دنیا بھر میں بسنے والےمیرے محبوب برمی مسلمانو!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سب سے پہلے محبوب امتِ مسلمہ کو امارتِ اسلامیہ افغانستان کی عظیم فتح مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ امارتِ اسلامیہ کے گرد تمام مسلمانوں کو متحد ومتفق فرمائے، اور امارتِ اسلامیہ کو کفار واشرار کےلیے غیض وغضب کا سامان بنائے۔ اللہ تعالیٰ امارتِ اسلامیہ افغانستان کو قائم ودائم رکھے، آمین یا رب العالمین۔
میرے برمی مسلمان بھائیو! یہ وہی امریکہ ہے جو عالمی کفریہ طاقتوں کو جمع کرکے امارتِ اسلامیہ پر حملہ آور ہوا تھا، یہ وہی امریکہ ہے جو عالمِ اسلام پر ظلم وجبر سے سطوت ودبدبہ قائم کیے ہوئے تھا، یہ وہی امریکہ ہے جس کے عالمی سودی معاشی نظام نے مسلم امت کو غربت وافلاس کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا، یہ وہی امریکہ ہے جس نے اپنی مادی اور دجالی طاقتوں کے سہارے عالمِ اسلام پر فرعونیت بپا کر رکھی تھی، لیکن امریکہ کی شیطانی سلطنت کے ’سپر پاور‘ ہونے کے دعوے کو تین دہائیں بھی نہیں بیتی تھیں کہ مشرق تامغرب امتِ مسلمہ کے روحانی فرزندوں کی جہادی ضربوں نے اس کی جھوٹی خدائی اور نخوت وکبر کو پاش پاش کر دیا۔ افغانستان اور یمن کے کہساروں اور افریقہ کے ریگزاروں میں شہسوارانِ امت نے امریکہ کی ٹیکنالوجی کے عروج کو زوال پذیر کردیا۔ الحمد للہ دنیا بھر میں امریکہ کے خلاف اٹھنے والی مسلم امت کی انقلابی تحریکوں نے امریکہ کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِهٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ﴾ ۔
میرے محبوب برمی مسلمانو!
آخر اتنی ٹیکنالوجی اورطاقت رکھنے کے بعد امریکہ نے شکست کیسے کھائی؟ بحر وبر میں فساد کا ذمہ دار امریکہ کیسے زوال کی طرف جا رہا ہے؟ ایک ہفتے میں طالبانِ عالیشان کا صفایا کرنے کا دعویدار امریکہ آج بیس سال بعد اپنی ہزیمت چھپانے کے واسطے مذاکرات کی ڈھونگ رچا کر نکلنا چاہتا تھا، مگر دنیا نے دیکھ لیا کہ افغانستان سے امریکہ بھاگا، گویا اس نے خود اپنا جنازہ یہاں سے اٹھایا۔ ﴿سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُر﴾۔
اے دنیا بھر میں ہجرت کی صعوبتیں برداشت کرنے والے میرے برمی مسلمان بھائیو! اے کلمہ طیبہ پڑھنے کے جرم میں دربدر ہوجانے والو! اے قرآن کےحاملو! اے دین کے نام پر مر مٹنے والو! آخر کب تک ظلم وستم کی چکی میں پستے رہو گے؟ آخر کب تک خوف وہراس میں شب وروز گزارتے رہو گے؟ آخر کب تک اپنے پیاروں اور قرابت داروں کی جدائیاں برداشت کرتے رہو گے؟ آخر کب تک اپنی معصوم پھولوں جیسی اولادوں اور بزرگوں کی بے گور وکفن لاشیں اٹھاتے رہو گے؟ آخر کب تک اپنی زمین کے ہوتے ہوئے ملک ملک در بدریاں کاٹتے رہو گے؟ آخر کب تک اپنے دین وناموس کی بے حرمتی دیکھتے رہو گے؟ آخر کب تک کافروں کے رحم وکرم پر کھلے آسمان تلے خیموں کی زندگی بسر کرتے رہو گے؟
یاد رکھو میرے برمی مسلمان بھائیو!
