الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا محمد وعلی آلہ وسلم تسلیماً کثیراً
کشمیر اور برِّصغیر میں موجود کلمۂ توحید کے علمبردارمیرے عزیز بھائیو،محترم بزرگو، سنگ باز مرابط نوجوانو اور میدانِ قتال میں موجود صف شکن مجاہدین!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
قدم قدم رُکاوٹیں، صعوبتیں، مسافتیں
پھر بھی ہے جہاد کا یہ قافلہ رواں دواں!
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کے ایمان کو محفوظ رکھیں اور ہمیں اللہ تعالیٰ اپنے دین کی خدمت کرنے والوں میں سے بنائیں۔
میرے پچھلے پیغام سے اس پیغام تک (کے عرصے کے دوران) بہت سے مجاہدساتھی شہید ہوئے ہیں ۔اس مختصر پیغام میں سب کا نام لینا تو ممکن نہیں ہوگا، لیکن اللہ تعالیٰ سے ہر لمحہ یہی دعا ہےکہ ان مجاہد ساتھیوں کی شہادت قبول فرمائیں۔ میرا یہ یقین ہے کہ سب مجاہد ساتھی خالص اسلام کی سربلندی کی خاطر میدانِ جہاد میں آئے تھےپھر وہ چاہے شوپیاں یا پلگام کے مجاہدین ہوں،پلوامہ یا ترال کے مجاہدین ہوں، بارہ مولا یا سوپور کے یا حاجن کے مجاہدین ہوں یا پھر سرینگر اور بڈگام کے مجاہدین ہوں۔ہر مجاہد کی شہادت سے اگر ہماری آنکھیں نم ہوئیں تو یقین مانیں اللہ عزّوجلّ نے اپنی رحمت کے دروازے بھی کھول دیے۔اس بات کا کہنا ضروری ہے کہ جب میرے بہت ہی عزیز ساتھی شہید ہوئے…… جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین کیا، جو اس آزاد جہاد کے سفر میں ہمیشہ ساتھ ساتھ تھے،جن کی اس شہادت کے غم نے دل میں گھر کرلیا تو اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی ساتھ ساتھ آئی، الحمدللہ۔ ریحان خان اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پر امت مسلمہ اور بالخصوص اسلامیانِ کشمیر کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ شریعت یا شہادت کی خاطر کٹنے والے ان تمام بھائیوں کی شہادت قبول فرمائے ، آمین یا رب العالمین۔
یہ قربانیاں ہمارے لیے فخر اور ہمارے مشن کا خاصہ ہیں۔ اس پر کشمیر اور ہند میں موجود ہمارے خیر خواہوں کوکسی بھی طور فکر مند نہیں ہونا چاہیے۔ میرے محترم بھائیو! یقین مانیے اللہ تعالیٰ کا ہر ایک وعدہ سچا ہے اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کی سچائی (جاننے)کی صرف ایک ہی شرط ہےکہ ان وعدوں پہ بھروسہ کیا جائے۔ انسانی عقل کا تقاضہ تو یہ ہے کہ آج سےبہت پہلے آزاد جہاد کی یہ تحریک ختم ہو(جا)نی چاہیے تھی لیکن یقین مانیے ہمارے لیے ہر دن نئی مدد آجاتی ہے اور نئے ساتھی جڑ جاتے ہیں ۔ہماری کوشش تو آزاد جہاد کی ایک اذان ہے۔ اور یہ اذان کشمیر کے ہر خطے میں گھر کرگئی ہے اور نہ صرف کشمیربلکہ ہندوستان اور پاکستان سے بھی بہت سے ساتھی ہمارے ساتھ جڑچکے ہیں ۔ ان شاءاللہ ہم اس دن کی تیاری میں ہیں جب ہم اپنی کارروائیاں شروع کریں گےاور تب ہندوستان کے مکاروں اورقاہروں کے لیے کوئی بھی چھپنے کی جگہ نہیں ہوگی، ان شاءاللہ۔
میرے محترم مجاہد ساتھیو!
