کیاہندو مشرکو ں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ کشمیر میں اپنی اسلام دشمنی سے اور فوج کی قوت و جارحیت سے کشمیری مظلوم عوام کو صفحہ ہستی سے مٹا دے گی یا ان کو ہندو مذہب میں داخل کر لے گی ؟ان پر زمین تنگ کر کے کیا وہ یہ سمجھ بیٹھا ہے کشمیر میں عرصہ دراز سے چلنے والی تحریکیں ختم ہو جائیں گی ؟ انصار غزوہ ہند کے چند مجاہدین کو شہید کرکے اسلام اور شریعت کے لئے کی جانے والی کوششیں ختم ہو چکی ہیں ۔۔۔! کہ وہ اسلام کے فرزندوں کو اپنی بھاری تعداد کی فوجی قوت سے شکست دے دے گا۔ شاید اس نے مسلمانوں کی تاریخ کو سمجھا ہی نہیں ہے یا پھر یہ کہ وہ مسلمانوں کی تاریخ کو سمجھ چکا ہے اسی لئے اتنا ڈر گیا ہے۔ اس کو یہ ڈر کھا رہا ہے وہ ہند کہ جس پر مسلمانوں کے اسلاف نے 800 سال حکومت کی تھی وہ اب پھر سے ہندو مشرکوں کے ہاتھ سے جانے والا ہے ، بلکہ ہم تو اس کو اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ جتنی وہ کوشش کرے گا الحمد اللہ کشمیر میں اتنا ہی زور سے اس کو جواب ملے گا ،جتنی مظالم اور سختی میں وہ جلدی کرے گا ہماری فکر یہی کہتی ہے اتنی ہی جلدی ہند کی فتح میں مسلمانوں کا ایک ایک دن قریب ہو رہا ہے۔ یہ اس کا مسلمانوں کو دبانا ، ان کو کچلنا ،ان پر جا بجا سختیوں کا جال بچھانا، کشمیر میں شہادتیں، یہ گرفتاریاں، یہ کرفیو، اور سب کچھ یہ سب حالات اپنے اندر ایک معنی لئے ہوئے ہیں اور وہ معنی یہی ہے کہ جیسا کہ ہمارے پیارے نبیﷺ نے اپنی ایک حدیث میں ہمیں (آخری زمانے کے مسلمانوں کو ) یہ پیغام دیا اور بشارت بھی دی کہ ” اس امت میں سندھ و ہند کی طرف لشکروں کی روانگی ہو گی اور ان کے لئے جہنم سے آزادی کے پروانے ہوں گے …”
جیسا کہ اللہ تبارک و تعالی کا وعدہ ہے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں :
﴿وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ وَاِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ ﴾ (سورۃ الصافات: ۱۷۱ـ۱۷۳)
’’ اور البتہ ہمارا وعدہ پہلے ہی اپنے رسولوں کے لئے صادر ہو چکا ۔کہ یقیناً وہ ہی مدد کئے جائیں گے ۔اور ہمارا ہی لشکر غالب و برتر رہے گا ۔‘‘
جیسا کہ موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا:
﴿قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا بِاللّٰهِ وَاصْبِرُوْا﴾ (سورۃ الاعراف:۱۲۸)
’’ موسی ؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تعالی کا سہارا حاصل کرو اور صبر کرو ۔‘‘
میرے کشمیر کے مجاہدوں، غازیو، غازی بابا کے شیر دل بیٹو!
