نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home فتحِ امارتِ اسلامی

افغان جنگ میں امریکی خسارے

by نعمان حجازی
in اگست و ستمبر 2021, فتحِ امارتِ اسلامی
0

تعارف

۳۱ اگست ۲۰۲۱ء کو تقریباً بیس سال بعد افغانستان سے آخری امریکی نکل جانے کے بعد امریکہ کی تاریخ کی طویل ترین جنگ اپنے اختتام کو پہنچی ۔ ایک عام امریکی شہری بھی اپنی ہزیمت کی وجہ سے اس جنگ کو بھلانا چاہتاہے اور امریکی حکومت کی طرف سے بھی کوشش ہے کہ ویتنام جنگ کے برخلاف اس جنگ کی تفصیلات پر کم سے کم روشنی پڑے اس لیے اس جنگ میں ہونے والے اپنے جانی و مالی نقصانات کو حتی الامکان چھپانے اور بہت کم کر کے دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن اس بیس سالہ جنگ نے امریکہ پر اتنے گہرے اثرات چھوڑے ہیں کہ اسے اتنی آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی آبادی کے ہر چار افراد میں سے ایک اسی جنگ کے دوران پیدا ہوا ، اس نے اس جنگ سے پہلے کے امریکہ کو کبھی نہیں دیکھا صرف اس کے متعلق باتیں ہی سنی ہیں۔ ان کے ذہنوں پر اس ہاری ہوئی جنگ کی گہری چھاپ ہمیشہ موجود رہے گی۔ پھر اس جنگ میں زخمی ہونے والے ہزاروں امریکی فوجیوں کے علاج معالجے اور صحت کے اخراجات بھی عشروں تک امریکی حکومت اور اس کے ٹیکس دہندگان کے لیے بوجھ بنے رہیں گے۔ اسی طرح دسیوں کھرب ڈالر جو امریکہ نے اس جنگ میں جھونکے وہ سب قرضے سے حاصل ہوئے، وہ قرضہ اور اس پر لگا سود در سود بھی آنے والے کئی عشروں تک امریکی معیشت پر ایک بھاری بوجھ بنا رہے گا۔

اس تحریر میں مالی اور جانی خساروں سے متعلق اعداد و شمار کی مدد سے امریکی شکست کی ایک جامع تصویر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بلا شبہ صرف اعداد و شمارکبھی بھی ایک مکمل تصویر پیش نہیں کر سکتے کہ اس جنگ میں کیا کچھ ہوا اور اس کی کیا اہمیت ہے لیکن یہ جنگ کا ایک منظر نامہ ضرور پیش کر سکتے ہیں۔ اس تحریر میں دیے گئےزیادہ تر اعداد و شمار امریکہ کی براؤن یونیورسٹی کے Cost of War Project سے لیے گئے ہیں ۔ اس منصوبے سے ۵۰ دانشور، ڈاکٹر، قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے جڑے ہوئے ہیں جو کہ افغانستان اور عراق جنگ کے جانی ، مالی اور بجٹ کے حوالے سے اخراجات اور سیاسی نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چند دیگر اعداد و شمار امریکی حکومتی ادارے ’اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن‘ یا سگار (CIGAR)سے اور امریکہ کے سرکاری ادارہ برائے احتساب ’گورنمٹ اکاؤنٹی بلٹی آفس’ یا گاؤ (GAO) سے لیے گئے ہیں۔ مزید اعداد و شمار جہاں جہاں سے حاصل کیے ان کا ذکر ان اعداد و شمار کے ساتھ کر دیا گیا ہے۔ تاہم یہ بات پیش نظر رہے کہ ان اداروں کی طرف سے پیش کیا گیا جائزہ امریکی حکومت اور پینٹاگان کی طرف سے فراہم کی گئی رپورٹوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اور بلاشک و شبہ یہ فراہم کردہ معلومات حقائق سے کہیں کم تر ہوتی ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں امریکی حکومت نے اپنی ویب سائٹ سے افغانستان میں ہوئے اخراجات کے حوالے سے بہت سی جائزہ رپورٹیں غائب کر دی ہیں۔

پس منظر

۱۸ ستمبر ۲۰۰۱ء کو، امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملوں کے ٹھیک ایک ہفتے بعد، امریکی ایوان نمائندگان اور ایوانِ بالا نے بلا اختلاف ایک بل منظور کیا جس کے تحت امریکہ کو صرف افغانستان کے خلاف نہیں ، بلکہ گیارہ ستمبر کے حملے کے ذمہ داروں کے خلاف پوری دنیا میں ایک کھلی جنگ شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی۔

۲۰ ستمبر ۲۰۰۱ء کو امریکی صدر جارج بش نے امریکی کانگرس کے ایک اجلاس میں کہا کہ یہ جنگ عالمی سطح کی ہو گی اور اعلانیہ اور خفیہ دونوں سطح پر لڑی جائے گی اور ممکنہ طور پر یہ جنگ لمبے عرصہ تک چلے گی۔ امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا:


دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ القاعدہ سے شروع ہوئی ہے لیکن اس پر ختم نہیں ہو گی۔ یہ اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک عالمی نظریہ رکھنے والے ہر گروہ کا پتہ نہ لگا لیا جائے، اسے روک نہ دیا جائے اور اسے شکست سے دوچار نہ کر دیا جائے۔ امریکیوں کو ایک جنگ کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ بلکہ یہ ایک طویل مہم ہے، جس کی مثل اس سے قبل ہم نے کبھی نہیں دیکھی۔


۷ اکتوبر ۲۰۰۱ء کو امریکہ نے ’آپریشن اینڈیورنگ فریڈم‘(Operation Enduring Freedom)کے نام سے افغانستان پر بمباری کا آغاز کر دیا۔ اس جنگ میں امریکہ، نیٹو اور غیر نیٹو اتحادی اکاون(51)ملکوں نے شرکت کی۔

