوع پر بات کی ہے۔ اسی طرح محدثین نے بھی ابواب قائم کیے ہیں، امام بخاری﷫ نے باب قائم کیا ہے [باب ما قیل في لواء النبي صلی اللہ علیہ وسلم]۔

دراصل عربی زبان میں جھنڈے کے لیے دو الفاظ عام استعمال ہوتے ہیں: ایک ’لواء‘ اور ایک ’رایۃ‘۔ احادیث کے ذخیرے میں بھی یہ دونوں الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اب پہلا کلام اس میں ہے کہ یہ دونوں ایک ہی قسم کےجھنڈے کا نام ہے یا الگ الگ ہیں۔ اس کا جواب عامۃ العلماء کے یہاں یہ ہے کہ بطور اصطلاح یہ دو الگ جھنڈوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اگرچہ لغت میں دونوں کبھی مترادف بھی آتے ہیں۔ لواء کا لفظ مرکزی جھنڈے کے لیے ہوتا ہے، جو خلیفہ کے پاس ہو یا اس کے نائب کے پاس ہو، یا امیرِ جنگ کے پاس ہو، جبکہ کسی بھی جنگ میں الگ الگ قبیلوں یا گروہوں کے پاس جو الگ جھنڈے ہوتے ہیں، انھیں رایہ کہا جاتا ہے۔ یہ بات امام سرخسی﷫ نے شرح السیر میں لکھی ہے، اور اسی بات کو حافظ ابن حجر﷫ نے فتح الباری میں قبول کیا ہے۔

دوسرا کلام اس میں ہے کہ لواء ہو یا رایہ ہو، ان جھنڈوں کے رنگ کیا ہونے چاہییں۔ اس حوالے سے مختلف احادیث میں مختلف رنگ مروی ہیں۔ احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے لیے رایہ کا لفظ بھی آیا ہے اور لواء کا لفظ بھی آیا ہے۔ سنن اربعہ کی ایک حسن حدیث میں … جسے سیدنا جابر﷜ نے روایت کیا ہے… اس میں فتحِ مکہ کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لواء کا رنگ سفید ذکر ہوا ہے:

عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ.

امام ابو داود﷫ اور امام ترمذی﷫ کے یہاں سیدنا براء بن عازب﷜ کی صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رایہ کا رنگ کالا مذکور ہے۔

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: بَعَثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ القَاسِمِ إِلَى البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَسْأَلُهُ عَنْ رَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كَانَتْ سَوْدَاءَ مُرَبَّعَةً مِنْ نَمِرَةٍ.

ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کالے جھنڈے کا نام عقاب بھی آیا ہے۔ البتہ امام ترمذی﷫، امام ابن ماجہ﷫ اور امام طبرانی﷫ کی روایت کردہ سیدنا ابن عباس﷠ کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لواء اور رایہ کو الگ ذکر کیا گیا ہے، اور لواء کا رنگ سفید جبکہ رایہ کا رنگ سیاہ مذکور ہے۔

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتْ رَايَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَاءَ، وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضَ.

لہٰذا احادیث کے درمیان جمع وتطبیق کی یہ صورت ہے کہ مرکزی جھنڈے (لواء) کا رنگ سفید ہونا چاہیے، جبکہ دیگر ذیلی جھنڈوں (رایات) کا رنگ سیاہ ہونا چاہیے۔ امام سرخسی﷫ نے شرح السیر میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

