مارچ ۲۰۲۱ء کو بنگلہ دیش کی آزادی کے پچاس سال پورے ہونے پر جشن کا انتظام کیا گیا۔ پروگرام میں حسینہ سرکار نے جن لوگوں کو مدعو کیا ان میں اہم ترین شخص گجرات کا قصائی نریندر مودی تھا۔ مودی کے اس دورے کے خلاف بنگلہ دیشی عوام نے آوازِ احتجاج بلند کی۔ اس معاملے میں دیندار مسلمانوں کے ساتھ سیکولر جماعتوں نے بھی برابر کا حصہ لیا۔ یہاں تک کہ بائیں بازو کے لوگ بھی اس احتجاج میں شامل ہوئے۔ مختلف پس منظر اور نظریات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی اس احتجاج میں شرکت سے ثابت ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش میں ’ہندوتوا ایجنٹ‘ کی مخالفت کتنی عام ہے۔
اتنی سخت مخالفت کے با وجود حسینہ سرکار کا مودی کو دعوت دے کر اپنے ملک میں بلانے کا سبب بالکل ظاہر ہے۔ دراصل حسینہ کا اقتدار مودی کے رحم و کرم سے ہی برقرار ہے اور اس اقتدار کے بدلے حسینہ نے حاجی شریعت اللہ کی سرزمین کو ہندوتوا کے نظریے کے بدلے گروی رکھوایا ہوا ہے۔
مودی کے لیے بھی اس دورے کی اہمیت کثیر الجہتی تھی۔ ایک تو بنگلہ دیش میں ’اپنی‘ حکومت کا جائزہ۔ دوسرا اسی دورے کے ذریعے بنگلہ دیش کے پڑوس میں مغربی بنگال (انڈیا) کی قانون ساز اسمبلی میں اس نے بی جے پی کو مضبوط کرنے کے لیے متوا ہندوؤں کی دل جوئی کی کوشش کی۔ تیسرا ہندوؤں کے نزدیک خصوصی اہمیت والے ستکھیرہ کا جیسوریشوری سیاہی کے مندر میں پوجا کر کے اکھنڈ بھارت کا ایک علامتی پیغام بھی دیا۔ مشرک ہندوؤں کی فرضی کہانی کے مطابق جب دیوتا وشنو نے دیوی ستی کے جسم کو اکاون (۵۱)ٹکڑوں میں تقسیم کردیا تب ایک ٹکڑا اسی جگہ گرا جہاں جیسوریشوری سیاہی کا مندر ہے۔
مودی کے خلاف آواز اٹھانے میں سب سے زیادہ کردار بنگلہ دیش کے دیندار مسلمانوں نے ادا کیا۔ ۲۶ مارچ کو جمعے کی نماز کے بعد ڈھاکہ کی مرکزی مسجد ، مسجد بیت المکرم کے نمازیوں نے کسی پارٹی کے بینر کے بغیر اپنی مرضی سے مودی اور بنگلہ دیش میں ہندوستانی جارحیت کے خلاف آواز اٹھائی۔ اسی وقت ان پر پولیس فورس اور عوامی لیگ کے غنڈوں نے حملہ کردیا۔ بڑی بے غیرتی کے ساتھ کھلم کھلا مسجد میں گھس کر نمازیوں پر حملہ کیا گیا۔ مرکزی مسجد کے اندر آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے اور گولیاں چلائی گئیں۔ مودی کی خوشنودی کے لیے بیت المکرم مسجد میں گھس کر نمازیوں پر حملے کے اس ظالمانہ فعل سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کی پراکسی (proxy) حکومت چل رہی ہے۔ بنگال پر اہلِ بنگال کی حکومت نہیں ، بلکہ غاصبوں کا قبضہ ہے۔
مرکزی مسجد پر حملے کے بعد پورے ملک میں احتجاج پھوٹ پڑے۔ اڑتالیس گھنٹے کے اندر اندر علمائے دین، طلبا اور عوام ہاٹہ زاری، بیبہ ریا(جس کا نام شہید باریا رکھنے کے لیے درخواست کی گئی ہے) اور مادھو پور کے علاقوں میں جمع ہو گئے۔ تمام مقامات پر سرکاری پولیس فورس، ریب (Rapid Action Battalion) اور بی جی بی (بارڈر گارڈز بنگلہ دیش) کے ساتھ ساتھ عوامی لیگ کے غنڈوں نے ان لوگوں پر حملہ کر دیا۔ جس طرح ہندوستان میں جبراً مسلمانوں کو ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے اسی طرح علمائے کرام کو زبردستی اور ڈرا دھمکا کر ’جے بنگلہ‘ اور ’جے بنگ بدھو‘ کے نعرے لگوائے گئے۔ پورے ملک میں کم از کم اکیس (۲۱) مسلمانوں کو شہید کیا گیا ، کئی علمائے کرام کو گولیاں مار کر زخمی کیا گیا اور علما کی ایک بڑی تعداد کو گرفتار کر لیا گیا۔ الغرض مودی کو خوش کرنے کے لیے حسینہ سرکار نے ہر طرح کی کوشش کی۔
