زیرِ نظر مضمون امارت اسلامیہ افغانستان کے نشریاتی ادارے ’’منبع الجہاد‘‘ کی ایک دستاویزی فلم کا اردو استفادہ ہے، لہٰذا زیرِ نظر تحریر کا انداز بھی دستاویزی فلم کی تعلیق (commentary)جیسا ہے۔ (جلال الدین حسن یوسُف زئی)
سیاسی ، اقتصادی اور بھر پور فوجی طاقت رکھنے والا امریکہ، دنیا بھر میں ایک عظیم شیطانی اور انٹیلی جنس قوت ہے۔ اسی مغرورو متکبر امریکہ نے اپنے صلیبی اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان پر حملہ کیا، افغانستان کو اپنے قبضے میں لیااور مفاسد سے بھرا ہوا اپنا بنایا گیا نظام جمہوریت کی شکل میں خائن ومجرم افراد کی حاکمیت و سرپرستی میں دے کرافغانستان پر مسلط کردیا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ امریکہ کو افغانستان میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لوگوں کی نظروں میں امریکہ کی شکست ناممکن تھی۔ لیکن کائنات کا حقیقی مالک و خالق اللہ رب العزت ہے، ہمارے قہار و جبار رب کی یہ سنت ہے کہ اس نے کمزور و ناتواں بندوں کے ہاتھوں خدائی کے دعوے داربڑے بڑے متکبرین کے تکبر کو خاک میں ملایا ہے۔ اللہ رب العزت کی نصرت کے سہارے امارت اسلامیہ افغانستان کی قیادت میں، مسلمان و مجاہد افغان غیرت مند قوم نے اپنی جہادی ضربوں کے ذریعے آج امریکہ اوراس کے تنخواہ دار نوکروں کو شکست سے دوچار کردیا اوراپنی شکست کا اعتراف آج ان کی عسکری و سیاسی شخصیات خود اپنی ہی زبان سے کررہی ہیں۔ جانی و مالی نقصانات اُٹھا کر آج ان میں مجاہدین کے سامنے ڈٹنے کی ہمت نہیں ، ان کی شیطانی حیلہ سازیوں اور پراپیگنڈوں سے پوری دنیا آگاہ ہے اور ان کے تنخواہ دار نوکر ، کابل انتظامیہ کی صورت میں شکست خوردہ ہوکر اپنے امریکی آقاؤں کی مانند بھاگنے کی تیاری میں ہیں۔
آج امریکہ ایک طویل تھکادینے والی جنگ کے بعدناکام و شکست خوردہ ہو کر ان مجاہدینِ طالبان سے صلح کی بھیک مانگ رہے ہیں ، جن کو کل تک یہ امریکہ دہشت گرد و شدت پسند کہتا آرہا تھا اور یہاں تک کہ ان کو زمین کے اوپر زندگی گزارنے کا حق بھی حاصل نہیں تھا۔
وہ کیا عوامل ہیں جن کی وجہ سے امارت اسلامیہ کے مجاہدین، امریکہ ، اس کے اتحادی اور تنخواہ دار نوکر وں کو شکست دے کر فاتح بنے؟ ان عوامل میں سے چند اہم کو نقاط کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ان نقاط میں جہادی تحریکوں کے استفادے اور کامیابی کے لیے بھی اہم اسباق ہیں:
افغان قوم نے امارت اسلامیہ کی قیادت میں کم وسائل و اسباب کوبروئے کار لاتے ہوئے امریکہ، اس کے اتحادی اور غلاموں کے خلاف کم و بیش بیس سال صبر و ثبات ، استقامت اور بہادری کے ساتھ جہاد و قتال کیا۔
امریکہ ، اس کے اتحادیوں اور غلاموں کے سخت مظالم کے باوجود مجاہدین نے جہاد، قتال اور مزاحمت کا راستہ نہیں چھوڑا۔ نہ ہی یہ مظالم اور جنگ کی طوالت ان کو اس بات پر مجبور کرسکی کہ وہ اپنا منہجِ جہاد تبدیل کرکے افراط و تفریط کاشکار ہوجائیں۔
