دنیا کے ہر کونے، ہر ملک اور ہر محاذ پر لڑی جانے والی عسکری، سیاسی، فکری، اعلامی اور اقتصادی جنگ دراصل پوری امت کی جنگ ہے۔ امتِ مسلمہ کی تاریخ، حال اور ماضی جڑے ہوئے ہیں۔ ہم جب فتحِ مکہ و فتحِ خیبر کا ذکر کرتے ہیں، جب قادسیہ و یرموک کو یاد کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ’ہم نے یہ جنگیں جیتی تھیں!‘۔ قسطنطنیہ بھی ہم نے ہی فتح کیا تھا اور سومنات کا مندر بھی ہم نے ہی تباہ کیا تھا۔ عربی کتب اٹھائیے اس میں مسلمان عجمی فاتحین کے قصے ملیں گے۔ عجم کے اہلِ اسلام کی اردو و فارسی اور اب پشتو کتابیں بھی مسلمان عرب فاتحین کے قصوں سے بھری پڑی ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ خلافتِ راشدہ کے زمانے میں ہماری حدودِ سلطنت مکران و بلخ تا مغربی افریقہ کے ساحلوں تک تھیں۔ امویوں کے زمانے میں ہم نے سندھ محمد بن قاسم کی قیادت میں فتح کیا اور شمال میں ہم قتیبہ بن مسلم کی قیادت میں کاشغر تک پہنچے۔ دورِ عبّاسی میں ہارون الرشید اور معتصم باللہ جیسے مجاہد بادشاہوں کے لشکروں میں ہمِیں شامل تھے۔ ہم صلاح الدین کی قیادت میں لڑے اور اقصیٰ کو بازیاب کروایا، حطّین کے میدان میں ہمِیں لڑے تھے اور بادشاہ ’گائے آف لوسِگنان‘ (Guy of Lusignan)اور ملکہ سبیلہ (Sibylla) کو ہم نے ہی اپنے خطوں سے ان کا تاج چھین کر ملک بدر کیا تھا۔ رچرڈ شیر دل کو بکری کی طرح ہم نے ہی بھگایا تھا۔ جلال الدین خوارزم شاہ ہمارا ہی سلطان غازی تھا۔ اورنگزیب نسلا ً ترک ازبک تھا لیکن ہمارے ہی خطّے کا بادشاہ تھا، کابل، غزنی و قندھار سے ساحلِ بنگال تک اور کشمیر سے ساحلِ مالابار تک کا حاکم۔ ہسپانیہ کے جبل الطارق سے فرانس کے پیرس کےقرب و جوار تک ہم ہی حاکم تھے۔ خلافتِ عثمانیہ ہماری ہی تھی۔ سلطان عثمان غازی پادشاہ سے سلطان محمد فاتح غازی پادشاہ، سلطان سلیمان قانونی سے سلطان عبد الحمید ثانی تک ہم ہی تھے۔ خلافت کا جب ترکی میں سقوط ہو رہا تھا تو ہمارے شیخ الہند تحریکِ ریشمی رومال برِّ صغیر و افغانستان اور یمن و حجاز میں چلا رہے تھے۔
پرسوں تک ہم کہتے تھے کہ برطانیۂ عظمیٰ کو شکست ہم نے کبھی یمن میں شیخ عولقی کی قیادت میں، میسور میں حیدر علی اور فتح علی ٹیپو کی قیادت میں، کبھی شاملی میں حضرت نانوتوی کی قیادت میں دی تھی اور افغانستان میں تو مردوں کو بھول جائیے ملالئی میوندی نے قندھار میں انگریزوں کو خاک چٹائی تھی۔ کل تک ہم کہتے تھے کہ ہم نے سوویت یونین کو شکست دی ہے اور اس کے ٹکڑے کر دیے ہیں۔ اور آج بڑے فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے امریکہ اور اس کے چار درجن حواریوں کو بھی مار بھگایا ہے۔
یہ ہماری فتح کی داستان ہے۔ لیکن یہ بھی دیکھیے کہ احد میں زخم ہمیں ہی لگے تھے، ہمارے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دندانِ مبارک شہید ہوئے تھے، وہ دندانِ مبارک جن کے مقابل ساری کائنات ہیچ ہے۔ احزاب ہمِیں پر چڑھ دوڑے تھے۔ تاتاریوں کے ہاتھوں ہمیں ذبح ہوئے تھے۔ مرہٹوں سے ہماری ہی جنگیں ہوئی تھیں۔ آسٹریا کے کسی محاذ پر ہم ہی ہارے تھے۔ اندلس کو فرڈیننڈ اور ازابیلا نے ہمِیں سے چھینا تھا۔ اقصیٰ پنجۂ یہود میں ہمارے ہی جنگ ہارنے کے نتیجے میں پہنچی تھی۔ ہمارا ہی حرم آج اہلِ صلیب کے گھیرے میں ہے۔ ہمارا ہی کشمیر کٹ رہا ہے اور برما جل رہا ہے۔
ہم ہی بیس سال پہلے افغانستان میں ہارے تھے اور آج ہم ہی بیس سال بعد افغانستان میں فاتح بنے ہیں۔ آج ہمارے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت وہاں حاکم ہے۔
جب ہر جگہ ہم ہی ہم ہیں اور جب آج امارتِ اسلامی افغانستان کی فتح کی خوشی میں ہم ہی ہر جگہ شادیانے بجا رہے ہیں اور مبارک بادیں دے رہے اور وصول کر رہے ہیں، جب ہم ہی نے عسکری و سیاسی میدان میں ساری دنیائے کفر کو شکست دی ہے تو اقتصادی میدان میں ہم کیوں امارتِ اسلامی کے ساتھ نہیں کھڑے؟
اپنی اسلامی حکومتوں کی طرف مت دیکھیے، ستاون اسلامی ملک ہیں تو ابھی ایک ملک سے اشرف غنی کا دھڑن تختہ ہوا ہے ،چھپّن رہتے ہیں۔ خود آگے بڑھیے۔ شادیانے بجائیے لیکن جو اقتصاد و معاش کے میدانوں کی جنگ میں ہم اپنے افغان بھائیوں سے دور کھڑے ہیں وہاں بھی اتریے۔ جن افغانوں نے میری اور آپ کی، ہماری جنگ لڑی ہے وہ پوچھ رہے ہیں، افغانستان سے آواز آ رہی ہے:
ہمارے شہدا، تمہارے سعدا سے پوچھنے میں ہیں حق بجانب!
ہم اپنی جانیں بھی وار آئے، تم اپنے اموال تک نہ دو گے؟!
٭٭٭٭٭

![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



