اِمارتِ اِسلامیہ افغانستان
ملک میں چند غیرملکی افواج کے قیام کی بابت امارت اسلامیہ کا اعلامیہ
ملک میں چند غیرملکی افواج کے قیام کی بابت امارت اسلامیہ کا اعلامیہ
حالیہ دنوں ذرائع ابلاغ کی خبریں اور رپورٹیں ہیں کہ ہوسکتا ہے چند بیرونی ممالک کی فوجیں ہمارے ملک میں ہوائی اڈوں اور یا سفارت خانوں کے تحفظ کے نام سے موجود رہ سکیں، اس حوالے سے درج ذیل امور قابل غور ہیں:
- امارت اسلامیہ افغانستان دنیا، خطے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ مثبت اور نتیجہ خیز تعلقات رکھنا چاہتی ہے۔
- ہمارا ملک اور قوم چار دہائیوں سے بہت سے مسائل اور مشکلات سے دست و گریبان ہے، اسی وجہ سے ہمیں بین الاقوامی ، ہمدرد اور دوست ممالک کی بغیر کسی ایجنڈے اور انسانیت دوست امداد کی ضرورت ہے، ہم اپنی قوم کے لیے امداد چاہتے اور اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
- افغان قوم اور امارت اسلامیہ کو کسی بھی نام یا ملک سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کی موجود گی اپنے ملک میں قابل قبول نہیں ہے۔
- افغان سرزمین کے انچ انچ، ہوائی اڈوں، ملک میں غیرملکی سفارت خانوں اور سفارتی نمائندگوں کی سلامتی افغانوں کی ذمہ داری ہے۔ لہٰذا ہمارے ملک میں کوئی بھی فوجی یا سیکورٹی فورس موجود رہنے کی توقع کرے اور نہ ہی انہیں ایسا قدم اٹھانا چاہیے،جس کے نتیجے میں اقوام اور ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوجائیں۔
- اگر کوئی ایسی غلطی کرے گا ، تو افغان قوم اور امارت اسلامیہ اسے غاصب کی نگاہ سے دیکھے گی اور اس کے خلاف ایسا موقف اختیار کرے گی ، جیسا کہ تاریخ کے ادوار میں استعمار کے خلاف اختیار کیا اور اس کی ذمہ داری پھر ان ہی پر عائد ہوگی۔
امارت اسلامیہ افغانستان
۲ ذوالقعدہ ۱۴۴۲ھ ق
۲۲ جوزا ۱۴۰۰ھ ش
۱۲ جون ۲۰۲۱ء
مصدر: /https://www.alemarahurdu.org

![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



