نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home فکر و منہج

ترجیحات درست کیجیے! | [چراغِ راہ ۱۲]

by اسامہ محمود
in اگست و ستمبر 2021, فکر و منہج
0

استاد اسامہ محمود حفظہ اللہ نے یہ سلسلۂ مضامین ’اصحاب الاخدود‘ والی حدیث کو سامنے رکھ کر تحریر کیا ہے۔ (ادارہ)


سراپا خیر بن جائیں!

حدیث میں آگے نوجوان کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ :

’’وَكَانَ الْغُلَامُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَيُدَاوِي النَّاسَ مِنْ سَائِرِ الْأَدْوَاءِ۔‘‘

’’نوجوان اندھوں اور برص کے مریضوں کو (اللہ کے اذن سے )شفا دیتا تھا اور تمام دیگر بیماریوں کا بھی علاج کرتا تھا۔‘‘

حدیث کے یہ الفاظ دعوت وجہاد کے بعض اہم امور کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔یہ بتاتے ہیں کہ جس نے اپنے کندھوں پر دعوت الی اللہ کی بھاری ذمہ داری اٹھائی ہو اور جو باطل کے خلاف حق کا علم بردار بن کر میدان عمل میں نکلا ہو ، اُس کے لیے ضروری ہے کہ وہ سراپا خیر ہو، اس کی شخصیت میں بندگان ِ خدا پر شفقت و رحمت نظر آتی ہو اور اس کے پیغام وعمل میں تمام دیکھنے والوں کو اپنی فوز وفلاح دکھائی دیتی ہو۔ اُس سے ظالم اور انسان نما شیاطین تو خوف و خطرہ محسوس کریں مگر دیگرانسانوں کے لیے اس کی تحریک عدل و امن اور کامیابی و کامرانی کا ایک حقیقی پیغام ہو۔ لوگ ایسے داعیان ِ دین و مجاہدین کو دیکھیں تو انہیں شبہ نہ رہے کہ یہ ان کے خیرخواہ ہیں بدخواہ نہیں، ان کی لڑائی نفسانی اغراض اور حقیر مفادات کی وجہ سے نہیں بلکہ اعلیٰ ترین اصول ان کے پیش نظر ہیں، یہ اپنی برتری اور اپنے غلبے کے لیے نہیں اٹھے ہیں بلکہ اللہ کا دین اللہ کی زمین پر غالب کرنا ہی ان کا مقصد و نصب العین ہے۔یوں ہر فرد جس کی آنکھوں میں نور اورسینے میں دل ہو اس تحریک و دعوت کو اپنی نجات اور کامیابی کا ذریعہ سمجھے ۔

خدمتِ خلق اور ہدایتِ خلق

اگر داعی ٔ جہاد لوگوں کے دکھ درد سے لا پرواہ محض اپنی دعوت ، درس اور نصیحت سے کام رکھتا ہو تو اس کی بات شاذ ہی اثر کرتی ہے ۔ لیکن اگر وہ ہمدرد و غمگسار بن کر دوسروں کے دکھ درد میں بھی شریک ہو اور لوگوں سے ان کی تکالیف ہٹانے کی بھی اپنے تئیں سعی کرتاہو تو ایسا کرنا چونکہ اس کے اخلاص، خیر خواہی اورمخلوقِ خدا کے ساتھ شفقت و رحمت پر دلالت کرتا ہے، اس لیےاس سے دلوں کے بند دروازے کھلتے ہیں اور دیکھنے سننے والے اس کی دعوت کی طرف مائل ہوجاتے ہیں ۔ انبیائے کرام علیہم السلام کی سیرت میں بھی احسان کا یہ پہلو نمایاں ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام اپنی دعا سے نابینا افراد کو ان کی بینائی لوٹاتے اور دیگر بیماروں کو بھی شفا دیتے، یوسف علیہ السلام بلامعاوضہ اور بلا تخصیص سب لوگوں کو خواب کی تعبیر بتاتے تھے، رسول اللہ ﷺ اہل مکہ کی امانتیں محفوظ رکھتے تھے اور مظلوموں کی مدد اور کمزوروں و ناداروں کی داد رسی کرتے تھے۔ یہ خدمت خلق اگر اخلاص کے ساتھ ہو، مقصد شہرت اور دیگر دنیاوی اغراض نہ ہوں تو یہ قربت الٰہی اور حبِّ الٰہی کا ایک اعلیٰ ذریعہ ہے، جیسا کہ حدیث ہے ’’أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ أَنْفَعَهُمْ لِلنَّاسِ‘‘، ’’لوگوں میں سے اللہ کو سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سےزیادہ نافع ہو‘‘، مگر ایک داعی ومجاہد کی طرف سے جب یہ خدمت ہوتی ہے تو یہ اس کے لیے لوگوں کوقافلۂ جہاد کی طرف لانے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ انسانی فطرت اللہ نے ایسی بنائی ہے کہ احسان سے اس کا دل کھلتا ہے۔ الانسان عبدالاحسان،انسان احسان کا بندہ ہے؛ احسان دلوں پر دستک دیتاہے اور بیگانگی ، دوری اور نفرت ختم کرتا ہے ، اس لیے داعی اور اس کے مخاطب کے بیچ فاصلے اس سے ختم ہوجاتے ہیں اور وہ دعوت پر غورو فکر شروع کرتاہے۔نیز دشمنان دین مجاہدین پر سنگ دلی ، فساد اور علو وبرتری کی خاطر لڑنے کا جوالزام لگا تے ہیں ،اس کا توڑ بھی مجاہدین تب ہی کر سکتے ہیں جب ان کے عمل میں خدمت کی صورت میں رحم دلی ، شفقت اور احسان نظر آرہاہو ۔

