امرا و مسئولین کو نصیحتیں[۲]
(۳) مجاہدین اور شہدا کے گھرانوں کا خیال رکھنا
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ مدینہ منورہ میں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر کے علاوہ کسی کے گھر میں نہیں جاتے تھے، کسی نے آپﷺ سے اس گھر میں کثرت سے جانے کی وجہ پوچھی، تو نبی کریمﷺ نے جواب دیا کہ ’مجھے اس پر رحم آتا ہے کیونکہ اس کا بھائی میرے ساتھ شہید ہوا تھا‘۔ حضرت ام سلیمؓ رسول اللہﷺ کی رضاعی خالہ تھیں اور ان کے بھائی حرام بن ملحانؓ بئر معونہ کے واقعے میں شہید ہوئے تھے۔
لہٰذا امیر کے لیے لازم ہے کہ اپنے ساتھیوں اور ان کے اہل و اولاد کی مزاج پرسی کرے اور ان کی ضروریات کو پورا کرے، جو شخص اس کی امارت کے تحت شہید ہوا ہو تو اس کے اولاد کی ضروریات کو پورا کرنا اس امیر پر واجب ہے۔ امیر کایہ عمل جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ مجاہدین کی محبت میں اضافہ کرتا ہے اورمجاہدین کےلیے اللہ کے راستے میں اپنے سروں کو قربان کرنے میں آسانی پیدا کرتا ہے۔
(۴)قوم پرستی اور اس کے نقصانات
يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ (سورۃ الحجرات: ۱۳)
’’اے لوگو ! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے، اور تمہیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کی پہچان کرسکو، درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز سے باخبر ہے۔ ‘‘
مطلب یہ کہ قوموں اور قبیلوں کی تقسیم اس مقصد کی خاطر ہوئی تا کہ میراث اور دیت کی پہچان ہوجائے، نہ کہ ایک کو دوسرے سے زیادہ عزت دی جائے، اس لیے اللہ کے ہاں سب سے محترم وہ ہے جو تقویٰ میں بڑھ کر ہو، لہٰذا اپنے باپ، دادا، قوم اور قبیلے پر فخر کرنا جائز نہیں۔
حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’ نسب کوئی ایسی چیز نہیں جس کے سبب تم کسی کو برا کہو اور عار دلاؤ۔ تم سب کے سب آدم کی اولاد ہو جس طرح ایک صاع دوسرے صاع کے برابر ہوتا ہے کہ جس کو تم نے بھرا نہ ہو کسی کو کسی پر کوئی فضیلت و ترجیح نہیں ہے علاوہ از دین اور تقوی کے۔ آدمی کی برائی کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے کہ وہ زبان دراز ، فحش گوئی اور لچر باتیں کرنے والا بخیل ہو۔‘‘
امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’جس شخص میں جتنی زیادہ عصبیت ہو، اتنا ہی اس کے دل سے ایمان نکلتا ہے۔‘‘
حضرت واثلہ بن اسقع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ’یا رسول اللہﷺ عصبیت یعنی جاہلیت کیا چیز ہے ؟‘ آپ نے فرمایا ’عصبیت یہ ہے کہ تم ظلم پر اپنی قوم و جماعت کی حمایت کرو‘۔ (ابوداود)
حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :
’’جو شخص اپنی قوم کی ناحق حمایت و مدد کرے وہ اس اونٹ کی مانند ہے جو کنویں میں گرپڑے اور پھر اس کی دم پکڑ کر اس کو کھینچا جائے۔ ‘‘(ابوداود)
مطلب یہ کہ وہ شخص اپنے آپ کو اس طرح کی ہلاکت میں ڈالتا ہے جس طرح ایک اونٹ کنویں میں گرجائے اورنکالنے کے لیے اس کو دم سے پکڑ کر کھینچا جائے، کیونکہ اس سے اونٹ کا بچنا ناممکن ہے ، لہٰذا اونٹ کی طرح یہ شخص بھی نجات نہیں پاسکتا۔
(۵)اتحاد و اتفاق
مجاہدین کو چاہیے کہ اپنے امور میں متحد رہیں، اتحاد کو اپنائیں اور اپنے نظم کو مستحکم بنائیں۔
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَاۗءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِھٖٓ اِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلٰي شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْھَا كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِہٖ لَعَلَّكُمْ تَھْتَدُوْنَ (سورۃ آلِ عمران: ۱۰۳)
’’اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگے کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں کھول کھول کر واضح کرتا ہے، تاکہ تم راہ راست پر آجاؤ۔ ‘‘
مجاہدین کو چاہیے کہ کسی بھی کام میں اختلاف کا شکار نہ ہوں، اگر شرعی و سیاسی امور میں اختلاف ہوجائے تو شرعی امور کے لیے علمائے کرام کی طرف رجوع کریں اور سیاسی امور میں اپنے امرا کی طرف، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْـــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (سورۃ النحل: ۴۳)
’’اور ہم نے تم سے پہلے بھی کسی اور کو نہیں، انسانوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی نازل کرتے تھے۔ اب اگر تمہیں اس بات کا علم نہیں ہے تو جو علم والے ہیں ان سے پوچھ لو۔ ‘‘
اسی طرح دوسری جگہ اللہ رب العزت نے فرمایا:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا (سورۃ النساء: ۵۹)
’’اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ صاحب اختیار ہوں ان کی بھی۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہوجائے تو اگر واقعی تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور رسول کے حوالے کردو۔ یہی طریقہ بہترین ہے اور اس کا انجام بھی سب سے بہتر ہے۔ ‘‘
مجاہدین کے مابین اختلاف ان کی قوت اور دشمن پر طاری ہونے والے رعب کو ختم کردیتا ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيْحُكُمْ وَاصْبِرُوْا اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ (سورۃ الانفال: ۴۶)
’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اور آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور پڑجاؤ گے، اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، اور صبر سے کام لو۔ یقین رکھو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
(وما علینا إلّا البلاغ المبین!)




![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