لاٹھی گولی کی جارحیت کے بعد میڈیا کی جارحیت کا آغاز ہو گیا۔ سیکولر میڈیا نے انہی لوگوں کو حملہ آور باور کروانا شروع کر دیا جن پر حملہ کیا گیا تھا۔ میڈیا نے نہایت بے شرمی سے طاغوتی سرکار کی جانب سے کیے گئے قتلِ عام کو قانونی جواز بخشا۔ پولیس و سرکاری آشیرباد لیے عوامی لیگ کے غنڈوں سے دفاع کو تشدد کا نام دیا گیا۔ اس پر مستزاد بعض نام نہاد دانشوروں کے ایک ٹولے نے بیانات داغ داغ کر شیخ حسینہ کو اور بھی سخت کارروائی کرنے کے لیے ابھارا۔ بنگلہ دیش کے سیکولر میڈیا کا کام بھی امریکی و ہندوستانی میڈیا کی طرح ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم دکھانا اور مجرم کے جرم کا دفاع کرنا ہے۔ بنگلہ دیشی سیکولر میڈیا کے جھوٹ کو مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بینر جی کا بیان بھی ثابت کرتا ہے کہ جب اس نے کہا کہ مودی بنگلہ دیش میں فساد پھیلا کر آیا ہے۔
۲۶ مارچ کے ظلم و تشدد کے بعد انڈین سرکار کے حکم پر حسینہ سرکار علمائے کرام اور بنگلہ دیش کی دیندار عوام کو دبانے کے لیےاٹھ کھڑی ہوئی۔ حسینہ سرکار تا دمِ تحریر بنگلہ دیشی مسلمانوں کے خلاف اپنا ایکشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ مدرسے سے اسلحہ برآمد ہونے کا ڈرامہ، علمائے کرام کی کردار کشی کی مکروہ کوشش، میڈیا ٹرائلز اور پراپیگنڈا، اہلِ دین کی عام گرفتاریاں اسی ایکشن کی چند نمایاں شکلیں ہیں۔
ملک کی اقتصادی حالت نہایت نازک ہے۔ عوام دو وقت کی روٹی کی فراہمی ہی میں پسی جا رہی ہے۔ ایسی حالت میں سرکار نے سخت لاک ڈاؤن کا اعلان کر رکھا ہے اور مدارسِ دینیہ کو خاص طور پر بند کیا گیا ہے۔
شہروں میں مختلف مقامات پر اور ہر ہر تھانے پر ایل ایم جی (لائٹ مشین گن)نصب کی گئی ہے جس سے سرکار علمائے کرام اور اہلِ دین کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ ان سے سختی سے نمٹا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر کسی قسم کی طاقت کے استعمال سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
شیخ حسینہ کو بطورِ کٹھ پتلی استعمال کرتے ہوئے بنگلہ دیش پر قابض اصل ’ہندوتوا‘ قوت نے تین جہتوں سے بنگلہ دیشی مسلمانوں پر اپنا شکنجہ کَس رکھا ہے۔ پہلی جہت عسکری و تشدد کی ہے، دوسری جہت نظریاتی و ثقافتی ہے اور تیسری سیاسی و سفارتی۔
عسکری و فوجی قوت کی ذیل میں ریگولر فوجی دستے، مختلف سویلین فورسز، انٹیلی جنس ایجنسیاں اور عوامی لیگ کے غنڈے آتے ہیں۔ اس میں:
أ. فوج ہے۔ اس کا سربراہ بین الاقوامی فوج داری کا ایک ممبر اور خاص ہندوستانی دلال ہے۔
ب. مختلف جاسوسی ادارے اور ایجنسیاں۔ ان کے ذریعے مستقل سرویلنس، جبری گمشدگی، قتل اور سازشوں کا کام لیا جاتا ہے۔
ج. پولیس، RAB، اور SWAT جیسی فورسز۔ ان کے ذریعے شہروں کو قابو میں رکھا جاتا ہے اور مخالفین پر حملہ کروایا جاتا ہے۔
د. عوامی لیگ کے غنڈے۔ یہ لوگ پولیس جیسا کردار ادا کرتے ہیں اور ان کا اصل کام عوامی املاک کی لوٹ مار ہے۔