ایک نزاکت کا خیال اس میں رکھنا بہر حال ضروری ہے اور وہ یہ کہ داعی و مجاہد کے لیے یہ خدمتِ خلق اہم تر مقصدیعنی نصرتِ دعوت و جہاد کے تابع ہونا ضروری ہے ، ایسا نہ ہو کہ یہ خود اصل مقصود بن جائے ۔ ظاہر ہے یہ خدمت مستحب ہےفرض عین نہیں ، لہٰذا اس کے ذریعہ جہاد کو تقویت اگر مل رہی ہو تو یہ اچھا اور مطلوب ہے، لیکن اگر اس کی وجہ سے الٹا جہاد اور اس کی دعوت ہی گول ہورہی ہو اور فرض چھوٹ رہا ہو تو یہ درست نہیں ہے ،بلکہ ایسا اللہ کے ہاں بھی قابل مواخذہ ہوسکتا ہے۔ یہ شیطان اور اس کے چیلوں کی چال ہوتی ہے کہ فرض سے روکنے کے لیے وہ نوافل کو مزین کرکے دکھاتاہے۔اس طرح جہاد فی سبیل اللہ خود بھی انسانیت کی عظیم ترین خدمت ہے ۔ دیگر خدمات ایک طرف اور یہ خدمت دوسری طرف، اس لیے کہ اس کے ذریعے مسلمانوں کا دین و ایمان بھی محفوظ ہوتا ہے، ان کی آخرت بھی تباہی سے بچتی ہے اور ان کی دنیا بھی ظلم و کفرکے تسلط سے محفوظ ہوجاتی ہے۔ لہٰذا ایک انتہا یہ ہے کہ خدمت ِ خلق کے نام پر ہدایتِ خلق کی پرواہ نہ ہو اور جہاد فی سبیل اللہ جیسا شرعی فرض بھی اس کے سبب قربان ہو اور دوسری انتہا وہ ہے کہ داعیان دین و جہاد بس اپنے جہاد کے ساتھ ہی کام رکھتےہوں اور خلق خدا کے دکھ دردسے لاپرواہ ہوں ، دونوں انتہاؤں سے بچنا ضروری ہے ۔

قلوب و اذہان کی جنگ

اہلِ جہاد کی ذمہ داری جہاں اللہ کی باغی قوتوں کا غلبہ تلوار و سنان کے زور سے ختم کرنا ہے ، وہاں ان کی برابر اہم مسئولیت امت ِ مسلمہ کو دشمنان ِ امت کے خلاف اپنی پشت پر کھڑا کرنا ہے ۔ پھر یہ حقیقت ہے کہ تحریکِ جہاد کی قوت کا منبع اللہ کے فضل کے بعد مجاہدین کے ساتھ عام مسلمانوں کے محبت و اعتماد میں مضمر ہے۔مسلمان عوام کی تائید و نصرت اگر نہ ہو تو نظام ِ کفر کا خاتمہ اور دشمنان ِ دین کی ہزیمت تو بہت دور کی بات ہے ، خود تحریک جہادبھی جاری نہیں رہ پاتی۔یہی وجہ ہے کہ طواغیت ِ عصر اہل جہاد کے خلاف بندوق و بارود کی صورت میں جتنی قوت لگا رہے ہیں، اس سے کہیں زیادہ وسائل وہ مسلمانوں کے دل و ذہن پراگندہ کرنے بلکہ گندا کرنے کے لیے جھونک رہے ہیں ۔شبہات و شہوات کے طوفان ہیں جوسرمایۂ امت کو تباہ کرنے کے لیے چل رہے ہیں۔ ایسے میں اہل جہاد کی بقا، پیش قدمی اور تقویت کا انحصار دشمنان دین کے قلعے مسمار کرنے کے ساتھ ساتھ خود اپنے مسلمانوں کے دل اور ذہن فتح کرنے میں ہے؛ جتنا انہوں نے اپنے مقاصد اور کردار کو اہل ایمان کے دلوں میں محبوب بنایا اور جس قدر انہوں نے عامۃ المسلمین کو اپنی حمایت و نصرت کے لیے تیار کیا اُتنا ہی یہ خیر کا قافلہ آگے بڑھےگا اور اُس رفتار سے ہی شر وفساد کی قوتوں کا مقابلہ ہو گا ۔ اس مقصد کا ایک اہم ذریعہ جیسا کہ اوپر عرض ہوا لوگوں کے دکھ درد بانٹنا ، ان کی خدمت اور ان کےساتھ ہمدردی و غمگساری ہے مگر اس سے کہیں زیادہ ضروری یہ ہے کہ مجاہدین خود اپنے ہاتھوں سے مسلمان عوام کو کوئی تکلیف نہ دیں،اپنی زبان او رعمل سے انہیں متنفر نہ کریں اور ہر ایسی دعوت، طرزِ عمل اور کارروائی سے اپنا دامن بچائیں جو اہل جہاد سے ان کی دوری کا سبب ہو سکتی ہو۔جب اللہ کا دین مغلوب اور دشمنان دین غالب ہوں، اُس وقت صوم و صیام کے بعد اہم ترین فرض یہی جہاد فی سبیل اللہ ہوتا ہے، اس لیے کہ اسی سے دشمنان دین کا زور ٹوٹتا ہے اور اسی کے ذریعہ اللہ کا دین غالب ہوتا ہے اور اس کی شریعت نافذ ہوتی ہے ۔لہٰذا آج کا یہ وقت جبکہ یہ جہاد فرض عین ہے مسلمانوں کواپنے انصار بناکر دشمنان دین کے مقابل لڑنے کا تقاضہ کرتا ہے ۔اس میں ضروری ہے کہ تمام اہل ایمان کے تیروں، قلم اور زبانوں کا رُخ بس خاص اس دشمن کے خلاف ہو جو مسلمانوں پر مظالم ڈھانے اور اللہ کے دین کو مغلوب کرنے کا سبب ہے۔ ایسے موقع پر مسلمانوں کو یہ اپنے ساتھ کھڑا کرنے یا کم ازکم اپنے خلاف نہ کرنے کی سعی اتنی اہم ہے کہ شریعت نے دارالحرب میں حدود نافذ نہ کرنے کی چھوٹ دی ہے، یعنی جب مجاہدین کو غلبہ حاصل نہ ہو اور یہ خدشہ موجود ہو کہ حدود نافذ کرنے سے بعض لوگ مخالف ہوکر دشمن کا ساتھ دے سکتے ہیں تو ایسے میں حدود تک نافذ نہیں کی جاتیں اور توجہ دشمن کے خلاف جہاد پر ہی مرکوز رکھی جاتی ہے اور ایسا کرنا غیر شرعی نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ شریعت ہی پر عمل ہوتا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کے دل و ذہن جیتنا چونکہ جہاد کی کامیابی کا ذریعہ ہے اس لیے دائرۂ شریعت میں رہتے ہوئے اس کا لحاظ رکھنا اور ہر قول و عمل اور دعوت و کارروائی میں اس کو اہمیت دیناانتہائی ضروری ہے ۔

ترجیحات درست کیجیے!

