نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home اداریہ

سب سے بڑا جو دشمن اُس سے سب سے پہلے جنگ!!!

by مدیر
in مئی تا جولائی 2021, اداریہ
0

عام خیال تھا کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے ساتھ پاکستان کے وردی و بے وردی حکمرانوں کی ’امریکی غلامی‘ میں کچھ کمی واقع ہو جائے گی، لیکن ایسا نہ ہوا! پاکستان کے خائن اور کذاب حکمرانوں ، خاص کر فوج کی اعلیٰ قیادت (بشمول آئی ایس آئی) نے ’غلامی‘ کی وہ صورت پیش کی جس کے بارے میں داعیٔ اسلام اور بے مثال خطیب شہید ملک شہباز (Malcolm X) رحمۃ اللّٰہ علیہ نے کچھ ان الفاظ میں منظر کشی کی تھی(معمولی تصرف کے ساتھ):

’’بعض (استعمارکے)غلام ایسے ہوتے ہیں کہ ان کا آقا ان کو اپنی لِیر لِیر اترن پہناتا ہے، تھوڑا سا بچا ہوا جھوٹا کھلاتا ہےاور اپنے گھر کے پچھواڑے یا بالکونی میں سلاتا ہے جہاں پرندے ان پر بیٹیں کرتے ہیں۔ لیکن ان غلاموں کی وفاداری ایسی ہوتی ہے کہ اگر ان کے غاصب و ظالم آقا کے مکان کو آگ لگ جائے تو یوں بجھاتے ہیں گویا اپنے ہی مکان کی آگ بجھا رہے ہوں۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اگر ان کا آقا بیمار پڑ جائے تو یہ جا کر آقا سے یہ نہیں پوچھتے کہ ’’آقا! کیا آپ بیمار ہیں؟‘‘، بلکہ یہ پوچھتے ہیں ’’آقا! کیا ’ہم‘ بیمار ہو گئے ہیں؟‘‘ (Master! Are we sick?) ۔‘‘1

عارف علوی، عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے خوب زور و شور سے اس بات کی’یقین دہانی‘ کروائی ہے کہ پاکستان امریکہ کو افغانستان سے انخلا کے بعد اڈے نہیں دے گا۔ حالانکہ جس معاہدے کا ذکر شاہ محمود قریشی نے کیا کہ ’پاکستان امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی فضا و زمین استعمال کرنے کے ماضی میں کیے گئے معاہدے پر قائم ہے ‘، تو پرویز مشرف کے دور میں اسی معاہدے کے بعد شمسی ائیر بیس، پسنی ائیر بیس اور جیکب آباد ائیر بیس (ذرائع ابلاغ اور مجاہد فی سبیل اللّٰہ،سابق چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز شہیدؒ کے مطابق) امریکیوں کے حوالے کی گئی تھیں (حالانکہ اڈوں کی فراہمی اس معاہدے میں شامل نہ تھی)اور کراچی ائیر ٹرمینل کے ہینگروں (hangars)میں القاعدہ برِّ صغیر سے وابستہ مجاہدین نے خود امریکی جنگی جہاز کھڑے دیکھے ہیں۔ اگر پاکستان آج بھی اسی معاہدے پر قائم ہے تو اس قیاس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ خفیہ یا اعلانیہ طور پر اڈےماضی کی طرح بغیر کسی نئی ’ڈِیل‘ کے امریکہ کے حوالے کیے جا سکتے ہیں۔ یہ بات بھی ملحوظ رکھنے کی ہے کہ ’ڈِیل‘ دو مساوی پارٹیوں کے درمیان ہوا کرتی ہے، جہاں تعلق ’غلامی‘ اور ’مینوں نوٹ وِکھا‘ کا ہو تو وہاں تو ’آقا‘ اور ’صاحب‘ ہی کی ماننی ہوتی ہے۔