شیخ انور العولقی کے ایک لیکچر کا عنوان ” جب اللہ کسی امر کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لئے اسباب مہیا کر دیتا ہے ”۔اس جملے پہ تھوڑی غور و فکر کی ضرورت ہے ۔ یہ جملہ اپنے اندر ایک گہرا اور بہت وسیع نظریہ لئے ہوئے ہے ۔ اس جملے میں یہ سمجھانا مقصود ہے کہ اپنے آقاﷺ کی خوشخبریوں پر یقین رکھیں خصوصاً اہل ہند و اہل ِ برصغیر کہ جب ہمارے نبیﷺ نے یہ خبر ہمیں دے دی ہے کہ
’’ اس امت میں سندھ و ہند کی طرف لشکروں کی روانگی ہوں اور ان کے لئے جہنم سے آزادی کے پروانے ہوں گے…‘‘ ۔
تو حالات خود بہ خود اسی طرف مسلمانوں کو کھینچ کر لے جارہے ہیں جو سمجھ کر وقت سے پہلے تیاری کر لے گا وہ اپنی دنیا و آخرت بھی سنوار لے گا اور غلبہ دین کے لئے ایک کارآمد مومن ثابت ہوگا ۔اور جس نے اپنی حالت بدلنے میں سستی سے کام لیا تب بھی اس کو یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا اللہ کی طرف سے اس امر کا فیصلہ ہو چکا ہے ۔ یہ غزوہ ہند کا طبل جنگ بجایا جا چکا ہے، سو جو شخص بیداری سے کام لے گا سخت سے سخت مشکل حالات میں بھی منہج و فکر سے چمٹا رہے گا اور استقامت دکھائے گا وہ اللہ کے دربار میں کامیاب ٹھہرے گا ۔ہمارے سمجھنے کے لئے یہ بات ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ تعالی کا ہے۔ آج زمین کسی کافر کے ہاتھ میں ہو سکتی ہے مگر معاملے کے آخر میں واپس متقین کے ہاتھوں میں چلی جائے گی۔ والعاقبۃ للمتقین۔اور اخیر کامیابی ان ہی کی ہو گی جو اللہ سے ڈرتے ہیں ۔مثال کے طور پر جب رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خندق کے موقع پر فارس و روم و یمن کی فتح کی خوشخبری دی یہ خوشخبری اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں اس وقت دی جب وہ قریش اور (قبیلہ)غطفان اور شہر کے اندرموجود یہود کے ہاتھوں (ہر طرف سے گھرے ہوئے )محصور تھے تو ایسے وقت میں منافقین میں سے ایک نے کہا کہ ” ہم میں سے کوئی بھی بے خوف و خطر قضائے حاجت کے لئے تو نکل نہیں سکتا اور محمد(ﷺ)ہمیں فارس و روم کی فتح کی خوشخبریاں دے رہے ہیں ۔ بیدار رہیئے! منافقین کی کمزور و مکروہ چالیں آپ کے حوصلے کو پست نہ کر دیں، پر عزم رہیئےاور اس بات پر یقین رکھیئے کہ اللہ کی طرف سے غزوہ ہند سجایا جا چکا ہے۔ آپ کا ایک ایک شہید اسی کی آبیاری میں شہید ہو رہا ہے ۔آپ کا ایک ایک غازی اسی طرح غزوہ ہند کے فضائل سمیٹ رہا ہے جس طرح آقاﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ۔
شاہین اڑا، یہ قیدی پرندوں کو بتا کر
ٹکراؤ سلاخوں سے اڑو خوں میں نہا کر
بس یہ امتحان ہے ہندوستان کے مسلمانوں اور مجاہدینِ کشمیر کے لئے کہ جو لوگ حق کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ان عظیم ابطال برہان وانی شہید ،ذاکر موسیٰ شہید اور دیگر شہداء ساتھیوں کے چلے جانے سے تحریک پر کوئی آنچ نہیں آئے گی، یہ اللہ کا وعدہ ہے جب کہ ان سب مصائب و مشکل میں مومن کیا کہتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺنے ہم سے اس کا وعدہ کیا ہے، بے شک اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ دوسری جانب منافق یہ کہے گا کہ یہ غیر منطقی بات ہے، یہ ہو ہی نہیں سکتا، امت کا حال دیکھو کتنی کمزور ہے، یورپ لڑنے آگیا، امریکہ سے کون لڑ سکتا ہے؟ امریکا تو خلاء میں پہنچ گیا ہے، مطلب یہ کہ مایوسی کی ساری باتیں، جو کہ شیطان کی چال ہے، جو منافقین کی زبانوں سے اس لئے نکلتی ہے کیونکہ شیطان چاہتا ہے کہ مجاہدین کے حوصلے پست کئے جائیں۔ منافقین اس طرح بات کرتے ہیں کہ جیسے خلاء کوئی عرش کے اوپر کی کوئی جگہ ہے۔ یہ ڈرون یہ جیٹ کے میزائل بھی اللہ کے حکم سے ہی کسی کو زخمی کرتے ہیں یا شہید کرتے ہیں جتنا اللہ نے قدر میں لکھا ہوتا ہے۔ تو جو جو مجاہد ساتھی اس وادی میں شہید ہو رہا ہے یا جیسے شہید ہو رہا ہے، یہ سب اللہ کی منظور شدہ اور لوح قلم کے مطابق ہے، اس میں ہمیں اپنے حوصلے کم کرنے کی ضرورت نہیں ۔
رسولﷺ کی نصرت کے اسباب
آپ ﷺ نے مکہ میں اپنی قوم کو دعوت دی جب انہوں نے دیکھا کہ قوم ان کی مدد نہیں کر رہی اور مشکلات و حالات اتنے سخت ہو گئے تو ایسے حالات میں اللہ عزوجل نے اپنے پیارے نبیﷺ کو یہ دعا سکھائی۔
﴿وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّي مِن لَّدُنكَ سُلْطَانًا نَّصِيرًا ﴾ (سورۃ الاسراء: ۸۰)
’’ اور دعا کیا کریں کہ اے میرے رب! مجھے جہاں لے جا اچھی طرح لے جا اور جہاں سے نکال اچھی طرح نکال اور میرے لئے اپنے پاس سے غلبہ اور امداد مقرر فرما ۔‘‘
اسی دعا کے بعد اللہ نے ایسے اسباب بنائے کہ جس کی وجہ سے اللہ کے رسول اللہ ﷺ کی دعوت پھیلی، حتیٰ کہ دو قبیلے، اوس و خزرج، جن میں ماضی میں آپس میں بھی جنگیں ہوئی تھی، اسلام کے پلیٹ فارم پر آکر ایک ہو گئے۔ یہ قبیلے مدینہ میں یہودیوں کے ہمسائے تھے اور مدینہ میں یہودیوں کے تین قبیلے تھے،بنو قینقاع، بنو نضیر، بنو قریظہ۔ یہودیوں کے پاس کتاب کا علم تھا اور نبوّتوں کا بھی علم تھا، جبکہ عرب قبل از اسلام حالت جہالت میں تھے اور ان کونبوت کے حوالے سے کچھ علم نہ تھا۔ یہودی عربوں کو دھمکی دیتے تھے کہ بس اب نبی کی آمد کا وقت قریب ہے، پھر ہم اس کی پیروی کر کے تم کو ایسے قتل کریں گے جیسے عاد و ارم اقوام کو قتل کیا گیا، چنانچہ جب خزرج کے لوگ مکہ پہنچے، تو انہیں معلوم ہوا کہ یہاں ایک اللہ کا نبی ہے، جو یہ دعوت دے رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ اگر ابھی ہم نے اس کی اطاعت میں سبقت نہ لی تو وہ ہمیں قتل کر دیں گے، یہود ہمیں اسی کی دھمکی دیتے تھے۔ چونکہ اللہ تعالی نے ان کے لئے خیر کا ارادہ فرمایا تھا اسی لئے ان کو اسباب مہیا کر دئیے۔ یہ وہ سبب تھا جو انہیں اسلام کی جانب لے آیا اور وہ اسلام کی قوت بنے۔ اسی طرح اسلام کے ابتدائی دور میں گنتی کے مسلمان تھے اور وہ بھی اپنا ایمان چھپاتے تھے۔ جب اللہ نے نبیﷺ کی نصرت کا ارادہ فرمایا تو حضرت عمر ؓکو مسلمان کر کے اللہ نے اپنے نبیﷺ کی نصرت فرمائی اور دین کو حضرت عمررضی اللہ عنہ کے ذریعے سے قوت بخشی ۔
ایک مثال تاریخ سے
ایک مثال سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے دور کی ہے کہ جب انہوں نے عیسائیوں سے چھوٹی چھوٹی جھڑپیں شروع کر رکھی تھیں تو جواباً پاپائے روم نے نئی بھرتیوں کا اعلان کیا اور مسلمانوں کے خلاف نئے صلیبی حملے کے لئے نکلنے کے لئے ابھارا، کیونکہ سلطان صلاح الدین کے لشکر بڑی تیزی کے ساتھ قلعے در قلعے فتح کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے، جبکہ دوسری جانب عیسائیوں کی طرف سے اس صلیبی لشکر کی قیادت کے لئے یورپ کے تین بڑے بادشاہ موجود تھے۔ ایک کا نام ’’فریڈرک بربروسا‘‘ جو کہ جرمنی کا بادشاہ تھا، بربروسا کا مطلب ہے سرخ داڑھی والا، جو کہ ایک عمر رسیدہ شخص تھا ۔