اہل ایمان کے سروں پر غیر اللہ کی حاکمیت منکر ہے اور یہ ایسا بڑا منکر ہے کہ جس سے بڑا کوئی اورمنکر نہیں ۔اللہ کے باغیوں کے ہاتھوں میں یہ قوت و اقتدار ایسی بدترین برائی ہے جو دیگر تمام برائیوں کو جنم بھی دیتی ہے اور انہیں حفاظت او ر مضبوطی بھی فراہم کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس بدترین اور متعدی منکر کو ہٹانے اور اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے دین متین کو حاکم کرنے کے لیے جہاد فرض عین ہوجاتا ہے،﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ﴾، فقہائے امت سب اس پر متفق ہیں کہ حملہ ور دشمن کے خلاف جہاد نماز روزے کے بعد اہم ترین فرض ہے ۔لہٰذا آج داعیانِ دین اور مجاہدین کی اہم ترین ذمہ داری اس فرض عین جہاد کو تقویت دینا ہے۔لازمی ہے کہ اس جہاد کی مصلحت دیگر تمام مصالح کے اوپر ہو۔ یہ نکتہ ملحوظ ہو کہ دعوتِ جہاد سے یہاں ہماری مراد دشمنان دین کے خلاف لڑنے اور لڑنے کے لیے قوت اکٹھی کرنے کی دعوت ہے مگر اس میں خالص اللہ کی بندگی کی دعوت، اللہ ہی کی حاکمیت قائم کرنے، اللہ کے لیے دوستی و دشمنی رکھنے اور مقصد و ذریعہ دونوں میں شریعت ہی کی بالادستی کی دعوت بھی برابر شامل ہے ۔لہٰذا اس دعوت و جہادکے ساتھ خیر وصلاح کی ہر مہم اور ہر دعوت چلانی چاہیے لیکن ایسی کسی مہم اور دعوت کے سبب اگر دعوتِ جہاد کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو ، اس سے تحریک ِ جہاد کی تائید و نصرت میں کمی کا اگر خدشہ ہو اور دعوتِ جہاد کے متنازع بننے کا اگر اندیشہ ہو،تو ایسے میں دعوت وجہاد کی مصلحت کو ہی ترجیح دی جائے گی اور دیگر سب اچھے کام مؤخر کرنے پڑیں گے۔ شیخ ابو قتادہ کہتے ہیں کہ ،’’حِسبۃ ‘ (امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے تحت سزا ) مطلوب عمل ہے اور مجاہدین کی یہ ایک ذمہ داری بھی ہے لیکن اگر کسی علاقے میں اس محمود اور مطلوب کام سے مجاہدین کے خلاف عوام کے دل خراب ہو رہے ہوں تووہاں جہاد کی مصلحت مقدم ہوگی اور حسبہ کو مؤخر کرنا ضروری ٹھہرےگا ‘۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ چونکہ یہ جہاد آج نماز روزے کے بعد اہم ترین فرض ہےاور اس جہاد کی تقویت چونکہ اہل جہاد کے ساتھ عامۃ المسلمین کی محبت پر موقوف ہے،اس لیے اگر نہی عن المنکر کی کسی خاص صورت کے سبب یہ محبت نفرت میں بدل رہی ہو تو وہ صورت مؤخر ہو گی اور لوگوں کی محبت اور اعتماد حاصل کرنے کو ہی ترجیح ِ اول رکھا جائے گا۔

نہی عن المنکر اور جہاد فی سبیل اللہ

حقیقت یہ ہے کہ جس معاشرے میں علانیہ برائیاں تو ہور ہی ہو ں مگر انہیں روکنے کی فکرا ور غم کوئی نہیں کررہاہو تو چونکہ ایسا طرزِ عمل اللہ کی ناراضگی کو دعوتِ عام ہے ، اس لیے ایسا معاشرہ جہاد جیسی عظیم اور مبارک نعمت کے لیے بھی زرخیر نہیں ہوتا۔ کسی معاشرے سے شوق شہادت کی غیابت خود ہی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ وہاں معروف مغلوب اور منکرات غالب ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دشمن جب مسلمان معاشروں سے جہاد ختم کرنا چاہتے ہیں تو اس مقصد کے لیے ان معاشروں کو وہ منکرات کے بحرِ مردار میں غرق کردیتے ہیں اور آغاز عفت و حیا نکالنے سے کرتے ہیں ۔پھر حیا جب نکل جاتی ہے تو حدیث کے مطابق ایمان بھی پھر باقی نہیں رہتا اور یوں اللہ کی اطاعت ، امت مظلومہ کی نصرت اور جہاد و قتال کی باتیں سب ’ذہنی پسماندگی ‘ کی علامتیں سمجھی جاتی ہیں۔ لہٰذا سوال نہی عن المنکر کرنے نہ کرنے کا نہیں، بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ وہ کیا طریق ہو کہ جو مؤثر ہو، نہی عن المنکر کا مقصد بھی پورا کرتاہو اور اس سے جہاد و مجاہدین کی محبت بھی کم نہ ہو ۔علمائے کرام نے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اصول وآداب تفصیل سے بیان کیے ہیں اور ان کا لحاظ اگر رکھا جائے تو مذکورہ دونوں مقاصد ان شاء اللہ حاصل ہوں گے ۔ ایک شرط یہ ہے کہ اگر ایک منکر منع کرنے سے بڑا منکر پیدا ہونے کا خدشہ ہو تو پھر اس کم تر منکر سے نہیں روکا جائے گا، بلکہ اس کے لیے مناسب موقع کا انتظار کرنا پڑے گا۔ اس طرح یہ بھی اصول ہے کہ منکر بزور منع کرنے سے جب فائدہ کی جگہ نقصان کا اندیشہ ہو تو زبان سے روکنے کی کوشش ہوگی اور ایسا کرتے ہوئے مخاطب کے ساتھ نرمی، شائستگی، خیرخواہی، محبت اوراحترام کاخوب خیال رکھا جائے گا۔ شیخ عبداللہ عزام رحمہ اللہ ایک جگہ بڑی پیاری بات فرماتے ہیں، کہتے ہیں:

