ایک وقت وہ تھا کہ طالبان کے خلاف کفار کا لشکر میدان میں اتر آیا۔ بظاہر لگ رہا تھا اور کفار کا دعوی بھی تھا کہ اب اس نظام کا خاتمہ ہو گیا ہے اور نیا دور شروع ہوا ہے۔ کفار کا یہ دور صرف خونریز ہی نہ تھا بلکہ دجل، جھوٹ، رشوت اور بے حیائی سے بھر پور دور بھی تھا۔ شیطان کے لشکر نے ہر حربہ استعمال کیا کہ کلمہ توحید کو مٹایا جائے لیکن انہیں کیا علم کہ اس کلمے کو مٹایا نہیں جا سکتا۔
امارتِ اسلامی اور افغان قوم نے اس کلمے کی خاطر بیش بہا قربانیاں دیں اور امتِ مسلمہ کے صالح، با شعور اور باہمت افراد نے ان کا بھر پور ساتھ دیا۔ اس سرزمین کو بے شمار مسلم اقوام کے جوانوں کے خون نے سیراب کیا، کیا عرب اور کیا عجم۔ ان قربانیوں کی بدولت مسلمانوں کو اللہ تعالی نے فتح نصیب کی اور پوری امتِ مسلمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
چنانچہ امارتِ اسلامی کی فتح تمام مسلمانوں کی فتح ہے۔ امارتِ اسلامی شہدائے افغانستان کی امانت ہے۔ اس امانت کی حفاظت صرف مسلمانانِ افغانستان پر نہیں بلکہ پوری امت کے مسلمانوں پر فرض ہے۔ ہر مسلمان کو سوچنا چاہیے کہ وہ کیسے اتنی عظیم قربانیوں اور جہاد کے ثمرات کو ضائع ہونے سے بچا سکتا ہے۔ آئیے سوچیں کہ یہ فتح ہم پر کیا ذمہ داریاں عائد کرتی ہے۔
امارت کا دفاع
سب سے پہلی ذمہ داری امارت کادفاع ہے۔ یہاں زمینی دفاع کی بات نہیں کر رہا… اگرچہ اس کے لیے بھی تیاری ہونی چاہیے،لیکن بحمد اللہ امارت اسلامی نے جب زمین پر دنیا کی عظیم ترین طاقت کو ہرا دیا تو ان شاء اللہ دوسروں کے خلاف بھی لڑ سکتی ہے، یہاں تک کہ پنجشیر کے داخلی فتنے کو بھی مہینے کے اندر اندر ختم کر دیا… میری مراد فکری اور اعلامی دفاع ہے۔ کیونکہ معرکۂ حق و باطل کے درمیان ایک مرحلہ اگر ختم ہوا ہے تو اگلا شروع ہو گیا ہے، لیکن معرکہ ختم نہیں ہوا۔ کفارِ عالم یہود و نصاریٰ اس وقت تک ہم سے راضی نہیں رہ سکتے جب تک ہم ان کی (ملت) کا اتباع نہ کریں۔ اگر ان کی افواج نے افغانستان کی سرزمین چھوڑ دی ہے لیکن وہ افغانستان پر اپنی افکار ویسے ہی مسلط کرنا چاہتے ہیں جیسے دیگر اسلامی ممالک میں مسلط ہیں۔ ان کی بھر پور کوشش ہے کہ خالص اسلامی شریعت کے نفاذ میں ہر طرح کی رکاوٹ ڈالیں۔ اس لیے جب تک عالمی کفر کا زور عالمی سطح پر نہیں ٹوٹتا، اس وقت تک یہ جنگ جار ی رہے گی۔
عالمِ کفر نے… جس کا دورِ جدید میں دنیا پر غلبہ ہے… کسی بھی حکومت کی بقا کے لیے اسے اقوامِ متحدہ کی طرف سے تسلیم کرنا ضروری قرار دیا ہے۔ جب کفر نے دیکھا کہ فوجی طاقت کے ذریعے امارتِ اسلامی کو نہیں ہرا سکے تو اب ان حربوں کے ذریعے قابو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حال ہی میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے امارتِ اسلامی کو تسلیم کرنے کے لیے چند شرائط عائد کی گئی ہیں جن میں اہم یہ ہیں کہ افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت تشکیل دی جائے، انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے خصوصا حقوقِ نسواں کو اور افغانستان کی زمین دیگر ممالک کے خلاف استعمال نہ ہو۔