آج ہم اس دورمیں ہیں جب کشمیر کے جہاد کے خلاف بہت ساری سازشیں ہورہی ہیں ۔ اس جہاد کو ختم کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں اور مجاہدین کو سردخانے میں ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے ۔ امریکہ کی شاگردی میں پاکستان اور ہندوستان دونوں مل کراس جہاد کو نہ صرف کمزور بلکہ ختم کرنے کی سازش میں مگن ہیں۔ اس لیے ہوشیار ہوجائیے! ہمارے پاس اطلاعات بھی ہیں کہ بہت ساری ایسی تنظیمیں ہیں کہ جن پر کریک ڈاؤن شروع ہوچکے ہیں ۔ یہ اسی سازش کی ایک کڑی ہے۔ اگر اس جہاد کو آج ختم کیا جائے گاتو اس کے قصوروار ہم بھی ہوں گےاور روزِمحشر میں یہ پوچھا جائے گاکہ ہم نے اس جہاد کی حفاظت کیوں نہیں کی۔
اور اس بات کو میں واضح کردوں کہ کشمیر کا فیصلہ صرف جہاد سے ہوگااور اس کا فیصلہ صرف اس بات پہ ہوگا کہ ہندوستان کے ان محلات پر اسلام کا پرچم بلند ہوجائےاور کشمیر کے ساتھ ساتھ پورے برصغیر میں شریعت کا نفاذ ہو۔اس فیصلے کے علاوہ کوئی بھی فیصلہ یا کوئی بھی Agreement ، کوئی بھی Treaty،کوئی بھی فارمولااسلامیانِ کشمیر کو منظور نہیں ہے۔ ہم نے تو اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیاہے کہ ہماری آزادی کا مطلب لاالہٰ الاللہ ہے ۔ہم نے رب المشرقین اور رب المغربین سے یہ وعدہ کیا ہے کہ کشمیر میں صرف نظامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم قائم ہوگا۔ اگر ہم ان وعدوں کی خلاف ورزی کریں گے تو یاد رکھیے ہماری سزا اجتماعی ہوگی۔ اگر آپ اس غلط فہمی میں ہیں کہ مجاہدین اور جہاد کی طرف پاکستان کی پالیسی،کسی ایک سیاستدان یا فوجی جرنیل کی وجہ سے گرم اور سرد ہوتی ہے اور یہ وقت بھی بِیت جائے گاتو یہ آپ کی خوش فہمی اور نادانی ہے ۔پاکستانی فوج اور حکومت اس خطے میں جہاد اور مجاہدین کے اولین دشمن ہیں، جو اپنی مکاریوں سے مجاہدین کو ایک طرف شہید کرتے ہیں تو دوسری طرف خود کو جہادی فتوحات کا مغز پیش کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ امریکی غلام فوج اور حکومت اپنے آقا امریکہ سے بالکل بھی مختلف نہیں ہیں ۔بس وقتی طور پر یہ لوگ اسلام کا لبادہ اوڑھ کرخصوصاً آزاد کشمیر میں مجاہدین کو بے وقوف بناتے ہیں ۔لہٰذا ہوشیار ہوجائیے۔ایک مسلمان کبھی بھی ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا۔
میرے عزیز مجاہدساتھیو!
یہ صرف اللہ عزّوجلّ کی ذات ہے جو مجاہدین کو فتوحات دیتی ہے ۔ ہمیں ہر لمحہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں وہ دل عطا کریں جو اس کی رحمت کو دیکھےاور دیکھنے کے بعدہمیں عمل کی توفیق عطا کرے۔ کیا آپ لوگ نہیں دیکھ رہے کہ کیسے پوری دنیا نے افغانستان میں جہاد کوختم کرنے کی سازش کی۔سترہ سال سے مجاہدین کا اللہ کے سوا کوئی محافظ نہیں تھا۔ہر ملک اس سازش میں شامل تھا اور مجاہدین پر بم برسا رہے تھےاور آج دیکھیے کیسے اللہ تعالیٰ کی نصرت واضح ہوگئی۔ آج افغانستان میں مجاہدین اور شریعت کی فتح ثابت ہے ۔اگر ہم آج بھی اس نصرت کو نہیں دیکھیں گےتو ہم اللہ کے وعدوں کا انکار کرتے ہیں۔ افغانستان میں مجاہدین کی فتح تب ہی ممکن ہوئی جب انہوں نے اپنے جہاد کو سازشوں سے محفوظ رکھا۔ کسی کو یہ حق نہیں دیا کہ جہاد کی پیٹھ میں خنجر گھونپے۔وہ آزاد جہاد کے مجاہدین ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
کشمیرمیں رہنے والے میرے محترم بھائیو!
آپ سے التجا ہے کہ مجاہدین کے لیے ہر لمحہ دُعا کریں اور جس کی جو استطاعت ہے وہ اس حساب سے جہاد کی مدد کرے ۔ استطاعت کا مطلب یہ ہے کہ نوجوان جہاد کی تیاری کریں اور آزاد جہاد کی صفوں میں شامل ہوجائیں اور جو لوگ اس جہاد کے لیے اپنے آپ کو اہل نہیں سمجھتے ہیں وہ مال اور دعا سے مدد کریں اور اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ آپ کے مال پر سب سے پہلے جہاد کا حق ہے۔ یہ ذمہ داری آپ پر ہے کہ آپ مجاہدین کی مالی معاونت کریں ۔آپ سے اس بات کا پوچھا جائے گا کہ جب مجاہدین فاقہ کشی کی حالت میں تھےتو آپ نے اپنا مال، زکوٰۃ اورصدقے کہاں پر خرچ کیے؟
میرے محترم علما حضرات!