’’امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے ایسا فرد چاہیے جو لوگوں سے محبت کرتاہو، جو کوتاہ نظر نہ ہو، زبان جس کی پاک و شائستہ ہو اور جو ایسا قطعاً نہ ہو کہ کسی کو برائی کرتے دیکھے تو کہے ’ تم میں یہ اور یہ برائی ہے اس لیے میں تم سے اللہ کے لیے نفرت کرتاہوں‘۔استغفرا للہ ! بھئی کیا تم یہ نہیں کہہ سکتے ہو کہ ’میں اللہ کے لیے آپ سے محبت کرتاہوں ،بس یہ ایک عیب ہے کہ جس کی اصلاح اگر آپ کریں تو اچھا ہوگا ۔‘‘

ایک دفعہ راقم قبائل میں اپنے شیخ اور استاذ ، فاروق بھائی رحمہ اللہ کے ساتھ سفرمیں تھا۔ ایک موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ کی جگہ پربڑے سائز کی انتہائی فحش تصویر پر ہماری نظر پڑی ۔ فاروق بھائی نے مجھے عطر کی شیشی دی اور کہا کہ میں اس کو روکتاہوں، آپ جاکر پہلے اچھی طرح دعا سلام کریں ، یہ شیشی انہیں دیں اور پھر محبت سے انہیں سمجھائیں کہ یہ اچھا نہیں ہے۔ جب میں نے اس طرح کیا تو اُس فرد نے فوراً مجھے گلے لگایا ،محبت سے میری داڑھی چومی اور موٹر سائیکل کھڑی کرکے خود اپنے ہاتھ سے وہ تصویر توڑ ڈالی، ساتھ ہی اس نے مجھ سے کہا ’’آپ صحیح کہتے ہیں ،ہمارے ہی فائدے کی بات کرتے ہیں ، ہم آپ کے خادم ہیں جی ، بس آپ حکم کریں‘‘۔تو ایسے موقع پر مجاہدین کی طرف سے وعظ و نصیحت اور معمولی سی دعوت الی الخیر بھی کارگر ثابت ہوتی ہے اور ایسا کرنا بھی نہی عن المنکر میں ان شاء اللہ شمار ہوگا۔ ضروری نہیں کہ منکر روکنے کے لیے بس قوت کا ہی استعمال ہو اورایسی قوت کہ جس سے پھر منکر تو نہ رُکے مگر جہاد کا خوب نقصان ہو۔جب ان اصولوں کا خیال نہیں رکھا جاتاہے اور منکرات کو بس بزور قوت روکنا ہی قاعدہ سمجھا جاتا ہو تو دشمن کا میڈیا بھی اس عمل کو خوب اچھالتا ہے اور نتیجے میں مجاہدین کو ایسی شہرت ملتی ہے جوان کی اصل پہچان کبھی نہیں ہوتی ۔

فروعی اختلافات اور تحریک جہاد

اختلاف کی جو اقسام علما نے بیان کی ہیں، ان میں ایک وہ ہے جو اصولِ دین کے اندر ہو اور دوسرا وہ جو دلیل کی بنیاد پر فروع ِ دین میں ہو1 ۔ دونوں کی حیثیت و مقام کا تعین صدیوں پہلے فقہائے امت اور ائمۂ کرام نےکیاہے۔اول الذکر اختلاف ناقابل برداشت ہے جو گمراہی اور کفر کو جنم دیتا ہے اور اس کے سبب حمایت و وفا کا تعلق قطع تعلقی یا برأت و عداوت میں تبدیل ہوتا ہے جبکہ فروعی اختلاف چونکہ دین کی اُن جزئیات میں ہوتا ہے جہاں مبنی بر دلیل اختلاف کی شریعت نے گنجائش رکھی ہے، اس لیے اسے برداشت کیا جاتا ہےاور اس کے ہوتے ہوئے بھی محبت و مودت ،حمایت و وفاداری اور نصرت و اخوت کا تعلق قائم رہتا ہے ۔اب اصول دین میں اس ناجائز اختلاف کو اگر فروع دین والے اُس جائز اختلاف کا مقام دیا جائے تو اس سے دین اسلام کے اندر نقب کا دروازہ کھلتا ہے اور اہل کفروضلال اور مبنی بر باطل فرقوں کو اہل ایمان کے دین وایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی کھلی چھٹی ملتی ہے۔اصول دین میں اختلاف کرنے والے کو برداشت کرنا اور اس کے ساتھ دوستی و محبت کی پینگیں بڑھانا اور سب کو ساجھی دکھانا دین کی پوری عمارت کو (نعوذ باللہ)ڈھانے کے مترادف ہے۔ اس کے برعکس دوسری صورت بھی ہے اور وہ یہ کہ جب فروعی اختلاف کے ساتھ اصولی اختلاف جیسا رویہ رکھاجاتاہو یعنی فروعی اختلاف جب دوستی و دشمنی کا معیار بنتا ہے اوراس کے سبب ایک مسلک والوں کا دوسرے مسلک کوختم کرنا جب نصب العین بن جاتا ہے تو یہ ایسی صورت ہے کہ اس سے بھی فتنہ و فساد کا وہ دروازہ کھلتا ہے جو دیمک کی طرح امت کی طاقت چاٹ جاتا ہے ۔ اس رسہ کشی میں چونکہ علم و عدل کی جگہ جہل و ظلم لےلیتا ہے اس لیے امت میں افتراق، فرقہ بندی اور ایسی فرقہ پرستی جنم لیتی ہے جس کے ہوتے ہوئے اللہ کی توفیق اورتائید پھر باقی نہیں رہتی۔ وقت وصلاحیت اور وسائل و محنت صرف ہوتی ہے مگر اصلاح سے فساد زیادہ اور تعمیر کی جگہ تخریب بڑھ کر ہوتی ہے۔