اگرچہ یہ شرائط امارتِ اسلامی بھی تسلیم کرتی ہے، لیکن ہر ایک کی تشریح مختلف ہے۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال گزشتہ دنوں کابل میں حقوقِ نسواں کی خواتین ریلی تھی جسے امارت نے بزور روکا۔ اس واقعہ کو عالم کفر بہانہ بنا کر الزام لگا رہا ہے کہ امارتِ اسلامی خواتین کے حقوق کا تحفظ نہیں کرتی۔ حالانکہ امارتِ اسلامی کا عرصے سے یہ اصولی موقف ہے کہ ہاں، ہم حقوق دیں گے بلکہ دے رہے ہیں، لیکن اسلامی شریعت کے دائرے میں اور عملا بھی اس کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔ گویا عالمِ کفر حقوق کی اپنی تشریح کرتا ہے اور اسے دیگر پر بزور مسلط کرنا چاہتا ہے۔ یہ تو صرف ایک مثال ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ اس قسم کے زہر اگلنے میں ماہر ہیں۔ امارت کے اچھے اقدامات کو بھی منفی طور پہ پیش کرتے ہیں۔ اس لیے امتِ مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ اس حوالے سے امارت کا دفاع کرے۔ کیسے؟
امارت شرعی امارت ہے
پہلا قدم یہ ہے کہ ہم اپنے تئیں یہ طے کر لیں کہ آیا امارتِ اسلامی برحق ہے یا نہیں؟ آیا یہ شریعت کے مطابق ’اسلامی حکومت‘ ہے یا نہیں؟ میرا ان لوگوں سے نہیں خطاب جو امارتِ اسلامی کے مخالفین ہیں۔ میرا خطاب تو امتِ مسلمہ کے دیندار اور دین سے محبت رکھنے والے طبقہ سے ہے جو امت کی بھاری اکثریت ہے، جس کی آرزو ہے کہ شریعت غالب آئے، جو یہ سمجھتا ہے کہ عمومی طور پہ طالبان نیک اور صالح ہیں، لیکن یہ طبقہ کفار کےزہر آلودہ پراپیگنڈہ سے پریشان ہو جاتا ہے۔ در حقیقت یہ سوال شیطان کا وسوسہ ہے جسے شیطان کے انسانی چیلے اتنے زور و شور سے پھیلاتے ہیں کہ عام مسلمان تو درکنار اچھے خاصے سمجھ دار لوگ بھی متاثر ہو جاتے ہیں۔ اور دوسری طرف تقریباً ایک صدی کے بعد دوبارہ کسی خطے پر اسلامی شریعت کا بول بالا ہو رہا ہے۔ اس لیے نت نئے مسائل ابھرنا ایک قدرتی امر ہے جن کے شریعت کے دائرہ میں حل کے لیے تیزی اور سختی کے بجائے سوچ بچار سے حل نکالنے کی ضرورت ہے۔
لیکن جن کے دلوں میں شک ہے انھیں سوچنا چاہیے کہ آیا امارتِ اسلامی کی شریعت کی خاطر قربانیوں سے بھری 20 سالہ تاریخ اس پر شاہد نہیں کہ امارت شریعت کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھاتی؟! آیا فتح کے بعد ان کے قول و عمل سے اسی مقصد کے حصول کی کوشش جاری نہیں؟! عالی مقام امیر المؤمنین شیخ ہبۃ اللہ اخوندزادہ نے ماہ صفر کے اوائل میں امارتِ اسلامی کی عارضی حکومت کے قیام کے دن اعلان کیا کہ امارت کے دو بڑے اہداف تھے؛ اول غاصب حملہ آوروں کو نکال کر ملک آزاد کرنا، دوم شریعت کا نفاذ۔ اب جبکہ پہلا ہدف حاصل ہو گیا تو دوسرے پر توجہ دینی ہے۔ اسی لیے اس بیان میں انھوں نے تمام اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ شریعت کے نفاذ کے لیے کام کریں۔