۹ دسمبر ۲۰۰۱ء میں قندھار کا سقوط ہو گیا، اور امریکہ اور اتحادیوں نے تصور کر لیا کہ اب افغانستان میں جنگ ختم ہوا ہی چاہتی ہے۔

اپریل ۲۰۰۲ء میں صدر بش نے افغانستان میں ’حقیقی امن‘ کے قیام میں مدد دینے کا وعدہ کیا۔ وہ امن کیسے حاصل ہو گا اس پر بش نے کہا:


امن ، افغانستان کو اپنی مستحکم حکومت قائم کرنے میں مدد دینے سے حاصل ہوگا۔ امن، افغانستان کو اپنی ملی فوج بنانے اور اس کو تربیت دینے میں مدد کرنے سے حاصل ہو گا۔ اور امن لڑکے اور لڑکیوں کے لیے ایک ایسا تعلیمی نظام کھڑا کرنے سے حاصل ہو گا جو کہ کارآمد ہو۔


۱۷ فروری ۲۰۰۹ء کو امریکی صدر بارک اوباما نے افغان جنگ میں تیزی لانے کے لیے اور جلد نتائج حاصل کرنے کے لیے سترہ ہزار (17,000)مزید فوجی افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ اسی سال دسمبر میں اوباما نے اس فیصلے میں تبدیلی کی اور کل تعداد کو بڑھا کر ایک لاکھ تک کر دیا۔ جبکہ ۲۰۱۱ء کے اختتام تک افغانستان میں امریکی فوجیوں کی کل تعداد ایک لاکھ دس ہزار تک پہنچ گئی تھی۔

’آپریشن اینڈیورنگ فریڈم‘(Operation Enduring Freedom) اوباما کے دور میں ۲۸ دسمبر ۲۰۱۴ء کو اختتام پزیر ہوا۔ کابل میں امریکی اور نیٹو کے فوجی افسران نے اس دن کی مناسبت سے ایک تقریب منعقد کی اور اس آپریشن کے خاتمے کا اعلان کیا۔ اوباما نے اس موقع پر ایک بیان جاری کیا جس میں اس نے کہا کہ یہ ہمارے ملک کے لیے ایک سنگ میل ہے اور اب امریکہ پہلے سے زیادہ محفوظ ہے۔ اور اس کے ساتھ اس نے اپنی فوج کی تعداد میں کمی کا اعلان بھی کیا۔

یکم جنوری ۲۰۱۵ء سے نیٹو نے ایک نئے مشن ’ریزولوٹ سپورٹ مشن‘(Resolute Support Mission) کا آغاز کیا، جس کا مقصد امارت اسلامیہ کے خلاف افغان فوج کی تربیت، مدد اور مشاورت فراہم کرنا تھا۔ اسی مشن کے تحت امریکہ نے افغانستان میں القاعدہ اور دیگر گروہوں کے خلاف خصوصی کاروائیاں کرنے کے لیے ایک علیحدہ مشن آپریشن فریڈمز سینٹنل (Operation Freedom’s Sentinel) کا اعلان بھی کیا۔ اس کے ساتھ ہی امریکی اور نیٹو فوجیوں میں کمی کا آغاز ہوا اور ۲۰۱۶ء کے اختتام تک افغانستان میں آٹھ ہزار پانچ سو (8500) امریکی فوجی جبکہ تیرہ ہزار (13,000) نیٹو کے فوجی رہ گئے۔

۲۱ اگست ۲۰۱۷ء کو امریکہ کے نئے صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں امریکی افواج میں پھر سے اضافے کا اعلان کیا اور تعداد کو بڑھا کر چودہ ہزار (14,000) تک کر دیا۔

۴ ستمبر ۲۰۱۸ء کو ٹرمپ نےطالبان سے مذاکرات کرنے کے لیے زلمے خلیل زاد کو اپنا خصوصی نمائندہ مقرر کیا۔ جس کے بعد امریکہ کے امارت اسلامیہ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہوا۔ جس کے نتیجے میں ۲۹ فروری ۲۰۲۰ء کو امریکہ اور امارت اسلامیہ کے درمیان ایک معاہدہ طے پاگیا جس کے تحت یکم مئی ۲۰۲۱ء تک امریکہ کو افغانستان سے مکمل انخلاء کرنا تھا۔

۱۴ اپریل ۲۰۲۱ء کو امریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا کہ امریکہ کے باقی پینتیس سو (3500)فوجیوں کا انخلاء یکم مئی کی بجائے گیارہ ستمبر ۲۰۲۱ء تک مکمل ہو گا۔

یکم مئی ۲۰۲۱ء کو امارت اسلامیہ نے معاہدے کی اصل تاریخ کے اختتام پر پورے افغانستان میں افغان فوج کے خلاف حملوں کا آغا ز کر دیا اور تیزی سے اضلاع فتح ہونا شروع ہوگئے۔

۶اگست ۲۰۲۱ء کو پہلا صوبائی مرکز ، صوبہ نیمروز کا شہر زرنج فتح ہو گیا۔پہلے صوبے کی فتح کے ۹ دن بعد ۱۵ اگست ۲۰۲۱ء کو پنجشیر کے علاوہ افغانستان کے تمام صوبے بشمول دارالحکومت کابل پر امارت اسلامیہ کا قبضہ ہو گیا۔

۳۰ اور ۳۱ اگست ۲۰۲۱ء کی درمیانی رات آخری امریکی طیارہ افغانستان سے پرواز کر گیا اور امریکہ کا افغانستان سے انخلاء مکمل ہوا۔