قوموں پر عروج وزوال کا آنا تو ایک تاریخی حقیقت ہے۔ ہمیشہ وہی قوم اپنے وجود کو برقرار رکھ سکتی ہے جو اپنی بقا وحفاظت کے لیے قوت کا مقابلہ قوت سے کرتی ہو، جوانوں کو شوقِ شہادت کا جذبہ دے کر میدانِ جہاد کا رخ دکھاتی ہو، جو کم ہمتی اور بزدلی کا شکار نہ ہو، بلکہ کافروں کے سامنے ڈٹ جائے۔ بے بسی کے اظہار کی بجائے جہاد وقتال کرے، اپنے دین وملت کی حفاظت کرے، اور اپنی حرمت وآبرو کو پامال ہونے سے بچائے۔
اےبرمی مسلمانوں کے اہلِ علم اور اہلِ فراست حضرات! یہ احتجاج ومظاہرے آپ کے غموں کا مداوا نہیں ہوسکتے۔ جلسے، جلوس، پرجوش تقریریں کافروں کے مظالم آپ سے دفع نہیں کرسکتیں۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی تنظیموں کے بیانات سے دھوکہ میں نہ آئیے۔ یہ سارے انسانی ہمدردی کے نام پر مکر وفریب کرتے ہیں۔ یہ عالمی (نام نہاد) فلاحی ادارے مسلمانوں کی خدمت وفلاح کے لیے نہیں، بلکہ اپنے کفار کے مفادات کے لیے وجود میں آئے ہیں۔ میڈیا پر آکر سیاسی تبصرے کرنے والے دجال کے کارندوں کی باتوں پر کان مت دھریے، ان کا پیشہ ہی صبح وشام امت کو کافروں سے مرعوب کرنا ہے۔ ان کے پر امن اور امن پسند جیسے نعروں سے دھوکے میں نہ آئیے، یہ محض مسلمانوں کو فریضہ جہاد وقتال سے دور کرنے کے بہانے ہیں،تاکہ کافروں کے مقابلے میں مسلمان عوام اپنے حقوق تک کی آواز نہ اٹھاسکیں۔
آج جبکہ کفار ہر قسم کے اسلحے سے لیس ہوکر ہر طرف مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں، اور ان منافق وکافر حکمرانوں نے دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں پر ضروریاتِ زندگی کے لیے ایک چھری رکھنے تک پر پابندی عائد کر دی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا آج تک بغیر قوت دکھائے کسی قوم نے آزادی پائی ہے؟ کیا اب تک آپ برمی مسلمانوں کے واسطے فلاحِ انسانیت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے جمہوری اداروں نے بدھوں کے پنجہ ظلم سے نجات کے لیے کوئی جدوجہد کی ہے؟کیا آج تک آہ وزاری وفریاد سے کبھی کافروں نے مسلمانوں پر رحم کیا ہے؟ ان نام نہاد اسلامی ممالک کے فوجی وعسکری اداروں سے کسی خیر کی توقع رکھنا ہی عبث ہے، ان کی تاریخ ہمیشہ کافروں اور دین دشمن طبقات کی حفاظت رہی ہے۔ ان منافق حکمرانوں نے ہمیشہ کافروں کی آلہ کاری اور غلامی کی ہے۔ اہلِ ایمان سے بغض وعداوت اور کافروں سے محبت ان منافقین کی رگ وپے میں رچی بسی ہوئی ہے۔ آج تک آپ حضرات خود پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے ظلم وستم برداشت کر رہے ہیں۔ کون سے انسانی حقوق پاکستان میں بسنے والے برمی مسلمانوں کو دیے گئے ہیں؟ پاکستانی حکومت نے تو آج تک یہاں برمی مسلمانوں کو شہریت تک دینے سے انکار کیا ہے، یعنی یہاں وہ رہنے اور زندگی گزارنے کے حق سے ہی محروم ہیں۔