آپ اللہ کے دین کے محافظ ہیں۔آپ پر بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ دین اور مسلمانوں پر جب یلغار ہوتو اسلام کا دفاع اور مجاہدین کا دفاع کریں۔میرے محترم علما صاحبان ! جس روز اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ زبان پر تالے لگائے جائیں گےتو آپ سے پوچھا جائے گا کہ آپ نے اپنے علم کو کیسے خرچ کیا ؟ اس بات کو یاد رکھیےکہ یہ علم آپ کے پاس امانت ہے اور اس علم کا آپ سے حساب لیا جائے گا ۔
اس موقع پر میں اسلامیانِ کشمیر کو یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ شریعت کی فضا ہماری وادی میں تب ہی آئے گی، جب ہم ہندو کفار کے ساتھ اس جہاد میں فتح یاب ہوں گے۔اللہ تعالیٰ نے فتح کا وعدہ ان سے کیا ہے جو اپنے اعمال درست کریں ۔ خود کو تقویٰ گزار بنائیے اور خالص اللہ کی رضا کےلیے خود کی اصلاح کریں۔
یہ بات ذہن نشین کرلیجیے کہ محض ہندوستانی کفارکو اپنا دشمن سمجھنا کافی نہیں ہے۔ جہاں پر ان سے برأت ضروری ہے وہیں پر اسلامی طرزِزندگی سے جڑنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ یہ دونوں چیزیں جب ساتھ ساتھ چلیں گی تب ہی اللہ تعالیٰ کی نصرت آئے گی اور ہم فتح سے فیض یاب ہوں گے، ان شاءاللہ۔
نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس امت کا مستقبل ہیں۔ لہٰذا خود کو ہر طرح کی فحاشی سے دور رکھیے۔ نماز قائم کیجیے اور نیک اعمال کیجیے ۔ گنا ہ ایک مسلمان کےدل پر ضرب لگاتے ہیں اور اس کی آخرت کو خراب کرتے ہیں ۔ آپ کے پاس اللہ کے فضل سے ان گنت وسائل موجود ہیں، جنہیں آپ اپنی اصلاح کے لیے استعمال کریں تاکہ آپ اور آپ کے والدین کو آخرت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ عظیم میں شرمسار نہ ہونا پڑے ۔یاد رکھیے جہاد کے بغیر کسی بھی دوسرے طریقے کا استعمال …… چاہے وہ کینڈل مارچ (مشعل بردار ریلی) ہو یا اپنے لوگوں کی ہی گاڑیاں یا دکانیں بند کرانایا باقی دیگر طریقے جو ہمیں زیادہ اور دشمن کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچاتے… …یہ سب ایک سراب ہے ۔بس جہادی عملیات ہی واضح راستہ ہے ہندوکفار کو نیست و نابود کرنے کا ، ان شاءاللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسلام پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
سرزمینِ پاکستان میں رہنے والے جہاد پسند بھائیو!
آپ نے ہمیشہ کشمیر کے جہاد کے لیے مال اور جانیں حاضر کی ہیں تو آج ایسا کیا ہوا کہ جب کشمیر کی بستیوں اور بیابانوں میں مسلمانوں کا خون ہورہا ہے تو آپ لاہور اور کراچی میں نالیاں صاف کررہے ہیں۔ اگر کل تک آپ جمہوریت کو حرام کہتے تھے تو آج ایسا کیا ہوا کہ آپ اس جمہوریت کی قسمیں کھا رہے ہیں ۔ یاد رکھیے محشر کے روز آپ کا حساب آپ سے لیاجائے گااور اس وقت آپ کے امرا آپ کی سفارش کےلیے نہیں ہوں گے۔ یہ کیسی مددہے کہ جب آپ کا دل چاہے اور جب آپ کو اجازت ملے تو آپ مدد کےلیے آتے ہیں اور جب آپ کا دل چاہے لیکن آپ کو اجازت نہ ملے تو آپ رُک جاتے ہیں ۔آپ سے اس بات کا حساب لیا جائے کہ اگر آپ کشمیر کے جہاد میں شامل تھےتو آپ کیوں دس دس سال تک اس جہاد کو بھول گئے ۔جہاد آپ کی مرضی سے نہیں چلتا ہے بلکہ آپ کی مرضی جہاد کے ماتحت ہونی چاہیے ۔آپ کی مرضی اور آپ کی مجبوریوں کی وجہ سے ہی کشمیر کے جہاد کے ثمرات ضائع ہورہےہیں ۔ جب آپ نے ۲۰۰۳ء میں کشمیر کے جہاد سے قدم پیچھے ہٹا لیے تو آپ نے اس جہاد کو تیس سال پیچھے کردیا۔یہی وہ وجہ ہے کہ پھر ایسا وقت بھی آیا جب جہادِ کشمیر گہری پستیوں میں گر پڑااور اس جہاد کو پھر سے شروع کرنا پڑا۔
میرے محترم بھائیو!