نظریاتی و ثقافتی جہت میں بنگلہ دیش کا کذاب میڈیا، سیکولر دانش ور اور ثقافتی ادارے آتے ہیں۔ ان لوگوں کا کام سرکار کے تمام جرائم کی صفائیاں پیش کرنا، ہندوتوائی بلوائیوں کی جارحیت کی حقیقت لوگوں سے چھپانا اور دین پسند عوام کو مجرم ٹھہرانا ہے۔ دوسری طرف میڈیا اور سیکولر دانش وروں کا ٹولہ ہندوستانی ثقافت کو مسلط کرنے کے لیے ہندوستانی ایجنٹ کی حیثیت سے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے ایک ایسی صورتِ حال پیدا کر دی ہے کہ مسلم سرزمین ہونے کے باوجودیہاں اسلامی نظریے کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کہہ کر مسترد کیا جا رہا ہے۔ داڑھی، ٹوپی، برقع، نقاب اور نکاح سمیت بہت سے شعائرِ دینیہ پر کھلم کھلا حملہ کیا جا رہا ہے۔ یہ لوگ بنگلہ دیش میں ہندوتوائی بلوائیوں کی حکومت کو جائز قرار دے رہے ہیں اور بنگلہ دیش کا اسلامی تعارف مٹانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
سب سے آخری جہت ہے، سیاسی و سفارتی۔ اس جہت میں شیخ حسینہ کی بنیادی مدد بھارت کرتا ہے، کیونکہ بنگلہ دیش میں حسینہ کی کوئی نام نہاد ’جمہوری‘حیثیت بھی نہیں بچی۔ حسینہ کا اقتدار محض بندوق کے زور اور دلی سرکار کے مرہونِ منت ہے۔ مودی کے دور کے محض پانچ دن بعد، جب ملک میں ابھی امن و امان کی صورتِ حال ٹھیک نہیں ہوئی تھی، انڈین آرمی چیف نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا اور انہی دنوں سابق امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری بھی یہاں پہنچا۔ جان کیری کے دورے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستانی ہندوتوائی بلوائیوں کو ہبلِ عصر امریکہ کی بھی حمایت حاصل ہے۔ امریکہ خطے میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کو ہر قیمت پر روکنا چاہتا ہے اور اس غرض سے زبانی کلامی انسانیت اور سیکولرازم کا راگ الاپنے کے باوجود ہندوستانی ہندوتوائیوں کی جارحیت پر امریکہ کو کوئی شکایت نہیں الٹا وہ انہیں اپنی حمایت سے نواز رہا ہے۔ ڈھاکہ ائیر پورٹ پر اترنے کے بعد جان کیری نے شیخ حسینہ کے ایک نام نہاد مسلمان وزیر کو سلام کے بجائے نمسکار کر کے یہی ثابت کیا ہے۔
آج بنگلہ دیش ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ مودی کے اس دورے اور اس کے بعد جو کچھ ہوا، ایک تاریخی واقعہ ہے۔ اس واقعے کی بنگلہ دیش ہی کی سرزمین پر پیش آنے والے ۱۹۵۲ء، ۱۹۶۹ء اور ۲۰۱۳ءکے واقعات ساتھ غیر معمولی مماثلت و مشابہت ہے ۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ مجموعی طور پر یہ واقعہ ۲۰۱۳ء کے واقعات سے بھی زیادہ اہم ہے کہ اس سے پہلے بنگلہ دیش پر ہندوستانی غلبہ اور ہندوتوائیوں کا کنٹرول کبھی اتنا کھل کر واضح نہیں ہوا تھا۔
عوام کے سامنے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو گئی ہے کہ حسینہ سرکار نے ان کو ہندوتوائی بلوائیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ اور یہ ہندوتوائی ایک جارح فوج کے طور پر کام کرتے ہیں۔ عوامی لیگ کھلے عام اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کھڑی ہے اور آزادی کے پچاس سال بعد آج بنگلہ دیش ہندوتوا طاقت کی باج گزار ریاست بن چکی ہے۔پورا بنگلہ دیش گویا ایک قید خانہ ہے جہاں نہ عوام خود محفوظ ہیں نہ ان کا جان و مال، نہ ایمان اور عزت……حتیٰ کہ مساجد بھی محفوظ نہیں ہیں۔اس خطے میں کوئی سکون نہیں ہے، فضا میں بس ایک نا معلوم سا خوف ہے۔