جانی خسارہ

امریکی بیورو آف لیبر کے اعداد و شمار کے مطابق، ان بیس سالوں میں نو لاکھ اسی ہزار (980,000) امریکی فوجی افغانستان میں مختلف اوقات میں تعینات رہے۔ امریکی فوجیوں کے علاوہ ان بیس سالوں میں امریکی عسکری کنٹریکٹر بھی افغانستان میں موجود رہے جن کی کل تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، لیکن ۲۰۲۰ء کے وسط میں ان کی تعداد بائیس ہزار پانچ سو باسٹھ (22,562)تھی جبکہ ۲۰۲۱ء کے آغاز میں ان کنٹریکٹرز کی تعداد سات ہزار آٹھ سو (7,800)تھی۔

امریکہ کے ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ۶ ستمبر ۲۰۲۱ء کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان بیس سالوں میں دو ہزار چار سو اکسٹھ (2,461) امریکی فوجی ہلاک اور بیس ہزار سات سو چھیالیس (20,746) فوجی اس جنگ میں زخمی ہوئے۔ جبکہ تین ہزار نو سو چار (3,904) امریکی کنٹریکٹر ہلاک ہوئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان بیس سالوں میں ایک ہزار ایک سو پنتالیس (1,145) امریکہ کے اتحادی ممالک کے فوجی ہلاک ہوئے۔ جبکہ پچھتر ہزار تین سو چودہ(75,314) افغان فوجی ہلاک ہوئے۔امریکہ کے جو فوجی زخمی ہوئے ان میں زیادہ تعداد ایسوں کی ہے جو کہ اپنے جسم کے ایک سے زیادہ اعضاء سے محروم ہو گئے۔ جبکہ امریکہ کی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ڈاکٹر پال پاسکوئینا کے بقول، ان زخمیوں میں ساٹھ فیصد کے قریب ایسے ہیں جنہیں دماغی زخم بھی لگے۔

یہاں یہ وضاحت بھی کرتے چلیں کہ زخمیوں کی جو تعداد یہاں بیان کی گئی ہے یہ صرف ان زخمیوں کی ہے جو کہ لڑائی کے دوران زخمی ہوئے، اس کے علاوہ دیگر وجوہات سے زخمی ہونے والوں کا اور وہ جو جنگ کی وجہ سے ’پی ٹی ایس ڈی‘ اور دیگر نفسیاتی امراض کا شکار ہونے کی وجہ سے جنگ کے قابل نہیں رہے اس کا اس میں ذکر نہیں ہے۔

اگرچہ ان کے تفصیلی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں لیکن امریکی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں آنے والے کل امریکی فوجیوں میں اوسطاً 15.5 فیصد فوجی ایسے ہیں جو دماغی مرض ’پی ٹی ایس ڈی‘ (Post-Traumatic Stress Disorder) کا شکار ہوئے۔ اس فیصد تعداد کے اعتبار سے تقریباً ایک لاکھ اکاون ہزار نوسو (151,900) فوجی ان بیس سالوں میں پی ٹی ایس ڈی کا شکار ہوئے۔

اسی طرح جو امریکی فوجیوں کے مرنے والوں کی تعداد لکھی گئی ہے وہ بھی صرف وہی ہیں جو میدان جنگ میں مرے لیکن وہ جو زخمی ہو کر امریکہ واپس گئے لیکن اپنے زخموں کی پیچیدگی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ان کا ذکر نہیں ہے۔ نہ ہی فوجیوں کی وہ بڑی تعداد شامل ہے جو اس جنگ میں شامل رہنے کے بعد نفسیاتی و ذہنی امراض کا شکار ہوئے اور پھر انہوں نے خودکشی کر لی۔ براؤن یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق گیارہ ستمبر کے بعد سے ان بیس سالوں میں جنگوں میں شریک رہنے والے امریکی فوجیوں میں سے تیس ہزار ایک سو ستتر(30,177) فوجیوں نے خودکشی کر لی۔

اس کے علاوہ امریکی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ان بیس سالوں میں افغان جنگ میں شامل رہنے والے فوجیوں میں سے جن فوجیوں نے ہیلتھ کئیر سروسز سے رجوع کیا، جن کی تعداد لاکھوں میں بنتی ہے، ان میں 23 فیصد امریکی فوج کی خواتین ایسی ہیں جن کو فوج کے اندر ہی جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ 55فیصد امریکی فوج کی خواتین ایسی ہیں جنہیں جنسی ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ امریکی فوج میں 38 فیصد مرد فوجیوں کو بھی اپنی ہی فوج کے اندر جنسی ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا۔

اس بیس سالہ جنگ میں جو فوجی جنگ کے دوران زخمی ہوئے یا مر گئے وہ تو ایک طرف لیکن اتنی بڑی تعداد کا دماغی و نفسیاتی امراض کا شکار ہو جانا، اتنی بڑی تعداد کا خودکشی کر لینا، اتنی بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کا اپنے ہی ساتھی فوجیوں کے ہاتھوں جنسی تشدد اور جنسی ہراسگی کا شکار ہو جانا ایسے حقائق ہیں جو کسی بری سے بری قوم کا بھی سر شرم سے جھکا دے۔ یہ اعداد و شمار مغربی تہذیب و اقدار کی ایک جھلک دکھاتے ہیں کہ جس تہذیب و اقدار کو لے کر اسے تیسری دنیا کے ممالک میں رائج کرنے نکلے ہیں وہ خود کس قدر غلیظ اور ناپاک ہے۔ اور وہ جو ہمیں پسماندہ، قدامت پرست، غیر ترقی یافتہ، غیر مہذب وغیرہ ثابت کرنے پر تلے رہتے ہیں وہ خود اخلاقی طور پر کس قدر پستیوں میں گرے ہوئے ہیں۔