یہ سمجھنے کی بات ہے کہ شریعت کا نفاذ ہمیشہ تدریجاً ہوتا ہے، خصوصاً جب مسائل گھمبیر ہوں۔ شریعت کے نفاذ کے عزم میں کوئی کمی نہیں، لیکن عمل میں تدریج حکمت کا تقاضہ ہے۔ مزید یہ کہ شریعت میں جتنی چھوٹ مل سکتی ہے اتنی دینی چاہیے کیونکہ امت اپنی غفلت سے بیدار ہو رہی ہے لیکن مکمل بیدار نہیں ہوئی۔ کوئی بھی انسان یا حکومت غلطی سے مبرا نہیں ہو سکتی، لیکن قصداً خطا کا مرتکب ہونا یا سمجھنے کے بعد اصرار کرنا غلط ہے۔ ایسا رویہ ابھی تک دیکھنے کو نہیں ملا۔ اندرونی اصلاحِ احوال کی تو ہر جماعت اور حکومت میں گنجائش رہتی ہے۔
یہاں تفصیل اور دلائل کا مقام نہیں۔ بس ایک بنیادی نکتہ سمجھنے کا ہے کہ جب تک امتِ مسلمہ کو یہ یقین نہ ہو کہ امارت ان کی امارت ہے اور وہ واقعی شریعت کی پاسداری کرے گی، اس وقت تک وہ اس کی وکالت نہیں کر سکے گی اور شکوک و شبہات میں پڑ کر امارت کی حمایت کم ہو جائے گی۔ اس طرح امتِ مسلمہ میں تقریباً ایک صدی کے بعد دوبارہ شریعت کے احیاء کے ’بہترین‘ منصوبہ کو شدید نقصان پہنچے کا اندیشہ ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ طالبان کے سابقہ دور میں بہت سے لوگ انھی شکوک کا شکار ہونے کی وجہ سے امارت کی وہ حمایت نہ کر سکے جو کہ مطلوب تھی۔ اس لیے جب تک امارت اپنے دعوی پر قائم ہے کہ وہ شریعت نافذ کرے گی اور اس کے لیے عملی اقدامات حتی الوسع اٹھا رہی ہے… جس پر ان کی تاریخ کی گزشتہ تین صدیاں گواہ ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ان شاء اللہ ایسا ہی ہو گا… تو یہ قطعاً مناسب نہیں کہ زمینی حقیقت کو چھوڑ مفروضوں پر رائے قائم کی جائے۔
امارت سیاست دنیویہ کی بھی ماہر ہے
ہم امارت کا اس وقت کما حقہ دفاع نہیں کر سکتے جب تک ہمیں یہ یقین نہ ہو کہ امارت واقعتاً شریعت سے منحرف نہیں ہو گی، اسی طرح یہ یقین بھی ہونا چاہیے کہ امارت دنیوی اعتبار سے حکومت چلانے کی اہل ہے۔ اسلام میں حکومت کا مقصد ہی سیاسۃ البلاد والعباد ہے، البتہ شریعت کے مطابق۔ اور زمین پر شریعت کے نفاذ کا مطلب ہی یہ ہے کہ دنیوی نظام کو شریعت کے مطابق چلایا جائے، ورنہ شریعت کس پر نافذ ہوتی ہے۔ نیز شریعت نظامِ زندگی پر نافذ ہونے کے لیے آئی ہے تو اس کا احاطہ داخلی و خارجی سیاست، اقتصاد، تعلیم، صحت سمیت زندگی کے تمام پہلووں پر ہو گا۔
