نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ!

by بنتِ طاہر
in مئی تا جولائی 2021, پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
0

۲۰۱۸ء میں ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستانی امداد “do more” کا حکم دے کر روک دی تھی۔ ۲۰۲۰ء کے الیکشن کے فوراً بعد سول امداد کی جو پہلی قسط امریکی کانگریس نے پاکستان کے لیے منظور کی ہے تو اعلان ہوا کہ اس امداد کا بڑا حصہ عورتوں کے لیےاور ان کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے پر خرچ کرنے کے لیے جاری کیا گیاہے۔پاکستانی مسلمان عورتوں کے حقوق کا علمبردارامریکہ جو شام،عراق،فلسطین، صومالیہ، افغانستان، کشمیر، مالی، الجزائر، چیچنیا، بوسنیااور برما ہر جگہ خود ’بنفس نفیس‘ یا اپنے حواریوں کے ذریعےمسلمان عورتوں کے گھروں کو اجاڑتا رہا ہے ،مسلمان عورتوں سے ان کے باپ ،بھائی،بیٹے اور شوہر چھینتا رہا ہے ،ان مسلمان عورتوں کی عصمتوں کو تار تار کرنے والا یہ ’’امریکہ‘‘پاکستانی مسلمان عورتوں کے حقوق کا علمبرداراور ان کو اعلیٰ تعلیم دلوانے چلا ہے !

ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ، یہ بازی گر کھلا

آپ کو امریکہ کا اصل چہرہ دیکھنا ہے تو فلسطین کے کیمپوں میں بسنے والی مسلمان عورتوں کو دیکھیے جو پینے کا پانی دور دور سے لے کر آتی ہیں۔ صفائی ستھرائی تو کُجا بنیادی ضروریات زندگی ان کے یہاں ناپید ہیں۔۱۹۶۷ء کے بعد سےیہ کون کر رہا ہے؟ امریکہ اور انگریزوں کی ناجائز اولاد اسرائیل، معصوم بچیوں کا اغوا اور جوان عورتوں کی عصمت دری ہو رہی ہے۔ شام میں عورتوں کے باپ،شوہر ،بیٹے ،بھائی چھین کر ان کو کیمپوں میں مقید کر کے ایک ایک روٹی کو ترسانے والے اور ان کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے ،ان کی عصمتوں کو تار تار کرنے والے کون ہیں ؟امریکہ، اس کا حواری بشار اور اس کی ملیشیا اور اس کو مدد دینے والے ممالک۔

افغانستان میں بیس سال سے عورتوں کے باپ، بھائی، بیٹوں، شوہروں کے خون سے ہاتھ رنگنے والا امریکہ، عراق میں دس لاکھ بچے اور ایک کروڑ سے زائد عراقیوں کا خون کرنے والا ،یتیمی و بیوگی کے داغ دینے والاامریکہ……اس کو پاکستانی عورتوں کے حقوق اور اعلی ٰتعلیم کی فکر؟

اور دیکھیے برصغیر میں اس شیطان اکبر کے سب سے بڑے چیلےہندو بنیے کا چہرہ۔ کس نے کشمیر میں ہماری مسلمان بہنوں سے ان کے باپ ،بھائی، بیٹے اور شوہر چھین کر، ان کی عصمتوں کو تار تار کر کے، ان کی لاشوں کو دریائے نیلم میں بہا بہا کر، جموں و کشمیر کو جبراً اپنا حصہ بنا کر، رنگ رلیاں ، خون کی ہولیاں منائیں؟ اس ہندو بنیے کو کس کی آشیر باد حاصل ہے ؟ کیا امریکہ کے علاوہ بھی کوئی ہے جو سلامتی کونسل میں ہندوؤں کے تمام مظالم پر بھارت کا ساتھی بنا رہتا ہے؟

کس نے اپنے ملک ہندوستان میں NRC کا کالا قانون پا س کر کے ہماری مسلمان بہنوں کو سڑکوں پر مہینوں احتجاج کےلیے بٹھا ئے رکھا، موسم کی سختیوں کا بھی خیال نہ کیا (انسانیت ہوتی تو کرتے )؟!