یہ اعداد و شمار ان مغرب نواز جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لیے بھی تازیانۂ عبرت ہیں کہ جو امارت اسلامیہ کے شرعی نظام کی مخالفت اور مغرب کے غلیظ نظام کی حمایت کرتے ہیں۔ اور اسلامی شریعت کے پاکیزہ نظام کو چھوڑ کر مغربی گندگیوں میں رہنا پسند کرتے ہیں۔

مالی خسارہ

وفاقی بجٹ میں امریکی کانگریس نے افغان جنگ کے اخراجات کی مد میں ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کے لیے دس کھرب(ایک ٹریلین) ڈالر کی منظوری دی تھی۔ لیکن تمام اخراجات شامل کرتے ہوئے ان بیس سالوں میں افغانستان میں امریکی اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہوئے۔ ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کے اخراجات کو ملا کر ان بیس سالوں میں تقریبا بیس کھرب اکتیس ارب تیس کروڑ (2.313ٹریلین)امریکی ڈالر افغان جنگ پر خرچ ہوئے۔ دوسرے لفظوں میں امریکہ کا افغانستان میں تقریبا تیس کروڑ(300ملین) ڈالر روزانہ کا خرچہ ہو رہا تھا۔

یہ اخراجات درج ذیل بنیادی مدّات کے تحت کیے گئے:

 

مدرقم
ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کاابتدائی جنگی بجٹ1.055ٹرلین(10کھرب55ارب) ڈالر
اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا جنگی بجٹ60بلین(60ارب) ڈالر
ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کے بجٹ میں اضافہ433بلین (4 کھرب 34 ارب) ڈالر
قرضوں پر سود کی ادائیگی532بلین (5کھرب 32ارب) ڈالر
سابق فوجیوں کا علاج معالجہ233بلین (2کھرب 33 ارب) ڈالر
کل رقم2.313ٹرلین (23 کھرب13ارب) ڈالر

ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اوپر مذکورہ بجٹ کے تحت چیدہ چیدہ اخراجات درج ذیل ہیں۔

 

مدرقم
براہ راست جنگی اخراجات824.9بلین(8کھرب24ارب90لاکھ)ڈالر
افغان فوج کی تربیت ، عسکری سامان85بلین(85ارب) ڈالر
تعمیرِ نو کے منصوبہ جات131.3بلین(1 کھرب 31 ارب 30 لاکھ)ڈالر
افغان فوج کی تنخواہیں14.25بلین (14ارب 25کروڑ)ڈالر
حکومتی اخراجات اور ترقیاتی منصوبے36بلین(36 ارب) ڈالر
مرنے والے فوجیوں کے لواحقین کو2.455بلین (2ارب45کروڑ50لاکھ) ڈالر

امریکی حکومت اپنے تمام ہلاک ہونے والے فوجیوں کے لواحقین کو ان کی خدمات کے صلے میں فی فوجی دس لاکھ (ایک ملین ) ڈالر دیتی ہے۔ ہلاک ہونے والوں کی سرکاری طور پر ظاہر کی گئی تعداد کے مطابق لواحقین کو دی گئی کل رقم اوپر لکھی گئی ہے۔

اکتوبر ۲۰۲۰ء میں امریکی کانگریس کو پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق تعمیرِ نو، حکومتی اخراجات اور ترقیاتی کاموں کے لیے افغان حکومت کو بھیجی گئی امداد میں سے، کرپشن کی وجہ سے، انیس ارب (19بلین) ڈالر ان منصوبوں پر لگنے کی بجائے حکومتی عہدہ داروں کی جیبوں اور بنک اکاؤنٹس میں منتقل ہو گئے۔

گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ کی پوری دنیا میں کارروائیوں میں شامل رہنے والے سابق فوجیوں کی معذوری اور علاج معالجے پر آنے والے اخراجات امریکی انخلاء کے بعد بھی ختم نہیں ہوتے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک اندازے کے مطابق ۲۰۵۰ء تک پہلے سے موجود ان سابق فوجیوں کے علاج معالجے پر 20 کھرب(2ٹرلین) ڈالر کے مزید اخراجات ہوں گے۔

اس کے علاوہ افغان جنگ کے لیے لیے گئے قرضوں پر سود کی ادائیگی کے اخراجات ۲۰۵۰ ء تک ساٹھ کھرب پچاس ارب(6.5ٹریلین) ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ اس طرح سےیہ جنگ ختم ہوجانے کے باوجود ۲۰۵۰ء تک امریکہ کے افغانستان جنگ پر کل اخراجات 100 کھرب 81ارب30کروڑ (10.813ٹرلین)ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔

اپنی سابقہ جنگوں ہی کی طرح امریکہ نے افغان جنگ کے متعلق بھی یہ گمان کیا تھا کہ فتح بہت تیزی سے حاصل ہو جائے گی اور اس کے بعد صرف تعمیرِ نو پر اخراجات آئیں گے۔ لیکن ان بیس سال بعد آخری امریکی فوجی کے بھی افغانستان سے نکل جانے کے باوجود امریکہ اب تک جاری اخراجات گن رہا ہے۔

افغان فوج کو دیا گیا عسکری سامان

اس بیس سالہ جنگ میں ایسی شرمناک ناکامی کے بعد اگرچہ یہ سارا مالی خسارہ ہی امریکیوں کے لیے شدید تکلیف کا باعث ہو گا لیکن ان سب اخراجات میں شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ خرچہ امریکیوں کے لیے وہ ہے جو انہوں نے افغان فوج کی تربیت ، ان کی تنخواہوں اور ان کے لیے بھیجے گئے عسکری سامان پر کیا۔