اس حوالے سے ہمیں یقین ہونا چاہیے کہ امارت ان تمام پہلووں میں ترقی چاہتی ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ شریعت کا ان پہلوؤں پر نفاذ ہو لیکن ترقی نہ ہو۔ اس کا تو یہ مطلب ہوگا کہ لا دین سیکولر افراد کا موقف درست ہے، جو کہتے ہیں کہ شریعت کے تحت ترقی نہیں ہو سکتی۔ جسے امتِ مسلمہ بالعموم مسترد کر تی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ طالبان کے سابقہ دور میں یہ الزام بہت عام تھاکہ ’بھئی طالبان تو اچھے ہیں، لیکن ان کے پاس کوئی نظام نہیں، انہیں حکومت چلانی نہیں آتی‘ وغیرہ وغیرہ۔ اول تو اس میں بھی عالمی ذرائع ابلاغ کے زہر آلو د پراپیگنڈہ کا بہت عمل دخل ہے، اور دوم یہ کہ عالمی کفر نے اس وقت بھی ترقی کے سامنے رکاوٹیں ڈالی تھیں اور اب بھی ڈال رہی ہے۔ نظام چلانے کی صلاحیت نہ ہونا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ بیرونی طاقتیں نظام چلانے ہی نہیں دیتیں۔ ایک چھوٹی سی مثال امریکی فوج کا کابل سے نکلتے نکلتے کابل ایئر پورٹ کو برے طریقے سے تباہ کرنا ہے، جس کا کوئی عسکری یا سیاسی جواز نہیں۔ الٹا امریکہ یہی الزام گزشتہ چند ماہ میں امارتِ اسلامی پر لگاتے رہے ہیں کہ وہ ملکی تعمیرات کو بے جا نقصان پہنچا رہے ہیں۔
اب تو دنیا شاہد ہے کہ امارتِ اسلامی نے کیسی کامیابی سے جنگ جیتی۔ اتنی بڑی جنگ عوامی حمایت کے حصول کے بغیر ممکن نہیں۔ گویا ان 20 سالوں میں جہاں امارتِ اسلامی نے کفار ومنافقین کے ساتھ جنگ کی، وہیں اپنے زیر تسلط علاقوں میں عوام کی سہولیات کا بھی بھر پور خیال رکھا۔ جو امارت جنگی حالات میں اپنی دنیوی سیاست سے عوام کی حمایت حاصل کر سکی ہے تو وہ امن کی حالت میں ایسا کیوں نہیں کر سکتی۔ ہمیں معلوم ہے کہ امارت نے جنگی حالات میں ہی… جب کہ مکمل اقتدار ان کے ہاتھ میں نہ تھا… سڑکیں بنوائیں، زمینیں آباد کروائیں، صحت اور تعلیم میں ہر قسم کی سہولیات بہم پہنچائیں۔
پھر امارت کے حالیہ بیانات و اقدامات دیکھیے۔ اقتصادی ، تعلیمی ، طبی اور دیگر سرگرمیوں کو فروغ دینے کےلیے حکومت کے اعلان سے پہلے ہی کوششیں شروع ہو گئی تھیں۔ امارتِ اسلامی بخوبی جانتی ہے کہ جتنی وہ سیاست دنیویہ میں کامیاب ہو گی، اتنی ہی اسے مقبولیت حاصل ہو گی، اور جتنی مقامی مقبولیت حاصل ہو گی اتنا ہی عالمی دباؤ کا مقابلہ کر سکے گی، اور ثابت کر سکے گی کہ شریعت کے سائے تلے بھی زندگی آرام اور اطمینان کے ساتھ گزر سکتی ہے۔ یہ تو عالمی کفر ہے کہ شریعت کے زیر سایہ ترقی کے راستے روکتا ہے، کیونکہ وہ ڈرتا ہے کہ اگر شریعت کے تحت ترقی کی ایک مثال بھی کامیاب ہو گئی تو ان کے کفریہ نظریات کا خاتمہ ہو جائے گا۔ در حقیقت شریعت ہی انسان کی بقا اور فلاح کی ضامن ہے۔
ابھی تک ہم یہ بیان کر چکے ہیں کہ اول تو معرکہ حق و باطل ختم نہیں ہوا۔ اس لیے جیسے گزشتہ عرصے میں امارتِ اسلامیہ افغانستان کو امتِ مسلمہ کے اہل خیر کے مال و جان کی ضرورت تھی۔ اس طرح اب بھی ہے۔ اگر پہلے خون بہانے کی زیادہ ضرورت تھی، تو اب پیسہ اور پسینہ بہانے کی ضرورت ہے۔ دوسری بات یہ کہ امارت شرعاً بھی بر حق ہے اور سیاستاً بھی اس قابل ہے کہ نظامِ حکومت سنبھالے۔