مجاہدین کا کام دشمنان امت کے خلاف امت مسلمہ کو اپنی پشت پر کھڑا کرنا تھا ،ان کی ذمہ داری تھی کہ امت کے سب اہل خیر کو دشمنان دین کے مقابل اپنی تائید و نصرت میں کھڑا کرتے،مگر جب وہ فروعی اختلاف کو میدان جہاد میں لاتے ہیں، اسی کو اپنی دوستی و دشمنی کا معیار بناتے ہیں اور اپنی دعوت کا ہدف مخالف مسلک کو گرانا جب قرار دیتے ہیں تو اس سے خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماری جاتی ہے ، تحریک جہاد کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور یوں دشمنان دین ہی پھر جی بھر کر اس کا فائدہ سمیٹتے ہیں۔

یہ اختلافات اُس وقت بھی ختم نہیں ہوئے اور ایک مسلک نے دوسرے کو زیر نہیں کیا جب خلافت ختم نہیں ہوئی تھی اور اللہ کا دین بڑی حد تک غالب تھا۔آج جبکہ اللہ کادین بری طرح مغلوب ہے، امت پر ہر طرف سے ظلم ہو رہا ہے اور اس کا کل سرمایہ ہی گویا پگھلا چاہتا ہے، نیز آج جبکہ باطل کسی ایک مسلک ا ورمکتب فکر کا دشمن نہیں بلکہ وہ نفس دین اور اصل ِ لاالہ الا اللہ اسلام کے خلاف لڑ رہا ہے ، سیکولرازم ، الحاد، جمہوریت، قوم پرستی اور وطن پر ستی جیسا زہر پلا کر وہ ہماری نسلوں کی نسلیں تباہ کررہا ہے، ایسے میں ضروری تھا کہ فروعی اختلاف کو اس کے مقام پر رکھا جاتا اور جس جنگ میں ہمارے شجر امت کے تنے اور شاخ ہی کیا ، جڑوں کو کاٹاجا رہا ہے ، بس اس کو ہی بھرپورتوجہ دی جاتی ، اس دشمن کے خلا ف ہی مسلمانوں کو متحد و متفق کیاجاتا اور اپنی دعوت میں اصلِ دین کی حفاظت اور اس کے دشمنوں کے ساتھ عداوت کی تحریض دی جاتی۔ مگرجب ایسا نہیں ہوتا اور اس کے برعکس فروعی اختلاف کو اہمیت دی جاتی ہے ، تو اہل باطل کے ساتھ دشمنی خود بخود ثانوی اہمیت پر چلی جاتی ہے ۔ اور ظاہر ہے جب دشمنی و دوستی اور محبت و نفرت کے پیمانے اللہ کی رضا والے نہیں رہتے ہیں تو پھر کیونکر ایسی تحریک اللہ کی تائید و توفیق کی مستحق ہو سکتی ہے اور کیونکر ایسی تحریک دفاعِ امت اور نصرت ِ دین جیسی بھاری ذمہ داری اٹھانے کے قابل رہ سکتی ہے ؟! لہٰذا چاہےدوسرے ہمارے خلاف ظلم و جہل پر اتریں اور چاہے دوسرے لوگ مسلکی و فروعی اختلافات کابہانا بناکرہم مجاہدین کے خلاف فتنہ و فساد پیدا کریں، ہمار ے ہاتھ سے بس علم و عدل کا دامن کسی حال نہ چھوٹے اور ہم اپنی ترجیحات میں کسی طورپر بھی ایسی کسی غلطی کا ارتکاب نہ کریں جس کا نقصان امت مظلومہ اور اس کے دفاع کے لیے جاری اس مبارک دعوت وجہاد کو ہو۔

غلو اور افراط کا مقابلہ بھی تب ہی ہو سکتا ہے جب ہم خود اہل غلو کے غلو اور ظلم کے مقابل عدل پر رہیں، صرف ان کے غلو کو اپنا ہدف بنائیں، اس کے ساتھ دشمنی رکھیں اور اپنے خلاف آگ بھڑکانے والوں کے مقابل نہ جوابی غلو کا شکار ہوں اور نہ ہی اُن کی مخالفت میں کسی داخلِ اہل سنت والجماعت مسلک کو مجسم ِ شر اور اپنا دشمن اعلان کریں۔ یہ تو مفاد پرست اہل غلو کا طریقہ ہے کہ اپنا فساد چھپانے کے لیے کسی ایک مسلک اور مکتب فکر کو بطورِ ڈھال استعمال کرتے ہیں۔ وہ مسلک کے سب متعلقین کو دھوکہ دیتے ہیں اور مسلکی جذبات کا استحصال کرکے اپنے شر کے دفاع میں انہیں لا کھڑا کرتے ہیں ۔ اگر ہم عدل پر رہیں ، کسی خاص مسلک کو اپنا ہدف نہ بنائیں اور صرف برائی ، غلو،فتنہ و فساد کو ہی اپنے نشانے پر رکھیں تو ایسے میں اہل غلو کو کسی مسلک کی آڑ لینے سے روک لیں گے ،اُن کے ہم مسلک سے بھی ہمیں اہل خیر ملیں گے اورہم اس قابل ہوں گے کہ ہر مسلک و مکتب فکر کے اہل شر کو اس کے اہل خیر سے جدا کرکے تنہا کرسکیں گے۔ ایسا کرنا وقت کا تقاضہ ہے ، یہ امت ہماری ہے اور اللہ کا یہ دین ہمار ا ہی دین ہے، اس دین و امت کی نصرت و دفاع ہماری طرف سے مکمل طور پر غیر مشروط ہونا ضروری ہے ، یہ نہیں کہ مقابل عدل پر رہے تو میں بھی اصول پر رہوں گا ، لیکن اگر وہ ظلم کرتا ہے تومجھ سے بڑا بے اصول اور بڑا ظالم و جاہل کوئی نہیں ہوگا۔