افغان فوج پر امریکہ نے ایک کھرب ڈالر تک خرچہ کیا لیکن ان بیس سالوں میں افغان فوج کو دی گئی ساری تربیت دھری کی دھری رہ گئی اور تین لاکھ کی یہ بڑی بڑی فوجی طاقتوں کے ہاتھوں تربیت یافتہ فوج ریت کی دیوار ثابت ہوئی جو ایک ہوا کے جھونکے سے ہی ڈھے گئی۔ اسلحہ اور دیگر عسکری سامان کے جو پہاڑ امریکہ نے اس فوج کو دیے تھے، اس امید پر کہ شاید زیادہ سے زیادہ جدید ترین اسلحہ دینے سے یہ فوج امارت اسلامیہ کا کوئی مقابلہ کر پائے، وہ بھی ان کے کسی کام نہ آئے بلکہ فائدہ دینے کی بجائے امریکیوں کے لیے مزید ہزیمت کا باعث بنے اور آج امریکی اپنے اسلحے کے اتنے ڈھیر امارت اسلامیہ کے قبضے میں دیکھ کر اپنی ہی انگلیاں چبا رہے ہیں۔

امریکہ نے ان بیس سالوں میں جو عسکری سامان افغان فوج کو دیا اس میں افغان جنگ کے آغاز سے ۲۰۱۶ء تک فراہم کیے گئے سامان کی تفصیلی رپورٹس موجود ہیں۔ لیکن اس کے بعد سے جنگ کے خاتمے تک کی رپورٹ امریکی حکومت نے اپنی ویب سائٹ سے بھی اور سگار ادارے کی ویب سائٹ سے بھی غائب کر دی ہے جس کی وجہ سے پچھلے پانچ سالوں میں کتنا عسکری سامان امریکہ نے افغان فوج کے حوالے کیا اس کی مکمل تفصیل حاصل نہیں ہو سکی۔

اس رپورٹ کو غائب کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ۲۰۱۵ء تک امریکی زیادہ جنگ خود لڑ رہے تھے اور افغان فوج ان کےتحت جنگ میں معاونت کر رہی تھی، اس لیے اس عرصے میں افغان فوج کو اتنا عسکری سامان نہیں دیا گیا۔ لیکن ۲۰۱۵ء سے یہ معاملہ الٹ ہو گیا اور جنگ کی زیادہ تر ذمہ داری افغان فوج پر آگئی، اور امریکی اور نیٹو افواج کا کردار معاونت کی طرف منتقل ہو گیا۔

اس وجہ سے امریکہ نے جتنا عرصہ ۲۰۱۶ء تک افغان فوج کے حوالے کیا تھا، اس سے کئی گنا زیادہ اسلحہ اس کے بعد کے ان پانچ سالوں میں حوالے کیا۔ اس میں سے بھی تین ارب (3بلین) ڈالر کا عسکری سامان صرف پچھلے سات ماہ میں امریکہ نے افغان فوج کو فراہم کیا۔لیکن چونکہ اس کی کوئی تفصیل موجود نہیں ہے، اس لیے ذیل میں تفصیلی طور پر ۲۰۱۶ء تک دیے گئے اسلحے کا ذکر ہے اور اس کے بعد اگلے پانچ سالوں میں عسکری سامان کی فراہمی کے حوالے سے جو کچھ جزوی معلومات حاصل ہو پائیں ا ن کا ذکر ہے۔

۲۰۱۶ء تک فراہم کیا گیا عسکری سامان

 

قسمتعداد
گاڑیاں75,898
طیارے208
اسلحہ599,690
جاسوی و نگرانی کے آلات اور ڈرون16,191
بم ڈسپوزل جیمر اور ڈیٹیکٹر آلات29,681
مواصلاتی آلات162,643
کل تعداد884,311

گاڑیاں

 

قسمتعداد
رینجر اور ڈبل کیبن42,604
ہمویز22,174
ٹرک8,998
خراب اور تباہ شدہ گاڑیاں اٹھانے والی کرینیں1,005
بارودی سرنگوں اور کمین سے حفاظت والی گاڑیاں928
بکتر بند189
کل تعداد75,898

طیارے

 

قسمتعداد
ہیلی کاپٹر110
مال بردار جہاز60
A-29 جیٹ20
PC-12 جاسوسی اور نگرانی کا طیارہ18
کل تعداد208

اسلحہ

 

قسمتعداد
رائفلز358,530
پستول126,295
مشین گن64,363
گرنیڈ لانچر25,327
شاٹ گن12,692
راکٹ لانچر9,877
آرٹلری اور مارٹر2,606
کل تعداد599,690

جاسوسی اور نگرانی کے آلات

 

قسمتعداد
نائٹ وژن آلات16,035
مخابرہ کی جگہ معلوم کرنے کے آلات120
جی باس سرویلنس ٹاور22
سکین ایگل ڈرون8
نگرانی کے غبارے6
کل تعداد16,191

بم ڈسپوزل، جیمر اور ڈیٹیکٹر آلات

 

قسمتعداد
جیمر13,265
مائن ڈیٹیکٹر13,367
بم ڈسپوزل روبوٹ1,093
بم دھماکے سے حفاظت کا لباس1,101
فوجی گاڑیوں کی مائن سے حفاظت کے لیے مائن رولر496
ایکس رے نظام359
کل تعداد29,681

مواصلاتی آلات

 

قسمتعداد
سادہ مخابرے (وائرلیس ریڈیو ٹرانسمٹر)66,439
ہائی فریکونسی بڑے مخابرے13,464
VHF مخابرے75,256
UHFمخابرے2,107
ملٹی بینڈ مخابرے5,377
کل تعداد162,643

سگار کی وہ رپورٹ جس میں ۲۰۱۶ء کے اختتام سے ۲۰۲۱ء تک افغان فوج کو جو سامان فراہم کیا گیا اس کا مکمل آڈٹ موجود تھا اسے تو غائب کر دیا گیا ہے۔ لیکن سگار کی ویب سائٹ پر ۲۰۱۸ء سے ۲۰۲۱ء تک کہ سہ ماہی جائزے رکھے ہیں جن میں دیگر معلومات کے ساتھ اس عرصے میں افغان فوج کو دیے گے عسکری سامان کی بھی معلومات موجود ہیں۔ جن کا خلاصہ درج ذیل ہے:

یکم اپریل ۲۰۱۸ء سےیکم اگست ۲۰۲۱ء تک فراہم کردہ عسکری سامان

 

قسمتعداد
A-29جیٹ14
AC-208لڑاکا طیارہ7
UH-60 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر80
Mi-17 ہیلی کاپٹر5
MD-530 گن شپ ہیلی کاپٹر49
C-130 کارگو طیارہ1
ہمویز5,785
رینجر اور ڈبل کیبن گاڑیاں602
بڑی کرینیں16
پانی کے ٹینکر130
تیل کے ٹینکر151
سامان کے ٹرک48
سامان کے بڑے ٹریلر143
خراب گاڑیاں اٹھانے والی کرین3
امریکی موٹر سائیکل179
مشین گنز5,538
رائفلز6,289
ہیوی مشین گنز140
مارٹر56
پستولیں6,484
راکٹ لانچر864
گرنیڈ لانچر1,150
نائٹ وژن299
ملٹی بینڈ مخابرہ82
گولے428,304
گرنیڈ311,884
گولیاں94,111,957

سگار کی ایک اور رپورٹ کے مطابق امریکہ نے سکین ایگل ڈرون بنانے والی کمپنی کے ساتھ ۲۰۱۵ء میں افغان فوج کو یہ ڈرون فراہم کرنے کا سات سال کا معاہدہ کیا ۔ اس میں ۲۰۱۶ء سے ۲۰۱۹ء تک جو ڈرون فراہم کیے گئے ان کی تعداد اس آڈٹ رپورٹ میں موجود ہے لیکن اس کے بعد ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۱ء تک کی تعداد کا علم نہیں۔ ان چار سال کی تعداد یہ ہے:

۲۰۱۶ء سے ۲۰۱۹ء تک فراہم کردہ سکین ایگل ڈرون

 

سالتعداد
۲۰۱۶ء96
۲۰۱۷ء46
۲۰۱۸ء55
۲۰۱۹ء80
کل تعداد281

مذکورہ بالاعسکری سامان میں پینتیس عدد بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اور تین عدد A-29 جیٹ طیارے امریکہ نے جولائی کے وسط میں دیے تھے۔ اس کے علاوہ جولائی کے مہینے میں ہی امریکہ نے افغان فوج کو مزید سکین ایگل ڈرون حوالے کیے جن کی حتمی تعداد کا اندازہ نہیں ہے۔ یہ چیزیں ایک ایسے وقت میں افغان فوج کے حوالے کی جا رہی تھیں جب امارت اسلامیہ کا صوبائی مراکز کو چھوڑ کرافغانستان کے تقریباً تمام ہی اضلاع پر قبضہ ہو چکا تھا اور امریکہ نے اس امید پر کیا کہ فضائی طاقت میں اضافہ کرنے سے شاید افغان فوج امارت اسلامیہ کا مقابلہ کر سکے۔ لیکن اس کا ذرّہ برابر بھی فائدہ نہیں ہوا اور ان چیزوں کو ایک بار بھی افغان فوج استعمال نہیں کر سکی۔

امارت اسلامیہ کے قبضے میں آیا عسکری سامان

سگار کی مئی تا جولائی ۲۰۲۱ء کی آڈٹ رپورٹ اور فلائٹ گلوبل انسائٹ کی ایک رپورٹ کو ملا کر ایک اندازے کے مطابق امارت اسلامیہ کے صوبوں کے مراکز پر قبضہ شروع کرنے سے قبل افغان فضائیہ کے پاس کل طیاروں کی تعداد درج ذیل تھی۔

 

قسمتعداد
A-29 جیٹ 26
AC-208 لڑاکا طیارہ10
C-208ٹرانسپورٹ طیارہ24
C-130ٹرانسپورٹ طیارہ4
بوئنگ 717 وی آئی پی ٹرانسپورٹ طیارہ1
PC-12سرویلنس طیارہ18
Mi-17ہیلی کاپٹر(روس)96
Mi-35 لڑاکا ہیلی کاپٹر(روس)4
Bell UH-1 ہیلی کاپٹر10
HALچیتا ہیلی کاپٹر(انڈیا)3
MD-530گن شپ ہیلی کاپٹر50
UH-60 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر80
CH-47 چینوک ہیلی کاپٹر5
کل تعداد331

مذکورہ بالا تفصیل میں وہ طیارے شامل نہیں ہے جو خاص افغان سپیشل فورس کو دیے گئے۔کیونکہ امریکہ کی طرف سے افغان سپیشل فورس کو جو بھی فنڈنگ یا عسکری سامان فراہم کیا جاتا تھا اسے خفیہ رکھا گیا تھا اور اس کو آڈٹ سے استثناء دی گئی تھی۔ سپیشل فورس کو دیے گئے ان طیاروں میں پانچ عدد چنیوک ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں جو امریکیوں کے انخلاء کے بعد کابل ائیر پورٹ پر موجود تھے۔ ان طیاروں کا ذکر اوپر فہرست میں کر دیا گیا ہے۔