دوسرا ’’لوئید یا فلپس‘‘ جو فرانس کا بادشاہ تھا۔ تیسرا رچرڈ شیر دل انگلستان کا بادشاہ تھا، جو کہ اپنی شجاعت کی انتہاء کی وجہ سے اس نام سے موسوم ہوا تھا۔ اٹلی کے بحری بیڑے نے فرانس اور برطانیہ کے بادشاہوں کو لے جانے کی ذمہ داری لی۔ فوجی کئی ممالک سے آئے جیسا کہ اللہ تعالی قرآن میں فرماتے ہیں :﴿ وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ﴾، یعنی کافر آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ لیکن فریڈرک بربروسا کی فوج اتنی بڑی تھی کہ اس کے لئے کوئی بھی بحری بیڑا کافی نہیں تھا۔ چناچہ اس نے ہر مشکل و تنگی کے باوجود خشکی کا سفر شروع کیا۔ دوسری طرف مسلمانوں میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ جرمنی کا بادشاہ تین لاکھ جنگجوؤں کا لشکر لے کر آرہا ہے۔ صلاح الدین ایوبی کے ساتھ بھی علماء و اور دیگر لوگوں کی ایک جماعت نکلی، لیکن جب ان تک عیسائیوں کی کثرت کی خبر پہنچی یا پھر کوئی اور سبب بنا کہ وہ بھی واپس لوٹ آئے، مگر جہاں تک سلطان صلاح الدین ایوبی کا تعلق تھا، اس سب کے باوجود اللہ تعالی نے ان کو ہدایت نصیب کی اور انہوں نے استقامت دکھائی، حالانکہ فریڈرک اتنی فوج کے ساتھ وارد ہوا تھا کہ وہ خشکی کو بھر دے ، میدانوں اور پہاڑوں کو مکمل چھپادے۔ فریڈرک اپنی فوج مشرقی یورپ سے گزارتا ہوا شاید ترکی یا ارض شام کے کسی دریا پر سے گزرا، اب دیکھیں، یہاں اللہ کی قدرت کہ جب اللہ کسی امر کا ارادہ کر لے تو اللہ کی قدرت کیسے کام کرتی ہے اور مسلمانوں کے لئے اسباب کیسے بنتے ہیں۔ ہوا کچھ یوں کہ فریڈرک جو سر سے لے کر پاؤں تک سوائے آنکھوں کے پورا لوہے کے لباس سے لیس تھا، جب اس نے دریا میں گھوڑا اتارا تو اس کا گھوڑا بدک گیا، گھوڑے نے جھٹکا مارا اور فریڈرک دریا میں جا گرا اور وہ اس میں ڈوب کر مر گیا۔ سبحان اللہ۔
﴿وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ﴾
’’ تیرے رب کے لشکروں کو اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔‘‘
تو یہ اللہ کی قدرت ہے کہ اتنی بڑی سپاہ کا بادشاہ جو مسلمانوں کو ختم کرنے چلا تھا، وہ ایک پانی میں مر گیا، جس کی گہرائی ایک آدمی کے نصف قد کے بھی برابر نہیں تھی۔ چنانچہ اس کی ساری فوج اسی سے مربوط تھی، جب وہ مر گیا تو اس کا بیٹا فوج کو متحد نہ رکھ سکا، فوج میں منافرت پھوٹ گئی، چنانچہ جب وہ واپس اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچے تو وہ صرف ایک ہزار تھے جو باقی بچے تھے۔ اس کے بعد یہ جرمن فوج اپنوں اور مسلمانوں کی نظر سے گر گئی۔ یہ اللہ کی مہربانی تھی کہ اس فوج کے سپاہیوں کی بڑی تعداد راستے میں بھوک سے، سردی سے، بھٹک جانے سے ہلاک ہوگئی۔ جب اللہ نے سلطان صلاح الدین کی نصرت کا ارادہ فرمایا تو یہ سارے اسباب بنا دیے گئے۔ لہذا میرے عزیز بھائیو! غم نہ کرو صبر کرو اور ڈٹ جاؤ کہ اللہ کی نصرت قریب ہے۔ تو بس ہمیں صرف اخلاص کے ساتھ اپنے کام کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہنے اور صحیح منہج رسولﷺ کو اپنے اوپر لازم کرکے اس کاروانِ حق کو آگے سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، دعوتی میدان اور عسکری میدان دونوں میں۔ باقی کام اللہ کے ذمے ہے کہ ہند میں اسلام کیسے غالب ہوگا۔ آپ لوگ یقین رکھئیے کہ اللہ کی مدد آپ کے ساتھ ساتھ ہوگی ۔
جس دیس کو اب ہم جاتے ہیں
وہاں اہل محبت کم بھی نہیں…!