اس لیے پہلی ذمہ داری ہماری یہ بنتی ہے کہ ہم خود یقین کر لیں کہ یہی صحیح نظامِ حکومت ہے جس کی تائید کرنا ہم پر فرض ہے۔ یہ ہماری اپنی امارت ہے۔ اس کے خلاف پراپیگنڈوں کا جواب ہم نے خود دینا ہے۔ یہ ہماری عزت ہے۔ جو بھی ہماری عزت خراب کرنے کی کوشش کرے گا اسے ہم دو بدو جواب دیں گے، تاکہ دشمن جو زہر اگل رہے ہیں… جسے منافقین سمیت ہمارے سادہ لوح عوام بھی دہرا جاتے ہیں… اس کا توڑ ممکن ہو سکے۔
اقتصادی مدد
جب ہمیں یہ یقین ہو جائے کہ امارت شرعاً اور سیاستاً اہل حکومت ہے تو اس یقین کے بعد دوسری اہم ضرورت یہ ہے کہ اقتصادی طور پہ امارت کو مضبوط کیا جائے۔ صدقات، خیرات، زکاۃ کے ذریعے بھی، اور اس سے بڑھ کر تجارتی صنعتی ترقی میں حصہ لے کر بھی۔ جس ملک کے خلاف عالمی کفر عسکری کارروائی نہیں کر سکتا، اس کے خلاف اس کا مضبوط ترین حربہ ’اقتصادی پابندیاں‘ لگانا اور معیشت کو کمزور کرنا ہے، تاکہ عوام بد دل ہو جائیں اور حکومت کا ساتھ چھوڑ دیں۔ اقتصادی پابندیاں لگانے میں کفر کے علمبردار امریکہ کا گزشتہ دہائیوں میں انتہائی ظالمانہ کر دار رہا ہے۔ چاہے وہ امارتِ اسلامی کا سابقہ دور ہو یا پہلی خلیج جنگ کے بعد عراق پر پابندیاں ہوں۔ امریکہ کی ان اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے امتِ مسلمہ کے کتنے بوڑھوں ، خواتین اور بچوں سمیت عوام کو تا مرگ بھوک اور امراض کا سامنا کرنا پڑا اور وہ لقمۂ اجل بن گئے۔
انھی اقتصادی پابندیوں کے دوران اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی ادارے… اپنے اپنے عزائم لے کر… مشروط مدد پیش کرنے کے لیے میدان میں اتر آتے ہیں۔ چنانچہ اب بھی متعدد عالمی ادارے یہ کہہ رہے ہیں کہ امارت یہ شرائط پوری کرے تو امداد دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس مدد سے اگر عوام کی کچھ تکلیف وقتی طور پہ دور ہو بھی جائے لیکن دنیا کے سامنے ایسا منظر پیش کیا جاتا ہے جیسا کہ امارت ناکام رہی، اس لیے بالآخر ان اداروں کو آگے آنا پڑا۔ اور نتیجے میں اسلام کے بجائے کفر کا نام اونچا ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے کے لیے ضروری ہے کہ کفریہ ممالک اور اداروں کے بجائے امتِ مسلمہ کے اہلِ خیر افراد اور ادارے اس موقعہ پر آگے بڑھ بڑھ کر اقتصاد کو مضبوط کریں ۔ ابھی امارتِ اسلامی کے ابتدائی دن ہیں۔ اگر ابھی امارتِ اسلامی کو مضبوط کر دیا کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جائے تو ان شاء اللہ آئندہ دنوں میں مزید بہتری آئے گی۔
حرفت و صنعت کی مدد