وَإِنَّمَا اُسْتُحِبَّ فِي الرَّايَاتِ السَّوَادُ لِأَنَّهُ عَلَمٌ لِأَصْحَابِ الْقِتَالِ ، وَكُلُّ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَ عِنْدَ رَايَتِهِمْ ، وَإِذَا تَفَرَّقُوا فِي حَالِ الْقِتَالِ يَتَمَكَّنُونَ مِنْ الرُّجُوعِ إلَى رَايَتِهِمْ ، وَالسَّوَادُ فِي ضَوْءِ النَّهَارِ أَبْيَنُ وَأَشْهَرُ مِنْ غَيْرِهِ خُصُوصًا فِي الْغُبَارِ . فَلِهَذَا اُسْتُحِبَّ ذَلِكَ . فَأَمَّا مِنْ حَيْثُ الشَّرْعُ فَلَا بَأْسَ بِأَنْ تُجْعَلَ الرَّايَاتُ بِيضًا أَوْ صُفْرًا أَوْ حُمْرًا ، وَإِنَّمَا يُخْتَارُ الْأَبْيَضُ فِي اللِّوَاءِ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ : { إنَّ أَحَبَّ الثِّيَابِ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى الْبِيضُ ، فَلْيَلْبَسْهَا أَحْيَاؤُكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ } . وَاللِّوَاءُ لَا يَكُونُ إلَّا وَاحِدًا فِي كُلِّ جَيْشٍ ، وَرُجُوعُهُمْ إلَيْهِ عِنْدَ حَاجَتِهِمْ إلَى رَفْعِ أُمُورِهِمْ إلَى السُّلْطَانِ . فَيُخْتَارُ الْأَبْيَضُ لِذَلِكَ لِيَكُونَ مُمَيَّزًا مِنْ الرَّايَاتِ السُّودِ الَّتِي هِيَ لِلْقُوَّادِ .

’’رایات میں سیاہ رنگ مستحب ہے، کیونکہ یہ جنگ کرنے والوں کا جھنڈا ہے، اور ہر قوم اپنے جھنڈے کے پاس لڑتی ہے، پس اگر جنگ میں بکھر جائیں تو دن کی روشنی میں کالے جھنڈے واضح نظر آتے ہیں اور ان کی طرف لوٹنا جنگ کرنے والوں کے لیے آسان ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے رایات میں سیاہ رنگ مستحب ہے۔ البتہ شریعت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے کہ جھنڈوں کو سفید رکھا جائے، یا سیاہ رکھا جائے یا پیلا یا سرخ۔ اور لواء کے لیے سفید رنگ کو اس لیے اختیار کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ کپڑا سفید ہے، پس اسے اپنے زندوں کو بھی پہناؤ اور اپنے مردوں کو بھی اسی میں کفناؤ]۔ اور لواء پورے لشکر میں صرف ایک ہوتا ہے، اور اس کی طرف اسی وقت رجوع کیا جاتا ہے جب بڑے حاکم یا خلیفہ کی طرف معاملات کے رجوع کی ضرورت پیش آئے۔ اس لیے لواء کے لیے سفید رنگ اختیار کیا جاتا ہے کہ وہ لشکر کے دیگر قائدین کے جھنڈوں سے ممیز نظر آئے‘‘۔

اس ساری بحث سے معلوم ہوا کہ جھنڈوں میں سے وہ جھنڈا جو خلیفہ کے لیے ہو، یا امامِ اعظم کے لیے ہو، یا کسی بھی جنگ میں مرکزی امیر کے لیے ہو تو اسے سفید ہونا چاہیے، اور جو جھنڈے اس کے تحت مختلف گروہوں یا قبیلوں یا جنگی یونٹوں کے لیے ہوں تو انھیں سیاہ ہونا چاہیے۔ اور یہ سب استحباب کے درجے میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بطور مصلحت اپنایا، نہ کہ تعبدی طور پر اپنایا، لہذا اس کےخلاف کوئی دوسرا رنگ اختیار کرنا بھی کوئی گناہ نہیں، گو خلافِ اولیٰ ضرور ہے۔ اسی کی نظر میں ہم جب درج بالا خراسان کے کالے جھنڈوں والے لشکر پر غور کرتے ہیں تو اس میں کئی احتمالات ہوسکتے ہیں:

اول: اس حدیث میں اس کی نفی نہیں ہے کہ مرکزی جھنڈا لواء کسی دوسرے رنگ کا ہو، بلکہ رایات سیاہ ہوں گے، جو لشکر کے مختلف حصوں کے پاس ہوں گے اور وہی اس لشکر میں غالب ہوں گے۔ اس وجہ سے اس لشکر کو سیاہ جھنڈوں والے لشکر سے تعبیر کیا گیا۔ لہٰذا ممکن ہے کہ لواء سفید ہی ہو، لیکن اس کا ذکر نہیں ہوا۔