بنگلہ دیش آج ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے کہ قوم کا ہر سمجھدار فرد سوچنے پر مجبور ہے کہ انہیں ہندوتوائی جارحیت اور ہندستانی تسلط سے نمٹنا ہی ہو گا۔ تاریخ کا یہ دھارا اپنی رفتار سے بہتا رہے گا۔ پورے بنگلہ کے مسلمان آج شدید غم و غصّے کا شکار ہیں اور ذلت کی آگ میں جل رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مایوسی کا بھی شکار ہیں۔ یہ بات عام ہو چکی ہے کہ روایتی رہنما، جمہوری جماعتیں اور احتجاج کا نظام و طریقہ اس سرزمین کے مسلمانوں کے ایمان اور عزت کی حفاظت کرنے میں پوری طرح ناکام ہے ۔قوم آج صدمے و انتشار کا شکار ہے، ذلت و رسوائی کی گہرائیوں میں پڑی ہے،اور بد قسمتی سے یہی نہیں جانتی کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اگلا قدم کہاں رکھنا ہے۔ راستہ کہاں ہے؟ رہبر کہاں ہیں؟ منزل کہاں ہے؟ کون ہے جو ان کے لیے کھڑا ہو گا؟ جو ہاتھ پکڑ کر رہنمائی کرے گا؟ کون ان کی قیادت کرے گا؟
۲۰۱۳ءکے واقعات کے ذریعے بنگلہ دیش کے ناکام جمہوری نظام کا خاتمہ ہوا۔ اور ۲۰۲۱ءمیں آج بنگلہ دیش کو سیکولر ریاست بنانے کا منصوبہ بھی ناکامی سے دوچار ہے۔میڈیا، ثقافتی یلغار اور اشرافیہ کےسیاسی طبقےنے سیکولر بنگلہ دیش کا جو خواب عوام کو دکھایا تھا، آج سب سمجھتے ہیں کہ وہ محض ایک دھوکہ اور سراب تھا۔ دور اندیشوں کے نزدیک تو یہ حقیقت پہلے ہی عیاں تھی، مگر اب تو یہ بات ہر خاص و عام پر واضح ہو گئی ہے۔پچاس سال بعد بھی بنگلہ دیش کے عوام کی جان و مال اور عزت کی کوئی ضمانت نہیں، بلکہ اگر کچھ بدلا ہے تومحض یہ کہ جنرل یحییٰ خان اور جنرل نیازی کی فوج کی جارحیت کی جگہ ہندوستانی مشرک اور ان کی غلام لا دین عوامی لیگ کی جارحیت نے لے لی ہے۔ گویا ’ہم جہاں سے چلے تھے وہیں رہ گئے‘!
بنگلہ دیش میں روایتی دو طرفہ سیاست یا جمہوری سیاست کوئی وجود یا حیثیت نہیں رکھتی۔ مستقبل میں بھی اس سرزمین پر حکومت کا تنازع عوامی لیگ اور بی این پی (بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی)کے مابین نہیں ہو گا۔ بنگلہ قوم اب جمہوریت، قومیت یا کسی دوسرے باطل نظام یا نظریے پر بھروسہ نہیں کرے گی۔ بلکہ اب تنازع شرک و توحید کے مابین ہے۔ اب جو جنگ ہو گی تو کفری حکومت بمقابلہ اسلامی نظام ہو گی، مشرک و مرتد بمقابلہ مسلم ہو گی۔ بنگلہ دیش مسلمانوں کی زمین ہے اور مسلمانوں کو اسلام کے سوا کوئی نظام قبول نہیں، یہ حقیقت دنیا کو سمجھنی ہو گی، کبوتر کی طرح آنکھیں موند لینے سے سے تباہی کے بڑھتے طوفان کو روکا نہیں جا سکتا۔