حالیہ تاریخ سے ایک مثال
آج افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ غرور میں ڈوبا اور اپنی جدید ٹیکنالوجی سے لیس امریکہ، ایک بدکے ہوئے بدمست ہاتھی کی مانند افغانستان پر، امارت اسلامیہ پر حملہ آور ہوا اور آج بیس سال کے بعد وہ دم دبا کر بھاگ چکا ہے۔ کیا اس کے ساتھ پچاس ممالک نہیں آئے تھے؟ کیا امریکی ٹیکنالوجی کا طالبان سے کوئی مقابلہ کیا جاسکتا تھا؟ لیکن افغان ملت اور عرب و عجم کے غیور مسلمانوں نے خالص اللہ کے وعدوں پر یقین رکھتے ہوئے قتال کا آغاز کیا اور بیس سال تک اس جنگ کو لے کر چلتے رہے، جب تک کہ دشمن خود تھک نہ گیا۔ یاد رکھیئے! طویل جنگوں میں وہ پہلے شکست کھاتا ہے کہ جو جنگ میں پہلے تھک جاتا ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت سے طالبان نہیں تھکے۔ یہ بات مشاہدے میں ہے کہ کسی بھی جنگ میں دشمن پر تعرض میں اکثر دشمن ڈرون سےجنگ کرتے، مجاہدین کو مارتے مارتے تھک جاتا ہے، مجاہدین شہید ہو کر گرتے رہتے ہیں، ان کے ٹکڑے ہر طرف بکھر جاتے ہیں، ان کے خون کے قطرے ہوا اپنے ساتھ لے جاتی ہے، لیکن آگے بڑھتے رہتے ہیں، یہاں تک وہ کیمپ یا پوسٹ فتح ہو جاتی ہے اور بالآخر دشمن کو پسپائی ہوتی ہے اور ڈرون بھی چلا جاتا ہے ۔
یہ رات میرے چراغوں سے ہار جائے گی
لیکن یہ وہ خوشخبریاں ہیں جن کا اللہ نے وعدہ کیا ہے، امریکہ اور نیٹو کے مقابلے میں انڈیا تو بہت چھوٹی سی چیز ہے، اس کی ٹیکنالوجی اورفوجی تربیت کسی بھی زاوئیے سے امریکی فوج و ٹیکنالوجی کے برابر نہیں، بس اس سارے محاذ پر آپ کو حوصلے اور ثابت قدمی کی ضرورت ہے اور آپ کی نظر منہج رسول ﷺ پر اور رسول اللہ ﷺ کی بشارتوں پر ہونی چاہئے۔یہ کریک ڈاؤن، یہ محاصرے، آپ کی تحریک کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتے، کیونکہ یہ غزوہ ہند ہوگا، ہمارا اس اللہ کے وعدے پر ایمان ہے کہ مجاہدین اسلام غزوہ ہند کے سپاہی ہند کے سرداروں کو بیڑیوں میں جکڑ کر گرفتار کرکے اپنے امیر کے پاس لے جائیں گے۔ کشمیر تو ہند کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے، ہمارا ایمان تو یہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان، مطلب یہ ہے کہ ہم ہند کو اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ جس نظر سے ہمارے رسول ﷺ کے دور میں ہند کا علاقہ تھا، جس میں ہند و پاک کے علاوہ اور بھی علاقے تھے۔ آپ لوگ اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھئے کہ اللہ نے آپ لوگوں کو اپنے فضل سے اس غزوۂ ہند کی آبیاری کے لئے چناہے، اللہ کے اس احسان کا حق اسی طرح ادا ہوگا کہ آپ لوگ اس پر ڈٹ جائیں، ثابت قدمی دکھائیں، کوشش آپ کو کرنی ہے اسباب اللہ مہیا کرے گا۔ کیونکہ اللہ نے آپ کی سمت میں، آپ کے علاقے میں، آپ کے ملک میں، اس غزوہ ہند کا ارادہ کیا ہوا ہے، جو کہ اللہ کا ایک اٹل فیصلہ ہے۔ سو خوشخبری ہے ان نوجوانوں کے لئے، جو اس میں شامل ہو کے اپنی آخرت و جنت اللہ سے انعام کے طور پر حاصل کر پائیں اور ڈٹ جائیں۔ ہندوستان کے لئے اور اس آخری زمانے کے لئے جس کی بشارتیں اللہ کے نبیﷺ نے دی ہیں اور جس غزوہ ہند کی ہمارے نبی نے خبر دی ہے، تو آپ کو اس نعمت کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اللہ نے آپ میں سے لوگوں کو کھڑا کیا ہے جو اس بڑے معرکے کی تیاریوں کے لئے ایک ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بہت خیال کیجئے کہ کہیں کوئی ناشکری نہ ہو جائے، اس نعمت کی قدر کیجئے کہ اللہ نے آپ کی قوم کواس کام کے لیے چنا ہے، لہذا اس پر ڈٹ جائیں اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے مشن پر نگاہ رکھتے ہوئے شریعت کو تھامے رکھیں ۔ یہ راستہ ہے ہی کٹھن اور مشکل، لیکن اگر اجر پہ نظر ہو، جنت اور آخرت کے انعامات پر نظر ہو، تو سب آسان ہو جائے گا، ان شاء اللہ، جو اللہ کے دین کی مدد کرے گا اللہ اس کی مدد کرے گا اور بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اے ہندوستان کے مشرکو… سن لو !