دوم: یہ بھی ممکن ہے کہ اس لشکر میں لواء بھی سیاہ رنگ کا ہو، گو احادیث میں لفظ، لواء نہیں آیا، بلکہ رایات آیا ہے، جمع کا صیغہ آیا ہے۔ ایسے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اہلِ خراسان کے اس لشکر نے ابتداء سے ہی اپنی کیفیت مسلمانوں پر واضح کرنا چاہی ہو کہ وہ مسلمانوں کی خلافت اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہتے، بلکہ وہ تو خلیفہ اور امامِ اعظم کے معین وانصار ہوں گے، جیسا کہ ان کا کردار بعد میں ہوگا۔ اس لیے انھوں نے اپنے لیے سیاہ رنگ کے جھنڈے کا انتخاب کیا ہو۔

بہرحال ان احادیث سے یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ خلیفہ یا مسلمانوں کی مرکزی حکومت کے جھنڈے کے لیے بھی سیاہ رنگ مستحب ہے، کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر احادیث سے تعارض ہوگا۔

امارتِ اسلامیہ کا اپنے لیے سفید رنگ کے جھنڈے کا انتخاب اس لیے مناسب اور قرینِ شریعت ہے کہ اس وقت دنیا میں کسی جگہ اسلامی حاکمیت اور اسلامی حکومت قائم نہیں ہے، بلکہ امارتِ اسلامیہ افغانستان واحد ریاست ہے کہ جس میں حکومت کا مرجع قرآن وسنت اور اسلامی شریعت ہے، اور یہ مسلمانوں کی نمائندہ حکومت ہے۔ اس کی مرکزیت کی وجہ سے سفید جھنڈے کا انتخاب مناسب وموزوں ہے۔

حرفِ آخر

ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ امارتِ اسلامیہ افغانستان کو استحکام اور مضبوطی عطا فرمائیں، اور اسے اس دورِ غلامی میں تمام مسلمانوں کے لیے قوت اور اسلام کے لیے شوکت کا ذریعہ بنا دیں، آمین۔ البتہ، اس مرحلے پر جبکہ امارت اسلامیہ کا ابھی قیام ہوا ہے، ساری امت کے مسلمانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں سے افغانستان میں اسے مضبوط کریں اور اس کی ترقی کے لیے اپنا سب کچھ اس پر وارنے میں جلدی کریں، تاکہ یہ دنیا کی طاقتوں کے مقابلے میں ایک مضبوط طاقت بن جائے جو آئندہ اس قابل ہوسکے کہ دیگر خطوں میں مظلوم مسلمانوں کی اعانت اور اسلام کے غلبے کی جدوجہد میں کردار ادا کرسکے۔ اس وقت یہ توقعات امارت سے کرنا کہ وہ افغانستان سے باہر کے کسی سیاسی مسئلے میں مداخلت کرے، یہ ناسمجھی کی بات ہوگی، بلکہ امارت کو دنیا کے مسلمانوں سے توقع ہے کہ وہ اپنا بھرپور حصہ اس امارت کی ترقی اور استحکام میں صرف کریں گے۔

اللہ تعالیٰ ساری دنیا میں اسلام اور اہلِ اسلام کو معزز کر دیں، اور کفر اور اہلِ کفر کو ذلیل ورسوا کر دیں، آمین۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین، وصلی اللہ تعالیٰ علی نبینا الأمین، آمین۔

٭٭٭٭٭

Previous Post

ترجیحات درست کیجیے! | [چراغِ راہ ۱۲]

Next Post

جاء الحق وزھق الباطل

Related Posts

تزکیہ و احسان

حسد و تکبر اور ان کا علاج

26 ستمبر 2021
حلقۂ مجاہد

امیر المومنین شیخ ہبۃ اللہ اخوند زادہ نصر اللہ کی ہدایات…… مجاہدین کے نام | اگست و ستمبر ۲۰۲۱

26 ستمبر 2021
فتحِ امارتِ اسلامی

قائدینِ اِمارتِ اسلامی کے پیغامات

26 ستمبر 2021
فتحِ امارتِ اسلامی

افغانستان میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی فتح پر امت مسلمہ کے نام مبارکباد کا پیغام

26 ستمبر 2021
فتحِ امارتِ اسلامی

ارضِ افغانستان پر امارتِ اسلامیہ کی فتح پر مبارکباد کا پیغام

26 ستمبر 2021
فتحِ امارتِ اسلامی

افغانستان میں فتح و تمکین پر مبارکباد کا پیغام | تنظيم قاعدة الجهاد في جزيرة العرب

26 ستمبر 2021
Next Post

جاء الحق وزھق الباطل

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

by ادارہ
15 فروری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version