تا دمِ تحریر اس بات میں البتہ کوئی کذب بیانی نہیں کہ ’پاکستان نے اپنا کوئی اڈا امریکیوں کے حوالہ نہیں کیا‘، بلکہ سچ یہ ہے کہ دو وسیع و عریض اڈوں کے لیے اپنی زمین فراہم کی ہے(اڈے نہیں دیے کہ وہ امریکیوں کے ’شایانِ شان‘ نہیں)۔ پاکستان کے وردی و بے وردی حکمرانوں نے ، عینی گواہوں کے مطابق، ۱) جنوبی وزیرستان کے صدر مقام ’وانا‘ سے ملحقہ سرحدی علاقے ’زر میلان‘ (جو افغانستان کے صوبۂ پکتیکا کے ضلع گومل سے ملحقہ ہے) اور، ۲) کرم ایجنسی (ضلع کرم) کے سرحدی علاقے ’پاڑا چنار‘ کے ائیر پورٹ کے پاس امریکہ کو اپنی ’خود مختار‘ اراضی پیش کر دی ہے۔ پاڑا چنار پاکستان کا وہ مقام ہے جہاں سے ’کابل‘ محض ایک سو دس کلومیٹر دور ہے۔ اطلاعات کے مطابق ’ زرمیلان بیس‘ میں یومیہ اوسطاً دس بار امریکی ’چینوک‘ ہیلی کاپٹر اترتے اور اڑتے ہیں۔ راتوں رات بگرام و افغانستان میں قائم دیگر فوجی بیسوں سے جو سامان نکالا گیا ہے وہ ’زرمیلان بیس‘ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس بیس کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے اور امریکی غلامی میں کل تک جو حفاظتی خدمت ’افغان ملی فوج‘ کر رہی تھی، وہ کام اب براہِ راست ’پاک فوج‘ کر رہی ہے۔

’’عمران از میانوالی و باجوہ از گکھڑ‘‘
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن!

پشتو زبان کا محاورہ مشہور ہے کہ ’اونٹ چرا کر کوئی اپنی جیب میں نہیں چھپا سکتا‘، اتنی بڑی چوری ضرور نظر آتی ہے۔ معروف انگریز صحافی جارج آرویل (م ۱۹۵۰ء)کا قول ہے ،کہ ’اس وقت تک سرکار سے متعلق کسی بات پر یقین نہ کرو، یہاں تک کہ سرکاری طور پر اس امر کی تردید کر دی جائے‘۔

حالیہ ہفتوں میں دو اہم معاملات کی پاکستان میں ’سرکاری سطح پر‘تردید کی گئی ہے، ایک تو امریکہ کو اڈے فراہم کرنے کا معاملہ ہے جو کچھ مزید ہفتوں میں قطعی واضح ہو جائے گا۔ جبکہ دوسرا معاملہ ’اسرائیل‘ سے خفیہ پینگیں بڑھانا ہے۔ عمران خان کے سابق معاونِ خصوصی ’زلفی بخاری‘ نے سال ۲۰۲۰ء کے ماہِ نومبر میں اسرائیل کا خفیہ دورہ کیا۔’روافض کے چہیتے‘ زلفی بخاری2 کی ٹرمپ کے یہودی داماد جیرڈ کشنر اور ٹرمپ کی یہودی بیٹی ایوانکا ٹرمپ سے اعلانیہ ملاقاتیں اس خفیہ دورے کے علاوہ ہیں۔ نظامِ پاکستان کی عمومی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ پاکستان کے سفارتی و خارجی معاملات یا تو تشکیل ہی فوج دیتی ہے یا پھر ان معاملات کو فوج کی اجازت کے بعد ہی حتمی شکل دی جاتی ہے، اور عمران خان کی خصوصی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ عمران خان دن میں کئی کئی بار آئی ایس آئی کے یک ستارہ جرنیلوں سے فون کر کر کے پوچھتا ہے کہ ’صاب کیا کروں اور کیا نہ کروں‘۔

اسرائیل اور یہود کے متعلق دین و احکامِ شریعت کیا کہتے ہیں تو ایک طرف کہ باقی معاملات میں کون سا ریاستِ پاکستان میں دین کو دیکھا جاتا ہے، لیکن اسرائیل کے متعلق ’بانیٔ پاکستان‘ کا قول بھی مشہور ہے کہ ’اسرائیل انگریزوں کی ناجائز اولاد ہے‘۔ اس اسرائیل کے ساتھ جس کی نفرت ہر ہر پاکستانی و غیر پاکستانی مسلمان کے رگ و ریشے میں موجود ہے ، تعلقات کی پینگیں بڑھانا عمران و باجوہ کا مشترکہ اقدام نہیں بلکہ باجوہ ہی کے حکم و ایما کا نتیجہ ہے۔ باجوہ کے سسرالی 3ہزاروں کی تعداد میں دِہائیوں سے اسرائیل میں مقیم ہیں اور سیکڑوں اسرائیل کی فوج میں ملازم بھی ہیں۔