امارت اسلامیہ کے کابل پر قبضہ کرنے کے بعد افغان فوج کے افراد چھیالیس کے قریب طیارے لے کر ازبکستان فرار ہو گئے، جبکہ امریکہ نے کابل ائرپورٹ سے نکلتے وقت ۷۳ طیارے اور ۷۰ گاڑیاں ناکارہ بنا دیں۔ ان طیاروں کو منفی کر دیا جائے تو طالبان کے پاس طیاروں کی کل تعداد اس وقت 212 ہوگی۔ اس کے علاوہ روسی اور انڈین طیاروں کی تعداد فلائٹ گلوبل انسائٹ کی ایک رپورٹ سے لی گئی ہے جو کہ ۲۰۱۸ء کے اختتام کی رپورٹ ہے، اس لیے یہ بات حتمی نہیں کہ بعد کے اڑھائی سال میں کتنے طیارے تباہ ہوئے اور کتنے اب تک کارآمد ہیں۔ اس لیے ان طیاروں کی حتمی تعداد نہیں بتائی جا سکتی۔ لیکن بعض امریکی اداروں کے ہی اندازوں کے مطابق اس وقت امارت اسلامیہ کے پاس موجود طیاروں کی تعداد 121ہے۔ اور امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک بیان کے مطابق دنیا کے پچاسی فیصد (85%)ممالک میں سے کسی کے پاس اتنے بلیک ہاک ہیلی کاپٹر نہیں ہیں جتنے اب امارت اسلامیہ کے قبضے میں ہیں، وللہ الحمد۔

اس کے علاوہ پچھلے بیس سال میں جو گاڑیاں، اسلحہ اور دیگر عسکری سامان افغان فوج کے حوالے ہوا اس میں سے کتنا تباہ ہوا اور کتنا طالبان کی فتح تک افغان فوج کے پاس سلامت موجود تھا، اس کا کوئی آڈٹ موجود نہیں ہے۔ لیکن اس حوالے سے سگار کی ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۶ء تک امریکہ نے افغان فوج کو جو اسلحہ دیا تھا وہ امریکہ کے امارت اسلامیہ سے معاہدے سے قبل تک تینتالیس فیصد (43%) تک طالبان کے قبضے میں جا چکا تھا۔

امریکہ نے افغان فوج کو ۲۰۱۶ء تک پانچ لاکھ ننانوے ہزار چھے سو نوے(599,690)کی تعداد میں اسلحہ دیا تھا اور اس فیصد کے اعتبار سے امریکہ طالبان معاہدے سے پہلے تک دو لاکھ ستاون ہزار آٹھ سو سڑسٹھ (257,867) کی تعداد میں اسلحہ طالبان کے قبضے میں آچکا تھا۔ چونکہ اسلحہ بہت کم ضائع ہوتا ہے اور فتوحات کے دوران جو غنائم کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئی ہیں ان کو سامنے رکھا جائے تو بہت محتاط اندازہ بھی لگایا جائے تو افغان فوج کو دیے گئے اسلحے میں سے ۹۰ فیصد اسلحہ طالبان کے قبضے میں آ چکا ہے۔

یہی معاملہ مواصلاتی آلات اور جاسوسی اور سرویلنس کے آلات کا بھی ہے۔ان میں ۲۰۱۹ء تک افغان فوج کو دو سو نواسی (289)سکین ایگل ڈرون فراہم کیے گئے تھے۔ان میں ۲۰۱۶ء تک ۸ ڈرون فراہم کیے گئے تھے جبکہ باقی دو سو اکاسی(281) ڈرون اگلے چار سالوں میں فراہم کیے گئے۔ اس تناسب کو دیکھا جائے تو ۲۰۲۰ء اور ۲۰۲۱ء میں بھی بڑی تعداد فراہم کی گئی ہو گی۔ امکان یہی ہے کہ یہ تباہ کم ہوئے اور اکثریت امارت اسلامیہ کے ہاتھ آگئی ہے۔ اور غنائم کی بعض ویڈیوز سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ان سکین ایگل ڈرونز کی ایک بڑی تعداد بالکل نئی اور پیک حالت میں ہی امارت اسلامیہ کے ہاتھ آئی ہے جنہیں استعمال کرنے کا افغان فوج کو موقع نہیں مل سکا۔

ایک معاملہ فوجی گاڑیوں کا بھی ہے۔ پچھلے بیس سالوں میں فوجی گاڑیاں سب سے زیادہ نشانے پر آئی ہیں اس لیے جو فوجی گاڑیاں امریکہ نے افغان فوج کو دی ہیں ان میں سے بڑی تعداد اس جنگ میں تباہ ہوئی ہے۔ لیکن ۲۰۱۶ء سے لے کر ۲۰۲۱ء تک امریکہ نے افغان فوج کو ماضی کی نسبت کہیں زیادہ فوجی گاڑیاں فراہم کی تھیں۔ اور جو غنائم سامنے آئے ہیں ان سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں یہ فوجی گاڑیاں امارت اسلامیہ کے قبضے میں آئی ہیں، الحمد للہ۔

اختتامیہ

۷ اکتوبر ۲۰۰۱ء کو جب امریکہ نے اس جنگ کا آغاز کیا تب، اگرچہ بش نے کہا تھا کہ یہ ایک طویل مہم ہو گی لیکن اس وقت بھی،نہ تو بش ، نہ ہی کوئی بھی امریکی شہری اور نہ امریکہ کے صف میں شامل ہونے والے ۵۰ ممالک کے حکمران اور افواج کبھی خواب میں بھی یہ سوچ سکتے تھے کہ یہ جنگ دہائیوں تک جاری رہے گی۔

اکتوبر ۲۰۰۱ء میں جب امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہونے جا رہا تھا تب اٹھاسی (88) فیصد امریکی اس جنگ کے حامی تھے، جبکہ اگست ۲۰۲۱ء میں اس جنگ کے اختتام پر باسٹھ (62) فیصد امریکیوں کی رائے میں افغانستان کے خلاف یہ جنگ شروع ہی نہیں کی جانی چاہیے تھی۔

امریکہ افغانستان میں تین اہداف لے کر آیا تھا۔ ایک القاعدہ کا خاتمہ، دوسرا امارت اسلامیہ کی شرعی حکومت کا خاتمہ اور تیسرا افغانستان میں ایک امریکہ نواز مستحکم جمہوری اور بے دین حکومت کا قیام۔ لیکن اس بیس سالہ جنگ میں امریکہ ان تینوں اہداف کے حصول میں بری طرح ناکام رہا ہے۔