تیسری اہم ضرورت تعلیم، صحت، اور تعمیر و ترقی سمیت زندگی کے مختلف شعبوں کے اہلِ ہنر اور اہلِ فن حضرات کی خدمات ہیں۔ اس کی اہمیت بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ امت مسلمہ میں سے جو بھی شریعت کے سائے تلے زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ امت کی ترقی اور مستقبل میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ افغانستان آ کر اپنی خدمات پیش کرے۔ چاہے یہاں ان خدمات کے بدلے سہولیات نسبتاً کم ہوں، لیکن امت کی کھوئی ہوئی عزت حاصل کرنے کے لیے یہ کوئی برا سودا نہیں۔
ان اہلِ حرفت و صنعت میں سے ایک خاص قسم کی افرادی قوت کی طرف توجہ دلاؤں گا۔ ہم نے اسلامی ممالک میں دیکھا ہے کہ کیسے امتِ مسلمہ کے ہنر مند دین دار افراد اپنے پیشوں میں اسلامی شریعت کی پاسداری کے لیے کوششیں کرتے رہے ہیں جس کے لیے انھوں نے بے شمار تجربے بھی کیے۔ مثال کے طور پہ مسلمان ڈاکٹر کے سامنے یہ سوال ضرور آتا ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کے مسئلہ میں وہ کیا رویہ اپنائے، کتنا حلال ہے کتنا حرام؟ خاندانی منصوبہ بندی کی تائید میں جو اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں، ان میں کتنی حقیقت ہے۔ اس حوالے سے بے شمار مسلمان ڈاکٹروں کے اپنے تجارب اور تجاویز ہوں گی۔ اسلامی امارت کے سائے تلے جب حکومت خود شریعت کے نفاذ میں مخلص ہو تو ان تجارب اور تجاویز کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔
اسی طرح تعلیم کا معاملہ ہے۔ دیگر اسلامی ممالک کی طرح افغانستان کی سابقہ حکومت کے تحت تعلیم کے نظام اور نصاب میں متعدد شرعی، اخلاقی اور فکری قباحتیں تھیں۔ جبکہ بے شمار اسلامی ماہرینِ تعلیم نے اپنے اپنے خطوں میں نظام بھی تجویز کیے ، تجربے بھی کیے اور نصاب بھی تشکیل دیے ہیں۔ اب جب کہ امارتِ اسلامی خود اس کے لیے تیار ہے… جیسا کہ اعلیٰ تعلیم کے وزیر مولانا عبد الباقی حقانی صاحب نے فرمایا کہ ہم قوم کے تمام افراد کو علوم سے آراستہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن شریعت کے دائرے میں … تو امتِ مسلمہ کے تعلیم سے وابستہ افراد کو یہاں آ کر اپنی خدمات پیش کرنی ہوں گی۔
گویا عموماً بھی اہلِ حرفت و صنعت کی ضرورت ہے، لیکن خصوصاً ایسے افراد کی جو اپنے پیشوں کے تمام زاویوں کو شریعت کے مطابق ڈھالنے کا تجربہ رکھتے ہیں، یا تجربہ کرنا چاہتے ہیں۔
امارتِ اسلامی امتِ مسلمہ کے لیے ایک انعام ہے جس کے حصول کے لیے بیش بہا قربانیاں دی گئی ہیں۔ امتوں کی تاریخ میں ایسے موقعے بار بار نہیں آتے۔ امت کی تاریخ میں خلافت کے سقوط کے بعد سے تقریباً ایک صدی کے دوران یہ دوسرا ’نایاب‘ موقعہ ہے۔ چنانچہ اس انعام کی حفاظت پوری امت پر فرض ہے۔ اللہ تعالی ا س کامیابی کی بدولت امت کے دیگر ممالک کے مسلمانوں میں بیداری پیدا کرے کہ وہ مجاہدین… امارتِ اسلامی کے نقش قدم پر چل کر… خالص اسلامی نظام نافذ کر سکیں اور امت خلافت علی منہاج النبوت کی طرف آگے بڑھ سکے۔ آمین۔

![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