اس ’راز‘ کے بعض پہلوؤں کو (دیگر ذرائع کے ساتھ ساتھ)صحافی ندیم ملک نے فاش کیا جس کے بعد اس کو ایف آئی اے کی جانب سے(دیگر مقدمات ڈال کر) پیشی، جرمانے اور تفتیش کے لیے طلب کیا گیا اور دھمکیاں دی گئیں۔ ایف آئی اے کا یہ اسلوب خود اس بات پر دلیل ہے کہ درونِ خانہ کوئی معاملہ جاری ہے اور چونکہ ریاستِ پاکستان کی اصل ٹھیکے دار فوج ہی ہے اسی لیے اس ’راز‘ کے فاش ہونے سے ’قومی مفاد‘ اور ’قومی سلامتی‘ داؤ پر لگ گئے۔

اسرائیل سے یہ خفیہ پینگیں بڑھانے کے معاملے میں عمران خان اور باجوہ پر خاص کر اثر انداز ہونے والوں میں آلِ سعود کے جدید چہرے محمد بن سلمان کا ایک بڑا عمل دخل ہے۔ جس کی بچپن میں پرورش ایک ایتھوپیائی یہودی عورت نے کی ، جو جیرڈ کشنر کا خاص یار ہے ، جو خود سابقہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے اپنے تاریک ’وژن ۲۰۳۰‘ کے تحت آباد کردہ شہر ’نیوم‘ میں خفیہ طور پر ملا اور اس ملاقات کی بھی تردید سعودی و اسرائیلی حکام دونوں کی جانب سے کی گئی۔ سعودی وزیرِ خارجہ کی اواخرِ جولائی ۲۰۲۱ء میں پاکستانی وزیرِ خارجہ سے ملاقات کے موقع پر بیان ’فلسطین، کشمیر اور یمن کے مسئلے پر مل کر کام کریں گے‘، میں پیغام ہے کہ ’فلسطین‘ کا سودا ہم نے کیا تم اس کی تائید کرو اور ’کشمیر‘ کا سودا تم نے کیا ہماری تائید اس میں سمجھو۔ پھر اسی اسرائیل کے ساتھ خفیہ پینگیں بڑھانے کو مزید دلیل صدرِ پاکستان عارف علوی کے اس بیان سے بھی ملتی ہے جو اس نے رمضان المبارک میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے دوران جاری کیا تھا۔

سعودی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان کا مزید کہنا’اسلام آباد اور ریاض کا موقف ایک ہے(Islamabad and Riyadh are on the same page)‘ اور پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ سن کر سر ہلانا، ان کا ’موقف‘ نہیں ’غلامی‘ کا اعلان ہے۔ مسجدِ اقصیٰ سے لے کر کشمیر تک، سعودی عرب کا ’عمل دخل‘ ہو یا پاکستان کا ’کردار‘ ، اور یمن میں ایرانی پشت پناہی والی حوثی ملیشیا کے خلاف جنگ روک کر تمام توانائی یمن میں القاعدہ کے خلاف لگانے کا اعلان4، دراصل دونوں کی امریکی غلامی کی غمازی ہے، آقا جیسے ڈور ہلاتا اور چھڑی گھماتا ہے ، غلام ویسے ہی آنکھیں مٹکاتے اور دم ہلاتے ہیں۔

ایک اور اہم معاملہ ریاستِ پاکستان کی مشرقی ترکستان (سنکیانگ) کے مسلمانوں کے ساتھ کھلم کھلا غداری کا ہے۔ سال ڈیڑھ قبل، الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ریاستِ پاکستان کے بیانیے کو ایغور مسلمانوں کے بارے میں بیان کرتے ہوئے، ریاست کی علامت ’ صدر‘ عارف علوی نے کہا تھا کہ ’ جب کسی ملک کو دباؤ میں لانا ہوتا ہے تو اس قسم کے جن بھوت (bogeys)نکالے جاتے ہیں‘۔ جب کہ یکم جولائی ۲۰۲۱ء کو عمران خان نے اس معاملے میں منافقت کا نقاب اتارتے ہوئے چین کی بھرپور تائید کی اور کہا کہ ’ایغور مسلمانوں کے مسئلہ پر پاکستان چین کے موقف سے اتفاق کرتا ہے‘۔ریاستِ پاکستان کا غدر و نفاق اور کفر کی غلامی تو اس بات سے واضح ہوتی ہی ہے، ساتھ ہی ہمارے ان لوگوں کی ’کنفیوژن‘ کو بھی عمران خان کے بیان کو دور کر دینا چاہیے جو ریاستِ پاکستان کے اس بیان کے موافق اپنا ’بیانیہ‘ تشکیل دیے ہوئے تھے جو اولاً عارف علوی کی زبانی چند سطروں قبل ذکر ہوا۔