برما میں مسلمان عورتوں کے ساتھ کیا کچھ نہ ہوا۔ ان کے شوہروں کو ،باپوں ،بھائیوں، بیٹوں کو ان کے سامنے جلا دیا گیا اور اس سے پہلے ان مظلوم عورتوں کی عصمتیں تار تار کر کے ان کو برہنہ چھوڑ دیا یا قتل کر دیا گیا ۔ ان عورتوں کے سینوں اور پیٹھوں سے گوشت کاٹ کر برمی درندوں نے کباب بنائے ، ایسی درندگی تو شاید تاریخ میں کسی اور نے نہ کی ہو گی۔ اس برما میں مسلمانوں کی قاتل، خونی ڈائن آنگ سان سُوچی کو امن کا نوبیل انعام دینے کے پیچھے اور پھر جو قیامت برما میں برپا ہوئی اس پر پیٹھ ٹھونکنے والا کون ہے؟پھر اس سارے ظلم پر خوشیاں مناتا ہوا مودی بنیا برما پہنچتا ہے اور حکومت کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر تائید کرتا ہے کہ جو کیا اچھا کیا ،میں تمہارے ساتھ ہوں جو کرنا ہے مسلمانوں کے ساتھ کر و، مسلمان عورتوں کے ساتھ جس درندگی کا مظاہرہ کرنا ہے کرو ۔

دراصل اس شیطان امریکہ کو اب فکر یہ کھائے جا رہی ہے کہ پاکستان میں اپنی فوجیں اتارے بغیر، عام پاکستانی مسلمانوں کے خلاف لڑائے بغیر یہاں کی نوجوان نسل کو برباد کرنے کے لیے کیا کیا جائے؟ اس کو اِن سے اسلامی نظریہ اور عقیدہ چھیننا ہے اور ابھی تک جو پاکستانی نوجوانوں کو ان کی مسلمان مائیں یہ نعرہ سناتی آئی ہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ یعنی عبادت کے لائق صرف اللہ رب العزت کی ذات ہے اور حکم بھی اس کا اس کی سر زمین پر تو اس کو کیسے ختم کروایا جائے؟

پیاری بہنو!جس اللہ رب العزت نے آپ کو الحمد اللہ انسان اور مسلمان بنایا،جس کے ہاتھ میں آپ کی زندگی ،موت ،رزق اور تقدیر سب کچھ ہے اس رب العزت کے خلاف شیطانِ لعین نے حضرت آدمؑ،حضرت حوا کو بہکایا تو آپ اور میں کیا حیثیت رکھتے ہیں ۔آج کا شیطان امریکہ اور اس کی ناجائز اولاد اسرائیل اور اس کا سب سے بڑا چیلا ہندو بنیا اسی شیطان لعین کا کردار ادا کر رہے ہیں ، بلکہ اصل میں یہ اسی کے پجاری ہیں۔جس ذات کے ہاتھ میں پیدائش سے لے کر اور موت کے بعد ہمیشہ کی زندگی کے تمام معاملات ہیں اس ذات کے احکام کی نفی کر کے نہ اس دنیا کا سکون ملنے والا ہے اور آخرت کا انجام تو انہی کے ساتھ ہوگا جن کے نظام کو ،احکامات کو، معاشرت کو اور دین بمعنیٔ لائف اسٹائل عملاً و عمداً قبول کیا ہوگا ۔نعوذ باللہ من ذلک!

یہ شیطان امریکہ اور اس کے حواری یہود و نصاری اصل میں یہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی عورت کے اندر سے شرم و حیا ختم کر دی جائے جس کا ثبوت پاکستان میں عورت مارچ اور حقوق نسواں کی ریلیاں ہیں جس میں بیٹیاں اور بہنیں جس لباس میں (اگر ان چیتھڑوں کو لباس مان لیا جائے)اور جن غلیظ جملوں کے بینرز اٹھا کر بڑی ’شان ‘سے سڑکوں پر نکلی تھیں اور پھر دجالی میڈیا نے اس کی پوری کوریج کی تھی، دل اور دماغ قبول ہی نہیں کرتے کہ اس میں شرکت کرنے والی خواتین ہمارے محترم مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی بیٹیاں ہیں ؟ یا ان کو صلیبی صہیونی و ہندو گٹھ جوڑ نے لاکر پاکستانی عورت کے روپ میں مسلمان معاشرے میں جمع کیا ہے ؟