اے برمی مسلمانو! یہ امریکہ کی شکست وہزیمت جہاد فی سبیل کے ادا کرنے سے ہوئی۔ ﴿وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ﴾ پر عمل سے ہوئی،﴿ فَضَرْبَ الرِّقَابِ﴾ ، ﴿فَشُدُّوا الْوَثَاقَ﴾ سے ہوئی، ﴿فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ﴾ سے ہوئی، ﴿فَقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ﴾ سے ہوئی، ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ﴾ سے ہوئی، ﴿ مَلْعُوْنِيْنَ ڔ اَيْنَـمَا ثُــقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَــقْتِيْلًا﴾ سے ہوئی، ﴿فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ﴾ سے ہوئی، ﴿وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى﴾ سے ہوئی، ﴿قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ﴾ سے ہوئی، ﴿اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ﴾ سے ہوئی، ﴿فَقَاتِلُوْٓا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ﴾ سے ہوئی، ﴿فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ﴾ سے ہوئی۔ یقینا ان قرآنی احکامات پر عمل پیرا ہو کر ہی ہمارے اسلاف نے شرق وغرب میں اسلام کو غالب کیا تھا اور ملتِ کفر کو مغلوب کیا تھا، اور آج بھی ان کی پیروی کرنے والوں نے کیا ہے۔
جلالِ آتش وبرق وسحاب پیدا کر…
اجل بھی کانپ اٹھے، وہ شباب پیدا کر…
تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر…
جو ہوسکے تو ابھی انقلاب پیدا کر…
اے برمی نوجوانو! یہ انقلاب کا دور ہے، انقلابی بن جائیے۔ عالمِ اسلام کی نگاہیں آپ پر ہیں کہ کب برمی مسلمان اپنے دین وایمان کے لیے جہاد کا علم بلند کریں گے، کب اپنے خطے سے بدھ کافروں کے نجس وجود کو مٹانے کے لیے اٹھیں گے۔
وہ دیکھیں! خراسان میں مجاہدینِ اسلام دنیائے کفر کو شکست دے کر لشکرِ مہدی بن کر ابھرے ہیں، اور کافروں کو قوتِ ایمانی سے جلاکر خاکستر کردیا ہے۔
زورِ بازو آزما، شکوہ نہ کر صیاد سے
آج تک کوئی قفس ٹوٹا نہیں فریاد سے
اے برمی مسلمان بھائیو! آج جو معرکہ مسلم خطوں میں جاری ہے، وہ کوئی عام معرکہ نہیں ہے، حق وباطل کا معرکہ ہے۔ ایمان والوں کی کفر ونفاق والوں سے جنگ ہے۔ یہ عقیدے کی جنگ ہے۔ کفر آپ سے لڑ ہی اس لیے رہا ہے کہ وہ آپ سے آپ کا عقیدہ چھین لے۔ وہ آپ کو اسلام کا باغی بنا دے۔ کفار چاہتے ہی یہ ہیں کہ آپ اسلام پر پورے عمل نہ کرسکیں۔ ان کا رائج کیا ہوا نظام آپ کو غلام بنائے رکھے۔ یہ کوئی عام وقت نہیں کہ ہم گھروں میں بیٹھ جائیں۔ وقت کی نزاکت واہمیت کو سمجھیے۔ بند کواڑوں میں گھس کر یہ کافر آپ پر حملہ آور ہوں گے۔ صرف جان ومال نہیں، آپ کے دین وایمان تک کو نہیں چھوڑا جائے گا۔
آج دنیا کے سارے مسلم خطوں میں جہاں جہاں کافروں کی یلغار ہے، وہاں فرزندانِ توحید اپنے خون سے ایمان کی آبیاری کر رہے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ جہاد کی صفیں برمی مسلمانوں سے خالی نظر آرہی ہیں۔ شریعت کے متوالے ہر خطے میں شریعت کے نفاذ کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، جبکہ آج برمی مسلمانوں کو خود اپنی زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔
اے برمی نوجوانو! قوموں کی تاریخیں ان جرّی نوجوانوں کے خون سے رقم ہوتی ہیں جوزمانے کا رخ موٹ دیتے ہیں، اور تاریخ کا رخ موڑ دینے کا عزم اور حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ دیکھیے! کشمیر میں مسلمان کس طرح بھارت کی ہندو ریاست سے معرکہ آرائی کر رہے ہیں۔ نہتے ہیں، لیکن پتھروں سے سنگباری کر رہے ہیں۔ ﴿وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ﴾ کا فریضہ حق ادا کرتے ہوئے مٹھی بھر مجاہدین مقدور بھر اسلحہ سے ہندو افواج کے ٹینک طیاروں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ برفانی پہاڑوں میں شہداء سے کیے گئے شریعت یا شہادت کے وعدے نبھا رہے ہیں۔