آج ٹیکنالوجی کی معراج کے زمانے میں جہاں عسکری میدان میں دنیا آلاتِ تباہی و عسکری میں کہیں آگے پہنچ چکی ہے ۔ اس زمانۂ جدید میں، کفر کے سرغنہ امریکہ کو امارتِ اسلامیہ افغانستان کا شکست دینا اس امر کی نشانی ہے کہ جنگیں ایمان اور پختہ عزم و ارادے کے ساتھ لڑی جاتی ہیں۔ آج کے افغانستان میں اسلامی امارت کا قیام ’اللّٰہ کی غلامی‘ کا نتیجہ ہے، جب کہ افغانستان کے پڑوس پاکستان میں امریکہ کو ’انسدادِ جہاد‘ میں فوجی اڈے فراہم کرنا اور اسرائیل سے تعلقات قائم کرنا ’امریکہ کی غلامی‘ کا نتیجہ ہے۔ ایک طرف امریکہ کو مشکل کشا، حاجت روا اور رزق رساں ماننے کا ’شرک‘ ہے تو دوسری طرف اللّٰہ سے ہونے اور غیر اللّٰہ سے نہ ہونے کے یقین کی صورت ’توحید‘ ہے۔ ایک طرف امریکہ و اسرائیل کے وسیلے سے ’دجّال‘ پر ایمان ہے تو دوسری طرف اللّٰہ کے پیغمبر، مخبرِ صادق صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زبان سے عیسیٰؑ و مہدیؓ کے آنے ، عدنِ ابین سے بارہ ہزار کے لشکرِ اسلام کی روانگی اور غزوۂ ہند کے برپا ہونے پر ایمان ۔

ایک ایسے وقت میں جب ایک بار پھر ریاستِ پاکستان اور اس کے فوجی و سول ادارے اور اس کے وردی و بے وردی حکمران، امریکی غلامی میں ’لا الٰہ الا اَمریکہ‘ کی مالا جپ رہے ہیں اور امریکہ براہِ راست پاکستان میں اپنے اڈوں میں موجود ہونے جا رہا ہے ، تو مجاہدینِ برِّ صغیر اور خاص کر مجاہدینِ پاکستان پر اور پاکستان کے اہلِ دین پر بدرجۂ اتم لازم و واجب ہے کہ وہ اس عدوِ صائل، اس ہبلِ عصر، طاغوتِ زمانہ ’امریکہ‘ کو اپنا پہلا ہدف بنائیں۔ پھر جو انٹیلی جنس ادارے اور کرنیل و جرنیل اس صف میں نظر آئیں اور اسلام دشمنی میں آگے بڑھیں ان کے لیے بھی ان کے آقاؤں جیسی ’مہمانی‘ کا انتظام’ فَقَاتِلُواْ أَئِمَّةَ الْكُفْرِ‘ کے مطابق کیا جائے۔ کفر کے اژدھے کے سر ’امریکہ‘ کو ’گرم‘ ضربوں سے پھوڑ ڈالیں تو ان امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادیوں کا خاتمہ نسبتاً’نرم‘ ضربوں سے ہو جائے گا ۔ ان فرنٹ لائن اتحادیوں کا مسلک تو یوں بھی ’غلامی‘ اور ’چڑھتے سورج کی پوجا‘ ہے۔ ان کی ماضی کی تاریخ اور حال کا تعامل اس بات پر گواہ ہے کہ یہ کوٹ پتلون اتار کر شیروانی پاجامہ پہننے میں ایک لحظہ بھی نہیں لگائیں گے۔

بلا شبہ رسولِ ملاحم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جہاں غزوۂ ہند میں فتح اور ہند کے حکمرانوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر لانے کی بشارتیں دی ہیں5 تو وہیں سندھ میں بھی غلبۂ اسلام کی بشارتوں سے 6امتِ مظلومہ کو امریکہ سمیت ہر کفر کی غلامی سے آزادی کا پروانہ عطا فرمایا ہے!