اہل حق کو جاننے کا عوامی پیمانہ

ایک عام فرد جس کے پاس زیادہ علم نہ ہو ،اس کو بھی اللہ نے حق وباطل میں تمیز کرنے کا ایک آسان پیمانہ عطا کیا ہے؛ یہ پیمانہ ظلم و فساد سے نفرت اور عدل و صلاح سے محبت ہے ۔عام لوگ (جب تک اپنی فطرت پر قائم ہوں ) ظلم سے نفرت کرتے ہیں اور فسادکو ناپسند کرتے ہیں اور یہی پیمانہ ہے کہ جس کے ذریعے وہ اہل خیر اور اہل شر میں تمیز کرتے ہیں ۔کسی جماعت اور گروہ کی کیا دعوت ہے، وہ ظلم و فساد کے خلاف ہے اور خود اپنے عمل میں بھی عدل اور صلاح پرقائم ہے یااس کا اپنا کردار اپنے ہی دعووں کے برعکس ہے…… یہ وہ پیمانہ ہے کہ جس سے اَن پڑھ آدمی بھی اچھے برے میں تمیز کرتا ہے اور اس سے وہ راہ ہدایت پر گامزن اور گمراہی و ضلالت میں بھٹکی جماعت کے بیچ فرق کرتا ہے ۔ یہ اللہ ہی کا فضل ہے کہ اس نے تکوینی طور پر انسانوں کو عدل وصلاح کی اس محبت اور ظلم و فساد سے اس نفرت پر بنایا اور اُس ربِّ کریم کا ہی یہ کرم ہے کہ اس نے شرعی طور پر بھی پھر یہ واضح کیا کہ غلبہ دین کا راستہ عدل و صلاح ہے ،نہ کہ ظلم و فساد ،لہٰذا تکوینی لحاظ سے بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ کی شریعت اس کی شریعت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قائم ہو سکے ۔

ہوا ہے کبھی، اب جو ہو پائے گا؟
بہ ہدمِ شریعت نفاذِ کتاب

پس جومجاہدین خارجی دشمن کے خلاف صف آراء ہونے کے ساتھ ساتھ داخلی اصلاح سے بھی غافل نہ ہوتے ہوں ، جو خود بھی ظلم وفساد سے بچتے ہوں اور اپنی صفوں میں ظالم و فسادی کو قبول بھی نہ کرتے ہوں ، جن کی جنگ ظلم اور ظالموں کے خلاف ہو اور فساد و تخریب کی جگہ اصلاح و تعمیر کو ہی جنہوں نے اپنا شیوہ رکھاہو ،اللہ کی طرف سے زمین میں ایسے اہل جہاد کی محبت بٹھائی جاتی ہے اور لوگ اپنی مرضی و خوشی سے ایسےبندگان خدا کی تائید و نصرت کے لیے دوڑے چلے آتے ہیں ۔امارت اسلامی افغانستان عوام میں مقبول ہوئی تو اس کی وجہ یہی ظلم و فساد کے خلاف اس کی صدق ، دیانت ، عدل اور اصلاح سے عبارت مبارک جدوجہدرہی۔امیر المومنین ملاعمر رحمہ اللہ کی قیادت میں جب طالبان کھڑے ہوئے تو یہ نصف درجن سے زیادہ نہیں تھے، بے سرو ساماں، بس مسجد کے درویش طلبائے علم تھے، مگرجب لوگوں کو نظر آیا کہ یہ ظالم نہیں ، فسادی نہیں، اپنا غلبہ اورتسلط قائم کرنے یہ نہیں نکلے ہیں بلکہ شریعت کی پیروی اور عدل و انصاف کی برتری ان کا مقصد ہے اور جب واضح ہوا کہ ان میں خلق خدا پر رحم ہے اور اس کے لیے خیر خواہی اور دل سوزی ہے تو’ لوگ آتے گئے اور قافلہ بنتاگیا ‘کے مصداق کیا عام اور کیا خاص جس کے دل میں بھی خیر تھی وہ اس قافلے کا حامی ، انصار اور سپاہی بنے بغیر نہیں رہ سکا۔ عین جنگ میں بھی یہ مناظر دیکھے گئے کہ دشمن اپنے مورچوں سے اترے اور اپنے ہتھیار و اموال لاکر طالبان کے ساتھ شامل ہوئے ۔ لہٰذا عام عوام میں خیر و شر پہچاننے کا یہ ایک فطری پیمانہ اللہ نے رکھا ہوا ہے۔ کوئی تحریک تب ہی عوام میں حقیقی جڑیں پکڑ سکتی ہے جب وہ اس پیمانہ پر صحیح طرح پوری اترے۔