فلسطینی مسلمانوں کی بے مثال استقامت موجودہ تاریخ میں ثبت ہے۔ پچاس سال سے زائد عرصہ بیت چکا ہے،مگر یہودی غاصبوں سے اسی طرح برسرِ پیکار ہیں، جیسے پچاس سال پہلے تھے۔ بمباریاں ہیں، ہزاروں کی تعداد میں لاشیں اٹھاچکے ہیں، مساجد وگھر مسمار کیے گئےہیں، خون کی ندیاں بہی ہیں… لیکن اسرائیلی کافروں کے سامنے کم ہمت نہیں ہوئے۔ حالات کی سختیوں سے گھبرائے نہیں، اور نہ ہی عزم وعزیمت اور استقامت میں ذرّہ برابر فرق لائے۔ ایک خنجر بردار مسلمان نوجوان آتا ہے اور یہود کی صفوں میں گھس کر دسیوں کو واصلِ جہنم کر دیتا ہے، اور خود بھی شہید ہوجاتا ہے۔ پتھر اور ڈنڈوں کے ساتھ یہود کے خلاف قبلہ اول مسجدِ اقصیٰ کی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ دنیا میں بسنے والی ہر مسلم قوم کے لیے اس میں درسِ عبرت ہے، عمل کی پکار ہے، جہاد کی دعوت ہے، قتال کا طریقہ ہے، شہادت کا جذبہ ہے کہ کس طرح کشمیری اور فلسطینی مسلمان غیرتِ ایمانی اور دینی حمیت سے اللہ کے دشمنوں کو للکار رہے ہیں۔
اسی طرح شیشان میں مسلمان روسی سرخ ریچھوں سے جہاد کر رہے ہیں، صومالیہ میں مجاہدین افریقی عیسائیوں کے خلاف برسرِ پیکار ہیں، صحرائے مالی کے مجاہدین فرانسییسی صلیبیوں کے ہوش اڑا رہے ہیں اور امتِ مظلومہ کی عزت وعظمت کی خاطر ہر مشکل سے مشکل حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ جزیرۃ العرب کے غازی اور شہسوار نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ’’أخرجوا المشرکین من جزیرۃ العرب‘‘ سے وفاداری نبھاتے ہوئے عالمی کفری طاقتوں اور ان کے مقامی آلہ کاروں سے مستقل برِ سرِ جنگ ہیں، بلاد الحرمین الشریفین کو صلیبیوں اور صہیونیوں کے نجس وجود سے پاک کر رہے ہیں۔ شام ولیبیا، الجزائر ومالی، کشمیر وفلسطین، یمن وشیشان، افغانستان حتی کہ امریکہ اور یورپی ممالک کے اندر جہادی تحریکیں امت کے مجاہد بیٹوں نے بپا کر دی ہیں۔ ہر سمت کافروں سے امت کے مجاہد بیٹے پنجہ آزمائی کر رہے ہیں۔ ﴿فَقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ﴾ پر عمل کرکے صلیبی وصہیونی طاقتوں سے ٹکرا رہے ہیں۔ جس کٹھن مرحلے کا امت کو سامنا تھا، اب ویسی ہی اندھیر شب، ویسے ہی کٹھن مرحلے کا … نسلِ نو کی غلبہ اسلام کی تڑپ اور جہادی بیداری کی وجہ سے… کافروں کو بھی سامنا ہے۔
اے برمی مسلمان نوجوانو! اٹھو اور دین کے پاسبان بن جاؤ۔ ان باطل کفری نظاموں کو ڈھادینے والے بن جاؤ۔ خلافت کا قیام کرنے والے بن جاؤ۔ یقین جانو! کہ آگر آج ماؤں بہنوں کی عزت وحرمت کی خاطر اور کافروں کے ہاتھوں قید مسلمانوں کے واسطے اپنی جوانی کو قربان کر دیا تو ابنِ قاسمؒ کہلانے کے تمہی مستحق ہوگے، مسلمان ماؤں بہنوں کی ندا وفریاد پر لبیک یا أمّي کہہ دیا تو زمانے میں وامعتصماہ تمہیں پکارا جائے گا۔ اگر آج اپنی عبادت گاہوں کے، مساجد ومدارس کے نگہبان بن گئے، کافروں کے ناپاک قدموں سے ان کی حفاظت کرنے والے بن گئے تو اس زمانے میں غوریؒ وغزنویؒ تمہی کہلائے جاؤگے۔ اگر آج صلیبی وصہیونی طاقتوں کو روندنے والے بن گئے اور قبلہ اول مسجدِ اقصیٰ کی آزادی کے لیے جان وتن وارنے والے ہوگئے تو زنگیؒ وایوبیؒ کا اصل وارث تمہیں ہی کہا جائے گا۔ اگر آج دنیائے کفر کے مقابل سینہ تان کر کھڑے ہوگئے اور اللہ کے دشمنوں پر کاری ضرب لگانے والے بن گئے تو تم ہی ملا عمرؒ اور اسامہؒ کے حقیقی جانشین گردانے جاؤ گے۔
پس اے نوجوانِ اسلام! اے شیر دل بہادر نوجوانانِ اسلام! اللہ کے مددگار بن جاؤ، اخلاص کے ساتھ اللہ کی راہ میں اٹھ کھڑے ہو، مزاحمت کرو، ٹکرا جاؤ، مقابلہ کرو، دفاع کرو، اللہ کے راستے میں جہاد کرو، نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو، دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھو، اپنی زندگی اللہ کی راہ میں لگا دو۔
طالبان نے ایسے بے سر وسامانی کے عالم میں امریکہ ونیٹو کا مقابلہ کیا اور شکست دی جس طرح صحابہ کرام نے بدر کے میدان میں فرعونِ امت ابو جہل کے لشکر کو شکست دی۔ اگر آپ برمی بھائی آج بھی احکاماتِ ربانی پر عمل کرکے قتال فی سبیل اللہ کے لیے میدان میں نکلیں گے تو کوئی کافر قوت آپ کو سرنگوں نہیں کرسکتی۔ صحابہ کرام کی زندگیاں یاد کریں، اپنے اسلاف کے جنگی معرکوں کا سبق دہرائیں، جب کفار کی صفوں میں گھستے تھے تو صفِ اول کو چیرتے ہوئے آخری صف تک لاشوں کے ڈھیر لگا دیتے تھے۔ کیا آپ نے نہیں پڑھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار صحابی سیدنا خالد بن ولید ساٹھ جانثار صحابہ کو لے کر ساٹھ ہزار رومیوں کے لشکرِ جرار کو تہِ تیغ کرکے آتے ہیں۔ سیدنا ضرار کے وہ عظیم کارنامے نہیں پڑھے کہ سیدنا عمرِ فاروق کے دورِ خلافت میں محض ایک جنگ میں ڈیڑھ سو رومیوں کو موت کے گھاڑ اتار دیتے ہیں۔ آپ حضرات کو نہاوند کا وہ مقام یاد نہیں جہاں سیدنا نعمان بن مقرن نے پندرہ ہزار مسلمانوں کی قلیل جماعت کے ساتھ ڈیڑھ لاکھ ایرانیوں کو عظیم شکست دی اور خود جامِ شہادت نوش کرگئے۔
کلمہ بھی ایک، قرآن بھی ایک، رب بھی ایک، رسول بھی ایک، کعبہ بھی ایک، قبلہ بھی ایک، کاش کہ ہوتے جو مسلمان بھی ایک… آخر کیا وجہ ہے کہ چند ایک نجس کافر آتے ہیں اور سینکڑوں مسلمانوں کو ہنکا کر لے جاتے ہیں، مختلف طریقوں سے بے دردی کے ساتھ شہید کر دیتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں مسلمان قطار در قطار کھڑے ہیں، بے بسی سے موت کا انتظار کر رہے ہیں۔ ویسے ہی کافر آپ کو شہید کر رہا ہے تو کیوں نہ اسی کا اسلحہ چھین کر اسی کافر کوو ہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔
ایک مسلمان کی شان تو یہ ہوتی ہے کہ مؤمن ہوتو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔ یہ جرأت وبہادری، شوقِ شہادت اور جذبہ وولولہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں ہی کو عطا کیا ہے۔ یہ شان وعظمت تو مسلمانوں کی تھی کہ جن کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز اور تلواروں کی چھن چھناہٹ سے کافروں کی سلطنتیں لرز اٹھتی تھیں، جن کی آمد سے میلوں کے میل فاصلے پر بھی کفار خواب میں ڈر جایا کرتے تھے۔ آج مسلمانوں کا وہ جوشِ ایمانی، وہ غیرتِ ایمانی کہاں گئی؟ ایک مؤمن کے دل میں کیسے اتنی مایوسی اور بزدلی چھاگئی؟ ایک مؤمن نے کیسے گوارا کرلیا کہ اتنا ظلم سہہ کر کافر کو پتھر بھی نہ مارے، کچھ مزاحمت نہ کرے؟