اللھم قدّر فتح الھند والسند وشبه القارة الهندية كلها بأیدینا ووفّقنا لما تحب وترضی من القول والعمل والفعل والنّیۃ والھدي إنّك على كل شئي قدير، اللھم اجعلنا ھادین مھتدین غیر ضآلّین ولا مضلین، سِلماً لِّأولیائك وحرباً لِّأعدائك نحبّ بحبك من أحبّك ونعادي بعداوتك من خالفك من خلقك، اللھم آمین یا ربّ العالمین!

٭٭٭٭٭


1 The House Negro and the Field Negro, by Malcolm X

2 پاکستان میں بستے روافض کی’ناجائز‘طرف داری زلفی بخاری نے دو مشہور مواقع پر کی۔ پہلے ایران سے پاکستان واپس آنے والے ’کورونا زدہ‘رافضی ’زائرین‘ کے لیے ذاتی حکم اور اثر و رسوخ سے پاک ایران بارڈر کھلوایا اور نتیجتاً پاکستان میں کورونا وائرس کے دخول کے ابتدائی بڑے ابواب میں سے ایک در کھل گیا۔ ثانیاً پاکستان کے پارلیمان میں ’ناموسِ صحابہؓ‘ کے لیے ہونے والی قانون سازی کو رکوانے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ [یہاں یہ نقطہ واضح کرنا بھی لازمی ہے کہ ہم اپنے دین کے سند و مصدر ، حضرات صحابۂ اطہار علیہم الرضوان کی ناموس کی حفاظت کا ذریعہ ’پارلیمان‘ اور اس کی ’قراردادوں‘ اور پاس کردہ ’آئین و قوانین‘ کو نہیں سمجھتے۔ یہ ذرائع چند روزہ دوا تو شاید ہو سکتے ہیں لیکن اس ناسور کا علاج نہیں۔ صحابہؓ کی ناموس کا دفاع صحابہؓ کے طریقے ’جہاد‘ ہی کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ جب تک موجودہ نظامِ کفری مسلط ہے روافض سے لے کر مرزائیوں تک سبھی کے لیے اس نظام میں سہولتیں ہی سہولتیں ہیں اور صحابہؓ کی ناموس کا اصل دفاع اس نظامِ کفری کو ڈھانے میں اور ہمارے اور ہمارے صحابہ کے آقا (علیہ ألف صلاۃ وسلام) کی شریعت کے نفاذ میں ہے!]

3 باجوہ کا سسرال سکہ بند مرزائی ہے۔

4 امریکہ میں ٹرمپ کے جانے اور جو بائیڈن کے آنے کے ساتھ ایران کے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی اور یمن و صومالیہ میں القاعدہ کے خلاف کارروائیاں کرنے کے امریکی عندیے کے نتیجے میں۔

5 رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ضرور تمہارا ایک لشکر ہندوستان سے جنگ کرے گا، اللّٰہ ان مجاہدین کو فتح عطا فرمائے گا، حتیٰ کہ وہ (مجاہدین) ان کے بادشاہوں (حاکموں) کو بیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے اور اللّٰہ ان (مجاہدین) کی مغفرت فرما دیں گے۔‘‘ (کتاب الفتن از نعیم بن حماد ﷬)

6 حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یقیناً تمہارا ایک لشکر ہندوستان سے جنگ کرے گا اور اللّٰہ ان مجاہدین کو فتح دے گا حتیٰ کہ وہ سندھ کے حکمرانوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے، اللّٰہ ان کی مغفرت فرما دے گا۔ ‘‘(مسندِ اسحاق بن راہویہ ﷬)

Previous Post

نمازکاشَغَف و شوق اور اُس میں خشوع وخُضوع

Next Post

بجھا سکے گی نہ جن کو آندھی

Related Posts

اہلِ پاکستان ایک فیصلہ کن دوراہے پر!
اداریہ

اہلِ پاکستان ایک فیصلہ کن دوراہے پر!

15 فروری 2026
جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالمِ پِیر مر رہا ہے!
اداریہ

جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالمِ پِیر مر رہا ہے!

20 جنوری 2026
تُو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
اداریہ

تُو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا

4 نومبر 2025
سب سے پہلے امریکہ!
اداریہ

سب سے پہلے امریکہ!

23 ستمبر 2025
جگر کے خوں سے اب یہ داغ دھونے کی تمنا ہے
اداریہ

جگر کے خوں سے اب یہ داغ دھونے کی تمنا ہے

12 اگست 2025
اداریہ

اور قافلہ سالار حسینؓ ابنِ علیؓ ہے!

10 جولائی 2025
Next Post

بجھا سکے گی نہ جن کو آندھی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

by ادارہ
15 فروری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version