ہندوتوائی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بنگلہ دیش کی دینی جماعتوں کو روایتی جمہوری طور طریقے، اندرونی گروہ بندیاں، جلسوں میں مبالغہ آمیز بیانات اور مبہم و غیر واضح باتیں کرنے کے رواج کو ترک کرکےحق بات کو صاف، واضح اور دو ٹوک انداز میں بیان کرنےکی ہمت پیدا کریں۔ اپنی دعوت کی بنیاد توحید اور الولاء والبراء کے عقیدے کو بنائیں۔ قومیت، جمہوریت اورسیکولرازم کے جنتروں منتروں سے نکلنا ہو گا۔ عوام کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کے لیے عوام پر مبنی پروگرام وضع کرنا ہو گا۔ وہ جدید سکالر جو اسلاف کا روایتی طریقہ چھوڑ کر جدید طریقے سے دین پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں ، ان کو اسلاف کے طریقے کی طرف پلٹنا ہو گا، پھر ان سب تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اسلامی بیداری میں استعمال کرنا ہو گا۔ دعوت کو ہر جگہ عام کرنے کی ضرورت ہے ۔ شریعتِ اسلامی کو ہر طرح سے جمہوری نظام پر فوقیت و فضیلت حاصل ہے، شریعتِ اسلامی کو مع مکمل اصول و ضوابط کے، اس کی اہمیت و فرضیت کو لوگوں کے سامنے کھول کھول کر بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ لاپروائی اور بے عملی کو چھوڑنا ہو گا ، بے فائدہ اور بے ثمر سرگرمیوں اور فیصلوں سے پرہیز کرنا ہو گا،عوام کے سامنےمعاشرے میں پھیلے منکرات کو واضح کرتے ہوئے، انہیں ایمانی انقلاب کے لیے تیار کرنا ہو گا۔ دشمن کی چالاکی و مکّاری سے جہاں دانشمندی کے ساتھ نمٹنا ہو گا، وہیں ہمیں اپنی لڑائیاں اور اپنے محاذ بھی دانشمندی سے منتخب کرنے ہوں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ اسلام کو فتح حاصل ہوتی ہے دو چیزوں سے: ایک توحید اور دوسرا حدید۔ راہ دکھانے والی کتاب اور مدد کرنے والی تلوار کے ذریعے۔ زمین پر تمکّن حاصل ہوتا ہےجہادِ فی سبیل اللہ کے ذریعے۔ اور معاشرے سے منکرات کا حقیقی خاتمہ اور دین و شریعت کا قیام تبھی ممکن ہے جب زمین میں تمکین حاصل ہو۔ بنگلہ دیشی مسلمانوں کو یہ بھی اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بنگلہ دیشی مسلمانوں کی حقیقی آزادی اور بنگلہ دیش میں شریعت کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت ہے۔ جب تک ہندوتوائی طاقت کا غلبہ رہے گا،بنگلہ دیش کے مسلمان آزاد نہیں ہوں گے۔ شیخ مجیب گیا اور شیخ حسینہ آ گئی، حسینہ جائے گی تو کوئی اور اس کی جگہ لے لے گا۔ چہرے بدلتے رہیں گے مگر ہندوتوائی جارحیت اسی طرح برقرار رہے گی یا مضبوط تر ہو جائے گی۔ یہ بھی جان لینا چاہیے کہ بنگال میں اسلام کا بول بالا ہونے کا مطلب پورے برِّ صغیر میں اسلام کا پرچم بلند ہونا ہے، اس لیے اگر آزدی مطلوب ہے، عزت کی زندگی مطلوب ہے اور نفاذِ اسلام مطلوب ہے تو ہندوتوائی طاقت کو کمزور و مغلوب کرنا پڑے گا۔ اس طویل مدتی مقصد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے بنگلہ دیش کے مسلمانوں کو اپنے حالات کے مطابق جنگی حکمتِ عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر اس کام میں ذرا سی بھی دیر ہو گئی، حقیقت و حالات کو سمجھنے میں تاخیر ہوئی اور ہم ماضی کی غلطیاں ہی دہراتے رہے تو جو خمیازہ بھگتنا ہو گا وہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہو گاجس کا ہمیں آج سامنا ہے۔
اللھم سددنا وألھمنا رشدنا، اللھم خرلنا واخترلنا بالعافیۃ یا أرحم الراحمین، آمین یا ربّ العالمین!
برادرِ محترم ابو اَنور الہندی القاعدہ برِّ صغیر سے وابستہ ایک مجاہد فی سبیل اللہ ہیں اور انہوں نے یہ تحریر بنگلہ دیش ہی میں تحریر کی ہے۔ (ادارہ)
٭٭٭٭٭





![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