دوسری طرف اہل باطل کو بھی عوام کے اندر عدل و صلاح کے ساتھ اس فطری محبت کا ادراک ہے ،اس لیے وہ اہل حق کو ہمیشہ ظالم ، فسادی اور اپنے مفادات کا اسیر و غلام مشہور کرتے ہیں۔ فرعون نے حضرتِ موسیٰ علیہ السلام کے متعلق قوم کو کیا کہا تھا؟ یہی کہ ان کا مقصد بس ملک میں فتنہ و فساد مچانا اور تمہاری تہذیب کو تباہ کرنا ہے ﴿وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِي أَقْتُلْ مُوسَى وَلْيَدْعُ رَبَّهُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ ﴾ 2۔ ہر دور کے فرعون اور نمرود اپنے فساد کو صلاح اور اپنی بدصورتی کو خوبصورتی ثابت کرتے ہیں جبکہ اہل حق کو خودغرض ، مفاد پرست اور ظالم و فسادی دکھاتے ہیں ۔ لہٰذا دعوت و اعلام کے میدان میں باطل کا یہ پراپیگنڈا غلط ثابت کرنا بھی انتہائی ضروری ہوتا ہے اور یہ صرف اُس وقت ہی ممکن ہے جب مجاہدین قول و فعل اور دعوت و کردار کےدونوں میدانوں میں صالح اور مصلح نظر آئیں۔ وہ میدان دعوت میں بھی اہل حق کے پاک و شفاف چہرے پر ڈالی گئی گرد کو صاف کریں اور باطل کے چہرے پر چڑھے جھوٹ وفریب کے نقاب کو بھی اتار پھینکیں۔

دعوت و میڈیا قطعاً کافی نہیں!

اس حقیقت کا بھی ہمیں ادراک ہو کہ معرکۂ خیر و شر میں محض دعوت و میڈیا کسی کام کے نہیں ہیں ، یہ الٹا بداعتمادی اور دین و جہاد سے متنفر کرنے کا سبب بنتے ہیں جب اس کے پیچھے ہمارا کردار ہمارے دعووں کی تصدیق نہ کرتاہو۔تحریکوں کے معاملے میں اصل اور فیصلہ کن عامل ان کے افراد کی سیرت و کردار ہے جبکہ دعوت ومیڈیا ثانوی ہے ۔ عمل اگر غلط ہو تو دعووں سے مخاطبین کو زیادہ عرصہ دھوکہ نہیں دیا جا سکتا ہے ۔دعوت و میڈیا کے میدان میں تو طواغیت بھی فوز و فلاح کے ایک سے بڑھ کر ایک دعویٰ دار ہیں ۔ان کے میڈیا کی سنیں تو لگتا ہے ان سے زیادہ انسانیت دوست اور عوام کا غمگسار کوئی نہیں،یہ کردار ہے جو ان کے خوش نما دعووں کا پول کھولتا ہے اور ان کی وحشت و شیطانیت کا پردہ چاک کرتا ہے۔ پس دعوت و اعلام کا تیر تب ہی نشانے پر بیٹھتا ہے جب تحریک کی سیرت و کردار اس کی تائید کرتےہوں اور باہر سے زیادہ داخلی اصلاح پہلی ترجیح ہو۔

یہاں خطا چھوٹی نہیں رہتی!

تحریک جہاد کی پیش قدمی و کامیابی چونکہ معرکۂ قلب و ذہن میں کامیابی پر منحصر ہے ،اس لیے یہاں چھوٹی خطا بھی کبھی چھوٹی نہیں رہتی۔ایک تو جہاد انفرادی عبادت نہیں کہ جس میں خطا کی تلافی آسان ہو؛ یہ اجتماعی عبادت ہے اور اس میں فیصلوں اور اقدامات کا مثبت و منفی اثر براہ راست لوگوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے ۔دوسرا یہ کہ تاریخ جہاد بتاتی ہے کہ اہل جہاد کی چھوٹی خطاؤں کو بھی دشمن نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور انہیں بڑھا چڑھاکر عوام اور مجاہدین کے درمیان فاصلے بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔ مصر میں پینتیس چالیس سال قبل وزیر داخلہ کے خلاف کارروائی ہوئی ۔ اس کارروائی میں خوب کوشش کی گئی تھی کہ کوئی بے گناہ ہدف نہ بنے۔ جہاں کارروائی ہونی تھی وہاں سکول تھا، سکول کی چھٹیاں تھیں اس لیے گمان غالب تھا کہ نقصان نہیں ہوگا۔ کارروائی ہوئی تو غلطی سے اس میں ایک بچی بھی شہید ہوگئی جس کا نام شیماء تھا۔ مصری میڈیا نے اس کارروائی کو ایسے اچھالا گویا ہدف یہ ننھی منی بچی ہی تھی، ساری کارروائی اس کے خلاف ہوئی اور وزیر داخلہ کا قافلہ تو وہ تو جیسے غلطی سے نشانہ بنا۔ شیماء کی تصاویر پورے مصر میں لگائی گئیں اور امریکی پالیسی ساز اداروں نے اس طریق کار کو مثال بنا کر ’شیماء ایفیکٹ ‘ کے نام سے اصول وضع کیا جو رینڈ کارپوریشن کی کتابیں آج بھی نقل کرتی ہیں۔اصول یہ ہے کہ مجاہدین کی خطاؤں کو ان کے خلاف ہتھیار بناؤ۔ان کی خطا کو اچھالو اور انہیں مسلمانوں میں ان کے خلاف نفرت اور بداعتمادی پیدا کرنے کا ذریعہ بناؤ۔