امارت اسلامیہ نے اللہ رب العزت کی نصرت اوراپنی مدبرانہ صلاحیتوں کی بدولت اپنے جہادی عمل سے عوام کو متنفر نہیں کیا، بلکہ ان کو اپنابنایا اور انہی عوام کی گود میں پناہ لی۔
امارت اسلامیہ نے شریعت کے ماتحت اپنی حکیمانہ خارجی سفارت و سیاست سے امریکہ کو یہ موقع نہیں دیا کہ وہ طویل عرصہ میں دوسرے ممالک کو افغان قوم کے ساتھ لڑائی میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہوئے دھوکہ دے سکے۔
امارت اسلامیہ نے دنیا بھر کی جہادی تحریکوں کے ساتھ اسلامی اخوت کا ثبوت دیتے ہوئے تکبر اور خود غرضی سے اپنے آپ کواور جہاد کو بچائے رکھا۔
امارت اسلامیہ نے اپنی عسکری و جہادی قوت کو ایک ایسی طرز پر، منظم طریقے سے ترتیب دیا جس میں دشمن کے استخباراتی اداروں کا اثر و رسوخ اور گھسنا کم سے کم تھا۔
امارت اسلامیہ نے حکومتی نظام کو ترتیب دینے اور قیادت کے انتخاب کے لیے اصل اسلامی شورائی نظام تشکیل دے کر اپنی جہادی تحریک کو غلط راستوں پر چلنے سے بچائے رکھا۔
امارت اسلامیہ کی قیادت شروع سے لے کر آج تک جید، حق پرست اور مجاہد علمائے کرام نے کی ہے اور کررہے ہیں۔
امارت اسلامیہ کی جہادی، سیاسی اور عسکری رہنمائی ہمیشہ شریعتِ مطہرہ کے سائے میں ہوئی ہے اور ملک کے جو علاقے مجاہدین کے ہاتھوں میں ہیں ، وہاں ماضی کی مانند اب بھی اسلامی نظام کا قیام ہے۔
امارت اسلامیہ کے اس مبارک جہادی، عسکری اور سیاسی منہج و فکر نے اُمت مسلمہ کی مایوسی کو امید میں تبدیل کردیاہے۔ جب خلافت عثمانیہ کا بلند مینار مسمار ہوا اور مسلمان ……اسلامی شریعت سے دور ہوکر ظلم کی چکی میں پستے ہوئے اپنے عروج کو کھو بیٹھے تھے، ایسے میں حالات کا مشاہدہ کرتے ہوئے اُمت مسلمہ کی کھوئی ہوئی عزت و عروج کو دوبارہ واپس لانے کے لیے تمام جہادی تحریکوں میں افغانستان کے طالبان کی اسلامی تحریک ایک نمایاں تحریک ہے۔
دنیا بھر کی جہادی تحریکیں ظلم کی چکی میں پسنے والی اپنی محبوب اُمت کو نجات دلانے کی خاطر امارت اسلامیہ افغانستان کے جہادی منہج و لائحہ پر عمل پیرا ہوکرجہاں ایک طرف اپنی جہادی تحریک کو دشمن کے اثرورسوخ سے بچا سکتی ہیں، اپنے درمیان محبت و اخوت کی فضا قائم کرکے مسلمانوں کواپنی قیادت پر مجتمع کرسکتی ہیں ، تو دوسری طرف جہاد و قتال پر صبرو ثبات اختیار کرکے اپنی جہادی تحریک کی احسن اور بہترین انداز میں آخری منزل تک رہنمائی بھی کرسکتی ہیں۔
الحمد للہ ، امارت اسلامیہ افغانستان اللہ رب العزت کی نصرت کے سہارے اور اپنے شرعی منہج و لائحہ پر کاربند ہوکر آئے روز جہادی میدانوں میں اللہ کے دشمنوں کے سامنے فاتح بن کر ابھر رہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب پورے افغانستان پر شریعت کا پرچم لہرا رہا ہوگا،ان شاء اللہ!
٭٭٭٭٭

![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