حقیقت یہ ہے کہ تم بھی یہ بات جانتے ہوکہ جس طرح مشرکین مکہ کا سردار ابو جہل جانتا تھا کہ محمد کی دعوت سچی ہے اور قرآن کو چھپ چھپ کر سنتا تھا، بالکل اسی طرح ہندوستان میں یا کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف جو محاذ سجایا گیا ہے، اور اس کی کمانڈ تمہارے جن مشرک لیڈروں کے ہاتھ میں ہے، وہ بھی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارے آقاﷺ کی بشارت یقیناً سچی ثابت ہو گی۔ اور یہی ڈر ان کو کھائے جا رہا ہے، اور اسی کی سوچ میں وہ کھوئے ہوئے ہیں۔ ان کو سمجھ نہیں آرہا کہ کریں تو کیا کریں! اس اسلامی ریلے کو ہم کس طرح روکیں۔ سوائے اس کے کہ کبھی گھر واپسی کی تحریک چلاکر،کبھی لوّ جہاد کے نام پر، کبھی گاؤ ماتا کو حلال کرنے پہ، کبھی مساجد پر حملے کرکے، کبھی دہلی فسادات کی صورت میں، کبھی گجرات فسادات میں مسلمانوں کو شہید کر کے، مطلب مختلف قسم کے حربے آزما رہا ہے۔ لیکن کیا وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہو جائے گا؟ کیا آر ایس ایس کے غنڈے مسلمانوں پر مسلط کر کے تم یہ سمجھ رہے ہو کہ اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹادو گے ؟ ہندوستان کی سیاست کے زور پر مختلف قسم کے قانون پاس کر واکر، یا رائج کر واکر، تم مسلمانوں پر زمین تنگ کر کے یہ سمجھ رہے ہو کہ ایک مسلمان کو ہندو بنا لوگے؟ اس ہندو حکومت اور ہندوازم اور اس مشرک ہندو قوم کو ہم یہی پیغام دیتے ہیں، اللہ کی قسم ! تم تھک جاؤ گے، لیکن ہمارے حوصلے نہیں توڑ پاؤگے، ہماری جدوجہد اللہ کے فضل سے اب جس رخ پہ چل نکلی ہے، اس سے تم اور تمہاری اسٹیبلشمنٹ، فالتو ہی پریشان نہیں ہے، کیونکہ تمہاری قوم کے اہل عقل لوگ بھی یہ بات جانتے ہیں کہ مسلمانوں نے تمہارے اوپر آٹھ سو سال حکومت کی ہے، اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر ایک بار مسلمان قوم جاگ جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اللہ کے حکم سے ان کو نہیں روک پائے گی۔ الحمد اللہ مسلمانوں کی تاریخ دنیا کی اقوام میں ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہے اور شاید تم بھی یہ بات بخوبی جانتے ہو، اسی لئے بوکھلائے ہوئے ہو، کیونکہ تمہارے سامنے افغانستان کی تازہ مثال مسلمانوں کی جرات و استقامت کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے ۔ چونکہ امریکہ کو افغانستان میں بھی بیس سال جنگ لڑنے اور اپنا مال لٹانے کے بعد یہ بات سمجھ میں آئی کہ ادھر جو میں نے بیس سال جنگ لڑی، وہ میں نے اپنی مرضی سے نہیں لڑی، وہ چند نوجوان تھے جنہوں نے میرے ساتھ یہ چال چلی کہ وہ مجھے کھینچ کر اپنی مرضی کے میدان میں گھسیٹ لائے اور میں غرور و تکبر کے نشے میں دھت ہو کر افغانستان میں چھلانگ لگا بیٹھا۔ اور اپنی ساری معیشت اس جنگ میں لٹانے کے بعد اب اسے ہوش آیا ہے کہ اس افغانستان کی سرزمین پر تاریخ میں ہمیشہ انگریزوں نے مات کھائی ہے، صرف انگریز نہیں بلکہ ہر دور کی کفری طاقتوں کے لئے یہ جگہ ناقابل حصول رہی ہے۔ الحمدللہ۔ تو چاہے امریکہ کے ساتھ تم اپنے دفاعی بجٹ میں جتنے بھی معاہدے کر لو، دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی خرید لو۔ کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ 2001ء میں جب امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہو اتھا تو اس کے ساتھ دنیا کے جدید ٹیکنالوجی سے لیس پچاس ممالک تھے؟ اور آج الحمدللہ سب واپس ہو گئے ہیں۔ اور تمہارے اس ہندوستان پر تو ویسے بھی ہمارے آباء واجداد نے حکومت کی ہے، یہ ہندوستان تو ہے ہی ہماری ملکیت اور ان شاء اللہ ہم اس کو بہت جلد لے کر رہیں گے۔
اے آر ایس ایس کے غنڈو اور بی جے پی کے بزدلو!
کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ تم گاؤ ماتا کے نام پر مسلمانوں کو شہید کر کے ان سے ان کا مذہب بدلوالو گے؟ اور ان پہ زندگی تنگ کر دوگے؟ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تمھارے ہر ظلم سے، ہر جبر سے، ہندوستان کی مسلمان عوام اٹھ کھڑی ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ ہندوستان میں مسلمانوں کو کھڑا کرنے کا کام بھی تم ہی سے لے رہا ہے، جو امریکہ کی طرح تمہیں بھی بیس سال بعد ہی سمجھ میں آئے گا۔ غریب الحال اور مفلس غیر مسلح مسلمانوں کو ایک بھرے مجمع میں گھیر کر مار دینا اور ان کی بچی کچی املاک و گھروں کو اجاڑ دینا، یہ سب وہ کام ہیں جن کے کرنے سے غیرت مند قوموں میں انقلاب برپا ہوتے ہیں، اور وہ پھر اپنے جان و مال و آبرو و ایمان کی حفاظت کے لئے میدان میں قدم رکھتے ہیں اور ان شاء اللہ ہندوستان کے مسلمان زیادہ دیر تک تمھارے ان مظالم پر چپ رہنے والے نہیں، ہماری مسجدوں پر لشکر کشی کرنا ،ہمارے مذہب پر طعنہ زنی کرنا، غرض یہ کہ تمہارے کئے گئے ہر جرم و ستم سے ایمان کی روح ہندوستان کے مسلمان کو جھنجوڑنے کے لئے کافی ہو گی۔ صرف ایک دفعہ کھڑے ہونے کی دیر ہے، پھر دنیا بھی دیکھے گی کہ کس طرح مجاہدین اسلام ہند کے سرداروں کو بیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے۔ یہ سب کوئی قصے کہانیاں نہیں ہیں، یہ ہمارا عقیدہ اور ایمان ہے، ان بشارتوں پر جو کہ ہمارے پیارے نبیﷺ نے ہمیں بتلائی ہیں ۔
اے مودی حکومت… اے ہندو بلوائیو…سن لو!
تمہارے فوجی، آپریشن اور کریک ڈاؤن کر کر کے، ہمیں شہید کر کر کے تھک جائیں گے، لیکن ہمارے نوجوان نہیں تھکیں گے ان شاء اللہ۔ کیونکہ حق بہر حال غالب ہو کے رہے گا اور باطل کو فنا ہونا پڑے گا۔ یہ شہادتیں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں، یہ کریک ڈاؤن، یہ موسم کی سختیاں، یہ اسلحے کی کمی، یہ سب مادی چیزیں ہیں۔ تم نے ابھی تک جہاں بھی فسادات مچائے ہیں، مسلمانوں پر چڑھائیاں کی ہیں، وہ نہتے، مظلوم، محاصرے میں گھرے مسلمان تھے، وہ دہلی ہو یا احمد آباد۔ یاد رکھو! تمہارا ابھی تک صحیح معنوں میں مجاہدوں و غازیوں سے سامنا ہوا ہی نہیں ہے، جا کر پوچھو اپنے پرکھوں سے کہ محمود غزنی کے لشکر کے شیر وں نے تمہیں کیسے اور کس طرح سے عبرت کا نشان بنایا تھا۔ جاؤ پوچھو اپنے بوڑھوں سے کہ احمد شاہ ابدالی نے تمہارے پرکھوں کی کیا درگت بنائی تھی۔ یہ مت سمجھنا کہ ہندوستان و کشمیر کے مسلمان اکیلے و تنہا ہیں، تم جب چاہو ان کو ادھیڑ کر رکھ دو۔ یاد رکھو! تمہیں ایک ایک ظلم کا حساب دینا پڑے گا، ان شاء اللہ۔ تمہاری تاریخ بزدلی کی تاریخ ہے، تمہارے اندر شیروں سے لڑنے کا حوصلہ نہیں، تم غول بنا کے حملے کرتے ہو، لیکن ایک بھی شیر تمہارے سامنے آجائے تو تم پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہو۔ مسلمانوں سے ٹکر لینے سے پہلے ایک دفعہ مسلمانوں کی تاریخ کا جائزہ لے لو، اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ ہمیں ہمارے ایمان کی وجہ سے نصرت عطا فرمائی، نہ کہ اسباب کی وجہ سے۔ روس بھی بھاگا، امریکہ بھی بھاگا۔ روس نے امریکا کو سمجھایا تھا، لیکن وہ مانا نہیں، اس کو تجربہ کرنا تھا، سو کرلیا اس نے اپنا شوق پورا۔ تو تم بھی تجربہ کر کے دیکھ لو۔ ان شاء اللہ، ہم یہ بات وثوق سے کہتے ہیں کہ روس کو تو بھاگنے کا موقع مل گیا، امریکہ کو بھی بھاگنے کا راستہ مل گیا، لیکن وہ وقت اب دور نہیں جب تمہیں بھاگنے کی اور چھپنے کی جگہ بھی نہیں ملے گی، اور تم صرف مارے اور قتل کئے جاؤ گے اور بیڑیوں میں جکڑے جاؤ گے ۔ان شاء اللہ
تو ہم تمہیں یہ بات سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں، امریکی ایماء پر اور امریکہ کے ساتھ یہ تمہارے دفاعی بجٹ بھی، یہ ساز و سامان بھی، ہمارے ایمان کی طاقت کے سامنے ٹک نہیں پائیں گے۔ جب اللہ نے ارادہ فرما لیا، تو تمہیں کوئی طاقت نہیں بچا سکےگی، چاہے تمہارا پڑوسی ملک (پاکستان) بھی تمہارے ساتھ سرحدی معاملات میں اتحاد کر لے، اور یہ یاد رکھو، جس ہند کی ہمارے نبی کریم ﷺ نے بشارت دی تھی اس میں آج کے دور کا پاکستان بھی شامل ہے، ان شاء اللہ پاکستان اور ہندوستان کا سورج ایک ہی ساتھ مجاہدینِ اسلام کے ہاتھ پہ غروب ہوگا، اور پھر اس کے بعد ایک نئی صبح روشن ہو گی، جو امن و خوشحالی کا پیغام ہوگی۔ ہماری ایک ایک یادگار ِ ہند ہمارے ہاتھ میں ہو گی،اور ہم پھر سے بابری مسجد بنائیں گے، بلکہ اس دفعہ ان شاء اللہ زیادہ شان و شوکت سے اس کو سجائیں گے، ان شاء اللہ۔
ہندوستان کے میرے عزیز مسلمان بھائیو!