آج ہماری پاکستانی یو نیورسٹیز کا جو حال ہے اس میں جس لباس میں ہماری بیٹیاں آتی ہیں ،جہاں نشہ باآسانی دستیاب ہے ،جہاں کے ہوسٹلوں میں لڑکے لڑکیاں اکٹھے راتیں گزارتے ہیں ،یہ یونیورسٹیاں اس قابل نہیں رہی کہ کوئی عزت دار ماں باپ اپنی باحیا بیٹیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیج سکیں ۔

پاکستانی عورتوں کے حقوق اور ان کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے بے چین اور پریشان حال امریکہ حقیقت میں نیو ورلڈ آرڈر اور عالمگیریت(globalization ) کے تیسرے اور چوتھے میدان تہذیبی عالمگیریت اور معاشرتی عالمگیریت کو کامیاب بنانے کے لیے یہ سارے پاپڑ بیل رہا ہے۔ جس کا مقصد تمام تہذیبوں کو ختم کر کے مغربی تہذیب کو پوری دنیا میں پھیلانا ہے جس کا ثبوت پاکستانی معاشرے میں لباس ،کھانے ،مشروبات،میک اپ ،تعلیم پر مغربیت کی چھاپ ہے اور انٹرنیٹ تو اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہے جو جنسی بے راہ روی اور فحاشی کو پھیلانے میں بھر پور کر دار ادا کر رہا ہے ۔معاشرتی عالمگیریت کے لیے معاشرے کو تبدیل کرنا ہے اور معاشرے کو تبدیل کرنے کے لیے خاندان کو بدلنا ضروری ہے اور خاندان کا سب سے آسان شکار ’’عورت‘‘ہے ، جس کو استعمال کر کے پہلے خاندان اور پھر پورے معاشرے کی اخلاقی اقدار تباہ کرنے کی کوششیں جاری و ساری ہیں ۔

میری عزیز بہنو!آپ کے تمام حقوق کا علمبردار آپ کا اپنا دین اسلام ہے، جس نے عورت کو عزت، مقام ،وراثت میں حصہ، معاشی طور پر مستحکم ہونے کا حق دلوایا ۔اسلام کے دشمنوں کے ہاتھ میں کھیل کر آپ اپنے حقوق حاصل نہیں کر سکتیں۔ یہ اسلام کے دشمن آپ کو اسی روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں جس روپ میں انہوں نے اپنی عورت کو ڈھالا ہے ۔ وہ عورت جو آج یہ سمجھتی ہے کہ وہ جیسی ہے ایسا ہی اس کو ہونا چاہیے۔ جس کے لیے خاندان، گھر، شادی، اولاد سب غیر ضروری چیزیں ہیں۔ جو مادیت کا شکار ہم جنس پرستی کو قانونی حیثیت دلواکر،اسقاط حمل کو قانونی طور پر جائز قرار دلواکر خوش ہو رہی ہے ،یہ شیطا ن کے چیلے صلیبی یہودی و ہندو گٹھ جوڑ آپ کو اسی فحش عورت کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں ، کیونکہ یہ عقیدے کی جنگ ہے نہ کہ ملکوں کی اور بادشاہتوں کی جنگ۔ اس کو ثابت کرنے کے لیے میں آپ کو تاریخ اوراق سے بتانا چاہتی ہوں کہ صلیبی جنگوں کے دوران ایک کانفرنس منعقد کی گئی کہ نور الدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی کو کس طرح شکست دی جائے۔ اس وقت کا صلیبی بادشاہ ’’آگسٹس‘‘انتہا درجے کا شیطان فطرت صلیبی حکمران تھا جو اسلام دشمنی کو عبادت سمجھتا تھا۔ اس نے اپنے انٹیلی جنس اداروں کے جرمن نژاد سربراہ ’’ہرمن‘‘ سے کہا ہرمن تمہاری نگاہ محدود ہے تم صرف صلاح الدین ایوبی اور نور الدین زنگی کو دیکھ رہے ہو ، ہم اسلام کو دیکھ رہے ہیں اس مذہب کی بیخ کنی کرنی ہے تو اس کے لیے اخلاق کشی اور نظریات میں شکوک پیدا کرنا لازمی ہے،مسلمانوں میں ایسی تہذیب رائج کرو جس میں کشش ہو (جس طرح آج مسلمان حکمرانوں کو عورت ،شراب ،دولت اور حکمرانی کے نشے میں ڈبو کر اسرائیل کو تسلیم کرالیا گیا ہے )یہ ضروری نہیں کہ ہم اپنا مقصد اپنی زندگی میں حاصل کر لیں ہم یہ کام اپنی اگلی نسل کے سپرد کر دیں گے۔ کچھ کامیابی وہ حاصل کرے گی اور پھر وہ اگلی نسل کے سپرد کر دے گی، پھر ایک دور ایسا آ ہی جائے گا کہ اسلام کا نام و نشان مٹ ہی جائے گا۔ اگر اسلام زندہ رہا تو اس مذہب پر چلنے والی مائیں کسی صلاح الدین ایوبی اور کسی نور الدین زنگی کو جنم نہیں دے سکیں گی، میں وثوق سے کہتا ہوں کہ مذہب مسلمانوں کا ہوگا، لیکن دراصل یہ مذہب ہماری تہذیب میں رنگا ہوا ہوگا۔