دعوت و جہاد میں مطلوب رویہ

اصل میں جہاد چونکہ اسلام کی چوٹی کا عمل ہے ، ذروۃ سنام الاسلام ہے،اور چوٹی کے اس عمل میں خطا بھی بہت دور تک نظر آتی ہے،اس لیے یہاں احتیاط بھی دوسرے شعبوں سے کہیں زیادہ درکار ہے ۔ اس ضمن میں شیخ ابو قتادہ بہت پیاری بات کہتے ہیں ، فرماتے ہیں ،’مجاہدین کے لیے دعوت و جہاد کے ساتھ حکماء جیسا طرز عمل اپنائے بغیر چارہ نہیں، وہ صرف اُس وقت ہی جہاد کی خدمت کرسکیں گے جب جہاد کے ساتھ حکماء جیسا رویہ رکھیں۔ حکمت یہ ہے کہ چاہت، خواہش، غصہ اور انتقام کے جذبات سب ایک سائیڈ پر رکھے جائیں اور خالصتاً فائدہ ونقصان کا پیمانہ اٹھاکر ہر قدم و ہر فیصلے کا اس سے جائزہ لیاجائے ۔ایک حکیم مریض کو دوا دیتے وقت جس طرح دوا کی مثبت و منفی تاثیر اور خود مریض کی کیفیت کا پیشگی جائزہ لیتا ہے اور فائدہ ونقصان کے متعلق مطمئن ہونے کے بعد ہی پھرمناسب ترین دوا تجویز کرتا ہے اسی طرح مجاہدین کو بھی اپنے جہا د میں مصالح و مفاسد دیکھ کر ہی قدم اٹھانا ضروری ہے ‘۔ وہ فرماتے ہیں کہ ’خیر اور شر کے بیچ فرق تو سب جانتے ہیں ،مگر مجاہدین دو خیر میں سے بڑی خیر اور دو شر میں سے بڑے شر کو پہچانیں اور پھر بڑی خیر کا انتخاب کریں اور بدتر شر سے اجتناب کریں‘۔ یعنی جب دو خیر کے کاموں میں کسی ایک کو کرنے سے دوسرے کے چھوٹ جانے کا یقین ہو تو ضروری ہے کہ بڑی خیر کی خاطر چھوٹی خیر کو قربان کیا جائے اور دو شروں میں سے مجبوراًکسی ایک کو قبول کرنا ہو تو ضروری ہے کہ چھوٹے شر کا انتخاب کرکے بڑے سے بچا جائے ۔ عموماً جہاد کے اندر اس نوعیت کی خطائیں ہوتی ہیں۔ ہر خطا کے اندر کوئی ایسی خیر ہماری نظر میں ہوتی ہے جو واقعی خیر ہوتی ہے مگر ہم نے یہ نہیں دیکھا ہوتا ہے کہ اس چھوٹی خیر کے سبب ہم بڑی خیر سے بھی محروم ہوسکتے ہیں اور واقعتاً پھر ایسا ہو تاہے ۔یہی شر کا معاملہ ہے ۔ ایک فرد مضر ہے ، شر ہے مگر عام عوام کی نظر میں وہ معصوم وبے گناہ ہے ، ایسے میں اس کے قتل کرنے سے اس کا شر تو ختم ہوگا مگر عوامی اعتماد جو متزلزل ہوگا اور عام لوگ جو اہل جہاد کے خلاف ہوں گے،یہ اس فرد کے شر سے بڑا شر ہے، ضروری تھا کہ بڑے شر سے بچنے کے لیے چھوٹے کو برداشت کیا جاتا، یہی سبق آپ ﷺ کی سیرت سے بھی ہمیں ملتا ہے اور اس پر عمل میں کوتاہی سے ہی عموماً نقصان ہوتا ہے ۔

یہ موضوع آخری اس تذکیر پر ختم کرتاہوں کہ مجاہدین کے لیے معرکۂ قلب و ذہن کی اہمیت ، حساسیت اور نزاکت محسوس کرنا بہت ضروری ہے، جس قدر ہم نے اس کا ادراک کیا،اپنے آپ کو سراپا خیر بنایا،دائرۂ شریعت کے اندر رہتے ہوئے جتنا زیادہ مصالح و مفاسد کو سمجھا اور ان کے مطابق اپنی دعوتی و جہادی ترجیحات مقرر کیں اُتنا ہی ان شاء اللہ ائمۂ کفر کے خلاف ہماری قوت میں اضافہ ہوگا ، اس کے ایوانوں اور جنود پر ہماری ضربیں بڑھیں گی اور اُتناہی اللہ کے اذن سے قافلۂ جہاد عوام الناس کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنے گا۔

٭٭٭٭٭


1 حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے بوادر النوادر میں ’رسالہ احکام الایتلاف فی احکام الاختلاف ‘ کے تحت اختلاف کی دس قسمیں بیان کی ہیں اور ان کے آداب بھی ذکر کیے ہیں جو بہت مفید ہیں ۔ یہاں ہماری بحث چونکہ دو بنیادی اقسام سے ہے، اسی لیے انہی کا ذکر ہوا؛ اصولِ دین میں اختلاف کی وہ قسم جو دائرۂ اسلام سے انسان کو خارج کرتی ہے یا کم از کم گمراہی اور بدعت تک پہنچاتی ہے، اور فروعِ دین میں اختلاف کی وہ قسم جو دلیلِ شرعی کی بنیاد پر اہل سنت والجماعت کے مختلف مسالک و مکاتب فکر کے بیچ ہے۔ ان کی مزید تفصیل اور دیگر اقسام کے لیے مذکورہ رسالہ کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔

2 ’’ اور فرعون نے کہا : لاؤ میں موسیٰ کو قتل ہی کر ڈالوں، اور اسے چاہیے کہ اپنے رب کو پکار لے۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا، یا زمین میں فساد برپا کردے گا۔ ‘‘(سورة غافر: ۲۶)

Previous Post

مکاتِب و مدارِس کی تاریخ | آخری قسط

Next Post

خراسان… احادیثِ مبارکہ کی پیشین گوئیاں

Related Posts

اَلقاعِدہ کیوں؟ | چوتھی قسط
فکر و منہج

اَلقاعِدہ کیوں؟ | آٹھویں قسط

15 فروری 2026
جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول | پہلی قسط
فکر و منہج

جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول |تیسری قسط

15 فروری 2026
کفار کا معاشی بائیکاٹ | پانچویں قسط
فکر و منہج

کفار کا معاشی بائیکاٹ | پانچویں قسط

15 فروری 2026
مدرسہ و مبارزہ |  پانچویں قسط
فکر و منہج

مدرسہ و مبارزہ | دسویں قسط

15 فروری 2026
حربِ ظاہری کا حربۂ باطنی | چوتھی قسط
فکر و منہج

حربِ ظاہری کا حربۂ باطنی | چوتھی قسط

20 جنوری 2026
مدرسہ و مبارزہ |  پانچویں قسط
فکر و منہج

مدرسہ و مبارزہ | نویں قسط

20 جنوری 2026
Next Post

خراسان… احادیثِ مبارکہ کی پیشین گوئیاں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

by ادارہ
15 فروری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version