جیسا کہ اوپر ذکر ہوا کہ امریکہ نے ۳۵ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر، ۳ جیٹ اور کچھ سکین ایگل ڈرون افغان فوج کو ایسے وقت میں دیے جب امارت اسلامیہ افغانستان کے تقریباً تمام ہی اضلاع پر قبضہ حاصل کر چکی تھی۔ایسے وقت میں، جب امارت اسلامیہ کی فتح یقینی نظر آ رہی تھی، امریکہ کی طرف سے ایسا قیمتی سامان افغان فوج کے حوالے کرنے کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ یا تو امریکہ اتنا احمق ہے کہ وہ اتنی سادہ سی بات نہیں سمجھ سکا کہ افغان فوج بہت ہی معمولی جنگ کے بعد پسپائی اختیار کر رہی ہے اور ایسی بھاگتی ہوئی فوج کو جتنا مرضی اسلحہ دے دیا جائے وہ اپنے قدم نہیں جما سکتی۔ یا شاید ’ڈوبتے کو تنکے کا سہارا‘ کے مصداق امریکہ کو یہ امیدہوگی کہ شاید ان کو مزید اسلحہ دینے سے یہ صوبائی مراکز کو بچا سکیں۔ اور ایسا نظر آتا ہے کہ اس پر تو امریکی سو فیصد مطمئن تھے کہ امارت اسلامیہ کابل کو کبھی فتح نہیں کر سکتی۔ لیکن یہ بات ثابت ہوگئی کہ چاہے اسلحے اور عسکری سامان کے پہاڑ بھی جمع کر لیے جائیں ، یہ سب چیزیں اللہ کی نصرت کے مقابلے میں سمندر کی جھاگ سے بھی کم حیثیت رکھتی ہیں۔

اتنی طاقت، ٹیکنالوجی اور جدید ترین اسلحہ رکھنے کے ساتھ بیس سال تک کوشش کرنے کے باجود شکست کا سامنا کرنے کی ہزیمت ایک طرف، لیکن اس سے بھی بڑی ہزیمت امریکہ کے لیے یہ ہے کہ اس جنگ کے اختتام پر بھی اس کے سارے اندازے غلط ثابت ہوئے اور طالبان کابل کے دروازے پر پہنچ گئے اور انہیں جوتیاں چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔اتنی بڑی طاقت رکھنے والے، دنیا کو اپنی انگلیوں پر نچانے والے امریکہ کی فوج اور سرکاری ملازمین طالبان کے کابل کے دروازوں پر پہنچنے کی خبر ملتے ہی اندھا دھند کابل ائیرپورٹ کی طرف بھاگے اور پھر اس کے بعد اگلے پندرہ دن تک دنیا کی واحد سپر پاور اور اس کی کٹھ پتلی افغان حکومت کا افغانستان میں اثر و رسوخ صرف کابل ائرپورٹ کی حدود کے اندر تک ہی رہ گیا، جہاں امریکی فوج نے انخلاء کے معاملے میں بدنظمی اور نااہلی دکھا کر امریکہ کے لیے ہزیمت کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔ ۳۱ اگست ۲۰۲۱ء کو صرف افغانستان میں امریکی جنگ کا خاتمہ ہی نہیں ہوا بلکہ امریکی حکومت کی بوکھلاہٹ، شکست کا اعتراف، امریکی شہریوں، امریکی دوستوں اور اتحادیوں کی طرف سے امریکہ کی ایسے شرمناک انخلاء پر تنقید اس بات کا بھی اعلان ہے کہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے ساتھ امریکہ کی عالمی طاقت ہونے کا دور بھی ختم ہو گیا۔ اس تحریر کا اختتام رینڈ کارپوریشن کی ایک حالیہ رپورٹ’افغانستان سے حاصل شدہ اسباق‘ کے اختتامی کلمات سے کرتے ہیں:


’’بلاشبہ اس بیس سالہ قطعی شکست کے اسباق کے بارے میں آنے والے عشروں تک بحث ہوتی رہے گی۔ لیکن افغانستان میں مستقبل میں کسی ممکنہ مداخلت کے حوالے سے جو اوّلین اور اہم ترین سبق حاصل ہوتا ہے وہ شاید بہت سادہ سا ہے، جسے برطانویوں کے، روسیوں کے اور بہت سے دیگر تجربات سے سیکھا جا سکتا تھا۔ اور وہ ہے ’مت کرو‘۔‘‘


Previous Post

فتحِ امارتِ اسلامی فتح مبین اور ہماری ذمہ داری

Next Post

ایمان افروز فتح اور اہم سنگِ میل

Related Posts

تزکیہ و احسان

حسد و تکبر اور ان کا علاج

26 ستمبر 2021
حلقۂ مجاہد

امیر المومنین شیخ ہبۃ اللہ اخوند زادہ نصر اللہ کی ہدایات…… مجاہدین کے نام | اگست و ستمبر ۲۰۲۱

26 ستمبر 2021
فتحِ امارتِ اسلامی

قائدینِ اِمارتِ اسلامی کے پیغامات

26 ستمبر 2021
فتحِ امارتِ اسلامی

افغانستان میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی فتح پر امت مسلمہ کے نام مبارکباد کا پیغام

26 ستمبر 2021
فتحِ امارتِ اسلامی

ارضِ افغانستان پر امارتِ اسلامیہ کی فتح پر مبارکباد کا پیغام

26 ستمبر 2021
فتحِ امارتِ اسلامی

افغانستان میں فتح و تمکین پر مبارکباد کا پیغام | تنظيم قاعدة الجهاد في جزيرة العرب

26 ستمبر 2021
Next Post

ایمان افروز فتح اور اہم سنگِ میل

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

by ادارہ
15 فروری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version