اس بات کو سمجھیےکہ جب پاکستان کی حکومت پر زخم لگےتو یہ ایک دن میں ہندوستان سے جنگ کے لیے تیار ہوگئےاور جب کشمیر میں ہماری کسی ماں کے جگر پر زخم لگتے رہیں ،جب ہمارے بہنوں کی روح پر زخم لگتے رہیں ،جب ہمارے بھائیوں کے جسموں پر زخم لگتے رہیں تب یہ حکومت ہندوستان سے دوستی اور وفاداری کی باتیں کرتی ہے ۔ایسی کیا بات ہے کہ انہوں نے تب اپنے جہاز نہیں اُڑائے جب آسیہ اور نیلوفر کا خون اس زمین پر گرا تھا ،جب شوپیاں اور پہلگام میں مجاہدین کی جلی لاشیں وارثین کو ملی ،جب ۲۰۰۸ء، ۲۰۱۰ء اور ۲۰۱۶ء میں ہمارے بچوں کے سینے ہندوستانی گولیوں سے بھردیے گیے۔یاد رکھیے ان کو آپ سے کوئی محبت نہیں ہے۔جیسے کہ میرے عزیز ساتھی ریحانؒ نے فرمایا تھاکہ ان ملکوں کا کوئی ایمان نہیں ہوتا ہے ان ملکوں کا صرف مفاد ہوتا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں پاکستانی حکومت اور ہندوستان کےکافروں کی سازشوں سے محفوظ رکھیں ۔
سرزمینِ ہندوستان میں رہنے والی میری مسلمان ماؤں!
مجھے آپ کے دل کا درد اور غم معلوم ہے اور مجھے یہ بھی خبر ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں سے کیا دھوکے ہوئے ہیں ،کیسے آپ کو تنہا چھوڑا گیا،کیسے آپ کو کسی قوت کے بغیر رکھا گیا ۔آپ یقین مانیے کہ آپ پہ کیے گئےہر ظلم کی نجات صرف اس بات میں ہے کہ آپ اپنے بیٹوں کو صرف جہاد کے لیے تیار کریں۔ صرف جہاد ہی ہے جس نے آپ کے آبا واجداد کو عزت بخشی اور صرف جہاد ہی ہے جو آپ کو اور آپ کے بچوں کو سلامتی دے گا ۔وقت بہت کم رہ چکا ہے اور محنت بہت زیادہ ہے ۔اس سے پہلے کہ آپ کی ہر مسجد کو شہید کردیا جائے ، آپ کے گھروں میں ہر کسی کا حال پہلو خان کی طرح ہوجائے ،اپنے بیٹوں کو جہاد کے میدانوں کی طرف بھیجیے۔ اسی میں آپ کی آپ کے گھر اور آپ کے دین کی حفاظت ہے ۔آخر میں ایک شہید مجاہد کی دعا کو دہرانے کی کوشش کروں گا:
’’جب ربّ العالمین نے لوح محفوظ کو بند کیا اورجب یہ کائنات بنائی تو لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب کے اوپر غالب ہے ،قیامت کے دن میں تمہیں اسی حال میں ملوں گا کہ میری رحمت میرے غضب کے اوپر غالب ہوگی ۔ابنِ آدم اگر تیرے گناہوں نے زمین اور آسمان کے تمام احاطے کو بھر رکھا ہوبشرط یہ کہ تم نے میرے ساتھ شرک نہ کیا ہو اور تو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں تجھے مغفرت عطا کروں گامیں تجھے بخش دوں گا۔یاربّ العالمین اے آسمانوں اور زمینوں کے مالک ہمارے سینوں کو کھول دے ،ہمارے دلوں کو کھول دے، ہمیں قرآن کو صحیح معنوں میں سمجھنے کی اور پھر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمادے ، آمین۔‘‘
وآخردعوانا ان الحمدللہ ربّ العالمین
٭٭٭٭٭







![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