آپ کے حالات ہمارے سامنے ہیں، لیکن اس میں آپ کو ہی ہمت و حوصلے سے کام لینا پڑے گا اور واپس اپنے اسلاف کی سنتوں کو زندہ کرنا پڑے گا ۔آپ کے لئے کشمیر کا محاذ ایک مدرسے کی حیثیت رکھتا ہے، جو ہندوستان کا بیٹا ،بھائی یا مجاہد فی سبیل اللہ، ہندوستان میں ہندو بنئے سے آزادی و نجات چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس ہندوستان میں اسلام کا پرچم لہرائے اور شریعت کا بول بالا ہو، تو اسے چاہئے کہ کشمیر میں مجاہدین کی صفوں کو مضبوط کرے اور ان کی صفوں میں شامل ہو جائے۔ اور اس ہندو راج کی غلامی سے اپنے آپ کو نکال کر اللہ کی غلامی میں دینے کا عہد کر لے۔ آخری زمانے کی خبریں اللہ کے نبی نے پہنچادیں کہ خراسان سے، یمن سے، ارض شام کی طرف، سندھ و ہند کی طرف، مسلمانوں کی سپاہ ہوں گی، معرکہ آرائیاں ہوں گی۔ جب قبرص فتح ہو اتوسیدنا ابو الدرداء ؓ رونے لگے، زبیر بن نفیل نے ان سے کہا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ فرمانے لگے کہ یہ ایک زبردست غالب قوم تھی، پھر جب غلام بن گئی تو اللہ کو ان کی کوئی ضرورت نہیں ۔سو یاد رکھیے کہ مدد قتال کے ساتھ آتی ہے، اللہ کی مدد بیٹھے رہنے سے نہیں آتی، مومنین کے سینوں کو ٹھنڈک بھی جنگ سے ملے گی، ہم اس خوش خبری کی بات کر رہے ہیں کہ یہ امت ہند کو فتح کرے گی، یہ امت روم کو فتح کرے گی، یہ امت مشرق و مغرب کو فتح کرے گی، اور یہ سب اس ربّانی وعدے اور ان احادیث مبارکہ کی بنیاد پر ایسا ہوگا۔ صرف ایک چیز کو تھام کے رکھنا ہے کہ ہمت نہیں ہارنی، حوصلوں کو پست نہیں کرنا اور اللہ کے وعدوں پر یقین رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے بڑی سے بڑی رکاوٹ کو توڑ دینے کا عزم ہمیشہ آپ کے ساتھ ہو ۔
ملے خشک روٹی جو آزاد رہ کر
تو وہ خوف و ذلت کے حلوے سے بہتر
جو ٹوٹی ہوئی جھونپڑی بے ضرر ہو
بھلی اس محل سے جہاں کچھ خطر ہو
یا د رکھیں! وہ وقت قریب ہے کہ جب مجاہدین دہلی کی چوکھٹ پہ دستک دیں گے اور ان کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں انڈیا گیٹ سے نکلیں گی اور سری نگر تا دہلی تک ایک ہی نعرہ گونجے گا ’’لا الہ الا اللہ‘‘، ہم ان شاء اللہ اپنا ایک ایک ورثہ اس ہندو بنئے سے واپس لیں گے، ہم اپنی ایک ایک بہن کی آبرو کا بدلہ لیں گے، اپنے ایک ایک نہتے مظلوم شہید کا بدلہ لیں گے۔ان شاء اللہ۔
وآخر دعوانا أن الحمد اللہ رب العالمین
٭٭٭٭٭







![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