یہ کانفرنس ۱۱۷۹ء میں ہوئی تھی۔ اتنی صدیاں گزرجانے کے بعد بھی یہودی صیہونی لابی اسی عزم پر عمل پیرا ہے ،لیکن یہ صلیبی صیہونی سوچ ہے ،جبکہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ ’تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایمان والے ہو ‘۔

میری بہنو!آپ کا حق ہے کہ آپ زندگی کے ہر شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ آپ اپنے گھر کے معاش میں واقعی ضرورت پڑنے پر حصہ ڈالیں، مگر یہ حق آپ کو اللہ رب العزت کے حکم کی نفی کرتے ہوئے حاصل نہیں کرنا ہے ۔اللہ کا فرمان ہے

وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ (سورۃ النور: ۳۱)

’’اے نبیﷺ،مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ،اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ،اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں ،مگر جتنا خود ہی ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالیں رکھیں ۔‘‘

یعنی آپ کو چار دیواری سے باہر قدم نکالنا ہے تو اپنے مالک حقیقی کا حکم مانتے ہوئے با حیا اور باحجاب عورت کے روپ میں باہر نکلنا ہے ، چاہے آپ بیوی ،بیٹی، بہن یا ماں ہوں۔کائنات کے سب سے سچے انسان اور عورت کو سب سے زیادہ عزت خود بھی اور اپنے دین کے ذریعے بھی دینے والے نبی کریم ﷺ کا قول ہے:

’’حیا کا نتیجہ صرف خیر ہے‘‘۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ’’حیا ساری کی ساری خیر ہی ہے ‘‘۔(بخاری )

اور حضرت زید بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ :

’’ہر دین کی ایک خاص عادت ہوتی ہے اور اسلام کی عادت حیا ہے ۔‘‘

تو خدارا اپنے خالقِ حقیقی کے حکم سے دست بردار نہ ہوئیے ، وہ رب ذوالجلال والاکرام تو پلک جھپکنے میں پوری دنیا کو کورونا کے عذاب میں مبتلا کر سکتا ہےاور پھر خود بخود ساری اسلامی دنیا ’سیف ڈسٹینسنگ (safe distancing) اور ’ہینڈ واشنگ‘ کے احکامات کو مانتی ہے اور ماسک ہے،یعنی ایک دوسرے کے قریب بھی نہیں ہوتے ، اپنے ہاتھوں کو بھی پاک کرتے رہتے ہیں اور چہرہ بھی چھپاتے ہیں (کاش میری بہنیں حجاب،نامحرم سے اختلاط سے بچاؤاور اپنے آپ کو گناہوں سے پاک کرتی رہیں )۔اگر اب بھی اس عالمی وبا کی صورت میں خدائے لم یزل کا عذاب جو وہ سب سے بڑے شیطان امریکہ اور اس کے حواریوں پر نازل کر رہا ہے دیکھ کر ہم لوگوں کو ہوش نہ آیا تو پھر اللہ تعالی اس سے بڑا عذاب بھیج سکتے ہیں تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹیں جس طرح اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ :

وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ۝(سورۃ السجدۃ: ۲۱)

’’اور البتہ ہم ضرور چکھائیں گے ان کو چھوٹا عذاب بڑے عذاب سے پہلے، تاکہ وہ ہماری طرف پلٹیں ۔‘‘

اور سورۃ الروم میں اللہ تعالی فرماتے ہیں :

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ۝ (سورۃ الروم: ۴۱)

’’بحر و بر میں انسانوں کی بد اعمالیوں کے باعث فساد برپا ہو گا تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائیں ،عجب نہیں کہ وہ اللہ کی طرف لوٹ آئیں ۔‘‘

سو سعادت مند ہیں وہ لوگ جو عبرت حاصل کرتے ہوئے استغفار کریں اور اپنے آپ کو اپنے رب کے احکام کا پابند کرتے ہوئے زندگی گزاریں ۔

میری بہنو ! ذرا سوچیئے کہ اللہ تعالی نے آپ کو بیش بہا نعمتیں عقل، کان، ناک ، ہاتھ ، پاؤں وغیرہ کی صورت میں عطا فرمائی ہیں اگر یہ نعمتیں آپ کو نہیں ملتی تو آپ کی حیثیت اس زمین پر کیا ہوتی ؟ ان نعمتوں کو خیر کے لیے استعمال کیجیے۔اپنے آپ کو اور اپنی نسل کو اور اپنی امت کو اس دھوکے میں پڑنے سے بچائیے کہ امریکہ آپ کو حقوق دلوانے کے لیے تڑپ رہا ہے وہ تو آپ کا نظریہ ،عقیدہ ، و مذہب بدلنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ آپ کا انجام اللہ نہ کرے آخرت میں انہی کفار کے ساتھ ہو۔ اور جو ان کا ساتھ عملاً و عمداً دے گا وہ اہلِ کفر و نفاق کی صف میں شامل ہو جائے گا۔

إِنَّ اللّهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعاً۝ (سورۃ النساء: ۱۴۰)

’’بے شک اللہ تعالی منافقین و کافروں کو جہنم میں ایک ساتھ جمع کرنے والے ہیں ۔‘‘

اللہ تعالیٰ تمام مسلمان بہنوں اور بھائیوں کو اس انجام سے محفوظ فرمائے ،آمین یا رب العالمین!

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین

وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم!

Previous Post

پاکستانی شی جن پنگ

Next Post

امارتِ اسلامیہ کی کامیابی کا راز

Related Posts

پاکستان کی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت: نسل کشی کا انتظامی تسلسل
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

پاکستان کی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت: نسل کشی کا انتظامی تسلسل

15 فروری 2026
پاکستان امریکہ تعلقات تاریخ کے آئینے میں
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

پاکستان امریکہ تعلقات تاریخ کے آئینے میں

15 فروری 2026
ایک اہم پیغام – پاکستانی مجاہدین کے نام
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

ایک اہم پیغام – پاکستانی مجاہدین کے نام

20 جنوری 2026
جوابِ شکوہ
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

جوابِ شکوہ

20 جنوری 2026
یہ اُبال بیٹھ جائے گا!
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

یہ اُبال بیٹھ جائے گا!

20 جنوری 2026
حرمین شریفین کا دفاع: حقیقت یا فسانہ؟
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

حرمین شریفین کا دفاع: حقیقت یا فسانہ؟

26 ستمبر 2025
Next Post

امارتِ اسلامیہ کی کامیابی کا راز

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

by ادارہ
15 فروری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version