اے زخموں سے چور میرے برمی مسلمانو! آئے روز آپ حضرات پر ہونے والے مظالم کی خبریں سن سن کر ہمارے دل چھلنی ہوچکے ہیں۔ یقین جانیے کہ آج پوری امتِ محمدیہ آپ لوگوں کے لیے دعا گو ہے، بے چین ہے، اضطراب میں ہے کہ کس طرح برمی مسلمانوں کی جانی ومالی مدد کرسکے اور کافروں کے پنجہ ظلم سے آپ کو نجات دلاسکے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بعد یہ مجاہدین ہی آپ کے ہم رکاب اور ہم نوا ہوں گے۔ یہ مجاہدین آپ کو کافروں کے سامنے تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ فقط ایک مرتبہ آپ برمی نوجوان حضرات اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے، کافروں کے مظالم سے اپنے دفاع کے لیے، اپنے دین وناموس کے لیے تلوار اٹھالیں، پھر آپ حضرات جیتے جی اپنی آنکھوں سے پوری امتِ مسلمہ کو اپنے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے پائیں گے۔ اللہ کا قرآن آپ کو اجازت دے رہا ہے: ﴿أُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ بِأَنَّھُمْ ظُلِمُوا﴾۔ ان کفار ودشمنانِ اسلام کی گردنوں پر تلوار کی ضرب لگائیں، کیونکہ یہ تلوار کی زبان ہی سمجھتے ہیں۔ جب تک آپ ان کے خلاف قتال نہیں کریں گے، یہ اپنی خبیث فطرت اور شرارتوں سے باز نہیں آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کا حامی ومددگار ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر لڑتے ہیں۔ فتح وکامرانی اہلِ ایمان کے ہمراہ ہے۔
پس موت سے بے خوف ہو کر، غفلت کی چادر اتار کر نجس بدھ مت کافروں سے خون کا بدلہ خون سے لیں، تباہی کا بدلہ تباہی سے لیں، ان کافروں سے خوب قتال کریں، چن چن کر ان مشرکوں کو قتل کریں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَھُوْدَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا﴾ [المائدۃ:۸۲]
’’تم یہ بات ضرور دیکھ لو گے کہ مسلمانوں سے سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والے ایک تو یہودی ہیں اور دوسرے وہ لوگ جو شرک کرتے ہیں‘‘۔
ان ناہنجار بدھ کافروں سے اللہ کی زمین کو پاک کردیجیے۔ اور انھیں بتا دیجیے کہ ہم بھی تمہیں وہی جام پلائیں گے جو تم نے ہمیں پلایا تھا، لیکن موت کے وقت ہم تم سے زیادہ صبر کرنے والے تھے۔ یہ مت سمجھو اے کافرو! اے ظالمو! اے قاتلو! اے فاسق وفاجر حکمرانو!
ہم نے ’الحمد‘ سے لےکے ’والناس‘ تک…
جو بھی کچھ ہے پڑھا، وہ بھلایا نہیں!
ہم پہ روئیں ہماری ہی مائیں صدا…
ہم نے تم کو اگر خوں رلایا نہیں!
روند کر اہلِ ایمان کی بستیاں
کیسی جنت بسانے کے خوابوں میں ہو؟
یہ تو ممکن نہیں، عیش سے تم رہو،
اور ملت ہماری عذابوں میں ہو!
اللّٰھم عذّب الکفرۃ والق في قلوبھم الرعب، اللّٰھم شتّت شملھم ومزّق جمعھم ودمّر دیارھم وأنزل علیھم بأسك وعذابك!
ربنا تقبل منا إنك أنت السمیع العلیم۔
٭٭٭٭٭

![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



